Daily Taqat

الیکشن کمیشن سے حکومت کی ناراضی اور پی ڈی ایم کے قلعہ کی مسماری

عجب حالات آ پڑے ہیں ۔ تین تین وفاقی وزرا اکٹھے بیٹھ کر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خلاف پریس کانفرنسیں کھڑکا رہے ہیں ۔ جب سے ملک بھر میں ضمنی انتخابات میں حکومت کو پے در پے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، الیکشن کمیشن کے خلاف حکومت کا غصہ بڑھ گیا ہے ۔ اس سلسلے میں ڈسکہ ( این اے 75) میں پی ٹی آئی کی شکست نے حکومت کو کچھ زیادہ ہی برہم کر دیا ہے ۔ ڈسکہ میں ضمنی انتخابات کے بعد جب سینیٹ میں عام انتخابات ہُوئے ( تین مارچ کو) اور جن میں حکومتی امیدوار حفیظ شیخ پی ڈی ایم کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں شکست کھا گئے تو وزیر اعظم عمران خان الیکشن کمیشن آف پاکستان کی شفافیت پر انگلیاں اٹھانے لگے ۔ وزیر اعظم صاحب نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنا کردار اچھا ادا نہیں کیا۔ سبحان اللہ ۔ اگر حکومتی امیدوار ضمنی انتخابات اور سینیٹ میں ہار جاتے ہیں تو اس کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھا دئیے جائیں ؟ بہرحال الیکشن کمیشن کے خلاف وزیر اعظم کے اعتراضات کے بعد وفاقی وزیروں نے بھی الیکشن کمیشن کے خلاف صف بندی کر دی ہے۔ اس سلسلے میں 15مارچ کو اسلام آباد میں تین وفاقی وزیروں ( شبلی فراز، شفقت محمود ، فواد چودھری) کی اکٹھی پریس کانفرنس خاصی اہمیت کی حامل ہے ۔ اس موقع پروفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدار نہیں رہا’نیوٹرل کردارادانہ کرنے کے باعث ادارہ اپنا اعتماد کھوچکا’چیف الیکشن کمشنر اور ممبران استعفے دیں’ ملک اور جمہوریت کی بہتری کیلئے نیاچیف الیکشن کمشنر اور ارکان مقررکئے جائیں’آئندہ انتخابات شفاف بنانے کیلئے نیاالیکشن کمیشن ضروری ہے’ اس کیلئے کوئی ریفرنس دائر نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں بروئے کار پی آئی ڈی کے دفاتر میں وزیر اطلاعات سینیٹرشبلی فرازاوروزیرسائنس وٹیکنا لوجی فوادچوہدری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔شفقت محمود نے کہا :” موجودہ الیکشن کمیشن پر کسی کو اعتماد نہیں رہا، وہ اپنا اعتماد کھو چکا ہے’ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران استعفے دیں تاکہ ان کی جگہ نئے الیکشن کمیشن کا تقرر کیا جاسکے اور آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کو یقینی بنایا جا سکے۔سینیٹ انتخابات پر تمام جماعتیں ناخوش ہیں، وزیراعظم عمران خان کا پہلے سے ہی مطالبہ کہ سینٹ کے انتخابات میں جو منڈیاں لگتی ہیں اور پیسے کا استعمال ہوتا ہے اس کو ختم کیا جائے۔اس کے لئے اوپن بیلٹ کی تجویز دی گئی تھی”۔ اُنہوںنے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے۔ہمارا ایک وفد الیکشن کمیشن گیا جس میں وہ اور فواد چوہدری بھی موجود تھے لیکن سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی نشست پر دیکھا گیا کہ یوسف رضا گیلانی یعنی جن کے پاس اکثریت نہیں تھی وہ جیت گئے لیکن خواتین نشست پر جہاں پیسے نہیں چلے، وہاں پی ٹی آئی کی خاتون امیدوار نے کامیابی حاصل کی۔ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوچکا ہے’ہم چاہتے ہیں کہ ایک ایسا الیکشن کمیشن ہو جو صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنائے۔ اس پریس کانفرنس کی بنیاد پر ملک کے تقریباً تمام اخبارات نے اگلے روز شہ سرخیاں لگائیں ۔ الیکٹرانک میڈیا پر اس اساس پر کئی ٹاک شوز کئے گئے ۔ یوں پورے ملک میں حکومتی وزیروں اور سیاستدانوں نے بیک زبان الیکشن کمیشن کے خلاف ایک زبردست ماحول بنانے کی کوشش کی ۔ اس صورتحال پر اپوزیشن یعنی پی ڈی ایم خاموش نہ رہ سکی ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کمیشن کے خلاف محاز آرائی کرنے والے وزیروں کے خلاف پی ڈی ایم نے بھی فوراً ردِ عمل دیا ۔ مثال کے طور پر شاہد خاقان عباسی ، مریم اورنگزیب اور سینیٹر مصطفےٰ نواز کھوکھر نے اس بارے سخت اور ترنت جواب دیا ۔شاہد خاقان عباسی نے کہا :” عمران خان کو الیکشن میں شکست ناگوار گزری ہے،آج الیکشن کمیشن سے معافی مانگنے کے بجائے پوری کابینہ اور پوری حکومت الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہوئی ہے۔یہ لوگ یہاں رکیں گے نہیں،کل آپ دیکھیں گے یہی وزیر ٹولے بن کر جو لوگ ان کو لائے تھے، ان پر حملہ آور ہوں گے”۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خلاف پریس کانفرنس کرنے والے وفاقی وزرا کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا :” اگر آپ کو خطرہ ہے کہ نوکری سے نکال دیے جائیں گے تو پھر یہ نوکریاں چھوڑ دیں اورکم از کم اپنے ضمیر کو نہ بیچیں اورحق کی آواز بلند کیا کریں، جھوٹ نہ بولا کریں، جب آپ ووٹ کو عزت نہیں دیں گے تو پھر عمران خان جیسے حکمران اس ملک میں نازل ہوں گے، یہ ملک کی بدنصیبی ہے”۔مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے الیکشن کمیشن سے استعفیٰ کے حکومتی مطالبہ کو مضحکہ خیز، غیرآئینی، غیرقانونی اور آئینی ادارے کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نیب کی طرح الیکشن کمیشن کو بھی یرغمال اورغلام بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا :” استعفیٰ سلیکٹڈ وزیراعظم دے جس نے ڈسکہ میں 20 پریزائیڈنگ افسران کو اغواء اور ووٹ چوری کیا۔استعفیٰ وہ وزیراعظم دے جس نے سینیٹ اجلاس میں نوٹوں کی منڈی لگائی اور اپنی اے ٹی ایمز کو جتوایا۔استعفیٰ وہ سلیکٹڈ وزیراعظم دے جس پر بائیس کروڑ عوام عدم اعتماد کرچکے ہیں،استعفیٰ وہ سلیکٹڈ وزیراعظم دے جو پارلیمان کا اعتماد کھو بیٹھا ہے۔ استعفیٰ وہ سلیکٹڈ دے جو سپریم کورٹ میں ڈسکہ الیکشن کے زیرسماعت مقدمے کے دوران الیکشن کمیشن کو ہراساں کرنے کی کوشش کررہا ہے”۔دریں اثنا پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر کہا :” جو بھی ادارے آئین وقانون کے مطابق کھڑے ہوں، یہ حکومت ان کو بلیک میل کرنا شروع کردیتی ہے’حکومت کو تابعدار ادارے چاہئیں۔ حکومت کی طرف سے ایسے عجیب مطالبات پہلے بھی سامنے آچکے ہیں، حکومت کے مطالبے کی کسی صورت حمایت نہیں کرسکتے۔ ڈسکہ الیکشن پر پریس ریلیز میں پنجاب حکومت اور افسران کو مورد الزام ٹھہرایا گیا، نیب کو بھی بلیک میل کیا جارہا ہے۔یہ مہنگائی ختم نہیں کرسکے، ان کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ مخالفین پر الزام لگاتے جائیں”۔لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان کو زور زبردستی فارغ کر سکتی ہے؟ کیا حکومت ای سی پی کو جب چاہے عہدوں سے برخواست کرنے کی اہلیت اور حیثیت رکھتی ہے؟متعلقہ آئینی شقوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے اراکین کو صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے ہٹایا جاسکتا ہے جس کے لیے حکومت کے پاس واحد راستہ ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنا ہے۔ آئین کی دفعہ 215(2) کے تحت کمشنر یا کوئی رکن اپنے عہدے سے سوائے اس صورت کے نہیں ہٹایا جائے گا جو آرٹیکل 209 میں کسی جج کے عہدے سے علیحدگی کے لیے مقرر ہے اور اس شق کے اغراض کے لیے اس آرٹیکل کے اطلاق میں مذکورہ آرٹیکل میں جج کا کوئی حوالہ کمشنر یا جیسی بھی صورت ہو کسی رکن کے حوالے کے طور پر سمجھا جائے گا۔خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان کرتے ہیں اور عدالت عظمیٰ کے 2 سب سے سینئرز ججز اور ہائی کورٹ کے 2 چیف جسٹس اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ آئین کی دفعہ 209(5) (ب) کے مطابق ‘اگر کسی ذریعے سے اطلاع ملنے پر کونسل یا صدر کی یہ رائے ہو کہ عدالت عظمٰی یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی جج بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہو تو صدر کونسل کو ہدایت کرے گا یا کونسل خود اپنی تحریک پر معاملے کی تحقیقات کرسکے گی’۔دفعہ 209 (6) کے تحت ‘اگر معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد کونسل صدر کو رپورٹ پیش کرے کہ اس کی رائے یہ ہے کہ جج اپنے عہدے کے فرائض منصبی کی انجام دہی کے ناقابل ہے یا بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہے اور اسے عہدے سے برطرف کردینا چاہیے تو صدر اس جج کو عہدے سے برطرف کرسکے گا’۔اسی طرح آئین کی دفعہ 209 (7) کہتی ہے کہ ‘عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کے کسی جج کو بجز جس طرح اس آرٹیکل میں قرار دیا گیا ہے عہدے سے برطرف نہیں کیا جائے گا’۔اس کے باوجود سینیٹ الیکشن شفاف طریقے سے کرانے میں ای سی پی کی مبینہ ناکامی پر حکومت کی جانب سے کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس ضمن میں جب الیکشن کمیشن کے ایک سینئر عہدیدار سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کے استعفے کا کوئی جواز نہیں ہے۔الیکشن کمیشن پر ‘ووٹوں کو قابل شناخت بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں ناکامی پر تنقید کرنا آئین کی دفعہ 226 کی خلاف ورزی ہے جو خفیہ رائے شماری سے متعلق ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نہ تو آئین دوبارہ لکھ سکتا ہے نہ ہی اس میں ترمیم کرسکتا ہے، کمیشن آئین و قانون پر سختی سے عمل جاری رکھے گا۔کچھ ناقدین کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے خلاف حکومت کی مہم کا سینیٹ الیکشن سے کچھ خاص لینا دینا نہیں ہے اور اسے صرف فارن فنڈنگ کیس کے سلسلے میں کمیشن پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ناقدین نے مزید کہا کہ حکومت چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے خود اپنے منتخب کردہ سربراہ سکندر سلطان راجا کو نشانہ بنا رہی ہے کیونکہ ان کے کچھ فیصلے اس کے لیے ہزیمت کا باعث بنے۔ناقدین کے مطابق الیکشن کمیشن ملک بھر میں بلدیاتی انتخاب کروانا چاہتا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے اتحادی مقامی انتخابات میں اپنی ٹانگ اڑانا چاہتے ہیں اور ڈسکہ میں پریزائڈنگ افسران کی گمشدگی کے باعث دوبارہ ضمنی انتخاب کے انعقاد سے حکومت مزید خفاہے۔ ای سی پی کے خلاف حکومتی آوازوں نے ملک بھر میں عجب حالات پیدا کر دئیے ہیں ۔ اپوزیشن کی طرف سے یہ اعتراض بجا معلوم ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے چیئرمین کو خود پی ٹی آئی حکومت اور عمران خان نے تعینات کیا اور اب خود وزیر اعظم ہی اپنے منتخب کردہ چیئرمین کے خلاف صف آرا ہو گئے ہیں۔ آخر ای سی پی کے چیئرمین سے کونسا بڑا گناہ یا غلطی سرزد ہو گئی ہے ؟؟ملک بھر میں تناؤ اور کشیدگی کے نئے مناظر ابھر رہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں ایک عدالتی احاطے میں نواز شریف کے مشیر خاص شہباز گل پر انڈے ، جوتے اور سیاہی پھینکی گئی ۔ یہ منظر ایسے حالات میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے نون لیگی قیادت پر جوتا پھینکنے اور اُنہیں تشدد کا نشانہ بنانے کی واردات کو زیادہ دن نہیں گزرے تھے ۔ نون لیگی قیادت پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کا حملہ 6مارچ کو اُس وقت ہُوا جب وزیر اعظم عمران خان قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے رہے تھے اور اسمبلی سے باہر نون لیگی قائدین( شاہد خاقان عباسی ، احسن اقبال، مصدق ملک اور مریم اورنگزیب) پریس کانفرنس کررہے تھے ۔ احسن اقبال کے سر کی جانب جوتا اچھالا گیا ، مریم اورنگزیب کو دھکے دئیے گئے اور مصدق ملک کے سر پر تھپڑ مارے گئے ۔ لگتا ہے اپوزیشن کے حالات دگرگوں ہو چکے ہیں ۔ آصف علی زرداری نے پی ڈی ایم کے ایک اجلاس میں ایک دہکتا بیان دے کر نون لیگ اور جے یو آئی (ایف) سمیت پی ڈی ایم کی 9جماعتوں کو جس طرح مایوس کیا ہے ، اس نے پوری پی ڈی ایم پر قیامت ڈھا دی ہے ۔ یوںلگتا ہے آصف زرداری نے پی ڈی ایم اور نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔ پی ڈی ایم منہ چھپاتی پھررہی ہے اور پی ڈی ایم کے صدر صاحب کسی مدرسے سے اپنے ناراضی بھرے بیانات جاری کررہے ہیں ۔ دیکھا جائے تو پی ڈی ایم کا قلعہ مسمار ہو چکا ہے اور عمران خان کی حکومت کے ایوانوں میں خوشیوں اور مسرتوں کے شادیانے بج رہے ہیں ۔ پی ڈی ایم کی طرف سے اعلان کردہ26مارچ کا لانگ مارچ ملتوی و موخر ہو چکا ہے ۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ 16مارچ2021کا دن پی ڈی ایم کیلئے سیاہ ترین دن تھا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »