حکومت اور اپوزیشن میں بڑھتی ہُوئی کشیدگی ملک کیلئے مناسب نہیں ہے

ملک اور عالمی حالات عجب تناؤ کی طرف جا رہے ہیں ۔وطنِ عزیز پاکستان کی معاشی صورتحال بھی مخدوش اور مشکوک ہے اور اوپر سے اپوزیشن اتحاد(پی ڈی ایم) اور پی ٹی آئی کی حکومت کے درمیان تناؤ اور کشیدگی میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے ۔ پہلے وزیر اعظم جناب عمران خان کا اپوزیشن کی مرکزی قیادت کے بارے میں سخت لہجہ تھا اور اب یہی لہجہ اپوزیشن اتحاد ”پی ڈی ایم” نے اختیار کر لیا ہے ۔اس کا ایک منظر رواں ہفتے اُس وقت سامنے آیا ہے جب کراچی واقعہ ( آئی جی پولیس مبینہ اغوا) کے بارے میں ”آئی ایس پی آر” کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی ۔ یہ رپورٹ دراصل آئی ایس پی آر کی طرف سے ایک اچھی اور منفرد مثال پیش کی گئی ہے کہ افواجِ پاکستان نے اعتراف کیا ہے کہ جو بھی اہم ادارے میں اس واقعہ کے ذمہ داران تھے اُنہیں جوابدہ بنایا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ذمہ داران کو اُن کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ باقی فیصلہ جی ایچ کیو کرے گا۔ اس رپورٹ کے منظرِ عام آنے پر تقریباً سبھی شعبہ حیات نے اس امر کی تحسین کی ہے کہ افواجِ پاکستان کے سربراہ نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین سے جو وعدہ کیا تھا، اُسے من و عن نبھا دیا ہے اور تحقیقی رپورٹ سامنے لے آئے ہیں ،اگرچہ دس دن کی بجائے رپورٹ کوئی 21دنوں کے بعد سامنے آئی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس اقدام کی تعریف کی ہے لیکن حیرانی کی بات ہے کہ لندن میں فرار کی حالت میں بیٹھے نواز شریف نے اس رپورٹ کو ”ریجیکٹ” کر دیا ہے ۔اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ”پی ڈی ایم” کے دو بڑے اتحادی (پیپلز پارٹی اور نون لیگ )کی سوچ میں خاصا فرق ہے ۔ یہ کسی دراڑ کی بھی نشاندہی کررہی ہے ۔ ہمیں تو اس منظر سے یوں لگتا ہے جیسے ”پی ڈی ایم” والے الگ الگ حکومت سے چوہے بلی کا کھیل کھیل رہے ہیں ۔ اور فریقین میں کشیدگی اور عدم اعتماد بڑھ رہا ہے ۔ پی ڈی ایم نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب کی طرف سے ملکی سلامتی پر بریفنگ لینے سے جس طرح انکار کیا ہے ، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں کھچاؤ کس قدر بڑھ چکا ہے ۔ یہ کھچاؤ اور کھیل نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی نوجوان قیادت کے اقدامات سے بھی ظاہر ہورہا ہے ۔ مثال کے طور پر پہلے بلاول بھٹو زرداری نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی خاتون صحافی کو انٹرویو دیتے ہُوئے کہا کہ نواز شریف کے اس لہجے سے اُنہیں خاصی حیرت ہُوئی ہے جب اُنہوں نے برسر مجلس فوجی قیادت کے نام لے کر کچھ الزامات لگائے ۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں یہ طے پایا تھا کہ تنقید کرتے ہُوئے فوجی قیادت کے نام نہیں لئے جائیں گے بلکہ صرف ”اسٹیبلشمنٹ” کا اشاراتی لفظ اختیار کیا جائیگا۔ اس انٹرویو سے پی ٹی آئی حکومت کے بعض ذمہ داران ( مثلاً شیخ رشید وغیرہ) نے بلاول بھٹو کے مذکورہ مکالمے کونہائت ”ذمہ دار” قرار دیا لیکن جواب میں نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف نے جب بی بی سی کی مذکورہ خاتون صحافی کو 12نومبر2020ء کو انٹرویو دیا تو حکومتی اہلکاروں کی توقعات پر پانی پڑ گیا کیونکہ مریم نواز نے اسٹیبلشمنٹ اور وزیر اعظم عمران خان کے خلاف نہائت سخت لہجہ اختیار کیا تھا ۔ یہ ایک تشویشناک عمل ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے برطانوی نشریاتی ادارے ”بی بی سی” کو انٹرویو دیتے ہُوئے کہا :” ہماری جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) فوج سے بات کرنے کے لیے تیار ہے اور پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اس بات چیت پر غور کیا جاسکتا ہے لیکن شرط یہی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ نے میرے ارد گرد موجود کئی لوگوں سے رابطہ کیا ہے لیکن مجھ سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ فوج میرا ادارہ ہے، ہم اس سے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ضرور بات کریں گے، جو دائرہ کار آئین نے وضع کردیا ہے اس میں رہ کر بات ہوگی اور یہ بات اب چھپ چھپا کر نہیں ہوگی بلکہ عوام کے سامنے ہوگی۔میں ادارے کے خلاف نہیں ہوں لیکن میں یہ سمجھتی ہوں کہ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو اس حکومت کو گھر جانا ہوگا۔مَیں تمام ‘اسٹیک ہولڈرز’ سے بات کرسکتی ہوں،ڈائیلاگ تو اب پاکستان کے عوام کے ساتھ ہوں گے اور یہ ہورہا ہے جبکہ یہ اتنا اچھا ہورہا ہے کہ جو بھی قوتیں ہیں وہ اور جعلی حکومت گھبرائے ہوئے ہیں، یہ اتنا گھبرائے ہوئے ہیں کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ کیسے ردعمل دینا ہے اور اسی میں وہ ایسی غلطیاں کر رہے ہیں کہ عقل حیران رہ جائے۔ ملک کے عوام سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر ہیں”۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست بند گلی میں نہیں جارہی بلکہ میرے خیال سے بند گلی کی طرف وہ جارہے ہیں جنہوں نے یہ مصنوعی چیز بنانے کی کوشش کی۔ ہم جہاں جارہے ہیں چاہے وہ گوجرانوالہ ہو، کراچی، کوئٹہ یا گلگت بلتستان ہو، ہر جگہ ہمارا ایک ہی بیانیہ گونج رہا ہے۔اس بیانیے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بیانیہ ہے ‘ووٹ کو عزت دو اور ریاست کے اوپر ریاست مت بناؤ’۔اپنی گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ‘یہ بند گلی نہیں ہے، اب یہی راستہ ہے اور یہ آئین و قانون کی بالادستی کی جانب جارہا ہے’۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے حالیہ انٹرویو میں کی گئی اس بات کہ وہ نواز شریف کی جانب سے انتخابات میں فوجی مداخلت کے ثبوت لانے کے منتظر ہیں، پر مریم نواز کا کہنا تھا:”نواز شریف نے بات میں بات کی ہے اور ثبوت خود عوام کے سامنے آئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا ایک اپنا موقف ہے، مسلم لیگ (ن) کا اپنا موقف ہے ۔ نواز شریف نے واضح کردیا ہے”۔کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے لیے آئی جی سندھ پر دباؤ ڈالنے اور اس کی تحقیقات کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے (ن) لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ ”اس پریس ریلیز سے عوام کو جواب نہیں ملے بلکہ مزید سوالات کھڑے ہوئے ہیں، آپ قوم کو یہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ جذباتی افسران نے عوامی دباؤ پر ردِعمل دیتے ہوئے یہ کیا۔ کون سا عوامی دباؤ تھا؟ وہ جعلی لوگ جنہوں نے مقدمہ درج کروایا اور پھر مدعی ہی بھاگ گیا۔ ان چند لوگوں کے دباؤ کو آپ عوامی دباؤ کہتے ہیں۔ عوامی ردعمل کا جواب دینا اداروں کا کام نہیں منتخب حکومت کا کام ہے، اداروں کا کام اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانا ہے نہ کہ جذبات دکھانا جبکہ اگر واقعی کسی نے یہ جذبات میں آکر کیا ہے تو یہ ادارے اور پاکستان کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے، تاہم میرے خیال میں ایسا نہیں ہوا اور چند جونیئر افسران کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا”۔ان ہاؤس تبدیلی یا مائنس عمران خان فارمولے سے متعلق ان کا کہنا تھا :”میں اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہوں گی لیکن جب وقت آئے گا تب مائنس عمران خان دیکھا جائے گا۔ اس حکومت کے ساتھ بات کرنا گناہ ہے، اس ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے عمران خان اور ان کی حکومت کو گھر جانا ہوگا اور نئے شفاف انتخابات کروائے جائیں اور عوام کی نمائندہ حکومت آئے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کوئی بڑا مسئلہ اس لیے نہیں ہیں کیونکہ میں انہیں سیاسی لوگ نہیں سمجھتی۔ میرا اور میری جماعت کا مقابلہ اس سوچ کے ساتھ ہے جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں، وہ ہر اس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا پاکستان سے خاتمہ ہونا بہت ضروری ہے۔اس لیے تحریک انصاف کے ساتھ کسی بھی قسم کا اتحاد انہیں معافی دینے کے مترادف ہوگا جو میری نظر میں جائز بات نہیں ہے، اب ان کے احتساب کا وقت ہے الحاق یا انتخابی اتحاد کا وقت نہیں ہے تاہم دیگر جماعتوں کے ساتھ بات کی جاسکتی ہے۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے لیے قانون سازی میں مسلم لیگ (ن) حکومت کا ساتھ دے گی۔جس طرح انہوں نے نواز شریف کے دیگر منصوبوں پر اپنی تختی چپکادی ہے، انہوں نے یہی کوشش یہاں(گلگت بلتستان میں) بھی کی ہے لیکن لوگ جانتے ہیں کہ یہ منصوبہ کس کا تھا اور مجھے اُمید ہے کہ جب گلگت بلتستان کے عوام مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کریں گے تو جماعت نا صرف اسے صوبہ بنائے گی بلکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس کا حصہ بھی اسے دے گی”۔ملک میں مہنگائی اور معاشی صورتحال سے متعلق مریم نواز شریف کا کہنا تھا :” یہ خود ہی چیزیں مارکیٹ سے غائب کرتے ہیں اور پھر مہنگی کر کے واپس مارکیٹ میں لے آتے ہیں، یہ نوٹس لیتے ہیں اور چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں، معاشی صورتحال ان نالائقوں کے ہاتھوں بہتر نہیں ہو سکتی اور جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں تو یہ حال ہوتا ہے”۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ مریم نواز شریف کو یہ لہجہ اختیار کرنے سے پرہیز اور گریز کرنا چاہئے تھا۔ اس انٹرویو سے مزید کشیدگی پیدا ہوئی ہے ۔پاکستان پہلے ہی کئی عالمی کشیدگیوں میں گھرا ہوا ہے ۔ اور اوپر سے حکومت اور پی ڈی ایم کے مابین کشیدگی کسی بھی طرح قوم و ملک کیلئے مناسب نہیں ہے ۔ پاکستان کو درپیش سب سے بڑے عالمی مسئلے (ایف اے ٹی ایف) نے بہت پریشان کررکھا ہے ۔ پاکستان کی عدالتیں بعض کالعدم جماعتوں کو جس طرح سزائیں دے رہی ہیں ، یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ پاکستان عالمی شرائط پر پورا اُترنے کی کوشش کرہا ہے ۔ مثال کے طور پر:کالعدم جماعت الدعوة کی قیادت کے خلاف تازہ ترین فیصلہ۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 11 نومبر 2020ء کو کالعدم تنظیم جماعت الدعوة کے تین رہنماؤں کو غیر قانونی طور پر چندہ اکٹھا کرنے کے دو مزید مقدمات میں سزائیں سنا دی ہیں، جبکہ پانچ رہنماؤں پر چھ مقدمات میں فردِ جرم بھی عائد کر دی گئی ہے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نمبر تین کے جج اعجاز احمد بٹر نے جمعرات کو کیس کی جیل میں سماعت کی۔ عدالت نے سماعت مکمل ہونے پر پروفیسر ظفر اقبال اور یحییٰ مجاہد کو مجموعی طور پر 16، 16 سال جبکہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی کو ایک سال قید کی سزا سنائی۔اس سے قبل جماعت الدعوة کے امیر حافظ محمد سعید سمیت اور دیگر رہنماؤں کو بھی مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔اے ٹی سی نے رواں سال فروری میں ایک دوسرے مقدمے میں جماعت الدعوة کے امیر حافظ سعید اور ان کے ساتھی پروفیسر ظفر اقبال کو 11، 11 برس کی سزا سنائی تھی۔حافظ محمد سعید اس وقت جیل میں ہیں جبکہ پروفیسر ملک ظفر اقبال کو اب ان کے خلاف قائم دوسرے مقدمے میں بھی سزا ہوگئی ہے۔ کالعدم تنظیم کے رہنماؤں پر کئی اور مقدمات بھی قائم ہیں۔پراسیکیوٹر عبدالرؤف وٹو کے مطابق سی ٹی ڈی کے مقدمے میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جس پر کالعدم تنظیم کے وکیل نے جرح کی۔انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قانون 1997ء کے تحت مجرم اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں اور متعلقہ لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر سکتے ہیں۔پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے مطابق جماعت الدعوة، لشکر طیبہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے معاملات میں وسیع پیمانے پر چھان بین کی گئی ہے۔سی ٹی ڈی کا موقف تھا کہ ان تنظیموں نے یہ اثاثے مختلف غیر سرکاری تنظیموں یا فلاحی اداروں کے نام سے بنائے اور چلائے۔ ایسے فلاحی اداروں میں دعوة الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ، الانفال ٹرسٹ شامل ہیں۔واضح رہے کہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے تحفظات دور کرنے کے لیے دہشت گردوں کی مالی امداد روکنے کے لیے کالعدم جماعتوں کے خلاف کارروائیوں کا فیصلہ کیا تھا جس پر عمل درآمد جاری ہے۔پاکستان کے اخلاص اور امن پسندی پر عالمی اداروں کو اعتماد کرنا چاہئے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.