اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانات سے نواز شریف خود کو متنازع مت بنائیں

میاں محمدنواز شریف بلاشبہ ہمارے وطن کے تین بار منتخب وزیر اعظم رہے ہیں ۔ یہ ایک منفرد اور بڑا اعزاز ہے ۔ پاکستان میں یہ اعزاز آج تک کسی کو نصیب نہیں ہو سکا ہے ۔ اس ناتے سے اُن کا یہ بھی اعزاز ہے کہ اُن کے ہاتھوں سے تین سے زائد بار افواجِ پاکستان کے سربراہوں کا تقرر عمل میں آیا۔ نواز شریف کی اٹھان بھی بلا شبہ ایک فوجی آمر کے دَورِ حکومت میں شروع ہُوئی ۔ اُن کا وزیر اعلیٰ پنجاب دو بار بننا بھی ہماری اسٹیبلشمنٹ کی اشیرواد سے ممکن ہُوا ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو سے اُن کی جنگیں ہُوئیں تو اسٹیبلشمنٹ کی ہمدردیاں میاں صاحب کے ساتھ تھیں ۔ بدقسمتی سے نواز شریف صاحب اور اُن کے برادرِ خورد میاں شہباز شریف اپنے دَورِ اقتدار میں مبینہ طور پر اپنا دامن کرپشن کی آلودگیوں سے پاک نہ رکھ سکے ۔ دونوں بھائیوں پر مبینہ بدعنوانیوں کے متعدد الزامات لگ چکے ہیں ۔ ان میں سے کئی ایک سے نواز شریف ، اُن کے بھائی ، بیٹے ، بیٹی، بھتیجے ، بھتیجیاں اور داماد ابھی تک جان سے چھڑا سکے ہیں نہ اس حوالے سے عدالتوں سے کلین چٹ حاصل کر سکے ہیں ۔ اُن کو چاہنے والوں اور ووٹ دینے والوں کو اس سے مایوسی ہُوئی ہے ۔ نواز شریف پر کئے گئے اعتماد کو ٹھیس لگی ہے ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ نواز شریف کی تیسری وزارتِ عظمیٰ کے دوران اُن پر ”ڈان لیکس” کا مبینہ کیس اور الزام بھی لگایا گیا ۔ احتساب کی ایک عدالت سے نواز شریف سزایافتہ بھی ہیں ۔ وہ جیل بھی گئے اور اُن کی صاحبزادی بھی اور اب اُن کا بھائی اور بھتیجا ابھی تک جیل کی ہوا کھا رہے ہیں جبکہ نواز شریف کو بیماری کے بہانے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی ۔ نواز شریف گذشتہ دو ،سوا دو سال سے مسلسل خاموش تھے ۔ شائد مصلحتاً لیکن اب وہ بولے ہیں تو سب کو حیران اور پریشان کر ڈالا ہے ۔ وہ اپوزیشن کے پہلے اجلاس میں بولے تو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بولے ۔ اس بیان پر اُن کی جماعت کے اندر بھی پھوٹ کے آثار نظر آ رہے ہیں ۔ حکومت بھی ناراض ہے اور حکومت کے دوست بھی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے خاص طور پر نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانئے کے خوب لتّے لئے ہیں ۔نواز شریف اس پر بھی خاموش نہیں رہے اور مزید دوبار اپوزیشن کے اجلاس سے مخاطب ہو کر اپنا غصہ نکالا ۔ اس سے ملک بھر میں ایک ہیجان کی سی کیفیت غالب ہے ۔ لیکن ہم سمجھے ہیں کہ نواز شریف نے یہ لہجہ اختیار کرکے کسی کا نہیں ، اپنا ہی نقصان کیا ہے ۔ وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف نقطہ نظر بیان کرکے دراصل عمران خان کے بہی خواہوں پر دباؤ بڑھانا چاہتے تھے ۔ ایسا کرکے شائد وہ اپنے لئے کوئی رعائت بھی لینے کے خواہشمند ہوں ۔اُن کے بیانئے کی ہمنوائی کرتے ہُوئے نئے سیاسی اتحاد ”پی ڈی ایم” بھی آگے بڑھا ہے ۔ یہ نہائت تشویشناک بات خیال کی جارہی ہے ۔ ہم سب کو سب سے پہلے ملک کی سلامتی اور دفاع سب سے زیادہ عزیز ہے ۔ دفاع مضبوط ہے تو ملک اور عوام بھی محفوظ ہیں ۔ نواز شریف کے بیانئے سے ملک میں فساد اور انتشارکی کیفیت بھی پیدا ہُوئی ہے ۔ ابھی تو اپوزیشن کا پہلا جلسہ بھی اسی رواں ہفتے کے وسط میں گوجرانوالہ میں ہونے والا ہے ۔ لیکن لگتا ہے کہ نواز شریف نے ہوش کے ناخن لینا شروع کر دئیے ہیں یا اُنہیں اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانئے کی خطرناکی کا احساس ہو گیا ہے یا یہ بھی ممکن ہے کہ اُنہیں کسی طرف سے کوئی حوصلہ افزا خبر سنائی گئی ہو ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ مخالف لہجہ یکدم تبدیل ہُوا ہے ۔ اس کا مظاہرہ 8اکتوبر 2020ء کو لندن میں سامنے آیا جب ایک صحافی نے نواز شریف سے اسٹیبلشمنٹ بارے ایک چبھتا ہُوا سوال پوچھا تو نواز شریف نے جواب دینے کی بجائے اِدھر اُدھر کی ہانکنے کی کوشش کی ۔ اُن کے اس بدلے ہُوئے لہجے سے یار لوگوں نے اندازہ لگایا ہے کہ حالات میں کوئی جوہری تبدیلی پیدا ہُوئی ہے ۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ”پی ڈی ایم” کے گوجرانوالہ کے جلسے سے قبل ہی کہیں لین دین ہو چکا ہے ؟ ہمیں نہیں معلوم ۔ ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ نواز شریف کے پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی مخالفت میں دئیے گئے بیانئے کے خلاف وزیر اعظم جناب عمران خان ، نواز شریف کی خوب خبر لے رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے 8اکتوبر بروز جمعہ اسلام آباد میں”لائرز فورم” سے خطاب کے دوران نواز شریف کی بیماری کا مذاق اڑاتے ہُوئے کہا:”کابینہ اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماریاں سن کر وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ آپ سب شیریں مزاری کو جانتے ہیں تو سوچیں کہ ہمیں کس طرح کی بیماریاں بتائی گئی ہوں گی۔ یہ (پی ڈی ایم والے)بیروزگار سیاست دان اس لیے اکٹھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ قانون کی حکمرانی نہیں مانتے۔دو سال بعد عدالت فیصلہ کرتی ہے تو وہ (نواز شریف) کہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟یہ سمجھتے ہیں کہ سڑکوں پر نکل کر عمران خان کو بلیک میل کر لیں تو دیکھ لیں کہ ہم نے کتنے بڑے بڑے جلسے کیے تھے۔ لوگ کسی کی چوری بچانے کے لیے نہیں نکلتے۔ لوگوں کو قیمے کے نان بھی کھلا دیں تو نہیں نکلیں گے۔ ان (مسلم لیگ ن) کے کارکنوں کو کہتا ہوں کہ پیسے بھی کھائیں، نان بھی کھائیں مگر گھر بیٹھیں۔”اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے نواز شریف کے ترجمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی جانب سے نواز شریف کو آیت اللہ خمینی کے ساتھ تشبیہ دینے پر بھی تنقید کی اور کہا: ”میں دیکھ رہا تھا کہ یہ لوگوں کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔آیت اللہ خمینی کے ساتھ ایران کے عوام پیار کرتے تھے اور ان(نواز شریف) کے لیے لاہور سے نہاریاں جاتی ہیں۔آیت اللہ خمینی کی لندن میں اربوں روپے کی جائیدادیں نہیں تھیں، ان کی بیٹی کے پاناما پیپرز میں چار چار بڑے بڑے فلیٹس نہیں تھے۔کہاں آیت اللہ خمینی اور کہاں ہمارا نہاری کھانے والا۔۔”نواز شریف کی جانب سے حال ہی میں دیے گئے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ”پاکستانی فوج کے خلاف جو یہ زبان استعمال کر رہے ہیں تو یہ وہی ایجنڈا ہے جو بھارت لے کر پھر رہا ہے۔مجھے پاکستانی فوج سے کیوں مسئلہ نہیں ہے۔ میرا کون سا منشور ہے جس کے پیچھے فوج نے میری مدد نہیں کی، کرونا وائرس بحران ہو یا کراچی ہر جگہ فوج نے مدد کی۔”سابق وزیراعظم نواز شریف کے اس بیان پر کہ انہیں 2014 ء کے دھرنے کے دوران اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ جنرل ظہیر الاسلام نے استعفیٰ دینے کا کہا تھا، عمران خان نے اپنے ردعمل میں کہا: ”اگر جنرل ظہیر الاسلام نے انہیں استعفیٰ دینے کو کہا تھا تو آپ نے کیوں چپ کرکے سن لیا؟ کیوں کہ ان کوپتہ تھا کہ آپ نے کتنا پیسہ چوری کیا ہے۔”عمران خان نے نواز شریف اور اپوزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:’ ‘انہیں جمہوریت سے مطلب نہیں ہے، کیونکہ جمہوریت تو میں ہوں جو سب سے زیادہ ووٹ لے کر آیا ہوں”۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ”نواز شریف فوج کو پنجاب پولیس بنانا چاہتے تھے ”۔حیرانی کی بات ہے کہ اس ہیجانی کیفیت کے دوران اور عمران خان کی طرف سے نواز شریف کے خلاف سخت بیان بازی کے باوجود نون لیگ کے ارکانِ اسمبلی کی حکومت مخالف یلغار میں کوئی فرق نہیں آرہا ۔ نون لیگ نے اب نیا پینترا بدلا ہے اور وہ یوں کہ پچھلے دنوں جن نون لیگی ارکان ِ پنجاب اسمبلی( مولانا غیاث الدین، میاں جلیل شرقپوری، ڈاہا وغیرہ) نے بوجوہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقاتیں کرکے اُنہیں اپنی محبتوں کا یقین دلایا تھا، نون لیگ اب ان ارکان کے خلاف میدان میں نکل آئی ہے ۔ اُنہیں برسرِ عام ”لوٹے” کہہ کر مطعون کیا جارہا ہے ۔ مثال کے طور پر 8اکتوبر2020ء کو جب پنجاب اسمبلی میں یہ ارکان آئے تو نون لیگیوں نے اُن کا گھیراؤ کر لیا ۔ اُن کی طرف لوٹے لڑھکائے گئے ۔ میاں جلیل شرقپوری کے خلاف بدتمیزی کی گئی ۔ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے اور ان مبینہ ”لوٹے” نون لیگیوں کو بچانے کیلئے وزیر اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل میدان میں آئے ۔ اُنہوں نے نون لیگی قیادت کو للکارتے ہُوئے کہا:” مسلم لیگ(ن) کا مسئلہ ووٹ کو عزت دو نہیں بلکہ لوٹ مار کو عزت دو ہے۔ مجھے کیوں نکالا کے بیانیے سے نکل کر ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ آیا اور اس میں سے بیانیہ نکلا کہ میں بیمار ہوں اور اس میں سے بیانیہ نکلا کہ اب ہمیں انقلاب لانا ہے۔ اسی کی بنیاد پر مسلم لیگ(ن) یا مسلم لیگ نااہل کی کوشش ہے کہ عوام کو اسی طرح بیوقوف بنایا جائے جیسا کہ 80 اور 90 کی دہائی میں بنایا۔ جلیل شرقپوری کے ساتھ جو کیا گیا، کیا وہ ہمارا سیاسی کلچر ہے؟ سیاسی کلچر تو ہے جو میاں نواز شریف اور ان کے بھائی نے بنایا لیکن کیا ہمارا اخلاقی کلچر ہے؟ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ کیا جو کیا گیا، وہ کیا جانا چاہیے تھا؟ہاتھا پائی تک کی نوبت آ گئی، جلیل شرقپوری کو زدوکوب کیا گیا، ان کی پگڑی اچھالنے کی کوشش کی گئی، ان سے گالی گلوچ کی گئی، ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میرا لیڈر نواز شریف ہے لیکن میں ان کے فوج اور پاکستانی اداروں کے خلاف بیانیے کے ساتھ نہیں ہوں”۔شہباز گل نے کہا :” مجھے پاکستان کی کسی ثقافت، سماجی یا قانونی وجہ سے بتا دیجیے کہ کہیں پر یہ خلاف قانون یا ضابطہ ہو، انہوں نے کہیں پر قانون نہیں توڑا، سوچنے کی بات ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا جلیل شرقپوری صاحب ووٹ لے کر نہیں آئے؟ کیا ان کا اسمبلی میں ووٹ نہیں ہے؟ رہی یہ بات کہ وہ عثمان بزدار سے ملے تو کسی بات پر تو کھڑے ہو جائیں آپ، کہیں پر تو انسانیت دکھائیں، کیا جب آپ اپوزیشن میں تھے تو کیپٹن ریٹائرڈ صفدر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے نہیں ملتے رہے؟ تو کیپٹن صاحب کو تو آپ نے نہیں پوچھا۔ وہ کہتے تھے کہ میں اپنے حلقے کے فنڈز کے لیے مل رہا ہوں۔اگر کوئی شخص رکن صوبائی اسمبلی بن جاتا ہے اور اگر اس کے حلقے میں کام ہے تو وہ کس سے جا کر ملے؟ آپ یہ سارا کچھ کرتے رہے ہیں تو درست ہے، کوئی اور کرے تو درست نہیں کیونکہ ووٹ کو عزت دو کا مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ ہے لوٹ مار کو عزت دو، مسئلہ ہے لندن کے ان فلیٹوں کو عزت دو جو تم نے لوٹ مار سے بنائے ہیں، مسئلہ ہے شریف فیملی کو عزت دو، جن میں شاید کوئی ایسی چیز ہے کہ وہ اشرف المخلوقات سے بھی کوئی اوپر کی چیز ہیں، تو ان کی عزت ہے، باقی کسی کی عزت نہیں ہے، کسی کیلئے کوئی قاعدہ یا قانون نہیں ہے۔ کیونکہ میاں جلیل شرقپوری صاحب (نون لیگی ایم پی اے جو منحرف ہو کر عثمان بزدار سے ملے) نے اس کے برعکس ووٹ کو عزت دی تو نون لیگ نے کہا کہ گلو بٹ پرانا ہو گیا ہے، اب میاں رؤف(نون لیگی ایم پی اے جس نے میاں جلیل شرقپوری پر مبینہ طور پر حملہ کیا) کو بدتمیزی کے لیے چھوڑتے ہیں۔ کیا کوئی مان سکتا ہے کہ ان کی پارٹی کی سینئر قیادت کی مرضی کے بغیر یہ کرتوت ہوئے ہیں؟۔” شہباز گل کی باتیں افسانوی ہیں نہ حقیقت سے دُور ۔ نون لیگ کی طرف سے جب اپنے مبینہ منحرف ارکانِ پنجاب اسمبلی کو نکالا جا چکا ہے تو پھر اُن پر حملہ کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ یہ نہائت بدتمیزی کی بات تھی ۔ دوسروں کو اخلاق اور مہذب سیاست کا درس دینے والی نون لیگ اور اس کی قیادت کو اس بارے میں فہمیدگی اور سنجیدگی سے سوچ بچار کرنی چاہئے ۔ ہم انتباہ کئے دیتے ہیں کہ نون لیگ فرسٹریشن میں کوئی غلط اقدام کرنے سے باز رہے ۔ یہی اُن کیلئے بھلا ہے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.