گو جرأتِ اظہار بڑی چیز ہے لیکن ۔۔۔۔۔

لیجئے جناب ، کورونا وائرس بحران کے پُر آزمائش ایام میں بھی قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لیا گیا ۔ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کا اجلاس بھی ہُوا ہے ۔ ان اجلاسوں میںحکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بھرپور کوششیں تو کی ہیں لیکن عوام کو ان تازہ پارلیمانی لڑائیوں سے کیا ملا ہے؟ کوئی سیاستدان اس کا جواب دینے کیلئے تیار نہیں ہے، اسلئے کہ دونوں فریقوں کے پاس اس سوال کا جواب ہے ہی نہیں ۔ کورونا وائرس کے کارن عائد کئے گئے قومی لاک ڈاؤن میں پہلی باقاعدہ دی گئی نرمی کے بعد بلایا جانے والا یہ پہلا اجلاس تھا۔ اپوزیشن کے مطالبے پر یہ اجلاس منعقد ہُوا ۔ حکومت کو اصل غصہ اس بات کا تھا کہ اپوزیشن نے اس اجلاس کی ریکو زیشن کیوں کی ؟ اس ”عظیم” کام کیلئے ارکانِ قومی اسمبلی کو اسلام آباد لانے کیلئے جو خصوصی اہتمامات اور انتظامات کئے گئے اور ان پر اس غریب قوم کا جو سرمایہ خرچ ہُوا ہے ، یہ ایک الگ داستان ہے جسے ہم کبھی ضرور بیان کریں گے ۔ قوم بھی ان نئے اور انوکھے اخراجات کی تفصیل اور احوال سُننا چاہے گی ۔ سوال مگر یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے اس اجلاس سے قوم اور ملک کو ملا کیا ہے؟ محض مہنے ترمینے ، طنزیہ باتیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی؟ اگر یہی ”کام” کرنا تھے تو یہ ”کام” ارکانِ اسمبلی اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر ”بخوبی” اور ”بآسانی” کر سکتے تھے ۔ لگتا بھی یہی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے ذمہ داران اس اجلاس کے بلائے جانے اور پھر اس کے انعقاد پر خوش نہیں تھے ۔ اسی لئے تو وزیر اطلاعات و نشریات جناب شبلی فراز نے ایک تبصراتی بیان میں کہا:”اپوزیشن نے اپنے سیاسی مفادات کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا ۔ میر ا ذاتی خیال ہے کہ ابھی چند ہفتوں تک اجلاس نہیں ہونا چاہئے تھا۔” اُنہوں نے ایوانِ بالا کے اجلاس میں بھی کہا:” ملک قرضوں میں ڈوبا پڑا ہے ۔ کورونا بحران سے نمٹنے کیلئے ہمارے پاس وسائل نہیں ہے ۔ کیا یہ موقع پوائنٹ سکورنگ کا ہے ؟”۔ یقینا یہ لمحات پوائنٹ سکورنگ کے نہیں ، بلکہ اتحاد و یگانگت اور یکجہتی دکھانے کے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ خود حکومت، اپوزیشن سے اتحاد کیلئے ہاتھ ملانے کیلئے اب تک کتنے عملی اقدامات کر چکی ہے؟ قومی اسمبلی کے تازہ اجلاس میں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف بانہیں اُٹھا اُٹھا کر جو باتیں ارشاد فرمائی ہیں ، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ شبلی فراز صاحب نے سچ ہی کہا ہے ۔ جن لوگوں نے اس اجلاس کو بغور دیکھا اور سنا ہے ، وہ اب تک سوچ میں ہیں کہ یہ کیسا اجلاس تھا؟ محض جمہوریت کے چہرے پر داغ؟ پارلیمانی جمہوریت سے کوئی دلچسپی نہ لینے والوں کا ایک اجتماع؟ سب سے پہلے تو یہی بات حیران کن تھی کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر جناب اسد قیصر اپنی کرسی پر تشریف فرما نہیں تھے ۔ کہا گیا ہے کہ وہ کورونا کے باعث خود کو قرنطینہ کئے بیٹھے ہیں، اس لئے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کو اجلاس کی صدارت کرنا پڑی ۔ چلئے مان لیتے ہیں لیکن وزیر اعظم اور قائد حزبِ اختلاف نے قومی اسمبلی کے مذکورہ اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی ؟ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اُن کے نام کے اخراجات تو ہو گئے لیکن یہ اخراجات کس کھاتے میں گئے ؟ حیرت کی بات ہے کہ نہ توشہباز شریف اسمبلی اجلاس میں شریک ہُوئے اور نہ ہی عمران خان ۔ شہباز شریف کی طرف سے بہانہ بنایا گیا کہ وہ کینسر کے مریض رہ چکے ہیں اور اُن کی امیونٹی کمزور ہو چکی ہے ، اسلئے کورونا وائرس کے حوالے سے ظاہراً خدشات کے پیشِ نظر وہ اجلاس میں شریک ہونے سے قاصر ہیں ۔ اس بارے نون لیگ کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی طرف سے میڈیا کو باقاعدہ ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے ۔ چلئے جی، یہ تو چھُٹی ہُوئی ۔ اُن کا یہ بہانہ بھی خوب ہے ۔ حیرت کے مارے انسان انگشت بدنداں رہ جاتا ہے کہ لیڈر آف دی اپوزیشن میاں شہباز شریف ”بیماری” کے باوجود اور کورونا بحران میں لندن سے پاکستان تو آ گئے مگر قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے خوفزدہ ہیں ۔ اور نون لیگ میں ایسے عناصر کی کمی نہیں ہے جو شہباز شریف صاحب کی اس عدم شرکت کا پوری طاقت و توانائی سے دفاع بھی کررہے ہیں ۔جب نون لیگ کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات اس بہانے کو جائز ہونے کی دلیلیں دے رہی ہیں تو پھر باقی نون لیگئے آگے بڑھ کر اس ”کارِ ثواب” میں حصہ کیوں نہ ڈا لیں ؟ کسی ڈاکٹر کی دی گئی پرچی اس بار پھر شہباز شریف کے بروقت کام آ گئی ہے ۔اب رہ گئے عمران خان صاحب ، تو وہ کونسا قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں باقاعدہ شریک ہوتے رہے ہیں؟ وہ حزبِ اختلاف میں شامل تھے تو تب بھی قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شریک ہونے کی زحمت نہیں فرماتے تھے اور جب سے وہ وزیر اعظم بنے ہیں ، تب سے بھی قومی اسمبلی کے کسی بھی اجلاس میں
باقاعدہ شریک ہونے سے احتراز ہی برتتے آ رہے ہیں ۔ اپوزیشن اُن کے اس روئیے پر سخت نالاں اور ناقد ہے لیکن وزیر اعظم کو اس کی کوئی پروا نہیں ۔ اور اب پھر قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہ ہو کر آنجناب نے اپنی عادت برقرار رکھی ہے ۔ بلاول بھٹو نے وزیراعظم عمران خان کے اسمبلی میں شرکت نہ کرنے پر سخت تنقید بھی کی اور خانصاحب کی حکومت سے گلے بھی کئے ۔ یہ گلے شکوے بیجا بھی نہیں تھے ۔ اس لئے کہ خصوصی طور پر کورونا بحران میں سندھ حکومت نے جتنے بہترین اقدامات اور فیصلے کئے ، خانصاحب کی حکومت نے ان اقدامات کی تحسین و تعریف کرنے کی بجائے اُلٹا سندھ حکومت پر تنقید بھی کی اور بار بار وزیر اعلیٰ سندھ کی تنقیص کی ۔ بلاول بھٹو زرداری نے اسی پس منظر میں قومی اسمبلی کے تازہ اجلاس کے پہلے روز کہا:”آج ہمارے وزیراعظم بھی اس ایوان میں نہیں ہیں حالانکہ وہ لیڈر آف دی ہاؤس ہیں۔ اگر آپ لیڈر ہیں تو جو آپ دوسروں سے توقع کرتے ہیں، وہ خود بھی کرنا چاہیئے۔ جب سے یہ وبا آئی ہے، اس وقت سے ہم نے کہا کہ اس ایشو پر کوئی سیاست نہیں ہوگی۔ مگر افسوس ہمارے صوبہ سندھ کے وزرا اور عوام کی کردار کشی تک کی گئی۔ خود ایک حکومتی وزیر نے کہا کہ سندھ کی عوام کو جہالت کی وجہ سے کورونا لگ گیا۔ اگر وزیر اعظم نے لاک ڈاون ،سمارٹ ہینڈسم وغیرہ جو بھی کرنا ہے، کرلیں۔ لاک ڈاون مزید نرم ہوا تو متاثرین اور اموات بڑھیں گی۔ وفاقی حکومت اور ریاست کو تمام صوبوں کے شعبہ صحت میں بہتری کے لیے وسائل دینا ہوں گے۔ وفاقی حکومت جب صوبائی حکومت کو کہے گی کہ آپ کو پیسہ نہیں دیں گے تو یاد رکھا جائے کہ ہم اپنے لئے نہیں، عوام کے لیے مانگ رہے ہیں۔ آپ ہمیں گالی نہ دیں اور صوبہ سندھ کی کردار کشی بند کریں۔”وزیر اعظم عمران خان کی دیکھا دیکھی اُن کے کئی وزرا بھی اسمبلی کے اس اجلاس میں شریک نہیں ہُوئے ۔ مثال کے طور پر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری ۔ فواد صاحب نے اس بارے میں بہانہ یہ تراشہ ہے کہ کورونا بحران کے ان خطرناک ایام میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا وبا کو گلے ڈالنے کے مترادف ہے ۔ اُنہوں نے کہا :” اجلاس کرنا ہی ہے تو آن لائن کرلیں ۔ اگر براہِ راست کیا گیا تو مَیں بہرحال شریک نہیں ہوں گا۔” چنانچہ یہ وزیر صاحب بھی شریک نہیں ہُوئے ۔فواد چودھری نہ آئے تووفاقی وزیر پرویز خٹک، وفاقی وزیر خسرو بختیار، صاحب زادہ محبوب سلطان بھی غیر حاضر رہے۔ جبکہ اپوزیشن کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری اور رانا تنویر بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ نیب حراست میں ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے۔ اجلاس میں معمول کے ایجنڈے موخر کر کے صرف کرونا وائرس پر بات کو ترجیح دی گئی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا :”مَیں نے 30 سال اپنی جوانی پیپلز پارٹی کو دی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو وفاق کی بات کرتی تھی۔ پیپلز پارٹی سے پہلے وفاق کی خوشبو آتی تھی مگر آج صوبائی تعصب کی بو آرہی ہے۔ اب کوئی سندھ کارڈ، صوبائی کارڈ نہیں، صرف پاکستان کارڈ چلے گا۔” وزیر خارجہ کے اس آتشیں بیان پر پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت نے سخت ردِ عمل شو کیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جواباً کہا ہے :” وزیر خارجہ یا تو اپنے الفاظ واپس لیں یا ہم اُن کے استعفے کا مطالبہ کریں گے ۔” حیرانی کی بات ہے کہ ایک طرف وزیر اطلاعات شبلی فراز صاحب اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی اپیلیں کررہے ہیں اور دوسری طرف حکومتی وزیر شاہ محمود قریشی اپوزیشن کی بڑی جماعت اور سندھ میں مقتدر پارٹی کو للکارا ما ررہے ہیں۔ اس متضاد عملی کا مظاہرہ کرکے حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ شاہ محمود قریشی کی سخت زبانی کا نوٹس لیتے ہُوئے پیپلز پارٹی کے ایک سابق وزیر اعظم نے ملتان کے اس مقتدر سیاستدان سے کہا ہے :” بھائی صاحب ،آپ کسی ماہر ناک و کان کے ڈاکٹر سے علاج کروائیں ۔” شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں بار بار اٹھارویں ترمیم کا ذکر بھی کیا۔ محسوس یہی ہوتا تھا کہ شاہ صاحب بھی اس ترمیم کا سر کاٹنے کے حامی ہیں ۔لیکن اتنی جرأت نہیں رکھتے کہ کھل کر مذکورہ ترمیم کے مکمل خاتمے کی بات کہہ سکیں ۔ ایسا کرتے ہُوئے اُن کی زبان لڑکھڑا سی جاتی ہے ۔ ن لیگ کے خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اس اجلاس میں حسبِ سابق حکومت پر تنقیدی تیر برساتے ہُوئے کہا:”حکومت کا اعلان کردہ یہ سمارٹ لاک ڈاون کیا ہے؟ ہمیں بھی بتایا جائے۔ یا تو ملک میں لاک ڈاون ہے یا نہیں ہے ۔درمیانی راستہ نہیں ہے۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں باربار 18ویں ترمیم کا ذکر کیا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم نے صوبائی خودمختاری کا معاملہ حل کیا ہے۔ جو معاملات اتفاق سے طے کئے گئے ،ان کو اس طرح سے کھولنے کی کوشش نہ کریں۔ ” خواجہ صاحب مذکور نے بھی کہا کہ شاہ محمود قریشی نے سندھ حکومت کے لتّے لے کر اچھا نہیں کیا ۔ قومی اسمبلی میںوفاقی وزیر مراد سعید نے حسبِ معمول جذبات سے لبریز تقریر کی ، عمران خان کی تعریف کرنے کے بعد اپنی تقریر کے آغاز ہی میں اپوزیشن پر تنقید کی بوچھاڑ کر دی ۔ اُن کے اس بیان کے بعد اپوزیشن اراکین اسمبلی ایوان چھوڑ کر باہر نکل گئے اور ایوان میں صرف حکومتی اراکین ہی موجود رہے۔مراد سعید نے اپنی تقریر میں ایک حیرت انگیز بات بھی کہی کہ ” کورونا کے حوالے سے عمران خان نے جو اقدامات کئے اور جو لاک ڈاؤن کیا ہے ، اس کے اتباع میں نیویارک کے گورنر( انتظامیہ) نے بھی اسی شکل پر عمل کیا ہے” ۔ ایک انگریزی اخبار نے وفاقی وزیر مراد سعید کے اس دعوے کو جھوٹ پر مبنی بیان قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نیویارک ریاست میں اس طرح کا کوئی واقع پیش نہیں آیا ہے ۔ ہمیں حیرانی اس بات کی ہے کہ مراد سعید صاحب کو اس طرح کا مبینہ جھوٹ بولنے کی آخر ضرورت ہی کیا تھی؟ لیکن اس کا کیا علاج کیا جائے کہ ہمارے مقتدر سیاستدان اپنی وزارتیں بچانے اور نوکریاں پکی کرنے کیلئے وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھے شخص کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں ۔قومی اسمبلی کے اس اجلاس کا چند لفظی خلاصہ یہ ہے کہ فریقین نے سوائے ایک دوسرے پر تنقید کے گولے برسانے کے کچھ نہیں کیا ۔ جو تنقیدی بیانات داغے گئے ، اُن کی سرے سے ضرورت ہی نہیں تھی ۔ ہم گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ ہر کہنے والی بات، بے موقع کہی نہیں جا سکتی ۔ اسے بولنے سے پہلے تولنا پڑتا ہے ۔ اور جب کوئی بات زبان سے نکل جاتی ہے تو پھر واپس نہیں آتی ۔ اسی لئے شاعرنعیم ضرار کا کہنا ہے :
گو جرأتِ اظہار بڑی چیز ہے لیکن
بے موقع کہی بات اچھی نہیں ہوتی
حیرانی کی بات ہے کہ عوام کورونا کی پیدا کردہ ہلاکت خیز بے روزگاری اور حکومت کی پیدا کردہ بے تحاشہ اور کمر شکن مہنگائی کے کارن موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں اور حکومت ہے کہ اپوزیشن کے کان مروڑنے اور اسے نیچا دکھانے کی لا حاصل کوششوں میں مگن ہے ۔وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اب ایک نئے انداز سے عوام کو ”خوشخبری” سنا رہے ہیں کہ ”شہباز شریف جعلی ٹی ٹی یاں کرنے کے جرم میں بچ نہیں سکیں گے ۔” سبحان اللہ ، کیا شاندار خوشخبری ہے !عوام اب ایسے حکومتی ڈرامے سُن سُن کر اُکتا چکے ہیں ۔ پچھلے 19مہینوں کے دوران پی ٹی آئی حکومت اور وزیر اعظم صاحب ” سابقہ کرپٹ” ٹولے کو سزائیں دینے کے نعرے لگاتے آ ئے ہیں لیکن ہُوا کچھ بھی نہیں ۔ نہ تو لندن بھاگ کر جانے والوں کو واپس لایا جا سکا ہے اور نہ ہی لندن سے واپس آنے والوں کو سزائیں مل سکی ہیں اور نہ اُن کی مبینہ کرپشن کی جائیدادیں بحقِ سرکار ضبط کی گئی ہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ حکومت نے کس ڈرامے کے تحت ”کرپٹ ” نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجا اور عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ نواز شریف نے باہر جانے کیلئے کیا کیا ڈرامے رچائے اور عوام کی آنکھوں میں کس طرح دھول جھونکی ۔ حکومت سمجھتی ہے کہ عوام اندھے اور بیوقوف ہیں لیکن یاد رکھا جائے عوام اندھے ہیں نہ احمق۔ عوام بیچارے اپنے مسائل اور مصائب کے جہنم میں پڑے اگر حکومت کے خلاف سرِ بازار نہیں نکل رہے ہیں تو اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ حکومت کی جملہ پالیسیوں سے مطمئن اور مسرور ہیں ۔ رمضان المبارک کے آغاز میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ”ذخیرہ اندوزوں ، گراں فروشوںاور مہنگائی کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا” لیکن عمل کے میدان میں ہوا کیا؟ رمضان شریف کا اب آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے لیکن مظلوم اور بے زبان عوام نے جس طرح مہنگائی ، ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کے ظلم کو بھگتا ہے ، یہ تو وہی جانتے ہیں ۔ کوئی عوام کے دل ٹٹول کر تو دیکھے۔ حکومت مہنگائی اور گراں فروشوں کو لگام دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ۔ ایسے میں عوام حکومت سے مزید کیا توقعات لگائے؟ حکومت تو ابھی تک چینی اور آٹے کے اربوں روپے کے سکینڈل میں ملوث مجرموں کو بھی سزا نہیں دے سکی ہے ۔ یہ گراں فروشوں کو کیا سزا دے گی؟ بس اس حکومت کی ”آنیاں جانیاں” دیکھنے والی ہیں ۔ سو ، عوام دل پر پتھر رکھے یہ ”آنیاں جانیاں” دیکھ رہے ہیں!!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.