حکومت غریب عوام کی توہین کرے نہ غریب عوام کا مذاق اُڑائے ، پلیز

محاورہ ہے کہ کسی کو دیوار سے نہ لگایا جائے ۔ دیوار سے لگنا یا لگایا جانا زیادتی یا پسپائی کی آخری حد ہوتی ہے ۔ یہیں سے شدید ردِ عمل پیدا ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ دیوار سے لگائے جانے پر تو بِلّی بھی مخالف کا منہ نوچ لیتی ہے ۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ آخری حد دیکھنے سے اعراض برتنا چاہئے ۔ ہماری سیاسی و صحافتی تاریخ کے ایک ممتاز نام ، الطاف گوہر، نے اپنی یادداشتوں میں ایک واقعہ حیران کن لکھا ہے :جنرل ایوب خان کے دَور میں پاکستان کی ایک معروف اور بدنامِ زمانہ جیل کا سربراہ قیدیوں پر ظلم و ستم ڈھانے میں بڑا مشہور تھا ۔ الطاف گوہر لکھتے ہیں: ایک دفعہ اُس جیلر نے ایک ضدی اور ہٹ دھرم قیدی کی انا توڑنے کیلئے اُس کے منہ پر غلاظت کا ٹوپ چڑھا دیا۔ یہ زیادتی اور توہین کی انتہا تھی ۔ کچھ دیر بعد قیدی کے منہ سے بدبودار غلاظت کا ٹوپ ہٹایا گیا اور اُس کا منہ دھلوا دیا گیا۔ جب قیدی کے اوسان بحال ہُوئے تو اُس نے جیلر کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا: صاحب بہادر ، تم نے اب زیادتی اور توہین کی تمام حدیں پار کر لی ہیں، مَیں زندہ رہوں گا تو تمہیں اس کا مزہ ضرور چکھاؤں گا۔ اور پھر کچھ عرصے بعد سبھی نے دیکھا کہ قیدی موصوف نے یہ توہین آمیز سلوک کرنے والے جیلر سے کیسے اور کس طرح کا بدلہ لیا۔ یہ واقعہ لکھنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ صاحبانِ اختیار کو زیر دست عوام اور رعایا کے اعصاب کا آخری امتحان لینے سے باز رہنا چاہئے ۔ عوام کے صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔ اور جب اس صبر کی فصیل ٹوٹتی ہے تو ہم سب جانتے ہیں کہ پھر یا تو فرانسیسی انقلاب آتا ہے یا روس کا خونی انقلاب یا ایران کا مذہبی انقلاب جو سینکڑوں سالہ بادشاہت سے ٹکرایا تو بادشاہ کو دفن ہونے کیلئے اپنے وطن میں زمین تک نہ ملی اور اُس کی آل اولاد آج بھی کہیں مغرب میں بے نامی کی زندگی میں خجل خوار ہورہی ہے ۔سب اہلِ علم جانتے ہیں کی فرانسیسی انقلاب میں انقلابیوں نے حکمرانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ اس سلوک کی جزئیات سے کتابیں بھری پڑی ہیں جنہیں پڑھ کر رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ حیرت ہے کہ اس کے باوجود حکمران تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتے ۔ شائد اسی لئے کہا جاتا ہے کہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ ہمارے موجودہ حکمران بھی تاریخ کے صفحات سے کوئی سبق لینے پر تیار نہیں ہیں ۔آئے روز حکمران طبقہ اور اس کے نمائندے عوام کو جھوٹے وعدوں کا لالی پاپ دے کر پاپ کما رہے ہیں ۔ یہ دراصل عوام کی سراسر توہین ہے۔اس توہین کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

دو سال گزر گئے ہیں لیکن ایک وعدہ پورا نہیں کیا گیا بلکہ اُلٹا وعدوں کے نام پر عوام کا مذاق بھی اُڑایا جارہا ہے اور ہر اطراف سے بیکس اور تہی دست عوام کی توہین بھی کی جارہی ہے ۔ تازہ توہین وزیر اعظم صاحب کے ایک مشیر باتدبیرشہزاد اکبر نے کی ہے ۔ آنجناب نے فرمایا ہے کہ ”ہم نے 156گندم اور آٹا چوروں کے خلاف کارروائی کی ہے ۔” خوب !! مگر جب موصوف سے پوچھا جاتا ہے کہ مہربانی فرما کر زرا اُن مبینہ چوروں کی فہرست اور تفصیل سے اُن کے نام اور اُن کی فلور ملز کے نام تو فراہم کیجئے تو یہ صاحب حسبِ معمول بغلیں جھانکنے لگتے ہیں ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تہی دست اور غربت و عسرت کے مارے عوام اُن لٹیروں اور چوروں کے خلاف یقیناً سخت کارروائی چاہتے ہیں جنہوں نے اپنے لالچ کی آگ بجھانے کیلئے غریبوں کی جیبیں خالی اور چولہے ٹھنڈے کر دئیے ہیں ۔ روزانہ کے حساب سے آٹے کے دام بڑھ رہے ہیں ۔روٹی غریب کی پہنچ سے دن بدن دُور ہو رہی ہے اور حکمرانوں کو مذاق سوجھا ہُوا ہے ۔ اسلئے کہ کسی آٹا چور یا گندم چور کا سخت احتساب نہیں کیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم صاحب محض نوٹس لینے پر اکتفا کرتے ہیں ۔ یوں چوروں اور لٹیروں کی لگامیں بہت ڈھیلی کر دی گئی ہیں ۔ عوام اس کا ذمہ دار صرف وزیر اعظم کو گردانتے ہیں ۔

اس سے قبل لائف سیونگ ڈرگز کی قیمتوں میں وزیر اعظم کے وزیر صحت نے 400گنا اضافہ کرکے عوام کی کمر توڑ کررکھ دی تھی لیکن اُس وزیر سے آج تک بالکل نہیں پوچھا گیا کہ ادویات میں چار صد اضافہ کیوں اور کس کے کہنے پر کیا؟ اور نہ ہی مہنگی ترین ادویات کی قیمتوں کو اب تک نیچے لایا جا سکا ہے ۔غریب اور بیمار عوام کس کا گریبان پکڑیں؟جس وزیر نے یہ ظلم کیا تھا، وہ اب تک وزیر اعظم کے آس پاس دندناتا نظر آتا ہے اور مظلوم عوام کے سینے پر مونگ دلتا ہے۔عوام اس سے کیا نتیجہ اخذکریں؟ حکومت نے اپنے سابق وزیر صحت کی مبینہ کرپشن کا کیا حساب دینا تھا، اُلٹا ادویات میں 10فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے ۔ 18جولائی2020ء کو یہ خبر پاکستان کے غریب اور مریض عوام پر بم بن کر گری ہے کہ عمران خان کی وفاقی حکومت نے ادویات 10فیصد مہنگی کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔ لیجئے، ہو گئی غریبوں کی نئی امداد ۔ کورونا وائرس کے اس مہلک موسم میں پہلے ہی دوائیاں انتہائی مہنگی ہو چکی ہیں اور اوپر سے اب پی ٹی آئی کی حکومت نے تہی دست اور غریب عوام کی کمر مزید توڑ ڈالی ہے ۔ کیا یہ فیصلہ پاکستان کے غریبوں کی مزید توہین نہیں ہے ؟کیا عمران خان اور اُن کی حکومت صرف امرا ، اہلِ زر اور حکمرانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے والی حکومت بن کر نہیں رہ گئی؟

افسوس مگر یہ ہے کہ کسی کا سخت احتساب نہیں کیا جارہا تاکہ عوام کے جلے دلوں پر ٹھنڈی پھوار پڑ سکے ۔ محض گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے والی بات کی جاتی ہے ۔ یہی کام اب آٹے اورگندم کے ریفرنس میں شہزاد اکبر نامی مشیر نے کیا ہے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر واقعی اُنہوں نے آٹا چوروں کے خلاف کوئی سخت تادیبی کارروائی کی ہے تو اُن چوروں کی مکمل فہرست میڈیا کو جاری کی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے ۔ منہ زبانی بات تسلیم نہیں کی جا سکتی ۔ اس سے قبل بھی حکومت نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ ہم نے28پائلٹوں کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر پی آئی اے سے نکال دیا ہے ۔ یہ بات بھی درست ہو گی لیکن جب اخبار نویسوں نے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان سے ان مبینہ نکالے گئے پائلٹوں کی فہرست طلب کی تو اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ اگر یہی وطیرہ جاری رہا تو حکومت کے دیگر دعووں پر بھی عوام کا اعتبار اور اعتماد اُٹھ جائے گا حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہئے ۔ واضح رہنا چاہئے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اب تک جتنے بھی لوگوں کے احتساب کرنے کے دعوے کئے ، سب بے نتیجہ ثابت ہُوئے ہیں ۔ ان دعووں میں جہانگیر خان ترین کی مثال سرِ فہرست ہے ۔ ترین صاحب مبینہ طور پر چینی کے معاملات میں اربوں روپے لُوٹ گئے اور جب اُن کے احتساب کی بات سامنے آئی تو اُنہیں چپکے سے حکومت نے لندن فرار کروا دیا ۔ اب وہ عوام کے احتسابی ہاتھوں سے بہت دُور لندن کی ٹھنڈی فضاؤں میں بیٹھ کر عیاشیاں کرتے ہُوئے ہم پاکستانی عوام کا منہ چڑا رہے ہیں ۔اُنہیں عیاشیاں کرنی بھی چاہئیں کہ پاکستانی عوام کی جیبوں پر مبینہ ڈاکہ مار کر عیاشیاں کرنا اُن کا ”حق” بنتا ہے ۔ مگر یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ پاکستانی عوام سے کیا گیا یہ سنگین مذاق بالآخر حکومت ہی کے کھاتے میں جائے گا اور وہی اس کے سنگین نتائج بھگتے گی ۔ حکومت اگر اپنے دائیں بائیں کھڑے ملزمان کا سخت احتساب نہیں کرسکتی ، اُنہیں عدالتوں کے کٹہرے میں نہیں لے جا سکتی تو وہ کس منہ سے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے ملزمان کا حساب کتاب اور احتساب کر سکتی ہے؟ پھر اس سارے عمل کو (بقول) سابق وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے خلاف امتیازی سلوک ہی قرار دیا جائے گا۔ پاکستان کے غریب اور عسرت زدہ عوام خود پر کئے گئے یہ سارے حکومتی مظالم اور مذاق دیکھ رہے ہیں لیکن اگر کوئی یہ خیال کئے بیٹھا ہے کہ عوام ان زیادتیوں کا بدلہ نہیں لے گی ، وہ دراصل احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔ عوام جب اپنا حساب لینے پر آتے ہیں تو پھر حکمرانوں کے تاج ہوا میں اچھالے جاتے ہیں اور تخت زمین پر گرا دئیے جاتے ہیں ۔حکمرانوں اور عوام کے بارے فیصلہ کرنے والی جملہ قوتوں کو یہ یومِ حساب یاد رکھنا چاہئے ۔ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ ملک میں کوئی دیامر بھاشا ڈیم بنتا ہے یا نہیں ۔ عوام تو سب سے پہلے روٹی کے نوالے کو ترس رہے ہیں جو ہمارے حکمرانون نے عوام کے منہ سے چھین لیا ہے ۔حیرانی کی بات ہے کہ جس دیامر بھاشا ڈیم کا پہلے نواز شریف نے طبل بجایا ، وہ بھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا۔ پھر عوام کو دھوکہ دینے اور اپنی شہرت چمکانے کیلئے یوسف رضا گیلانی نے اپنی وزارتِ عظمی کے دوران یہی ڈھول بجایا ۔ پانچ سال گزر گئے لیکن یہ ڈیم نہ بن سکا ۔ اس دوران ایک سابق چیف جسٹس نثار صاحب تشریف لائے اور اُنہوں نے اپنی شہرت کیلئے یہ ڈھول بجایا۔ ڈیم کے نام پر چندہ بٹورا اور چلتے بنے اور آجکل کسی مغربی ملک میں ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور اُن کے دکھائے گئے سبز باغوں کی کڑی دھوپ میں بدقسمت پاکستانی جل رہے ہیں ۔اب یہی ڈھول جناب عمران خان نے پوری شدت سے بجایا ہے اور پاکستانی عوام کو نئے خواب دکھائے ہیں ۔

ہمارے خانصاحب نے پہلے کئے گئے وعدوں میں کتنے رنگ بھرے ہیں کہ اب دیامر بھاشا ڈیم میں نیا رنگ بھرنے کی کسر رہ گئی ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ آیا دیامر بھاشا ڈیم کے وعدے پر عوام عمران خان پر یقین کر بھی لے گی؟ حکمران اگر کوئی بھی ڈیم بنانے میں مخلص ہو تو یہ کونسا مشکل کام ہے ؟ جنرل اور آمر ایوب خان کے دَورِ حکومت نے ڈیم بنانے کی ٹھانی تو اپنے عزمِ صمیم کے ساتھ دس سالوں میں پاکستان کے دو بڑے ڈیم بنا لئے گئے : منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم ۔ لیکن جب بد نیتی ہو اور حکمران صرف اپنی کرسی مضبوط کرنے کے چکر میں پڑے ہوں تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ جنرل ضیاء الحق ایسا آمر گیارہ سال اپنے اقتدار کیلئے مسلسل پاکستانیوں کی گردن پر سوار رہے لیکن وہ بھی کوئی ڈیم نہ بنا سکے ۔ جنرل پرویز مشرف اپنے مفادات میں دس سال ہماری گردن پر کاٹھی جمائے رہے لیکن کوئی ڈیم نہ بنا سکے ۔ اسلئے کہ یہ دونوں غیر منتخب حکمران بد نیت اور صرف اپنے نجی مفادات کے اسیر تھے ۔ اُنہیں پاکستان اور پاکستانیوں کے مفادات قطعی عزیز نہیں تھے ۔ ہمارے حکمران ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ غریب عوام کی توجہ ادھر اُدھر بکھیر دی جائے تاکہ عوام کنفیوژن کا شکار رہیں اور حکمرانوں کی زیادتیوں کی طرف عوام کی نظر ہی نہ پڑے ۔ جیسا کہ اب یہ حکومت بھی کھیل کھیل رہی ہے ۔ عوام کے خلاف ۔ مثال کے طور پر بھارتی گرفتار جاسوس کلبھوشن یادیو کے بارے میں نیا شوشہ ۔ یہ کہ حکومت نے کلبھوشن یادیو سے کھلے ماحول میں ملنے کیلئے بھارتی سفارت کاروں اور قونصلرز کو اجازت دے دی ہے اور یہ کہ ”کلبھوشن یادیو بھارتی سفارتکاروں کو آوازیں دیتا رہا لیکن کسی نے بھی اُس کی آواز پر کان نہ دھرا۔” ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی یہ باتیں فضا میں گونج رہی ہیں ۔ سوال مگر یہ ہے کہ بھوک ، امراض اور قہرناک بے روزگاری کے ہاتھوں بلکتے پاکستانی عوام کا اس مردُود بھارتی جاسوس سے کیا تعلق ہے؟ عوام کو یہ خبریں کیوں سنائی جارہی ہیں؟ روٹی اور روزگار کو ترستے پاکستان کے عوام جو باتیں سُننا چاہتے ہیں، عمران خان کی حکومت یہ باتیں سنانے سے دانستہ گریز پا ہے ۔ ایسے میں پاکستانی عوام کا بجا طور پر یہ کہنا ہے کہ ہمیں ڈیموں اور جاسوسوں کی باتیں نہ سنائیں بلکہ یہ بتائیں کہ آٹا اور چینی چوروں کو سزائیں کب ملیں گی؟ اور یہ کہ روزگار کے دروازے عوام پر مکمل طور پر بند کیوں کئے گئے ہیں؟اور یہ کہ حکمرانوں کے ہاتھوں پاکستانی عوام کی توہین کا سلسلہ کب تک دراز رہے گا؟؟


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.