Daily Taqat

حکومتی ناکامیاں، مہنگائی میں مزید کمر شکن اضافہ اور بلوچستان اسمبلی کا بحران

اپنے سرکاری اقدامات اور نااہلیوں کے سبب جناب عمران خان کی حکومت عوام میں اپنی عزت اور اپنا اعتبار تیزی سے کھو رہی ہے ۔ ہر روز حکومتی فیصلے عوام دشمنی کا باعث بن رہے ہیں ۔ یوں لگتا ہے جیسے عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت کو صرف اس بات کی دلچسپی ہے کہ کس طرح مہنگائی کی شرح میں ہر روز اضافہ کرکے اور نت نئے ٹیکس بڑھا کر اپنے خزانے میں پیسے جمع کئے جا سکے ۔ پھر اس عوامی خون کے بَل پر حکومت کی اپنی عیاشیوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ تا ہے ۔ جیسا کہ ابھی چند دن پہلے ہی خبر سامنے آئی ہے کہ حکومتِ پنجاب اپنے وزیر اعلیٰ اور وزیروں مشیروں کیلئے درجنوں نئی اور مہنگی گاڑیاں خریدنے کا پروگرام بنا رہی ہے ۔ ایک طرف تو وزیر اعظم صاحب خزانے میں پیسے نہ ہونے اور ٹیکسوں میں کمی کا ہر روز رونا روتے ہیں اور دوسری طرف اُنہی کی حکومت وزیروں مشیروں کیلئے مہنگی گاڑیاں خرید رہی ہے ۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟ کیا مہنگائی میں ہر روز اضافہ کرکے اور عوام کی کمر اسلئے توڑی جاتی ہے تاکہ حکومتی وزیر اور مشیر اپنی عیاشیوں میں مزید اضافہ کر سکیں ؟ اور اپنی مراعات میں آئے روز اضافہ کرتے جائیں؟حکومتی لاپروائیوں اور نااہلیوں کے سبب آج ڈالر کا بھاؤ 172روپے سے اوپر جا رہا ہے ۔ ملکی مالی ذخائر کا گراف نیچے گرتا جارہا ہے ۔ اور ساتھ ہی حکومتی ناکامیاں بڑھتی جارہی ہیں ۔ اب تو یوں محسوس ہورہا ہے جیسے عمران خان کا کار سرکار کے کسی معاملے پر کنٹرول نہیں رہا۔ ملک آٹو پر چل رہا ہے ۔ عسکری اداروں میں ایک خاص عہدے پر ایک شخص کی تقرری کی اساس پر حکومت نے خواہ مخواہ سارے ملک کو پھانسی پر لٹکا رکھا ہے ۔ ہر روز کسی نئی سمری کے آنے جانے کی بات تو کی جاتی ہے لیکن یہ بات بے ثمر ثابت ہو رہی ہے اور ساتھ ہی کشیدگی اور کھچاؤ کا سبب بھی بن رہی ہے ۔ سارے ملک کے میڈیا میں یہی ایک بات مرکزی نقطہ بن چکی ہے ۔ اسی کے حوالے سے ہر روز نت نئی ہوائی سامنے آتی ہے ۔ سوشل میڈیا میں قیافوں اور اندازوں کا ایک الگ بازار گرم ہے ۔ سمجھ ہی میںنہیں آ رہا کہ کس بات پر یقین کیا جائے اور کسے مسترد کیا جائے ؟ مین سٹریم میڈیا پر اس قدر حکومتی پا بندیاں عائد ہو چکی ہیں کہ عوام اب مین ا سٹریم میڈیا کی کسی خبر یا تجزئیے پر بمشکل ہی یقین کرتی ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ ملکی مین اسٹریم میڈیا اپنا اعتبار کھو رہا ہے ۔ اسے المیہ ہی کہا جائے گا۔اور حکومت کی طرف سے وہ جو ”سیم پیج” کا مشہور دعویٰ کیا جاتا رہا ہے ، وہ دعویٰ بھی آج معدوم ہو چکا ہے ۔ اس دعوے کے ختم ہوتے ہی حکومتی طاقت اور وقار بھی تیزی سے گرررہا ہے ۔ گویا سیم پیج ہی بنیادی طور پر پھٹ چکا ہے ۔ اور اس کی بنیادی وجہ بھی وزیر اعظم صاحب اور اُن کے وزیروں مشیروں کے فیصلے بنے ہیں ۔ اور ایسے ستم ظرف موسم میں 15اکتوبر2021ء کے اخبارات سامنے آئے تو گبھراہٹ اور پریشانی میں پاکستانی عوام کا دل اُچھل کر سینے میں اٹک گیا ۔ عمران خان کی حکومت نے نئی مہنگائی کا نیا ہلاکت خیز بم ایک بار پھر پاکستان کے بے بس عوام کے سروں پر وحشت سے گرا دیا ۔عمران خان کی حکومت نے پاکستان کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 10روپے49پیسے اضافہ کر کے ایک نیا ظلم ڈھایا ہے ۔ اب پٹرول کی قیمت 138روپے فی لٹر ہو گئی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ نئے سرے سے ہر شئے کی قیمت میں نیا اضافہ ہوگا ۔بجلی کے نرخ بھی بڑھا دئیے گئے ہیں ۔ گویا عوامی مصائب نئے سرے سے بڑھا دئیے گئے ہیں ۔ اور اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم عمران خان اور اُن کے وزیر مشیر یہ کہہ کر عوام کے زخموں پر مزید نمک پاشی کرتے ہیں کہ ”پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں ارد گرد کے سبھی ممالک سے کم ہیں۔” ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہو چکا ہے ۔ گویا اب ٹرانسپورٹ کے نرخ بھی بڑھ جائیں گے ۔ انٹر سٹی کرائیوں میں بھی اضافہ ہو جائیگا۔ اور عوام ٹرانسپورٹروں کے ساتھ باہم دست و گریباں ہوں گے ۔ اور حکومتی دعویٰ یہ ہے کہ ابھی پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہیں ۔ نجانے حکومت مزید کہاں تک اور کس قدر مہنگائی کرنا چاہتی ہے ؟ عوام کے اعصاب جواب دیتے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی ڈراؤنے بیانات سامنے آ رہے ہیں کہ وزیر خزانہ شوکت ترین واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے ساتھ ”کامیاب” مذاکرات کے بعد مزید مہنگائی میں اضافہ کریں گے ۔ یہ موصوف ابھی تک امریکہ ہی میں ہیں اور پاکستان میں ان کا وزارتی اسٹیٹس ختم ہونے کے قریب ہے ۔سچی بات یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی حکومت نے عوام سے کیا گیا ہر وعدہ توڑ دیا ہے ۔ اب کس منہ سے عمران خان اور ان کے حواری عوام دوست حکومت کہلانے کا دعویٰ کر سکتے ہیں ؟ پے در پے وعدہ شکنیوں کے سبب حکومت کا اعتبار زمین سے جا لگا ہے ۔ اور اب تو پاکستان کے گلی کوچوں میں ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے کہ اگر آج عام انتخابات کا انعقاد عمل میں آجائے تو عمران خان اور ان کی پارٹی بُری طرح شکست کھا جائیگی ۔ اور یہ بھی سچی بات ہے کہ تین سال گزرنے کے باوجود عمران خان عوامی فلاح اور بہبود کیلئے ایک بھی مثبت قدم نہیں اُٹھا سکی ہے ۔ اور عمران خان کی حکومت عالمی اور سفارتی میدانوں میں بھی شکست کھا چکی ہے اور شدید تنہائی کا شکار ہے ۔ بھارت کیساتھ پاکستان کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں ۔ بھارت کے ساتھ تجارت بند ہے اور اس کا زیادہ نقصان پاکستان کو پہنچ رہا ہے ۔ بھارت نے اب پھر پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیکس کی دھمکی دی ہے ۔ اور اس کا جواب بھی پاکستان کے عسکری اداروں نے ترنت دیا ہے ۔ امریکی صدر نے ابھی تک ہمارے وزیر اعظم کو ایک فون تک نہیں کیا ہے ۔ اور یوں پاک ، امریکہ تعلقات میں بھی کشیدگی در آئی ہے ۔ پاکستان میں متعین امریکی قونصل جنرل( انجیلا ایگلر) مسلسل پاکستان کی اپوزیشن پارٹیوں سے مذاکرات کررہی ہیں ۔ وہ نون لیگ کے صدر جناب شہباز شریف سے بھی ملی ہیں اور نون لیگ کی نائب صدر محترمہ مریم نواز سے بھی جاتی امرا میں ملی ہیں ۔ اس پر پی ٹی آئی کو بڑی مایوسی ہُوئی ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ یہ امریکی ناظم الامور ابھی تک وزیر اعظم عمران خان سے نہیں ملی ہیں ۔ چین سے پاکستان کے تعلقات بھی مبینہ طور پر خوشگوار نہیں رہے ۔ اور سعودی عرب کا حکمران طبقہ بھی عمران خان کی حکومت سے سرد مہری کے جذبات دکھا رہا ہے ۔ یہ ساری مثالیں در حقیقت جناب عمران خان کی حکومت کی ناکامی کی تصویر دکھارہی ہیں ۔ او پر سے افغانستان کی طالبان حکومت بھی پاکستان کو آنکھیں دکھا رہی ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی طالبان کے قابل گرفت روئیے سے دلبرداشتہ ہو کر پاکستان کی قومی ائر لائن نے کابل اور اسلام آباد کے درمیان ہوائی سروس معطل کر دی ہے ۔ اس فیصلے سے بھی اکثر پاکستانیوں کومایوسی ہی ہُوئی ہے ۔ افغانستان کے حالات تیزی سے پاکستان پر بھی منفی طور پر مرتب ہو رہے ہیں ۔ ابھی تک پاکستان سمیت دُنیا کے کسی ایک ملک نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے ۔ افغانستان میں دہشت گردی کے سانحات بڑھ رہے ہیں ۔ پہلے کابل کی ایک مسجد میں بم کا ایک دھماکہ اُس وقت ہُوا جب افغان طالبان کے وزیر اطلاعات کی والدہ کی وفات پر فاتحہ خوانی ہو رہی تھی ۔ اس حملے میں کئی لوگ جاں بحق ہو گئے ۔ اس کے بعد افغانستان کے صوبہ قندوز کی ایک مسجد میں ایک خوفناک خود کش حملہ ہُوا ۔ اس میں 100سے زائد معصوم افغانی شہید اور زخمی ہُوئے ۔ کہا گیا کہ یہ حملہ ”داعش” کی کارستانی تھی ۔ ابھی اس حملے کی بازگشت تھمی بھی نہ تھی کہ 14اکتوبر2021ء کو ایک بار پھر مسجد پر خود کش حملہ کر دیا گیا۔ یہ حملہ افغانستان کے مشہور صوبہ قندھار میں اہلِ تشیع کی مسجد میں اُس وقت کیا گیا جب لوگ نمازِ جمعہ ادا کررہے تھے ۔ قندوز کی مسجد میں بھی جمعہ کی نماز کے دوران ہی خود کش حملہ کیا گیا تھا اور وہ مسجد بھی اہلِ تشیع کی تھی ۔ گویا کہا جا سکتا ہے کہ طالبان کے افغانستان میں تشدد اور خونریزی کی ندیاں بہہ رہی ہیں ۔ یہ بد قسمتی ہے کہ ان میںزیادہ تر بے گناہ اور غریب افغانیوں کا جانیں تلف ہو رہی ہیں ۔ بلوچستان کے سیاسی حالات بھی دگر گوں ہیں ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی حکومتی کشتی بُری طرح ہچکولے کھا رہی ہے ۔ چند دن پہلے جام کمال اور بلوچستان اسمبلی کے ناراض ارکان ، دونوں فریقین اسلام آباد میں موجود تھے ۔ دونوں نے وزیر اعظم سے ملاقاتیں کی ہیں لیکن صلح کی کوئی صورت نہیں نکل سکی ۔ ناراض ارکان جام کمال کی وزارتِ اعلیٰ کے درپے ہیں اور اُنہیں تخت سے اتارنا چاہتے ہیں ۔ اس نئی افتاد نے بھی عمران خان کو پریشان کررکھا ہے جو پہلے ہی پریشان ہیں ۔بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال اور ناراض ارکان کے اسلام آباد سے واپسی کے بعد سیاسی گرما گرمی کوئٹہ منتقل ہوچکی ہے۔ اب بظاہر دونوں فریقین نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اسمبلی میں اپنی اکثریت دکھا کر ہی اس کا فیصلہ کریں گے۔بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے ناراض اراکین نے کوئٹہ پہنچنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جام کمال اگر مقابلہ کرنے کا شوق رکھتے ہیں تو مقابلہ کر لیں، جبکہ سپیکر بلوچستان اسمبلی اور ناراض ارکان میں سے ایک عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے :” بلوچستان میں گمراہ کن صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے دن پتہ چل جائے گا کہ اکثریت کس کے پاس ہے۔ 20 اکتوبر2021ء کو جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو بلوچستان اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا”۔دوسری جانب ترجمان حکومتِ بلوچستان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے :” صوبائی حکومت اپنی موجودہ آئینی مدت پوری کرے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان صوبے کے پہلے بھی وزیر اعلیٰ تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔ جو عناصر بلوچستان کی ترقی میںرکاوٹ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی شروع دن سے ہی یہی کوشش رہی ہے کہ بلوچستان کی مخلوط حکومت اور اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں لیکن کچھ عناصر شروع سے ہی بلوچستان کی ترقی اور وزیر اعلیٰ کے مخالف رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے خلاف کوئی سازش ہرگز کامیاب نہیں ہوگی۔’ ‘ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورت حال میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال صاحب کو اپنی وزارت بچانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اگرچہ جام کمال کے اتحادی اور ساتھی ہیں لیکن مبینہ طور پر اُنہوں نے بھی جام کمال کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی بھی کھل کر جام کمال سے ناراض گروپ کی مدد کررہے ہیں۔ یوں بلوچستان اسمبلی کی صورتحال خاصی گمبھیر ہو چکی ہے ۔ اس تاہ ترین شکل نے جناب عمران خان کو مزید پریشان کررکھا ہے ۔ اگر جام کمال کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو عمران خان کی حکومت مرکز کے ساتھ پاکستان کے صرف دو صوبوں تک محدود ہو جائیگی ۔ اس وجہ سے عمران خان کی سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ میں شدید کمی واقع ہوگی ۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ عمران خان کے تعلقات مبینہ طور پر مناسب نہیں رہے ۔ یوں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے بحران کو حل کرنے میں اسٹیبلشمنٹ عمران خان کا ہاتھ نہیںبٹائے گی۔ آ ئیے دیکھتے ہیں کہ بحرانوں کے اس سمندر کی تہ سے کیا اُچھلتا ہے ؟؟


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »