ہر قدم پر ہے احتسابِ عمل، اِک قیامت پہ انحصار نہیں

پاکستان کا74واں یومِ آزادی اس حال میں گزرا ہے کہ ملک بھر میں احتساب اور داروگیر کا غلغلہ مچا ہُوا تھا۔ یہ احتساب ایسے لوگوں کے بارے میں جاری ہے جو خود اور اُن کی آل اولاد برسوں اقتدار سے مستفید ہوتے رہے اور جو ایوانِ اقتدار میں رہ کر مبینہ طور پر قوم کی بجائے نجی مفادات کے فروغ اور اُن کے تحفظ میں سرگرمِ عمل میں رہے ۔ احتساب یعنی ”نیب” کے شکنجے میں جکڑے جانے والے یہ طاقتور افراد اتنے با رسوخ اورباوسائل ہیں کہ پچھلے دو برسوں کے اقتدار کے دوران تبدیلی اور احتساب کے نعروں کی گونج میں برسرِ اقتدار آنے والی پی ٹی آئی کی حکومت اور وزیر اعظم جناب عمران خان ان مبینہ بدعنوانوں اور کرپٹ افراد کا بال بھی بیکا نہیں کر سکے ۔ یہ لوگ مسلسل آزاد رہ کر دندنا بھی رہے ہیں اور عوام کے سینوں پر مونگ بھی دَل رہے ہیں ۔اگر یہ لوگ چند ایام کیلئے کسی احتسابی جیل میں رہتے بھی ہیں تو اپنی دولت اور وکلا کی طاقت سے ضمانتوں پر پھر باہر نکل آتے ہیں ۔ عوام کی اکثریت انہیں سزائیں دئیے جانے کی منتظر ہے لیکن یہ باوسیلہ اور مبینہ کرپٹ ارب پتی لوگ سزاؤں سے مسلسل بچتے چلے جا رہے ہیں ۔ اس پیش منظر میں دو واقعات نے ظہور کیا ہے (١) سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی اور نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف کا ”نیب” لاہور کے دفاتر کے باہر پولیس سے تصادم (٢) سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری پر مبینہ کرپشن الزامات کی بنیاد پر فردِ جرم عائد کیا جانا ۔ یہ دونوں بڑے سیاسی واقعات عین اُس وقت سامنے آئے ہیں جب ہم سب وطنِ عزیز کا 74واں یومِ آزادی منانے کی تیاریاں کررہے تھے ۔ اور جب بوجوہ پاک سعودیہ تعلقات نہائت کشیدگی کا شکار ہو چکے ہیں ۔ حیرانی کی بات ہے کہ پاکستان کو نہائت شدت کے ساتھ اپنی معاشی بقا کیلئے چاروں اطراف میں جنگ لڑنا پڑ رہی ہے اور دوسری طرف پاکستان میں سیاسی ابتری اپنے عروج کو پہنچ رہی ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ روز بروز بڑھ رہا ہے اورمولانا فضل الرحمن صاحب اپنے خاص مقاصد میں فوری رنگ نہ بھرے جانے پر اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں (نون لیگ اور پی پی پی) سے روٹھے بیٹھے ہیں ۔ملک بھر کی معاشی حالت بد سے بدتر ہو رہی ہے اور سیاستدان اپنے مقاصد کے حصول کی جنگ میں مشغول ہیں ۔ اپوزیشن سے عوام بجا طور پر شکائت کررہے ہیں کہ یہ لوگ اپنے مفادات اور ناجائز دولت کے تحفظ کیلئے کھل کر حکومت کے سامنے آنے اور عوامی مفادات کے حق میں رزم آرائی سے دانستہ ہچکچا رہے ہیں ۔ اپوزیشن کی صفوں میں منافقت گھس آئی ہے ۔ ہر کوئی اپنی اپنی کھلڑی بچانے کی فکر میں ہے ۔ اور جب احتساب کا ہاتھ بروئے کار آتا ہے تو اپوزیشن کی صفوں میں کھلبلی مچ جاتی ہے ۔مریم نواز شریف کے ساتھ بھی ایسا ہی ہُوا ہے ۔ احتسابی ہاتھ نے اُن سے کچھ استفسارات کرنا چاہے تو مریم نواز اپنے سیاسی کارکنوں کی فوج کے ساتھ ”نیب” والوں پر چڑھ دوڑیں ۔ ”نیب” نے تو محض اس ایک سوال کا جواب جاننے کیلئے مریم نواز کو اپنے ہاں بلایا تھا کہ محترمہ زرا اُن 200کنال زمین کا حساب تو دیجئے جو آپ نے پُر اسرار حالات اور پُر اسرار دولت سے اپنے نام کروائی تھی ۔ بس اس ایک سوال پر مریم نواز بپھر گئیں ۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے موجودہ اور سابقہ حکمرانوں اور اُن کی آل اولاد کسی احتسابی عمل پر بپھر جاتے ہیں ۔ گویا ہمارے اشرافیہ اور حکمران خاندانوں اور ان کے بچوں نے یہ تصور کر لیا ہے کہ وہ جو مرضی کرتے رہیں ، اپنی مرضی سے جو چاہے عوام اور ریاستی وسائل سے کھلواڑ کرتے رہیں ، ان سے سوال کرنا گناہ ہے ۔گویا احتساب اور سزائیں تو صرف پاکستان کے غریب غربا کیلئے رہ گئی ہیں جن کے بارے میں شاعر حبیب احمد صدیقی نے کہا ہُوا ہے :
ہر قدم پر ہے احتسابِ عمل
اِک قیامت پہ انحصار نہیں
اسی احتساب کے تحت پاکستان کے غریب ، بے وسیلہ اور بے آواز عوام کو ہر روز حکمرانوں اور عدالتوں کے سامنے اپنا حساب دینا پڑتا ہے لیکن اہلِ زر اور اہلِ اقتدار اور اُن کی اولادوں نے سمجھ رکھا ہے کہ اُن کی بد اعمالیوں اور بد عنوانیوں کے بارے میں کوئی سوال پوچھا جا سکتا ہے نہ اُن کا احتساب کیا جا سکتا ہے ۔اسی موہوم تصور کے تحت محترمہ مریم نواز شریف بھی ”نیب” کے خلاف غصے میں آ گئیں اور ”نیب” کے دفاتر کے سامنے اُنہوں نے باقاعدہ مورچہ بھی لگایا ۔مریم نواز شریف نے الزام لگایا ہے کہ ”نیب” کے دفاتر کی طرف سے اُن پر ، اُن کی گاڑی پر اور اُن کے کارکنوں پر سنگ باری کی گئی جس میں اُن کی کروڑوں روپے مالیت بُلٹ پروف گاڑی کی ونڈ سکرین ٹوٹ گئی ۔ مریم نواز نے اپنی گاڑی کی شکستہ ونڈ سکرین کے سکرین شاٹس ٹوئٹر پر بھی شیئرکئے ہیں اور میڈیا کو بھی جاری کئے ہیں ۔ لوگ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ بلٹ پروف گاڑی کی ونڈ سکرین صرف پتھر لگنے سے کیسے تڑخ گئی ؟ سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی حیران ہیں کہ کسی کی جرأت کیونکر ہُوئی کہ اُن کی قیمتی گاڑی پر کوئی پتھر برسائے !محترمہ ابھی تک خود کو وزیر اعظم ہاؤس کی مکین تصور کئے بیٹھی ہیں ۔ لیکن یہ تو مریم نواز اور نون لیگ کا بیانیہ ہے ۔ ”نیب” لاہور اور پنجاب حکومت کا بیانیہ اور نقطہ نظر قطعی مختلف ہے ۔ ”نیب” کا دعویٰ ہے کہ مریم نواز شریف کے کارکنوں کی طرف سے سنگ باری کا آغاز کیا گیا اور یہ کہ یہ لوگ پتھراپنی گاڑیوں میں لفافوں میں بھر کر لائے تھے ۔ قومی میڈیا کے اکثر چینلوں پر بھی پتھروں سے بھرے پولی تھین کے لفافے دکھائے گئے ۔ اگر یہ سچ ہے تو مریم نواز اور نون لیگ نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی خود ماری ہے ۔ مریم نے بعد ازاں 50منٹ کو محیط ایک بھرپور پریس کانفرنس بھی کی جس میں اپنی مظلومیت اور اپنے سچا اور بے گناہ ہونے کے کئی دعوے کئے گئے لیکن اُن کی بات بنی نہیں ۔پنجاب حکومت کا بیانیہ اور دعویٰ قرینِ قیاس لگتا ہے ۔ ویسے بھی ایسی سیاسی جماعت( نون لیگ) جس کے دامن پر پہلے بھی سپریم کورٹ پر حملے کا داغ لگ چکا ہے ، اُس سے یہ توقع بھی کی جا سکتی ہے کہ وہ پتھروں سے لیس ہو کر ”نیب” کے دفتر پر حملہ آور ہو جائے ۔”نیب” کی طرف سے کئی نون لیگی کارکنوں پر مقدمات قائم کر دئیے گئے ہیں ، کئی گرفتار ہو چکے ہیں اور کئی نون لیگی کارکن گرفتاری کے وقت پنجاب پولیس کے تشدد کا ہدف بھی بنے ہیں ۔ تشدد کرکے پنجاب پولیس نے ایک بار پھر اپنی معروف ”اخلاقیات” کا ”بھرپور” مظاہرہ کیا ہے ۔مریم نواز شریف اگر اپنے کارکنوں کو سنگباری سے روکے رکھتیں تو یہ اُن کیلئے بہتر ہوتا ۔ ایسا مگر نہیں ہو سکا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے کارکنوں کی ضمانت کے بعد ان کی حوصلہ افزائی کیلئے مسلم لیگ ہائوس میں عشائیہ کا بھی اپنے ٹویٹ میں کر کیا جو اچھا شگن نہیں’ہم سمجھتے ہیں کہ اس واقعہ نے پنجاب حکومت اور نون لیگ کے درمیان مزید فاصلے پیدا کر دئیے ہیں ۔ یہ بات نہائت تشویشناک اور پُراسرار ہے کہ اس سارے قضئے میں اپوزیشن لیڈر اور مریم نواز کے چچا میاں شہباز شریف نے چپ کا روزہ رکھے رکھا ۔ وہ مریم نواز شریف کی پریس کانفرنس میں بھی موجود نہیں تھے ۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا مریم نواز شریف کا دھڑا نون لیگ پر غالب آ چکا ہے؟ کیا نون لیگ کے اندر واقعی دراڑیں پڑ چکی ہیں؟شریف خاندان کے اندر اقتدار کیلئے کشمکش تو ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے لیکن جو لوگ نواز شریف کی سیاست کو جانتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ شریف خاندان بارے میں کہی گئی ہر پیشگی بات ہمیشہ غلط ہی ثابت ہُوئی ہے ۔ یہ درست ہے کہ شریف خاندان کے سابقہ مقتدرین کو اپنے گناہوں اور غلطیوں کا حساب دینا پڑ رہا ہے ۔ اگر پی ٹی آئی کی حکومت اس حساب کے اندر سے پاکستانی عوام کے حق میں کوئی نتیجہ برآمد کر سکتی تو اُس کی اب تک پورے ملک میں بلّے بلّے ہو رہی ہوتی ۔ ایسا مگر ہو نہیں سکا، اسلئے عوامی توقعات کے عین مطابق پاکستان کے بڑے مبینہ لٹیرے خاندانوں سے کچھ بھی برآمد نہیں کیا جا سکا اور نہ اُنہیں سزائیں دی جا سکی ہیں ۔ اور یوں عوامی توقعات کو سخت دھچکا پہنچا ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم نے تو اب بھی عمران خان صاحب اور عثمان بزدار صاحب سے اونچی توقعات وابستہ کررکھی ہیں ۔ ہم اب بھی ان کی کامیابیوں کیلئے دعا گو ہیں ۔ مگر وہ بھی تو کچھ قدم عملی طور پر آگے بڑھائیں ۔پی ٹی آئی حکومت جب یہ کہتی ہے کہ ”کچھ بھی ہو جائے ، آٹے چینی کی قیمتیں ہر صورت کم کی جائیں گی” تو اس پر عملدرآمد بھی تو سامنے آنا چاہئے ۔ مرتی عوام کو کچھ تو ریلیف ملنا چاہئے ۔ اور جب ایسا نہیں ہوتا تو پھر نواز شریف ، مریم نواز، شہباز شریف ، آصف علی زرداری وغیرہ کے خلاف اُٹھائے گئے احتسابی اقدامات محض ڈرامہ اور گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے مصداق نظر آتا ہے ۔ حکومتی کمزوری کے کارن ہی تو مبینہ کرپٹ شخص اور سابق صدرِ پاکستان ، آصف علی زرداری ، نے حکومت کو للکارا ہے ۔پارک لین کیس کے حوالے سے آصف زرداری کے خلاف فریمنگ آف چارج کی تحریر احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے پڑھ کر سنائی۔ عدالت نے فرد جرم عائد کرتے ہوئے زرداری سے کہا: ”آپ نے بطور صدر پاکستان اثر انداز ہوکر قرض کی رقوم فرنٹ کمپنیوں کو جاری کروائیں۔ آپ نے بدنیتی سے اپنی فرنٹ کمپنی، پارتھینون کمپنی کو ڈیڑھ ارب کا قرضہ دلوایا۔آپ پارک لین کمپنی کے ڈائریکٹر تھے اور جعل سازی کا منصوبہ بنایا اور فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور یہ رقم جعلی بینک اکاؤنٹس میں بھجوائی گئی”۔آصف علی زرداری نے جواب دیا: ”میں تمام الزامات کو رَد کرتا ہوں بلکہ آپ کراچی آ کر اس عمارت کو بھی دیکھ لیں۔میں نے پاکستان کو اٹھارہویں ترمیم دی، اس لیے یہ مقدمات بنائے جا رہے ہیں، مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے یہ کیس بنائے جا رہے ہیں۔ عدالتوں کو غیر جانبدار رہ کر فیصلہ دینا چاہیے۔ میری سیاسی بدنامی کے لیے یہ ڈراما رچایا جارہا ہے”۔یہ ساری گفتگو ویڈیو لنک کے زریعے کی گئی ۔ زرداری صاحب نے اپنی مبینہ بیماری کے بہانے عدالت میں نہ آنے اور فردِ جرم نہ سننے کے بہت بہانے بنائے مگر عدالت نے اُن کی ایک نہ سُنی اور اُن پر فردِ جرم عائد کرکے ہی چھوڑی ۔ نواز شریف کی طرح آصف زرداری پر بھی کرپشن اور لوٹ مار کے کئی الزامات عائد ہیں لیکن نہ تو کرپشن کی بنیاد پر نواز شریف کو ابھی تک کوئی سزا دی جا سکی ہے اور نہ ہی آصف زرداری اور اُن کی ملزمہ ہمشیرہ ، فریال تالپور ، کو کرپشن کے سنگین الزامات کی اساس پر جیلوں میں بھیجا جا سکا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حکومت کی ناکامی ہے ۔ اس سے پہلے بھی مسٹر زرداری پر کچھ سال قبل کئی الزامات عائد کئے گئے ، اُنہیں برسوں زیر حراست بھی رکھا گیا لیکن کوئی ایک جرم بھی ثابت نہ کیا جا سکا اور وہ ببلیاں مارتے ہُوئے باہر نکل آئے اور صدرِ پاکستان بھی بن گئے ۔ جو اُنہیں چور اور ڈاکو کہتے تھے ، اب وہی اُنہیں سیلوٹ مارتے تھے ۔ اندیشہ ہے کہ کہیں اب بھی ایسا ہی نہ ہو ۔ ماضی کی داستان پھر نہ دہرائی جائے ۔ آصف زرداری صاحب پر فردِ جرم عائد کئے جانے کے بعد بلاول بھٹو زرداری کا لہجہ بھی تلخ ہو رہا ہے ۔ اُنہوں نے وفاقی حکومت کی سندھ کے ”خلاف خفیہ نیتوں” پر جس طرح حملہ کیا ہے ، اسے غیر اہم نہ سمجھا جائے ۔ عمران خان سے عوام اب بھی یہ توقع رکھے ہُوئے ہے کہ ملک کے لٹیروں اور چوروں کو جلد از جلد کیفرِ کردار تک پہنچایا جایا جانا چاہئے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.