ہم جناب شبلی فراز اور عاصم سلیم باجوہ صاحب سے اچھی توقعات رکھتے ہیں

میڈیا کو اگر ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے تو بیجا نہیں کہا جاتا ۔ کسی بھی ملک کا آزاد اور غیر جانبدار الیکٹرانک و پرنٹ میڈیاکسی بھی حکومت کیلئے کان اور آنکھیں ثابت ہوتا ہے ۔ اس کے ذریعے حکمران اور حکومتیں وہ مناظر دیکھتی اور وہ آوازیں سنتی ہیں جو اُس حکومت کے وزیر و مشیر حکمرانوں کے کانوں اور آنکھوں سے اوجھل رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ حکمرانوں کو” سب اچھا” کی رپورٹ دے کر گمراہ کیا جا سکے اور اپنے مفادات سمیٹے جاتے رہیں ۔ آزاد اور غیر جانبدار میڈیا کی بے پناہ برکتیں بھی ہیں اور لاتعداد فائدے بھی ۔ آزاد میڈیا کی حقیقت بر مبنی تنقید سے حکومتیں اور حکمران ناراض ہونے کی بجائے روشنی اور رہنمائی حاصل کرتے ہیں ۔ اسی رہنمائی کی روشنی میں کوئی بھی حکمران اپنے ملک اور عوام کی بہبود کیلئے بہت مفید اور نفع بخش ثابت ہو سکتا ہے ۔ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح اسی لئے آزاد اور غیر جانبدار و دیانتدار میڈیا کے حق میں تھے ۔ اُن کا ارشادِ گرامی ہے :”بہترین میڈیا کے ساتھ ہی حکومت بھی اچھی رہتی ہے ۔” مقصد یہ ہے کہ اچھے میڈیا کی رہنمائی میں ملک اور قوم کا فائدہ ہی فائدہ ہے ۔ دیکھا مگر یہ گیا ہے کہ حکومتیں میڈیا سے عمومی طور پر مطمئن اور خوش نہیں ہوتی ہیں ۔ جب یہ ناخوشی بڑھتی ہے تو حکمرانوں اور میڈیا کے درمیان کشمکش اور نا آسودگی بھی بڑھتی ہے ۔ پھر حکومتیں دانستہ یا نادانستہ میڈیا اور صحافیوں کی مشکیں کسنے کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں ۔ یوں دونوں فریقین کے درمیان شکررنجیاں بھی بڑھتی ہیں ۔ امریکہ ایسے آزاد اور طاقتور ملک کے آزاد اور طاقتور میڈیا اور حکمرانوں کے درمیان ناراضیاں دیکھنے میں آتی رہتی ہیں ۔ مثال کے طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئے روز کئی امریکی صحافیوں ، چینلوں اور اخباروں کے خلاف معمول سے بڑھ کر ناراضی اور طیش کا اظہار کرتے پائے گئے ہیں ۔ ہمارے ہاں بھی حالات کچھ مختلف نہیں ہیں ۔ پی ٹی آئی کی حکومت برسر اقتدار آئی تو اس کے پہلے وزیر اطلاعات و نشریات نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے خلاف نئے نئے اور ناقابلِ رشک محاز کھول لئے تھے ۔ ان صاحب کا تو نقطہ نظر یہ تھا کہ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا میں صرف انٹر ٹینمنٹ کا عنصر ہونا چاہئے ، نیوز کا نہیں ۔ لیجئے ، انہوں نے تو ایک نیا ہی پنڈورا باکس کھولنے اور میڈیا کے ہزاروں لاکھوں وابستگان کی روٹی روزی پر لات مارنے اور اس انڈسٹری کو تالا لگانے کی جسارت کی ۔ اس کے نتائج بھی پھر انہوں نے فوری ہی بھگت لئے ۔ ملک بھر کے کسی بھی پریس کلب میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا۔ پریس کانفرنسوں میں اُن کے سامنے سے مائک اٹھائے جانے لگے ۔ اور اس سے پہلے کہ یہ صاحب اپنی ”عظیم بصیرت” سے جناب عمران خان کی حکومت کیلئے مزید مسائل پیدا کرتے اور حکومت و صحافیوں کی خلیج بڑھاتے ، ان کی چھٹی کروا دی گئی ۔ درمیان میں ایک محترمہ کو وزارتِ اطلاعات و نشریات کا قلمدان بطورِ مشیر سونپا گیا لیکن وہ بھی ملک بھر کی اخبار نویس برادری اور حکومت کے درمیان صحیح معنوں میں پُل نہ بن سکیں ۔ وزیر اعظم جناب عمران خان متعدد بار خود اعتراف کر چکے ہیں کہ اُنہیں اقتدار میں لانے اور پی ٹی آئی کو کامیابیوں سے ہمکنار کرنے کیلئے وطنِ عزیز کے میڈیا کے دونوں بازوؤں نے شاندار اور بنیادی کردار ادا کیا تھا لیکن حیرانی کی بات ہے کہ اب وہی عمران خان ملکی میڈیا سے غیر مطمئن اور نا خوش ہیں ۔ پنجاب اور مرکز میں حکومت نے درجنوں مشیرانِ اطلاعات ساتھ رکھے ہیں لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ حکومت پھر بھی میڈیا سے مطمئن نہیں ہے ؟ یہ حقیقت بہرحال تسلیم کی جانی چاہئے کہ پی ٹی آئی کے گذشتہ دو سالہ اقتدار کے دوران پاکستان کے میڈیا اور اس انڈسٹری سے وابستگان کے حالات خاصے دگرگوں اور خراب ہُوئے ہیں ۔ لاتعداد صحافی بے روزگار ہُوئے ہیں ۔ میڈیا میں تنخواہوں کی ادائیگیاں بھی مشکل بنا دی گئی ہیں ۔ سرکار دربار کے متعدد وعدوں کے باوصف اخبارات و جرائد کے بقایا جات کے سنگین مسائل حل نہیں کئے جا رہے ۔ اس دوران جناب عمران خان نے مرکز میں اپنے تیسرے وزیر اطلاعات جناب شبلی فراز کو تعینات کیا ۔ اُن کی معاونت کیلئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو بطورِ معاونِ خصوصی بھی سامنے لایا گیا ۔ جناب وزیر اعظم نے بجا اورد رست سوچا ہوگا کہ چونکہ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ گزشتہ دَور میں ڈی جی آئی ایس پی آر بھی رہ چکے ہیں اور اس حوالے سے میڈیا بارے اُن کے تجربات اور مشاہدات بھی خوب ہوں گے ، اس پس منظر میں ملک بھر میں میڈیا کے مسائل بخوبی اور آسانی سے حل بھی ہوتے جائیں گے اور فریقین کے درمیان کوئی کشمکش بھی نہیں رہے گی ۔میڈیا والے بھی ، دوسری طرف، قدرے مطمئن ہُوئے ۔ شبلی فراز پاکستان کے نامور اور ترقی پسند شاعر جناب احمد فراز کے صاحبزادے ہیں ۔ اس حوالے سے وہ آزاد صحافت کی برکتوں سے بھی خوب واقف ، آشنا اور آگاہ ہیں ۔یوں وزیر اطلاعات جناب شبلی فراز اور معاونِ خصوصی برائے اطلاعات جناب عاصم سلیم باجوہ کی اکٹھی آمد سے ملکی میڈیا میں یہ احساس پایا گیا کہ معاملات درست نہج میں آگے بڑھیں گے ۔ میڈیا کی یہ توقعات اور اُمیدیں بے جا اور غیر حقیقی نہیں تھیں اور نہ اب ہیں ۔ ملکی میڈیا اب بھی شبلی فراز اور عاصم باجوہ سے اچھی توقعات وابستہ کئے ہُوئے ہے۔ اسی پس منظر میں چند روز قبل(26اگست کو) جناب عارف نظامی کی زیر قیادت سی پی این ای کا ایک 13 رکنی نمائندہ وفد اسلام آباد میں وزیر اطلاعات جناب شبلی فراز سے بھی ملا اور معاونِ خصوصی برائے اطلاعات جناب لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے بھی ۔یہ ایک اچھی اور مستحسن ملاقات تھی جس میں سی پی این ای کے وفد نے نہائت تفصیل کے ساتھ وزیر اطلاعات اور مشیر اطلاعات کو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے سنگین مسائل اور درپیش مصائب سے آگاہ کیا ۔ وزیر اطلاعات جناب شبلی فراز نے تحمل اور صبر کے ساتھ اخبارات و جرائد کی مشکلات بارے شکایات کو سنا ۔ مبینہ طور پر ان کے جواب میں اُنہوں نے کہا:”پی ٹی آئی کی حکومت آزادیِ صحافت پر یقین رکھتی ہے ۔ آزادیِ صحافت اور جمہوریت ایک دوسرے کیلئے لازم ملزوم ہیں ۔ ہم تمام چھوٹے ، درمیانے درجے کے اور علاقائی و مقامی اخبارات کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہم جو بھی پالیسی مرتب کریں گے، سی پی این ای سمیت تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ٹھوس پالیسی مرتب کریں گے ۔ مجھے وزیر اعظم نے وزیر اطلاعات کی ذمہ داریاں میڈیا پر دباؤ بڑھانے کیلئے نہیں دیں بلکہ یہ کہا ہے کہ میڈیا کے تمام واجبات ادا کئے جائیں ۔”وزیر اطلاعات کی یہ سب باتیں نہائت دلکشا اور دل افروز ہیں ۔ ان سب سے اتفاق کیا جانا چاہئے کہ سب باتیں اصولی ہی کی گئی ہیں ۔سوال مگر وعدوں کے نفاذ کا ہے ۔ ہم سب وزیر اطلاعات کی باتوں اور اُن کے کئیے گئے وعدوں پر صدقِ دل سے یقین رکھتے ہیں اور اُن سے اچھی توقعات بھی رکھتے ہیں اور یہ بھی اُمید رکھتے ہیں کہ وزیر اطلاعات صاحب ہماری حوصلہ افزائی بھی فرمائیں گے ۔ میڈیا رواں لمحات میں جن مسائل کے شکنجے میں پھنس چکا ہے ، سرکاری اشتہارات جس طرح سکڑاؤ کا شکار بنے ہیں ، میڈیا کے واجبات ادا کرنے سے جس طرح لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے ، ان سب نے مل ملا کر میڈیا انڈسٹری کیلئے گمبھیر صورتحال پیدا کر دی ہے ۔ اسے صورتحال سے سرکار ہی نکال سکتی ہے اور اسے ہماری دستگیری کرنی بھی چاہئے کہ ملک بھر میں ہزاروں خاندان اس صنعت سے وابستہ ہیں ۔ اچھی بات یہ ہُوئی کہ اس ملاقات میں وفاقی سیکرٹری اطلاعات جناب اکبر حسین درانی اور پرنسپل انفرمیشن آفیسر محترمہ شہیرہ شاہد بھی بنفسِ نفیس موجود تھے ۔ سب نے سی پی این ای کے مذکورہ وفد کی شکایات اور مسائل اپنے کانوں سے سنے بھی اور وزیر اطلاعات کے وعدے بھی ۔ اس کے بعد وفد مذکور نے وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات جناب لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے بھی ملاقات کی اور اُنہیں بھی اپنے مسائل اور دکھڑوں سے آگاہ کیا ۔ اب گیند ایک بار پھر شبلی فراز صاحب اور عاصم سلیم باجوہ صاحب کی ”کورٹ ” میں ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ درپیش مسائل کے حل کیلئے مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ میڈیا کے مالی مسائل کا انبار بڑھتا اور پھیلتا ہی چلا جارہا ہے ۔حکومت اور وزیر اطلاعات کے وعدوں میں جلد ایفا کا مظاہرہ ہونا چاہئے ۔ ہم تو فقط یہ چاہتے ہیں کہ میڈیا اور حکومت کے درمیان تعلقات اور معاملات بغیر کسی رکاوٹ اور کشمکش کے آگے بڑھتے جائیں اور حکومت میڈیا کی سخت تنقید سے بچ کر ملک وقوم کی خدمت کرتی رہے ۔ رواں لمحوں میں حکومت کو ویسے بھی کئی محازوں پر بیک وقت کئی جنگیں لڑنا پڑ رہی ہیں ۔ حکومت کو کئی رکاوٹوں اور چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ سب سے بڑی رکاوٹ اور جنگ تو معیشت ہے جس کی کمزوری نے ملک اور عوام کو سخت پریشان کررکھا ہے اور مہنگائی بھی ہے جس نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے ۔ اس مہنگائی کے ہاتھوں ہر شخص پریشان ہے ۔ اور حکومت کسی کی بھی دستگیری کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ اوپر سے اپوزیشن اور حکومت کے مابین محاز آرائی بھی بڑھ رہی ہے ۔ اس محاز آرائی کی ایک تازہ تصویر ہم سب عوام نے اُس وقت دیکھی ہے جب سینیٹ کے فلور پر ”فیٹف”(FATFیعنی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) کے معاملے میں حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ”فیٹف” کے دونوں بلز قومی اسمبلی سے تو حکومت نے پاس کروا لئے تھے کیونکہ وہاں حکومتی پارٹی کی اکثریت ہے لیکن جب یہ بلز سینیٹ میں پہنچے تو حکومت اپنے دونوں بلز منظور نہ کروا سکی ۔ وجہ کیا بنی؟ اس بارے حکومت کا اپنا موقف ہے اور اپوزیشن کا اپنا۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ ”ہم حکومت کو فیٹف کے نام پر ہٹلر نہیںبننے دیں گے” اور حکومت کہتی ہے کہ ” اپوزیشن اپنے جرائم پر پردے ڈالنے اور این آر او حاصل کرنے کیلئے فیٹف پر حکومت کو بلیک میل کررہی ہے۔” حکومت اور وزیر اعظم اگر سنجیدہ ہوتے تو ”فیٹف” کے حوالے سے مذکورہ بلز منظور کروانے کیلئے خود اپوزیشن کے پاس چل کر جاتے لیکن حکومت کی اکڑ اور ضد نے سینیٹ میں اسے شکست کا منہ دکھا دیا ۔اطلاعات کے مطابق اب حکومت ان دونوں بلوں کو منظور کروانے کیلئے اگلے ہفتے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کے بارے میں سوچ بچار کررہی ہے ۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ اگر تو ان دونوں بلز کی منظوری میں ملک اور قوم کی بہتری ہے اور ملک مبینہ گرے لسٹ سے باہر نکل سکتا ہے تو یہ ضرور منظور ہونے چاہئیں اور اگر حکومت مبینہ طور پر ان بلز کی منظوری کے پردے میں اپوزیشن اور اپنے ہر قسم کے مخالفین کی مشکیں کسنے کا پروگرام بنا رہی ہے تو یہ ہر گز ہر گز منظور نہیں ہونے چاہئیں ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت اور اس کے لاتعداد ترجمان میڈیا پر آکر مذکورہ بلوں بارے اپوزیشن کے اٹھائے گئے سوالات اور اعتراضات کے شافی اور اطمینان بخش جواب نہیں دے سکی ہے ۔ حکومتی ترجمان بس اپوزیشن کو طعنے دینے اور اُن کی کردارکشی کرنے پر اکتفا کررہے ہیں ۔ یوں ایک گرہ سی پڑ گئی ہے اور یہ گرہ اُس وقت پڑی ہے جب پاکستان کا معاشی حَب کراچی بارشی پانیوں میں غرقاب ہو چکا ہے ۔ نقصان کا تخمینہ اربوں میں ہے اور سندھ حکومت بیچارگی اور بے بسی میں امداد ، اعانت اور ریسکیو کیلئے وفاقی حکومت اور پاک فوج کی طرف دیکھ رہی ہے ۔ یہ سنگین صورت ایسے حالات میں پیدا ہُوئی ہے جب مرکزی اور سندھ کی حکومت میں سخت کشیدگی بھی پائی جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے !!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.