Latest news

جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا فیصلہ

ویسے تو جس دن سے جناب عمران خان نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف لیا تھا، اُسی دن سے یہ بحث چلنا شروع ہو گئی تھی کہ پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دی جائے گی یا نہیں؟ پہلے یہ سوال دھیمے سُروں سے اُٹھایا جاتا تھا اور سوالیہ انداز میں یہ بھی پوچھا جاتا تھا کہ اگر فرض کیا حکومت باجوہ صاحب کو ایکسٹینشن دینے کی آفر کرتی ہے تو آیا اصول و ضوابط پر چلتے ہُوئے جنرل باجوہ خود بھی اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع کی پیشکش قبول کریں گے یا نہیں؟کئی اطراف سے بین السطور یہ باتیں کہی جاتی رہی ہیں کہ اصولوں کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر ایسی کوئی پیشکش حکومت کی طرف سے سامنے آتی بھی ہے تو اسے شکرئیے کے ساتھ انکار کر دینا چاہئے ۔ یوں ایک بہتر مثال قائم کی جا سکتی تھی ۔الیکٹرانک میڈیا میں جب بھی جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع دئیے جانے کا سوال اُٹھتا تھا، میڈیا والے شرارتی انداز میں وزیر اعظم عمران خان کی ( اقتدار میں آنے سے قبل)وہ ویڈیو کلپس نشر کر دیتے تھے جن میں موصوف یہ بات واضح طور پر کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ” اگر مَیں اقتدار میں آیا اور سپہ سالارِ پاکستان کو ایکسٹینشن دینے کا معاملہ سامنے آیا تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔” اس کے ساتھ خانصاحب یہ ارشاد فرماتے بھی سنائی دیتے ہیں:” اداروں کو مضبوط ہونا چاہئے ۔ مَیں کہتا ہُوں کہ جنگ بھی لگی ہو ، تب بھی کسی سپہ سالار کو ایکسٹینشن نہیں ملنی چاہئے۔”لیکن یہ سب باتیں تواقتدار میں آنے سے پہلے کی ہیں جب عمران خان کو قطعی طور پر یہ معلوم نہیں تھا کہ حکومت اور اقتدار کی کیا کیا مجبوریاں ہوتی ہیں اور اپنے اقتدار کو محفوظ اور مامون رکھنے کیلئے پاکستان ایسے ملک کے حکمرانوں کو کہاں کہاں کمپرومائز کرنا پڑتے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ خانصاحب کو اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھ کر بہت سے اپنے اعلانات اور وعدوں پر کمپرومائز کرنا پڑا ہے ۔ بہت مرتبہ یو ٹرن لینا پڑا ہے ۔

اپوزیشن والے اُن کے یو ٹرن لینے پر اُنہیں مطعون کرتے ہیں ۔خانصاحب کو خود بھی بخوبی معلوم ہے کہ اُنہیں یو ٹرن لینے پر تنقید اور طعن کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، شائد اِسی لئے اُنہوں نے خود ہی اس کی وضاحت کرتے ہُوئے ایک بار کہہ دیا تھا کہ ”وقت اور حالات کے مطابق یو ٹرن نہ لینے والے اور اپنے سابقہ فیصلوں پر اڑے رہنے والے نقصان اُٹھاتے ہیں۔” اپنی بات کو باوزن ثابت کرنے کیلئے اُن کی دلیل یہ تھی کی اگر جنگِ عظیم کے دوران جرمنی کا حکمران ، اڈولف ہٹلر، یو ٹرن لے لیتا تو ہلاکت خیز شکست سے بچ جاتا۔یہ تو بہر حال اُن کی منطق تھی اور حکمرانوں کی منطق اکثر اوقات ”درست” ہی ہوتی ہے ۔

لیکن جوں جوں جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ (29 نومبر2019ئ) قریب آرہی تھی، توں توں یہ سوال زیادہ شدت سے اُبھرنے لگا تھا کہ وزیر اعظم اُنہیں ایکسٹینشن دیں گے یا نہیں؟قرائن بتا رہے تھے کہ یہ ایکسٹینشن دے دی جائے گی ۔ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے جس طاقت اور شدت سے عمران خان کی حمائت اور پشت پناہی ہو رہی تھی، اور جس اسلوب میں حکومت اور فوج کے ”ایک پیج” پر ہونے کی بات اُٹھائی اور ابھاری جا رہی تھی، اس کا فطری نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ مدتِ ملازمت میں توسیع کا پروانہ جاری کر دیا جاتا ؛ چنانچہ ہُوا بھی ایسا ہی ہے ۔19اگست2019ء کو ایکسٹینشن کا یہ متوقع پروانہ جاری کر دیا گیا۔ اس ہفتے کی ملک بھر میں شائد یہی سب سے بڑی خبر ہے ۔ اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلا سارا ہفتہ جنرل صاحب کو دی گئی ایکسٹینشن کی خبر ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر نمایاں طور پر غالب رہی اور مسئلہ کشمیر کی خبر اپنی تمام تر حدت اور ایمر جنسی کے باوجود، دوسرے درجے پر چلی گئی۔ ایکسٹینشن کی خبر کے مقابلے میں اسے ثانوی حیثیت دی گئی ۔ ملک بھر کے قومی اخبارات نے 20اگست کو اسے بطورِ لیڈ شائع کیا۔ جناب وزیر اعظم عمران خان نے صرف دو سطری حکم لکھ کر سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی ہے ۔ وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے 19اگست2019ء کو جاری ہونے والی چٹھی نمبرپی ایم او، 3232ایم ایس پی ایم 19کے مطابق ایکسٹینشن کے لئے حکمیہ الفاظ یہ تھے :General Qamar Javed Bajwa is appointed Chief of Army Staff for another term of three years from the date of completion of current tenure. The decision has been taken in view of the regional security environment. مذکورہ نوٹیفکیشن کے بعد اب جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب 29نومبر2022ء تک سپہ سالارِ پاکستان رہیں گے ۔ انشاء اللہ ۔ وزیر اعظم کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق توسیع ِ ملازمت کا یہ فیصلہ دراصل ”علاقائی سلامتی ماحول” کے پیشِ نظر کیا گیا ہے ۔ صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ مستقبل میں پاکستان، پاکستان کی تاریخ ، افواجِ پاکستان اور وطنِ عزیز کی سیاست پر اس فیصلے کے کیا کیا اور کیسے کیسے اثرات مرتب ہوں گے لیکن فی الحال پی ٹی آئی کی حکومت اور وزیر اعظم صاحب کا یہ کہنا درست ہی معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ارد گرد حالات نے کچھ اس طرح سے عجب کروٹ لی ہے کہ پاکستان کے منتظمِ اعلیٰ کو ملک کے وسیع تر مفاد میں یہ فیصلہ کرنا پڑا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اصول و ضوابط کے مطابق جنرل باجوہ خود بھی ایکسٹینشن لینے کے حق میں نہ ہوں لیکن بدلتے حالات کے پیش منظر میں مجبوراً یہ فیصلہ اُنہیں قبول کرنا پڑا ہے ۔ معروف دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل(ر) امجد شعیب کا بھی یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ” مجھے معلوم ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے تھے ۔ میری پچھلے دنوں ہی اُن سے ملاقاتیں ہُوئی تھیں اور مَیں نے یہی محسوس کیا تھا کہ وہ ایکسٹینشن لینے کے حق میں نہیں ہیں ، لیکن صورتحال اُس وقت بدلی جب جنرل باجوہ نے وزیر اعظم کے ساتھ امریکہ کا دَورہ کیا ۔ وہاں اُنہوں نے حالات کچھ ایسے دیکھے ہوں گے کہ وہ اس طرف مائل ہوتے چلے گئے کہ ایکسٹینشن ملے گی تو انکار نہیں کرنا چاہئے ۔ اور اب یہ فیصلہ ہو گیا ہے تو یہ قوم اور ملک کی بہتری میں ہے ۔ ” ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہُوئے جنرل باجوہ کی ملازمت میں تین سال کی مدت میں جو اضافہ کیا ہے ، درست بھی ہے اور حالات کے تقاضوں کے عین مطابق بھی ۔

خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں جس طرح حالات سنگین اور خطرناک شکل اختیار کر گئے ہیں اور بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے جس اسلوب میں پاکستان کو دھمکی دی ہے ، ایسے میں کارِ مملکت اور دفاعی معاملات میں تسلسل قائم رکھے جانے کا یہ ناگزیر تقاضا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دی جاتی ۔ اس وقت برّی افواج کی ہائی کمان تبدیل کرنا حکمت کے بر خلاف اقدام ہوتا۔ بھارت نے 5اگست کے اقدام کے بعد جس انداز میں بار بار یہ کہا ہے کہ ”اب پاکستان سے کشمیر کی بنیاد پر مذاکرات تو ضرور ہوں گے لیکن پاکستان والے کشمیر کی بنیاد پر”، ایسے میں ممکنہ بھارتی جارحیت کو روکنے اور اس کے مذموم مقاصد کے سدِ باب کیلئے از حد ضروری تھا کہ جنرل باجوہ ہی سپہ سالارِ پاکستان رہتے ۔پاکستان کے خلاف بھارتی مذموم مقاصد تو اب یہ صورت اختیار کر گئے ہیں کہ بھارت نے ابھی چند دن پہلے ہی پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کی ہے ۔ پاکستان کو بتائے بغیر بھارت نے دریائے ستلج میں لاکھوں کیوسک پانی چھوڑ دیا ہے جس نے خطرناک سیلابی شکل اختیار کر لی ہے اور پنجاب کے کئی دیہات (قصور، پاکپتن اور گنڈا سنگھ والا) زیر آب آ گئے ہیں ۔بھارت نے یہ جو تازہ ترین غلیظ حرکت کی ہے، یہ درحقیقت سندھ طاس معاہدے کی صاف خلاف ورزی ہے ۔

بھارت مگر طاقت کے زعم میں اس خلاف ورزی کی بھی پروا نہیں کررہا ہے ۔ اُس نے ایسے معاہدے کو بھی روند ڈالا ہے جسے عالمی قوتوں کی گارنٹی حاصل ہے ۔ان حالات میں ٹرمپ اور مودی کی ٹیلی فونک گفتگو بھی سامنے آئی ہے جس میں مرکزی نقطہ قضیہ کشمیر ہی تھا۔ ہمارے وزیر اعظم نے بھی امریکی صدر سے فون پر بات چیت کی ہے اور صدرِ امریکہ کو بھارتی عزائم سے باخبر کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان خطرناک حالات میں وزیر اعظم عمران خان کا یہ فیصلہ مبنی بر حکمت ہے ۔انڈیا نے ایل او سی پر بھی جو جنگی حالات پیدا کئے ہیں اور بھارتی افواج آئے روز جس طریقے سے تقریباً روزانہ ہی ایل او سی پر شدید گولہ باری کررہی ہیں ، انہوں نے بھی پاک بھارت کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے ۔ پچھلے ہفتے بھارتی گولہ باری سے پاکستان کے نصف درجن فوجی جوان شہید ہُوئے ہیں ۔ افواجِ پاکستان نے بھی ترنت اس کا جواب دے کر اور کئی بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کرکے بھارتی فوج سے بدلہ لے لیا ہے لیکن ابھی حالات نارمل ہونے کی بجائے مزید کشیدہ ہونے کے امکانات ہیں۔

افغانستان کی ہمہ بدلتی صورتحال بھی ہمارے سامنے ہے ؛ چنانچہ ناگزیر صورتحال یہی تھی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں وسعت دی جاتی ۔ اس مستحسن فیصلے سے کم از کم یہ ہُوا ہے کہ سرحد وں کے پار ایک قوی پیغام بھی گیا ہے اور ملک میں سیاسی حالات کی ابتری میں بہتری کی اُمید بھی پیدا ہُوئی ہے ۔ انشاء اللہ وطنِ عزیز کی سیاست میں بھونچال کی بجائے نیا استحکام آئے گا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ اس فیصلے کو اپوزیشن نے بین السطور ہی سراہنے کی کوشش کی ہے ۔ اثبات میں اُن کے لب ہلے تو ہیںلیکن واضح طور پر نہیں ۔ پوری قوم مگر یہ سمجھتی ہے کہ جنرل صاحب کو تین سال کیلئے ایکسٹینشن دئیے جانے سے خود حکومت بھی خلجان ، ہیجان اور بحران سے نکل آئی ہے ۔ دیکھاجائے تو یہ کوئی نیا اور انوکھا فیصلہ ہے نہ ہمارے ہاں پہلی بار اس کی مثال قائم کی گئی ہے ۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف تو خیر سے خود ہی اپنی ملازمتوں میں توسیع کرتے رہے ہیں ۔ لیکن وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف زرداری کے جمہوری دَور میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھی ایکسٹینشن دی گئی ، اگرچہ یہ صرف ایک سال کیلئے تھی لیکن دی تو گئی ۔

یہ بھی حیرانی کی بات ہے کہ اب تک جن15 سپہ سالارانِ پاکستان کا تقرر عمل میں آیا ہے، ان میں سے6کی تقرریاں میاں محمد نواز شریف کے ہاتھوں سے ہُوئیں لیکن اُنہوں نے کسی جنرل کو ایکسٹینشن نہیں دی۔ یہ بھی ایک منفرد تاریخ ہے ۔ اور یہ بھی ایک تاریخ ہے کہ ہمارے ہمسائے بھارت میں (غالباً) کبھی کسی آرمی چیف کو ایکسٹینشن نہیں دی گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں آج 28واں آرمی چیف خدمات انجام دے رہا ہے جبکہ ہمارے جنرل قمر جاوید باجوہ کا نمبر صرف 15واں ہے ۔ لیکن ہمیں اس سے کیا غرض ؟ بھارت کے اپنے معاملات ہیں اور ہمارے اپنے ۔ ہمیں بھارت کے نقشِ قدم پر نہیں چلنا ۔ ہم ایک آزاد اور خود مختار مملکت ہیں اور ہم اپنے ماحول اور حالات کے مطابق فیصلے کریں گے ؛چنانچہ اِسی پس منظر میںکہا جا سکتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو دی گئی تین سال کیلئے ایکسٹینشن پاکستان کے وزیر اعظم کا مناسب ترین اور موزوں ترین فیصلہ اور اقدام ہے ۔اُمید کی جانی چاہئے کہ اس فیصلے کے باطن سے ملک کیلئے خیر ہی خیر پھوٹے گی اور ملک اپنی منزل کی جانب گامزن رہے گا۔ اجتماعی طور پر عوامی سطح پر اس فیصلے کی توثیق اور تحسین ہی کی گئی ہے ۔ اور اگر کسی سرکاری اقدام کو عوامی تحسین بھی میسر آجائے تو اسے نقارئہ خدا سمجھنا چاہئے ۔ جنرل باجوہ صاحب کی ایکسٹینشن کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کی حکومت کا ایک سال بھی مکمل ہو گیا ہے ۔ اور جب ہر طرف سے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کی کامیابیوں اور ناکامیوں کو اپنے اپنے ترازوؤں میں تولا جا رہا ہے ۔ اس میں کیا شک ہے کہ عمران خان کی حکومت کو ایک سال گزارنے میں بڑی اور متنوع دقتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ حکومت کا مسلسل کہنا ہے کہ جس وقت ایک سال قبل اُس نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی، ہر طرف معاشی تباہی مچی ہُوئی تھی ۔ خزانے میں چوہے دوڑ رہے تھے اور گذشتہ نون لیگی اور پی پی کی حکومتوں نے لُوٹ مار کرکے جو مالی بربادی برپا کررکھی تھی ، اس کی موجودگی میں ملک کو سنبھالا دینا دشوار تر تھا؛ چنانچہ ان مشکلات کے سبب عوام کو ریلیف دینا بھی مشکل بنا رہا۔

عمران خان صاحب کے اس گزرے ایک سالہ دَور میں لاریب عوام کو شدید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ڈالر، پٹرول، بجلی و گیس ،خوردو نوش کی تمام اشیا،ٹرانسپورٹ کے کرایوں، زندگی بچانے والی ضروری ادویات میں بے تحاشہ اضافہ ہُوا ہے ۔ اس اضافے کی کسی نے بھی کبھی توقع نہیں کی تھی ۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج ناک کے بَل گری ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب چکے ہیں ۔ حکومت پٹرول تو ادھار لے رہی ہے لیکن عوام کو دن بدن مہنگا فروخت کررہی ہے ۔ ملک کی شرحِ نمو میں شدید کمی آئی ہے اور یہ شرح اب 3.9کی نچلی سطح پر آ کر رک چکی ہے جو خاصی خطرناک ہے۔شہریوں کی فی کس آمدنی اور قوتِ خرید میں بے تحاشہ کمی آئی ہے ۔خاص طور پر بجلی و گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے عوام کا تیل نکال دیا ہے ؛ چنانچہ عوامی غصے میں بھی اس شرح سے اضافہ ہُوا ہے اور ستم کی بات یہ ہے کہ ریلیف کی کوئی صورت سامنے نہیں آرہی اور نہ ہی اس بارے کوئی توقع ہی ہے ۔ملک میں شدید کساد بازاری ہے ۔ ریئل اسٹیٹ کا کاروبار ٹھپ ہو چکا ہے جس نے بے روزگاری کی شرح میں مزید اضافہ کیا ہے ۔اپوزیشن اسی بنیاد پر حکومت کے خلاف وائیٹ پیپر لانے کی تیاریاں کررہی ہے ۔ ان حقائق اور عوامی شکایات کے مقابلے میں حکومت کا مقدمہ بھی خاصا قوی ہے ۔ خانصاحب کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اُس نے گذشتہ ایک برس کے دوران کرپٹ عناصر کے خلاف جو اقدامات کئے ہیں، ان سے ملکی سلامتی میں بھی اضافہ ہُوا ہے اور آئندہ کیلئے وطنِ عزیز کو مالی استحکام کے راستے پر بھی ڈال دیا ہے۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کی اساس پر ملکی خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔ حکومت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس ایک سال میں حکومت نے کئی شعبوں میں ”ترقی” کی ہے اور عوامی بہبود کے کئی منصوبے متعارف کروائے گئے ہیں ۔ مثال کے طور پر: غریبوں کیلئے شیلٹر ہومز، صحت کارڈ کا اجرا، بچت کی اسکیمیں وغیرہ ۔

حکومت کی بدقسمتی مگر یہ رہی ہے کہ وہ اپنے عوامی بہبود کے منصوبوں کی مناسب اور موثر انداز میں تشہیر نہیں کر سکی ہے ۔ حکومت کے متعدد تعمیری منصوبوں کا پیغام فوری اور مناسب انداز میں عوام تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے اور یوں یہ تاثر ابھرا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے ایک سال میں عوام کیلئے کچھ نہیں کیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت اس بارے ملک بھر کے سینئر اخبار نویسوں ، اخباری مالکان اور نجی ٹی وی کی انتظامیہ کو اعتماد میں لیتی تو حکومت کے امیج میں مثبت اضافہ ہو سکتا تھا ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.