Daily Taqat

گھٹتا روپیہ، بڑھتا ڈالر اور پاکستان کے خلاف امریکی عزائم

کچھ دن پہلے سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے لندن میں پاکستانی صحافیوں سے تفصیلی بات چیت کرتے ہُوئے پاکستانی معیشت پر بھی تبصرہ کیا تھا۔ پاکستان کی ابتر اور دگرگوں معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہُوئے جناب نواز شریف نے کہا:” عمران خان کی حکومت نے ملک میں آج جو حالات پیدا کر دئیے ہیں اور ملکی معیشت کے بارے میں جو غلط فیصلے کئے ہیں ، لگتا ہے اس سال کے آخر تک امریکی ڈالر کی قیمت 200روپے ہو جائیگی۔”جس وقت نواز شریف یہ پیشگوئی کررہے تھے، اُن کے قریب ہی سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی بیٹھے تھے ۔ ہمیں تو یوں محسوس ہورہا ہے جیسے ڈالر کی بڑھتی قیمت بارے نواز شریف نے جو پیشگوئی کی تھی، وہ بدقسمتی سے پوری ہونے جا رہی ہے ۔ جس وقت یہ سطور لکھی جارہی ہیں ، ڈالر کی قیمت 172روپے سے بڑھ چکی ہے ۔ گویا دو سو روپے کی قیمت بھی کچھ دُور نہیں رہ گئی ۔ پاکستان میں جب بھی اور جیسے بھی حالات میں روپے کی قیمت کم ہوتی ہے ، اُسی شرح سے مہنگائی بھی بڑھتی ہے ۔ خورونوش کی ہر قسم کی اشیا ء کے نرخ بھی بڑھ جاتے ہیں اور یوں ملک میں بسنے والے زیریں متوسط، متوسط اور غریب طبقہ کے مالی اور معاشی مسائل مزید بڑھ کر مصائب کی شکل اختیار کرجاتے ہیں ۔ تین سال پہلے جب نون لیگ کی طرف سے پی ٹی آئی کو حکومت ملی تھی، ڈالر کی قیمت 105روپے تھی ۔ ایک سال کے دوران ڈالر کی قیمت میں 65روپے کا اضافہ ہُوا ہے ۔ اس سے بڑھ کر پاکستان کے غریب عوام کی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے؟ ان تینوں برسوں میں پٹرول کی قیمتوں میں اتنی بار اضافہ کیا گیا ہے کہ اب تو عوام کو یہ یاد ہی نہیں رہا کہ کتنی بار یہ قیمت بڑھ کر اُن کی کمر توڑ گئی ہے ۔ اب اکتوبر کا مہینہ چڑھتے ہی پٹرول کی قیمتیں ایک بار پھر چڑھ گئی ہیں ۔ اور حکومت ہے کہ اُسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ قیمتوں کو کیسے اور کیونکر کنٹرول کرے؟ عوام کا حکومت کے خلاف غصہ اور طیش بڑھتا جا رہا ہے ۔ ڈالر کی بڑھتی اور روپے کی گھٹتی قیمت کے پیشِ نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے ، اسلئے ڈالر کی قیمت میں ہر روز کے اعتبار سے اضافہ ہورہا ہے ۔ کچھ لوگ یہ سوال بھی اُٹھا رہے ہیں کہ ملک سے ڈالر کی پرواز کہاں اور کس طرف جا رہی ہے؟ ملک سے ڈالر باہر لے جانے والے لوگ دراصل کون ہیں؟ کیا یہ ڈالرز پاکستان سے افغانستان اسمگل کئے جا رہے ہیں جہاں ڈالروں کا کال پڑا ہُوا ہے ؟ ہمارا روپیہ اس قدر گر گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی لکیر کے نیچے بسنے والوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہُوا ہے۔ پچھلے تین برسوں کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح آسمان سے باتیں کررہی ہے اور حکمران ہیں کہ اپنے ہی معاملات میں مگن ہیں ۔ یوں لگتا ہے جیسے عمران خان کی حکومت کو عوام کے مسائل اور مصائب سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ اور وہ محض ملک میں اقتدار کا لطف اُٹھانے کیلئے تخت پر براجمان ہُوئے ہیں ۔ ملک میں چونکہ میڈیا آزاد نہیں ہے ۔ حکومت کے دباؤ پر ملک کے بڑے میڈیا ہاؤسز میں سنسر شپ کی صورتحال ہے، اسلئے مہنگائی اور عوام کے رونے پیٹنے کی آوازیں میڈیا میں سنائی ہی نہیں دیتیں ۔ یوں ملکی میڈیا نے اپنا اعتبار اور وقار کھو دیا ہے ۔ اب زیادہ ترلوگ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی خبروں اور سیاسی وی لاگز کو دیکھنااور سننا پسند کرتے ہیں ۔ اور سوشل میڈیا پر یہ خبریں تیزی سے پھیل رہی ہیں کہ ملکی معیشت کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا ۔ ملکی حالات بھی دگرگوں ہو رہے ہیں اور سفارتی سطح پر بھی ملک کو تنہائی کا ہدف بنایا جا رہا ہے ۔ افغانستان میں جب سے طالبان نے اقتدار سنبھالا ہے ، پاکستان میں ریلیف سا محسوس کیا جا رہا تھا کہ افغانستان میں بروئے کار پاکستان مخالف بھارتی ایجنٹوں کا خاتمہ ہو گیا ہے ۔ دوسری طرف مگر امریکہ کی طرف سے اسی افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے کی سازش بھی پنپ رہی ہے ۔ اس کی ایک سنگین مثال چند دن پہلے اُس وقت سامنے آئی جب 22امریکی کانگرس مینوں نے مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف ایک بل پیش کیا ۔ اس بل کی بازگشت ساری دُنیا میں سنائی دی گئی ہے اور یوں پاکستان کے دشمنوں کے سینوں میں ٹھنڈ سی پڑی ہے ۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ان امتحانوں اور سازشوں سے محفوظ بھی رکھے گا اور پاکستان مخالف طاغوتی طاقتوں کو خاک بھی چاٹنا پڑے گی ۔بائیس امریکی سینیٹرز نے بروز پیر بتاریخ27ستمبر2021ء کو سینیٹ میں ایک بل پیش کیا جس میں سقوط کابل سے پہلے اور بعد میں اور وادی پنج شیر میں طالبان کے حملے میں پاکستان کے مبینہ کردار کا جائزہ لینے کی سفارش کی گئی ہے۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن سینیٹر جم ریش اور دیگر ریپبلیکنز نے سینیٹ میں افغانستان انسداد دہشت گردی، نگرانی اور احتساب ایکٹ متعارف کرایا تاکہ جو بائیڈن انتظامیہ کے ‘افغانستان سے جلدی اور تباہ کن انخلا’ سے متعلق نمایاں مسائل کو حل کیا جاسکے۔مجوزہ قانون سازی اس بارے میں ایک جامع رپورٹ کا مطالبہ کرتی ہے کہ افغانستان میں امریکا کے 20 برس کے دوران طالبان کی حمایت، اگست کے وسط میں کابل پر قبضہ کرنے میں عسکریت پسندوں کی مدد اور وادی پنج شیر پر حملے کی حمایت کس نے کی؟مجوزہ قانون سازی میں سیکریٹری آف اسٹیٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سیکریٹری دفاع اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر سے مشاورت کرکے متعلقہ کانگریس کمیٹیوں کو ان تنظیموں کے بارے میں رپورٹ پیش کرے جو طالبان کو مدد فراہم کرتی ہیں۔پہلی رپورٹ میں 2001 سے 2020 کے درمیان طالبان کے لیے حکومتِ پاکستان سمیت ریاستی اور غیر ریاستی اداکاروں کی معاونت کا خاکہ پیش کیا جائے گا جس میں ٹریننگ، لیسنگ اور ٹیکٹیکل، آپریشن یا اسٹریٹجک سمیت دیگر امور ہیں۔اس قانون میں ‘وادی پنج شیر اور افغان مزاحمت کے خلاف ستمبر 2021 کے طالبان کے حملے کے لیے حکومتِ پاکستان سمیت ریاستی اور غیر ریاستی اداکاروں کی حمایت کا احاطہ ہوگا’۔مجوزہ بل میں طالبان اور دیگر افراد پر افغانستان میں دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ساتھ غیر ملکی حکومتوں سمیت طالبان کو مدد فراہم کرنے والوں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔بل میں کہا گیا کہ امریکا، طالبان کے کسی رکن کو واشنگٹن میں یا اقوام متحدہ میں افغانستان کے سفیر کے طور پر تسلیم نہیں کرے گا اور جنگ زدہ ملک پر غیر انسانی بیرونی امداد پر پابندیاں عائد کرے گا۔اس میں طالبان کی حمایت کرنے والے اداروں کی غیر ملکی امداد کا جامع جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔یہ مجوزہ امریکی بل پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش اور کوشش ہے ۔حالانکہ پاکستان نے تو افغانستان میں قیامِ امن کی ہر ممکن کوشش بھی کی ہے اور امریکیوں سے مل کر طالبان کو مذاکرات کی میز پر کامیابی سے لانے کی سعی بھی کی ہے ۔ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد امریکی اور اتحادی افواج اور اُن کے عملے کو کابل سے بحفاظت نکلنے میں بھی پاکستان نے زبردست تعاون کیا ۔ اس کے باوجود مگر اب امریکہ کہ طرف سے پاکستان کے خلاف کوئی اقدام کرنے کی کوشش محسن کشی بھی ہے اور احسان فراموشی بھی ۔اسی لئے پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس اقدام اور فیصلے پر امریکی کانگرس اور امریکہ سے احتجاج اور شکوہ کیا ہے ۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد نے اس پس منظر میں 30ستمبر کو کہا :” حال ہی میں امریکی سینیٹ میں پیش کیے گئے بل میں پاکستان کے بارے میں بلاجواز حوالہ جات کو 2001 سے اب تک پاکستان اور امریکا کے درمیان ہونے والے تعاون کی روح کے منافی سمجھتے ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا اور کیپیٹل ہل دونوں میں افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے حوالے سے حالات کا جائزہ لینے کی غرض سے بحث جاری ہے، امریکی سینیٹ میں ریپبلکنز کے ایک گروپ کی جانب سے پیش کردہ قانون کا مسودہ اس بحث کا رد عمل معلوم ہوتا ہے۔ قانون سازی میں پاکستان کے بارے میں جو حوالے شامل کیے گئے ہیں، وہ مکمل طور پر غیرضروری ہیں، ایسے تمام حوالہ جات کو افغان عمل میں سہولت کاری سمیت 2001 سے لے کر اب تک پاکستان اور امریکا کے درمیان ہونے والے تعاون کی روح کے منافی سمجھتے ہیں”۔عاصم افتخار نے باور کرایا :” پاکستان نے افغانستان میں سہولت کاری کے ساتھ ساتھ اگست میں افغانستان سے امریکی اور دیگر شہریوں کے انخلا میں بھی مدد کی۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ افغانستان کے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور افغانستان پائیدار امن کے حصول کا واحد حل جامع سیاسی مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ مستقبل میں دہشت گردی کے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور امریکا کے درمیان پائیدار سیکیورٹی تعاون اہمیت کا حامل رہے گا۔ اس طرح کی مجوزہ قانون سازی کے اقدامات غیر معقول اور غیر نتیجہ خیز ہیں”۔پاکستان کا ازلی دشمن ، بھارت، امریکی کانگرس مینوں کے پیش کردہ اس بل پر بھنگڑے ڈال رہا ہے لیکن پاکستان کو یقینِ کامل ہے کہ اس میدان میں بھی بھارت کو منہ کی کھانا پڑے گی ۔ انشاء اللہ ۔بھارت کی مگر کوشش یہ ہے کہ افغانستان کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات بدستور خراب رہیں تاکہ اُس کا داؤ بھی لگتا رہے ۔ یہ بھارت کی منافقانہ اور علاقائی دشمن پالیسی ہے ۔ ایسے میں وزیر اعظم عمران خان کی کوشش ہے کہ حالات خراب ہونے کے باوجود عالمی برادری کو افغانستان کی نئی طالبان حکومت کی امداد کرنے پر مائل اور قائل کر سکیں ۔ خان صاحب کوشش کررہے ہیں کہ افغانستان میں بیٹھی ٹی ٹی پی کی پاکستان دشمن کارروائیوں کو بھی ختم کر دیا جائے اور اس کے لئے (اُن کے نزدیک) بہترین راستہ ٹی ٹی پی والوں سے مذاکرات ہیں ۔ اسی غرض کیلئے اُنہوں نے 2اکتوبر2021ء کو ترکی کے معروف ٹی وی ( آرٹی ورلڈ ) کو ایک شاندار انٹرویو دیا۔ اس انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا :” ہم امن کیلئے بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کے کچھ گروپ امن کیلئے بات چیت کرنا چاہتے ہیں، ہماری حکومت انہیں غیر مسلح کرنے کیلئے مذاکرات کر سکتی ہے۔اگر پاکستانی طالبان ہتھیار ڈال دیں تو انہیں معاف کردیں گے’میں معاملات کے عسکری حل کے حق میں نہیں ہوں’مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں، ابھی کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، کالعدم ٹی ٹی پی کے کچھ گروپوں سے ہم رابطہ میں ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرنے اور انہیں عام پاکستانی شہری بنانے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں’ٹی ٹی پی سے مذاکرات میں افغان طالبان ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔طالبان کی ثالثی اس حد تک ہے کہ مذاکرات افغانستان میں ہو رہے ہیں’پاکستانی طالبان ہتھیار ڈال دیں تو انہیں معاف کر دیں گے ،اوروہ عام شہری کی طرح رہ سکتے ہیں”۔جب خانصاحب سے پوچھا گیا کہ اگر ایک جانب حکومت ٹی ٹی پی سے بات چیت کر رہی ہے تو دوسری طرف یہ تنظیم پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر حملے کیوں کر رہی ہے تو عمران خان کا کہنا تھا :” یہ حملوں کی ایک لہر تھی۔ پاکستان افغانستان میں دیرپا امن کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ افغان عوام کی امنگوں کے مطابق افغانستان میں نمائندہ حکومت قائم ہو۔ افغانستان میں انسانی و معاشی بحران کو روکنے اور ملک میں پائیدار امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی برادری افغا ن عوام کی معاونت کیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔ افغانستان کے استحکام کے لیے ایک جامع سیاسی ڈھانچہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عالمی برادری کے مثبت اور تعمیری اقدامات سے افغانستان میں عدم استحکام اور پناہ گزینوں کے بڑے پیمانے پر ہجرت کو روکنے میں مدد ملے گی”۔ اگرچہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرنے کے حوالے سے پیپلز پارٹی نے فی الحال عمران خان کے بیان کی مخالفت کی ہے ۔ پشاور میں APSکے جن درجنوں بچوں کو ٹی ٹی پی نے وحشت سے قتل کیا تھا، اُن کے والدین کی طرف سے بھی ٹی ٹی پی کو معاف کرنے کی حکومتی پالیسی کی مخالفت سامنے آ رہی ہے ۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں درمیان کا کوئی متفقہ راستہ ضرور نکلے گا۔ ویسے طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی جیلوں میں قید ٹی ٹی پی کے سزا یافتہ مجرموں کو پاکستان سے مشورہ کئے بغیر رہا کر کے اچھا اقدام نہیں کیا تھا ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »