Daily Taqat

حمزہ شہباز کی ضمانت، الیکشن کمیشن کا فیصلہ اور 3مارچ کے سینٹ انتخابات

سرد موسم اختتام کو پہنچ رہا ہے اور نئے موسم کے آغاز ہی میں یوں محسوس ہورہا ہے جیسے سیاسی موسم بھی کروٹ لے رہا ہے ۔ اُمیدوں کی نئی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں ۔ بدلتے موسم میں حکومت کو اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک لا تعداد دباؤ اور آزمائشوں کا سامنا ہے ۔ وزیر اعظم جناب عمران خان نے چند روز قبل سری لنکا کا دور وزہ سرکاری دَورہ کیا ہے لیکن یہ وزٹ کسقدر کامیاب رہا ہے ، اس کی حقیقت سے بھی ہم سب آگاہ ہیں ۔ وزیر اعظم اس دَورے میں بھی ملک سے کوئی اخبار نویس اپنے ساتھ نہیں لے جا سکے ۔ اس کا منفی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان کے عوام کو کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ سری لنکا سے پاکستان کیا حاصل کر سکا ۔ ہمارے اخبارات کے ادارتی صفحات اس امر سے خالی ہی رہے ۔ اس دَورے کے حوالے سے کوئی اداریہ شائع ہوا نہ کوئی قابلِ ذکر کالم شائع ہو سکا۔ سری لنکا نے ہمارے وزیر اعظم کو سری لنکا کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کی اجازت بھی نہیں دی حالانکہ مبینہ طور پر پہلے اس کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ پھر کیا وجہ بنی کہ عمران خان اس مشترکہ اجلاس سے خطاب نہ کر سکے ؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں ۔ ہماری وزارتِ خارجہ بھی اس ضمن میں خاموش ہے ۔ حکومت کا مگر دعویٰ ہے کہ دورئہ سری لنکا کامیاب رہا ہے ۔داخلہ محاز پر بھی حکومت کیلئے اطمینان اور مسرت کے مناظر سکڑ کر رہ گئے ہیں ۔ عوام مایوس تو ہیں ہی ، حکومت کے دل بھی پژ مردہ ہو رہے ہیں ۔ اپوزیشن کے چہرے کھل رہے ہیں اور حکومت پسپائی اختیار کرتی نظر آ رہی ہے ۔پورے ملک کے ضمنی انتخابات میں حکومتی پارٹی کو جن شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، انہوں نے بھی حکومت کو برہم کررکھا ہے ۔ اوپر سے ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں پی ڈی ایم جس شدت سے پنجاب حکومت کے لتّے لے رہی ہے، پورے ملک میں اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔ پی ڈی ایم کی مرکزی رہنما اور نون لیگ کی نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف نے بھی ڈسکہ کے مشکوک انتخاب کے حوالے سے حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف گیم اٹھا کر رکھی ہے ۔مثال کے طور پر مریم نواز کا یہ بیان کہ ” ڈسکہ میں ووٹ چوری میں عمران خان کے نیچے کام کرنے والی ایجنسیاں ملوث ہیں ۔ نام میرے پاس آ چکے ہیں کہ کس نے ڈسکہ کے بعض حلقوں میں پریذائیڈنگ افسروں کو اغوا کیا ، خود سچ بتا دیں ورنہ مَیں عوام کے سامنے سچ لاؤں گی۔”اس بیان نے حکومت کیلئے عجب صورتحال پیدا کررکھی ہے ۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے بھی دعوے کئے جا رہے تھے کہ ہم ڈسکہ کا ضمنی انتخاب جیت چکے ہیں ، اسلئے الیکشن کمیشن ہماری فتح کا اعلان کرے ۔ حکومتی ترجمان اور مشیرانِ خاص ( جن میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو سر فہرست مقام حاصل ہے) بلند بانگ دعوے کررہے تھے کہ ڈسکہ میں اپوزیشن فیل ہو چکی ہے لیکن دوسری طرف اپوزیشن مطالبہ کررہی تھی کہ مبینہ حکومتی دھاندلی کا تقاضا ہے کہ ڈسکہ میں پھر سے ضمنی انتخاب کروائے جائیں ۔ ہوا یہ چل رہی ہے کہ اگر ڈسکہ میں دوبارہ ضمنی انتخاب کا میدان لگا تو یہ نون لیگ کے حق میں جائے گا۔ڈسکہ میں23حلقوں میں جو عاقبت نا اندیشی کا حکومتی مظاہرہ ہوا ہے ، اس نے اعتبار اور اعتماد کی چُولیں ہلا دی ہیں ۔ حکومت کو نقصان ہی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے اس سلسلے میں جو پریس ریلیز جاری کی گئی ، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ڈسکہ کے وہ”مغوی” حلقے جہاں جھرلو پھرنے کی باتیں کہی جارہی تھیں، ان حلقوں کے نتائج پر ای سی پی کو بھی اعتبار نہیں ہے ۔ اس پریس ریلیز سے حکومت کو زک پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ اس پس منظر میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 25فروری کو ڈسکہ کا ضمنی انتخاب کالعدم قرار دے دیا گیا ۔یہاںاب 18مارچ2021ء کو دوبارہ ضمنی الیکشن ہوگا۔اس فیصلے سے حکومت کو سخت دھچکا لگا ہے ۔ حکومت کا مگر کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل کرے گی۔کئی پی ٹی آئی لیڈروں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم ای سی پی کے اس فیصلے کو آسانی سے تسلیم نہیں کریں گے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے یہ فیصلہ کرتے ہُوئے جو الفاظ لکھے ہیں ، وہ حکومت کیلئے فخر کا باعث نہیں بنے ہیں ۔ الیکشن کمیشن نے لکھا:” 19فروری کو ڈسکہ کے حلقہ این اے75میں ہونے والا ضمنی انتخاب ایماندارانہ، شفاف اور منصفانہ نہیں تھا۔امن و امان کا ماحول ناقص تھا ۔ ووٹروں کو آزادانہ ماحول فراہم نہیں کیا گیا۔انتخابی نتائج بھی مشکوک ہیں۔” الیکشن کمیشن نے کئی متعلقہ افسران اور ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی ہے ۔ کئی افسر معطل کئے گئے ہیں اور کئی ایک کے تبادلے کر دئیے گئے ہیں ۔یوں اس فیصلے سے حکومت خاص طور پر پنجاب حکومت کے حصے میں نیک نامی نہیں آئی ہے ۔اس اثنا میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے24فروری کو لاہور میں درجن سے زائد اخبار نویسوں کے رُوبرو جو گفتگو کی ہے، اس میں بھی حکومت کے خلاف للکار صاف سنائی دے رہی ہے ۔ بلاول بھٹو نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ حکومت کے خلاف ماہِ مارچ میں بڑا مارچ بھی ہو سکتا ہے اور سینیٹ انتخابات کے بعد عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بھی لائی جا سکتی ہے ۔ گویا پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں حکومت کے خلاف اپنے اہداف سے پسپا ہونے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ یہ بات حکو مت اور اس کے بہی خواہوں کے لئے بڑی پریشانی سے کم نہیں ہے ۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت بھی ایک پیج پر نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہوئی ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے ۔ اور اگر ایسا ہے تو حکومت خوش نہیں ہے ۔ اسلئے کہ حکومت کو ان غیر مرئی بیساکھیوں کی ہر صورت میں ضرورت ہے ۔ خاص طور پر تازہ سینیٹ کے الیکشن کے جاری ایام میں ۔ سینیٹ کے الیکشن 3مارچ2021ء کو منعقد ہو رہے ہیں ۔ اس کی گونج ہر طرف سنائی دے رہی ہے ۔ اور انہی ایام میں حمزہ شہباز شریف کی عدالت سے ضمانت بھی منظور ہو گئی ہے ۔ مریم نواز شریف نے حمزہ کی ضمانت پر دلی مسرت کا بجا طور پر اظہار کیا ہے ۔حمزہ شہباز اور اُن کے والد میاں شہباز شریف ، دونوں باپ بیٹا زندانی رہے ۔ حمزہ شہباز اگر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں تو اُن کے والد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ۔ حمزہ شہباز پچھلے اٹھارہ بیس مہینوں سے مسلسل جیل کی قید کاٹ رہے تھے ۔ وہ موجودہ حکومت کے سب سے بڑے سیاسی قیدی شمار کئے گئے ۔ اُن پر سرکاری محتسبوں نے کئی الزامات عائد کررکھے ہیں ۔ ان الزامات کو ابھی عدالتوں میں ثابت کرنا باقی ہے لیکن پچھلے اٹھارہ مہینوں میں تو ان میں سے ایک بھی تہمت ثابت نہیں ہو سکی ہے ۔ ایسے ہی الزامات میں نون لیگ کے کئی دیگر لیڈر بھی حوالہ زنداں کئے گئے ۔ مثال کے طور پر شاہد خاقان عباسی ، احسن اقبال ،خواجہ برادران وغیرہ مگر ان لوگوں سے نکلا کیا؟ اب یہ سب لوگ ضمانتوں پر باہر آ چکے ہیں ۔ حمزہ شہباز شریف کو بھی لمبا کشٹ کاٹنے کے بعد ضمانت مل گئی ہے ۔ اس ضمانت سے حکمران پارٹی کو خوشی نہیں ملی ہے ۔ اُمید کی جا رہی ہے کہ عنقریب ہی میاں شہباز شریف بھی عدالت سے ضمانت حاصل کر لیں گے ۔ میاں شہباز شریف نے لندن کی عدالت میں ایک برطانوی صحافی کے خلاف جو ہتک عزت کا دعویٰ دائر کررکھا تھا، وہ بھی جیت لیا ہے ۔ نواز شریف کو بھی ایک لندنی عدالت سے اُس شخص کے خلاف کامیابی ملی ہے جس نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے حوالے سے نواز شریف کے خلاف مقدمہ قائم کررکھا تھا۔ اب لندنی عدالت نے اس شخص کے خلاف فیصلہ سنایا ہے اور نواز شریف کو لاکھوں روپے بھی ملے ہیں ۔اس پس منظر میں مریم نواز کا یہ بیان عمران خان حکومت کے خلاف خاصا معنی خیز ہے کہ ” یہ لوگ ہم سے پیسے نکلوانے گئے تھے، اُلٹا انہیں ہمیں پیسے دینے پڑے ہیں۔” یوں شریف برادران کو سیاست کے میدان میں اخلاقی فتح ملی ہے ۔ یہ مناظر خاص طور پر عمران خان کے ایک مشیر خاص ( شہزاد اکبر) کیلئے خوش کن نہیں ہیں جنہوںنے شریف برادران کی ناک رگڑنے کیلئے کئی مہمات شروع کر تورکھی ہیں مگر ابھی تک ان میں سے کسی ایک میں بھی اُنہیں مطلوبہ کامیابی نہیں ملی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ حمزہ شہباز شریف کی ضمانت تازہ سیاسی حالات میں بڑی اہمیت رکھتی ہے ۔ خاص طور پر ان حالات میں جب دو روز بعد سینیٹ کے انتخابات کا معرکہ ہورہا ہے ۔ سینیٹ کے انتخابات میں اپوزیشن یعنی پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار جناب سید یوسف رضا گیلانی کو میدان میں اتارا گیا ہے ۔ اُن کے مقابلے کے لئے حکومت نے عبدالحفیظ شیخ کو کھڑا کیا ہے۔انہی دونوں امیدواروں پر سارے ملک کی نظریں لگی ہیں۔ حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ سیاسی اعتبار سے کمزور شخص ہیں۔اُن کی طرف سے پچھلے ڈھائی برسوں کے دوران پورے ملک کے عوام کو جن معاشی عذابوں سے مسلسل گزرنا پڑا ہے، ان کی موجودگی میں اُن کی سیاسی حیثیت ویسے بھی خاصی کمزور اورناقابلِ اعتبار ہو چکی ہے ۔جبکہ یوسف رضا گیلانی سیاسی اعتبار سے خاصے تگڑے اور طاقتور ہیں کہ وہ وفاقی وزیر بھی رہے ہیں، قومی اسمبلی کے اسپیکر بھی اور پاکستان کے وزیر اعظم بھی ۔ سیاسی اعتبار سے اُنہوں نے قیدیں بھی کاٹی ہیں ۔ مشرف کے زمانے میں وہ کئی سال جیل رہے ۔ اُنہوں نے بطور وزیر اعظم پارٹی اور پارٹی قیادت کے مفاد میں اپنی وزرتِ عظمیٰ بھی گنوائی لیکن بے وفائی نہیں کی ۔ یوں سید یوسف رضا گیلانی کی موجودگی عمران خان اور حکومت کے سینے پر مونگ دَل رہی ہے ۔ چار دن پہلے جب شہباز شریف لاہور کی ایک عدالت میں پیشی کیلئے حاضر ہوئے تو یوسف رضا گیلانی بھی خصوصاً اُنہیں ملنے عدالت پہنچے ۔ یہ ملاقات دراصل سینیٹ کے معرکے کیلئے شہباز شریف کا ووٹ اور اُن کی حمائت حاصل کرنے کیلئے تھی ۔ کہا جارہا ہے کہ اس ملاقات کے مثبت نتائج نکلیں گے ۔یوں لگ رہا ہے جیسے یوسف رضا گیلانی کا پلڑا بھاری ہے ۔ لیکن اصل پٹاری تو 3مارچ ہی کو کھلے گی تو پتہ چلے گا کہ کس کا پلڑا بھاری رہا ۔ پنجاب میں البتہ سینیٹ کے گیارہ نتائج سامنے آ گئے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق نون لیگ اور پی ٹی آئی کے پانچ پانچ اُمیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو گئے ہیں ۔ ایک قاف لیگ کا امیدوار بھی بلا مقابلہ سینیٹ کا رکن بن گیا ہے ۔ سینیٹ کیلئے بلا مقابلہ منتخب ہونے والے پنجاب کے ان ارکان کے نوٹی فکیشن تو تین مارچ کے بعد جاری ہوں گے مگر اُنہیں ابھی سے ،مبارکبادیں مل رہی ہیں ۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان کامیابیوں میں کوئی جھگڑا فساد کا منظر بھی سامنے نہیں آیا ہے ۔ اور نہ ہی روپے پیسے کے چلنے کی باتیں سنائی دی ہیں ۔ شنید ہے کہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ، قاف لیگ کے لیڈر اور حکومت کے اتحادی چودھری پرویز الٰہی نے اس مہم میں مرکزی اور شاندار کردار ادا کیا ہے ۔ یوں گجرات کے چودھری برادران نے ایک بار پھر اپنی حکمت اور سیاسی دانش کی اہمیت ثابت کر دی ہے ۔ عمران خان بھی شائد قائل ہو گئے ہوں کہ چودھریوں کے سیاسی قد کاٹھ کے سائے کو وہ نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ چودھریوں نے پنجاب میں سینیٹ کے انتخابات میں پی ٹی آئی کیلئے جو کامیابیاں سمیٹی ہیں، ان سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی سیاسی اہمیت میں اضافہ نہیں ہُوا ہے ۔ اور یہ امر وزیر اعظم پاکستان، پی ٹی آئی اور خود عثمان بزدار کیلئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »