Latest news

علاجِ غم نہیں کرتے فقط تقریر کرتے ہیں!

لاریب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کے خطاب سے ایک دُنیا ابھی تک سحر میں مبتلا ہے ۔ پاکستان سمیت دُنیا کے کئی ممالک میں بجا طور پر اس تقریر کی تحسین کی گئی ۔ خان صاحب کے اس خطاب سے دیگر کئی مسلمان ممالک کے سربراہوں کو بھی تحریک اور حوصلہ ملا اور اُنہوں نے بھی کھل کر جنرل اسمبلی میں اپنے اپنے خطابات میں بھارت کی کھل کر اور غیر مبہم الفاظ میں مذمت کی کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استحصال اور ظلم اپنی آخری حدوں کو چھُو رہا ہے ۔

خاص طور پر ترکی کے صدر اور ملائشیا کے وزیر اعظم ( طیب اردوان اور مہاتیر محمد) نے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظالمانہ اقدامات کی سخت الفاظ میں گرفت کی ۔ اسے ہم بھارتی سفارتکاری کی ناکامی اور پاکستانی وزیر اعظم جناب عمران خان کے پُرزور اور پُر استدلال کی کامیابی اور کامرانی کہہ سکتے ہیں ۔

ہمارے وزیر اعظم کے اس تاریخی خطاب کا اثر یہ بھی ہُوا ہے کہ امریکہ کے تعلیم یافتہ طبقات میں پہلی بار ہندوؤں کی دہشت گرد تنظیم ”آر ایس ایس” کے بارے میں بحثیں شروع ہو گئی ہیں اور پہلی بار کہا جانے لگا ہے کہ یہ متعصب اور بنیاد پرست ہندو تنظیم اپنی غیر روادار اور مسلم دشمن پالیسیوں کے کارن جنوبی ایشیا میں امن کی کوششوں کو ڈائنامائیٹ کررہی ہے۔ ظاہر ہے ان بحثوں سے امریکہ میں موجود بھارتی لابیوں کو ندامت اور شرمندگی ہورہی ہے ۔ اس کا ایک ثبوت وہ جوابی بھارتی وار ہے جو بھارتی مندوب( ودیشا میترا) نے جنرل اسمبلی میں عمران خان کے خطاب کے فوری بعد کیا لیکن اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ہو سکی ۔

ہم نے بھی تفاخر اور فتح کے ا ِنہی احساسات تلے اپنے پچھلے کالم میں اپنے وزیر اعظم جناب عمران خان کی تعریف وتحسین کی تھی۔ ہمارے ساتھ پاکستان کے سبھی عوام اس خطاب پر دِلی طور پر مطمئن اور خوش تھے ۔ خانصاحب نیویارک سے فرحا ںو شاداں واپس پاکستان لَوٹے تو اسلام آباد کے نیو ائر پورٹ پر اُن کا شاندار استقبال ہُوا ( اگرچہ استقبال میںپی ٹی آئی کے عشاق کے ہاتھوں ائر پورٹ کے فرنیچر کو بہت نقصان پہنچانے کی بھی اطلاعات ہیں)۔

عمران خان نے اس استقبال میں بجا طور پر فرمایا کہ دُنیا کا کوئی ملک کشمیریوں کا ساتھ دیتا ہے یا نہیں ، ہم ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے ۔ انشاء اللہ ۔ عوام اور حکومتی وابستگان عمران خان کے اس خطاب کے سحر اور جادو سے آہستہ آہستہ باہر نکل رہے ہیں اور حقائق کی سخت دُنیا کا سامنا کررہے ہیں ۔ یہ حقائق بہت تلخ بھی ہیں اورقدرے مایوس کن بھی ۔یہ زمینی حقائق خانصاحب کی حکومت پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ اور کہا جارہا ہے کہ خانصاحب کی تقریر عوام کو درپیش دکھوں اور دردوں کا حل نہیں ہے ۔ شائد اِسی لئے ایک دل جلے شاعر نے اُنہیں مخاطب کرتے ہُوئے یوں کہا ہے :
سرِ منبر وہ خوابوں کے محل تعمیر کرتے ہیں
علاجِ غم نہیں کرتے فقط تقریر کرتے ہیں
بلوچستان سے وزیر اعظم اور اُن کی حکومت کے ایک اتحادی اور دوست ، قاسم خان سوری، کی کامیابی کی کالعدمی خانصاحب کے لئے سخت دھچکے اور ندامت کا باعث بن رہی ہے ۔ قاسم سوری صاحب قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر بھی فائز تھے ۔ وہ عمران خان کے زبردست حامی ہیں ۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے اُن کی قومی اسمبلی کی رکنیت کی تنسیخ سے عمران خان کو بہت دھچکا پہنچا ہے اور اپوزیشن کی تنقید میں بے پناہ اضافہ بھی ہُوا ہے ۔ سوری صاحب کو اسمبلی کی سیٹ سے محض اسلئے ہاتھ دھونے پڑے ہیں کہ انتخابات میں اُن کی دھاندلی ثابت ہو گئی ہے ۔ ممکن ہے سوری صاحب اس حوالے سے کوئی اسٹے آرڈر و غیرہ ( جیسا کہ اُنہوں نے عدالت سے رجوع بھی کیا ہے) بھی لے لیں لیکن اُن کی شخصیت اور اسمبلی کی رکنیت کو ڈنٹ پڑ گیا ہے ۔ قاسم سوری بارے یہ فیصلہ عین اُس وقت سامنے آیا جب عمران خان نیویارک میں تھے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سوری صاحب کی نشست( کوئٹہ این اے 265) پر جب دوبارہ انتخابات ہوں تو وہ دوبارہ جیت جائیں لیکن فی الحال یہ فیصلہ اُن کیلئے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے ۔ اُن کی کامیابی کو بلوچستان ہی سے تعلق رکھنے والی پارٹی ” بی این پی” کے اُمیدوار لشکری رئیسانی نے چیلنج کیا تھااور الزام عائد کیا تھا کہ مسٹر سوری دھاندلی کرکے جیتے ہیں ۔ اب یہ ثابت ہو چکا ہے ۔ الیکشن ٹریبونل ، جس کے سربراہ جسٹس عبداللہ بلوچ ہیں، نے سوری کے خلاف سنایا ہے ۔یہ فیصلہ یقیناً پی ٹی آئی حکومت کیلئے دباؤ کا باعث بنا ہے اور اس کے اثرات بھی دُوررس ہوں گے ۔ شائد اِنہی دُور رَس اثرات ہی کا شاخسانہ ہے کہ عمران خان کے حکم سے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندو ب، ڈاکٹر ملیحہ لودھی، کو بھی اُن کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ ملیحہ لودھی کی جگہ 75سالہ جناب منیر اکرم کو متعین کیا گیا ہے ۔

منیر اکرم صاحب پہلے بھی چار سال تک اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب رہ چکے ہیں ۔ اُن کی کارکردگی بھی زور دار رہی اور ملک سے کمٹمنٹ بھی بے مثال ۔وہ نہائت تجربہ کار سفارتکار ہیں ۔ امریکہ میں جان پہچان رکھتے ہیں ۔ ریٹائر منٹ کے بعد وہ پاکستان کے ایک ممتاز انگریزی معاصر میں ہفتہ وار کالم بھی لکھتے رہے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اس کالم کی خاصی زیادہ ریڈرشپ ہے ۔پاکستان سے محبت اُن کے کالموں کا نمایاں حصہ ہوتا ہے ۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ اُن کی نئی تعیناتی وطنِ عزیز کیلئے مفید اور ثمرآور ثابت ہوگی ۔ سوشل میڈیا پر پاکستان دشمن عناصر نے منیر اکرم کے خلاف جو نئی مہمات چلائی ہیں ، وہ بھی اس امر کاایک ثبوت ہے کہ منیر اکرم نیویارک میں پاکستان دشمن لابی کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں ۔یہ اچانک تعیناتی مگر خاصی حیران کن محسوس کی گئی ہے ۔ کوئی بھی نہیں سوچ رہا تھا کہ ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو یوں اور اس قدر تیزی سے فارغ کیا جا سکتا ہے ۔ یہ اقدام اور فیصلہ بہت سے لوگوں کیلئے غیر متوقع ہے ۔ 27ستمبر کو جنرل اسمبلی میں عمران خان کی بھرپورتقریر اور اس کی عالمی سطح پر مثبت کوریج کے پس منظر میں کہا یہ جارہا تھا کہ ملیحہ لودھی نے نیویارک میں اپنے وزیر اعظم اور پاکستان کے لئے خوب خدمات انجام دی ہیں ۔ خانصاحب نے 22تا27ستمبر کے دوران نیویارک میںکونسل آن فارن ریلیشنز ایسے موثر ترین امریکی تھنک ٹینک سے خطاب کیا۔ یو این میں بیٹھے عالمی میڈیا سے وابستہ صحافیوں سے انٹر ایکشن کیا۔ ایشیا سوسائٹی کے دانشوروں سے مخاطب ہُوئے ۔ نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل ایسے طاقتور ترین امریکی اخبارات کے ایڈیٹوریل بورڈ ممبرز سے براہِ راست مکالمہ کیا۔

درجنوں امریکی شہ دماغوں سے ملاقاتیں کیں ۔ ان ملاقاتوں کی بازگشت امریکی میڈیا میں بھی سنائی دیتی رہی ۔ کہا گیا تھا کہ اس کوریج اور ملاقاتوں کے عقب میں ملیحہ لودھی صاحبہ کی محنتیں بروئے کار تھیں اور وزیر اعظم عمران خان اُن کی کارکردگی سے نہائت مطمئن ہیں ؛ چنانچہ وہ مزید کچھ عرصہ تک نیویارک میں پاکستان کی خدمات انجام دیتی رہیں گی ۔ اس سارے پیش منظر کو سامنے رکھا جائے تو ملیحہ لودھی کی رخصتی اور روانگی سے حیرتوں کے نئے در کھلتے دکھائی دیتے ہیں ۔ حکومت اور اس کے جملہ ترجمانوں کا کہنا تو یہ ہے کہ یہ رخصتی معمول کے سفارتی تبادلوں کا حصہ ہے کہ وزارتِ خارجہ میں کئی اور بھی تبادلے کئے گئے ہیں ۔ ہم مگر یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو ہٹایا جانا معمول کے سفارتی تبادلوں کا ہر گز حصہ نہیں ہے ۔ بی بی سی نے اس ضمن میں بڑا تیکھا تبصرہ کرتے ہُوئے لکھا ہے :” امریکہ میں ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کی مینجر کو ہٹا دیا گیا ۔” ہم یہاں ملیحہ لودھی کو شاباش دینا چاہتے ہیں کہ اچانک عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اُن کی طرف سے کسی قسم کی ( ظاہری طور پر)تلخی اور ناراضی کا اظہار نہیں کیا گیا ہے ۔ اُنہوں نے اپنی سب ٹویٹوں میں اس امر کا خوشدلی کا اظہار کیا ہے کہ اُنہیں چار سال تک امریکہ میں پاکستان کی خدمت کرنے کا موقع ملا اور اب وہ وزیر اعظم عمران خان کے اس فیصلے پر بھی مطمئن ہیں ۔ حکومت کوہمارا مشورہ یہ ہے کہ وہ ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے طویل سفارتی تجربات سے استفادہ کرتی رہے ۔

اُن کے تجربات اور ٹیلنٹ کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے ۔ ملیحہ لودھی کو اس اسلوب میں ہٹایا جانا بہر حال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ بعض اطراف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملیحہ لودھی کے صاحبزادے کی مبینہ طور پر ایک بھارتی لڑکی سے شادی نے بھی معاملات میں بگاڑ پیدا کیا ہے ۔اگر یہ شادی والی بات درست ہے تو ہماری اسٹیبلشمنٹ بہرحال یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ یو این او میں پاکستان کی مستقل مندوب صاحبہ کا صاحبزادہ بھارتیوں کا داماد بھی ہو ۔ یہ تو سراسر سیکورٹی رسک کے مترادف ہے ۔ غرض جتنے منہ ، اتنی باتیں ۔ لیکن یہ واقعہ ہے کہ حکومت پر متنوع دباؤ روز افزوں ہیں ۔ ہمارے سفیروں اور وزیروں کی کارکردگی سے وزیر اعظم مطمئن نہیں ہیں ۔ عمران خان صاحب کا یہ کہنا کہ ”خراب کارکردگی والے وزرا کو تبدیل کررہا ہُوں”،اس امر کی نشاندہی ہے کہ حکومت نے اپنے وزیروں کو جو فرائض سونپ رکھے ہیں ، اُن میں کماحقہ وہ پورا نہیں اُتر رہے ہیں ۔ اب جب وزیر اعظم اپنے مذکورہ اعلان پر عمل درآمد کرتے ہُوئے کچھ وزیروں کے ”تبادلے ” کریں گے تو حکومت مزید تنقید کا ہدف بنائی جائیگی اور اپوزیشن بھی اسے اپنے حق میں کیش کروانے کی ہر ممکن سعی کرے گی ۔ اور یوں حکومت کے خلاف ایک نئی لہر جنم لے گی ۔ وزیر اعظم صاحب کی طرف سے وزیروں کی تبدیلی کا بیان اسقدر تہلکہ خیز تھا کہ کابینہ میں تھڑ تھلی سی مچ گئی تھی ۔ یار لوگوں نے تو اُن وزرا کی فہرست بھی ”عیاں” کر دی جن کا قلمدان مبینہ طور پر تبدیل ہونے والا ہے ۔

اس فہرست کے مطابق ان وزرا میں شفقت محمود، زبیدہ جلال، اعجاز شاہ ، فواد چودھری، فردوس عاشق اعوان کے قلمدان تبدیل ہونے والے ہیں ۔ اس ”تبدیلی” کا غلغلہ اتنا شدید تھا کہ وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی جناب نعیم الحق کو ٹویٹ کرنا پڑی کہ ” وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد مَیں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہُوں کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کابینہ میں تبدیلیوں کی فہرست مکمل طور پر جعلی ہے اور اس میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔” ممکن ہے نعیم الحق کی ٹویٹ سچ ہی پر مبنی ہو لیکن ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر عمران خان صاحب کو اپنے بعض وزرا کے قلمدان تبدیل ہی کرنے ہیں تو اُنہیں یہ اقدام نہیں کرنا چاہئے ۔ اس میں قباحت یہ ہے کہ اگر بفرضِ محال وہ اپنے چند ایک وزیروں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں تو اُنہیں ان کے قلمدان یا محکمے تبدیل کرنے کی بجائے اُنہیں وزارتوں ہی سے فارغ کر دینا چاہئے ۔ یقیناً اس فیصلے کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے ۔ ہماری تو دعا ہے کہ حکومت امن اور چین کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کرتی رہے اور اپنے عوامی مینڈیٹ کے مطابق اپنے بقیہ چار سال بھی پورا کرے لیکن لگتا یہ ہے کہ اپوزیشن اس حکومت کو امن اور چین سے کام نہیں کرنے دے گی ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی روز بروز بڑھ رہی ہے ۔

نواز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز، شاہد خاقان عباسی، سعد رفیق، سلمان رفیق، آصف زرداری، سیدخورشید شاہ اور فریال تالپور وغیرہ کا جیلوں اور حوالاتوں میں ہونا اپوزیشن کیلئے طیش اور ناراضی کا باعث بن رہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن الگ سے ناراض ہیں ۔ اُن کا حکومت مخالف بیانیہ علیحدہ سے عمران خان کے لئے دردِ سر بن رہا ہے ۔ مولانا موصوف اپنے اتحادیوں اور ساتھیوں کے ساتھ حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے کا عندیہ دے رہے ہیں ۔ یوں حکومت کے اعصاب پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور اُس کے وزرا ایک کورس کی شکل میں یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات کے پیشِ نظر اپوزیشن کیلئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ حکومت کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں دھرنا دے ۔

مولانا فضل الرحمن کی لیڈری میںاپوزیشن مگر پیچھے ہٹنے اور حکومت کی بات ماننے پر تیار نظر نہیں آتی ۔ اپوزیشن کا بیک زبان یہ کہنا کہ ”عمران خان اگر نواز شریف کے دَور میں حکومت کے خلاف 126دنوں کا دھرنا دے سکتے تھے تو ہم کیوں نہیں؟اُس وقت عمران خان اور اُن کی پارٹی کو ملکی سلامتی اور استحکام کیوں نظر نہیں آتا تھا حالانکہ اُن ایام میں تو چینی صدر بھی پاکستان آ رہے تھے اور پاکستان کا دارالحکومت خانصاحب کے دھرنے کے حصار میں تھا۔” دیکھا جائے تو اپوزیشن کا یہ موقف بے بنیاد اور بے جان نہیں ہے ۔

عمران خان کا دھرنا ایک سنگین غلطی تھی ۔ اس دھرنے نے ایسی مثال قائم کی جو اَب خانصاحب کے خلاف استعمال ہورہی ہے ۔ اپوزیشن کی اس منطق اور دلیل کے باوجود ہم یہی کہیں گے کہ ملک کی نازک صورتحال کے پیشِ نظر مناسب ہوگا کہ مولانا صاحب ایند کمپنی کچھ دنوں کے لئے اپنا غصہ تھام کررکھیں کہ ہمیں اِنہی ایام میں بھارتی آرمی چیف ( جنرل بپن راوت) کی طرف سے پاکستان مخالف دھمکی نظر انداز نہیں کرنی چاہئے ۔ جنرل بپن راوت نے گیدڑ بھبکی دیتے ہُوئے یہ دریدہ دہنی کی ہے کہ ”ہم جب چاہیں ، ایل اوسی پار کرکے پاکستان پر حملہ کر سکتے ہیں اور اس کے لئے زمینی اور ہوائی راستے بروئے کارلائے جا سکتے ہیں ۔” بپن راوت زرا پاکستان کی طرف قدم بڑھا کر تو دیکھیں ،ہماری پاک افواج اُن کے پرخچے اُڑا کررکھ دیں گی ۔ انشاء اللہ ۔ بھارتی مقابلے کیلئے پاکستان کی تیاریاں مکمل ہیں ، لیکن اس کے باوجود اپوزیشن کو بھی اپنے مجوزہ” آزادی مارچ” پر نظر ثانی کرنی چاہئے ۔حقیقت یہ ہے کہ آزادی مارچ اب اپوزیشن کیلئے بجائے خود امتحان اور آزمائش بنتا جا رہا ہے ۔

نون لیگ اور پیپلز پارٹی مبینہ طور پر اسے نومبر تک موخر کرنے کی تجاویز دیتے سنائی دے رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں نون لیگ کے احسن اقبال اور پیپلز پارٹی کی شیری رحمن نے اکٹھے پریس کانفرنس بھی کر دی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن مگر مانتے نظر نہیں آ رہے ہیں ۔ اس وجہ سے نون لیگ دو حصوں میں بٹتی اور تقسیم ہوتی بھی نظر آ رہی ہے کہ نون لیگ میں ایک بڑا دھڑا ( جس کی قیادت شہباز شریف کررہے ہیں) یہ موقف اختیار کرتا نظر آ رہا ہے کہ” آزادی مارچ” رواں ماہ اکتوبر میں نہیں بلکہ اگلے ماہ میں کیا جانا چاہئے ، جبکہ ایک دھڑا ( جس کی قیادت مریم نواز کررہی ہیں) اس بات پر زور دے رہا ہے کہ یہ مارچ بس اِسی ماہ کے آخر تک ہوجانا چاہئے ۔ دراصل شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری ڈر رہے ہیں کہ ”آزادی مارچ” کے انعقاد سے گیم کہیں اُلٹ نہ پڑ جائے اور اسٹیبلشمنٹ جیلوں میں قید سینئر قیادت پر مزید سختیاں کرنے پر نہ اُتر آئے ۔ اس وہم نے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو فی الحال باہم نہیں ہونے دیا ۔ آزادی مارچ کے انعقاد کی خبروں سے بہرحال حکومت کے اعصاب پر دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ شائد اِسی کارن مرکزی حکومت نے پنجاب اور کے پی کے پولیس کو بھی الرٹ کر دیا ہے کہ نجانے اُنہیں مارچ کرتے ہُوئے کب اسلام آباد میں بلانا پڑ جائے ۔ حکومت پریشر میں ہے ۔ اوپر سے ایک منظر نے خانصاحب کی حکومت پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے ۔ اور اس منظر میں ہمیں وطنِ عزیز کے معروف تاجر اور بزنس کمیونٹی کے لیڈرز با جماعت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملتے نظر آ رہے ہیں ۔ یہ تاجر برادری( جن کے نمائندگان کی تعداد سولہ سے بیس بتائی جارہی ہے ) مبینہ طور پر سپہ سالارِ پاکستان کو اپنے دکھڑے سنانے گئی ہے کہ اُنہیں” نئے تجارتی عذابوں” سے نجات دلائی جائے ۔ شنید ہے کہ جنرل باجوہ صاحب نے ملاقات کرنے والے تاجروں سے کہا ہے کہ اُنہیں وزیر اعظم عمران خان سے تعاون کرنا چاہئے ۔ دیانتداری سے دیکھا جائے تو یہ ملاقات در حقیقت وزیر اعظم اور اُن کی اکنامک ٹیم ( گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر ، وزیر خزانہ) پر عدم اعتماد ہے ۔

ملک کی باوسائل تاجر برادری کو اگر حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد ہوتا تو وہ اپنے مسائل کے حل کیلئے وزیر اعظم ، وزیر خزانہ یا ایف بی آر کے سربراہ سے ملتے اور مذاکرات کرتے ، لیکن یہاں تو معاملہ بالکل اُلٹ نظر آ رہا ہے ۔ اس انوکھے منظر نے پاکستان میں نئی داستان رقم کر ڈالی ہے ۔ اللہ ہی خیر کرے !!


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.