Daily Taqat

ڈالر و ٹیکس شرح میں ہوشربا اضافہ اور افغانستان کے پاکستان پر اثرات

بڑھتی مہنگائی نے پاکستانی عوام کا بھرکس نکال دیا ہے ۔ اس مہنگائی میں بجلی اور پٹرول کے نرخوں میں روز بروز اضافے نے مرکزی کردار ادا کیا ہے ۔ اور ابھی بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کے ساتھ ساتھ گیس کی قیمتیں بڑھانے کی باتیں بھی کی جارہی ہیں ۔ خان صاحب کی حکومت عوام الناس کیلئے وبالِ جان بن رہی ہے ۔ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں روز افزوں ہے ۔ جس وقت یہ کالم لکھا جارہا ہے ، ایک ڈالر کی قیمت 180روپے بتائی جارہی ہے ۔ میاں نواز شریف کئی ماہ قبل لندن میں بیٹھے کہہ چکے ہیں کہ ” ڈالر 200روپے تک جائے گا۔” صورتحال بتا رہی ہے کہ نواز شریف کی پیشگوئی درست ہونے جا رہی ہے ۔ ڈالر، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک میں مہنگائی میں بھی ہوشربا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اوپر سے حکومت نے سود میں بھی اضافہ کر دیا ہے ۔ حکومت کے اس اقدام پر تمام ماہرینِ معیشت چیخ اُٹھے ہیں مگر حکومت ڈھٹائی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔مہنگائی کے حوالے سے یہ قیامت کی گھڑیاں ہیں ۔ ایسے میں وزیر اعظم جناب عمران خان و حکومتِ پاکستان کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے :” عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے ٹیکس کی شرح میں اضافے پر اصرار کیا تھا لیکن ہم نے واضح کردیا کہ انکم ٹیکسز نہیں بڑھائیں گے لیکن کاروباری طبقے کو حاصل کچھ استثنیٰ واپس لے لیا جائے گا۔ رواں سال مارچ میں ہم نے 700 ارب روپے کی استثنیٰ اور نئے ٹیکس کے نفاذ پر دستخط کردیے تھے جس کے بعد 50 کروڑ ڈالر ملے تھے۔ جب میں نے ذمہ داری سنبھالی تو اصرار کیا گیا تھا کہ مزید ٹیکس نہیں لگانے دیں گے اور اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے جس کے نتیجے میں ٹیکس میں اضافہ نہیں ہوا۔آئی ایم ایف کے مؤقف میں وزن ہے کہ پاکستان میں ٹیکس نظام میں یکسانیت نہیں ہے، کسی پر 17 فیصد اور کسی کو سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے، اس لیے سیلز ٹیکس لے لیں اور بدلے میں انہیں ٹارگیٹڈ سبسڈی دے دیں۔ فرٹیلائزرز کو گیس کی مد میں 150 ارب روپے کی سبسڈی دیتے ہیں پھر ٹیکس بھی صفر کر دیتے ہیں، دونوں کو جمع کرلیا جائے تو تقریباً 250 ارب روپے بنتے ہیں لیکن یہ فائدہ کسانوں تک نہیں پہنچتا جبکہ یوریا کی بوری مہنگی فروخت ہورہی ہے۔ ہمارے پاس احساس کا ڈیٹا موجود ہے جس میں امیر و غریب سمیت تمام طبقات کی درجہ بندی ہے اور اصل فائدہ انہیں پہنچانے کے لیے کوئی میکانزم بنائیں گے”۔مشیر خزانہ نے چھوٹے اور متوسط کاروبار (ایس ایم ایز) کے حوالے سے کہا :” 50 لاکھ تک ایس ایم ایز ہیں اور محض ایک لاکھ 70 ہزار یس ایم ایز کو بینک سے قرضہ ملتا ہے، یہ ستم ظریفی ہے۔ ایس ایم ایز کو قرض کی ادائیگی کے لیے اسٹیٹ بینک بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور میری کوشش ہے کہ کامیاب نوجوان اور کامیاب پاکستان کے ذریعے ایس ایم ایز کو آسان شرح سود پر ادائیگی کی جائے۔پاکستان میں بھی تاجر برادری کو اتنی ہی مراعات ملنی چاہیے جتنی پڑوسی ممالک میں فراہم کی جاتی ہیں۔ مسابقتی ماحول میں مراعات کی جلد بازی میں فراہمی کے قائل نہیں ہیں اس لیے مربوط حکمت عملی تیار کریں گے۔ ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ کو آئی ایم ایف سے عدم معاہدے اور ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی سے جوڑا گیا لیکن اب تو معاہدہ اور ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ بینچ مارک ریئل افیکٹو ایکسچینج ریٹ (حقیقی مؤثر شرح تبادلہ) مقامی کرنسی اور مسابقتی ممالک کی کرنسی کے درمیان توازن قائم کرتا ہے اور شرح تبادلہ اس کے قریب قریب ہونا چاہے۔ حقیقی مؤثر شرح تبادلہ کا ریٹ 165 کے قریب ہونا چاہیے، اس وقت رویپہ انڈر ویلیو ہے، اس کی وجہ افواہیں بھی ہوتی ہیں۔روپیہ ڈی مونیٹائز کیے جانے کی افواہیں گرم ہیں، ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے، حکومت کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھائے گی جو مارکیٹ میں عدم اعتماد کی فضا قائم کرے”۔مشیر خزانہ کی باتیں اپنی جگہ درست ہوں گی لیکن ڈالر کی پرواز رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی کہا ہے کہ رواں مالی سال افراط زرکی شرح 7 سے 9فیصد رہنے کا امکان ہے، معاشی ترقی کی شرح 4 سے 5 فیصد رہنے کی توقع ہے، ترسیلات کی مالیت 30.5 ارب ڈالر سے 32.5 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 3 فیصد تک ہوسکتا ہے، مالیاتی خسارہ 6.3 فیصد سے 7.3 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، برآمدات 26.5 سے 27.5 ارب ڈالر جب کہ درآمدات کی مالیت 62.5 سے 63.5 ارب ڈالر تک رہنے کی توقع ہے۔زمینی حقائق اور میڈیا مبصرین کے تجزیوں کے مطابق آئی ایم ایف کے ماہرین اپنے موقف پر سختی سے قائم ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کے عوام کو بریک تھرو ملنے کے امکانات اور عوام کو ٹریکل ڈاؤن ایفکٹس سے کوئی مطابقت پیدا نہیں ہورہی، اس معیشت میں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے، مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت معیشت کو انتہائی گہرے تضادات میں لے گئی ہے، اس کی عوام دشمن پالیسیوں نے ٹیکس، در ٹیکس، قرضوں اور مہنگائی کا جو خوفناک منظر نامہ قوم کے سامنے پیش کیا ہے۔اس سے نکلنا حکومت کے لیے آسان نہیں ہوگا، عوام کو غربت، مہنگائی اور بحران سے نکالنا ایک اہم سوال ہے، پٹرول ڈیلرز کی ہڑتال سے صورت حال سنگین ہوگئی ہے۔ کراچی کی سماجی شعبے اور شعبہ تعمیرات میں بے یقینی اور عمارات کے انہدام سے ادارہ جاتی بحران سے شہری علاقوں میں شدید خوف وہراس کی فضا ہے۔ ادارے قانون کی حکمرانی کے عدالتی سوال پر چکرا کر رہ گئے ہیں، کیونکہ کراچی میں جنگل کا قانون تھا، ادارہ جوابدہی سے بے نیاز تھا، کثیر جہتی انتظامی لاپروائی نے شہرکو لاوارثی میں دھکیل دیا، اداروں میں اختیارات کی جنگ ہے۔کمشنر کراچی کو قانون پر عمل درآمد کے سوال پر عدلیہ کے سوالات اور شہر کی اربن سویلین آبادی و رہائش کی یقینی سہولت نے بنیادی مسئلہ سے دوچار کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عوام کو اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے کچھ نہیں ملے گا، عوام کو معاشی پالیسی اور اقتصادی حکمت عملے سے مہنگائی کے بوجھ سے بچنے کی فکر ہے، عوام خلفشار کی زندگی گزار رہے ہیں، جب تک مہنگائی ختم نہیں ہوگی، ترسیلات، خود کفالت کے وعدے اور ٹیکس کے بغیر ملک کو ترقی کے راستے پر چلانے کے حوالے سے وزیراعظم کے بیانیے اور موقف میں بظاہر کوئی ابہام نہیں، حکومتی ٹیکس سسٹم میں ٹیکس کلیکٹ کرنے کی استعداد بڑھانے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کو بھی ملکی اقتصادیات کی بنیاد کو ناقابل تسخیر بنانے کے دعوے کی صداقت کو بھی حقائق سے مطابقت پیدا کرنی ہوگی، صرف یہ کہہ دینا کنفیوژن کو گمبھیر کرنے کے مترادف ہوگا کہ لوگ جب تک ٹیکس نہیں دیں گے ملک ترقی نہیں کرسکتا، اقتصادی ماہرین کا سوال یہ ہے کہ پھر شرح سود میں اضافہ سے مہنگائی کہاں کم ہوگی، عوام کی جیب میں کہاں سے پیسہ آئے گا، حکومت اگر ”پیسہ نہیں ہے” کی گردان جاری رکھے گی تو مالیاتی ادارے چھری تیزکرتے رہیں گے، حکومت کو عوام پر ٹیکس لگانے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے جب کہ عوام مزید ٹیکس کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرکوئی ملک گیس، بجلی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پرکنٹرول میں کامیاب نہیں ہوگا تو مہنگائی کا جن ملکی معیشت کو آیندہ کسی بھی وقت اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، یہی صورتحال افغانستان میں پیش آنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے، ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے ایک سو دن کے بعد بھی افغان عوام کو موسمیاتی شدائد اور بھوک، کے مصائب کا سامنا ہے اور سردی کی شدت مزید بڑھ جانے سے افغان عوام کے مسائل ناقابل یقین حد تک بڑھ سکتے ہیں۔ افغان امورکے ایک ماہر نے اپنے رپورٹ میں اندیشے کا اظہارکیا ہے کہ امریکی پابندیوں اور افغانستان کے نو ارب ڈالرکوکلیئر کرانے میں طالبان کو جو مشکلات درپیش ہیں، وہ ان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے سے زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں، افغانستان کسی بھی وقت انسانی المیہ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ پاکستان کو انسانی المیہ اور بحران کی کیمسٹری کو سمجھنے میں دیر نہیں لگانی چاہیے۔ مہنگائی اور غربت کسی بھی انسانی سسٹم کو متاثرکرسکتے ہیں، پاکستان کو اپنے معاشی مسائل، معیشت کو درپیش داخلی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے افغانستان میں ریاستی سسٹم اور انسانی صورتحال میں عالمی برادری کی طرف سے فوری اقدامات کی ضرورت کا جلد ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔ خطے کی صورتحال معیشت، سیاست اور اقتدار کو لاحق خطرہ کی گھنٹی کے مترادف ہیں، افغانستان سے عالمی کمٹ منٹس پر عمل درآمد میں تاخیر سے انسانی سانحہ رونما ہونے پر خطے میں خطرات کو سنگین بنا دے گا۔افغانستان میں بھوک اور موسمیاتی مصائب کے حوالے سے دنیا جس پینڈورا باکس کے کھلنے پر برہم اور پریشان ہے۔ اس میں انسانی بحران کا معاملہ زیادہ سنگین ہونے کا اندیشہ ہے، اس بات کی پاکستان پہلے ہی نشاندہی کرچکا تھا، انسانی مسائل اور سردی کی شدت کے بارے میں افغان سیٹ اپ کی کمزوریوں پر دنیا کے ممالک کو امکانی خطرات کا ادراک کرنا چاہیے تھا، عالمی رپورٹوں میں یہ کہا گیا تھا کہ موجودہ صورتحال میں افغانستان میں غذائی ضروریات کا صرف پانچ فیصد انسانی ضرورت کے تحت موجود ہے جب کہ بعض علاقوں میں جن میں بامیان وادی بھی شامل ہے غذائی ضروریات کی تکمیل بے حد ضروری ہے۔ورنہ ڈیزاسٹر کی صورتحال سنگین تر ہوسکتی ہے۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق کچھ علاقوں میں خوراک پہنچنی شروع ہوگئی ہے لیکن وہ ناکافی ہے، عوام کی تکالیف بڑھ رہی ہیں، افغان حکومت کے بارے میں بھی یہ شکایات بڑھ رہی ہیں کہ کچھ علاقوں میں امداد کی رسد ناکافی ہے جب کہ بعض علاقوں میں امریکا بھی اس کوشش میں ہے کہ امداد نہ پہنچے، امریکیوں کو خطرہ یہ ہے کہ طالبان کو اگر ضروری امداد مل گئی تو ان کی سخت گیر پالیسیوں پر قدغن لگانے کے اقدامات کو نتیجہ نہیں نگلے گا۔ان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور خواتین اور بچوں کے اسکول اور تعلیمی اقدامات میں مغرب کے احکامات کی کوئی وقعت باقی نہیں رہے گی، طالبان اپنے سابقہ ایجنڈے کے تحت سماجی اور تعلیمی پالیسیوں کو جبراً جاری رکھیں گے، اطلاع یہ بھی ہے کہ سیٹ اپ کو چلانے کے لیے دنیا بریک تھرو کے لیے بھی طالبان سے رعایت مانگتی ہے، جب کہ طالبان کی ضد اور ایجنڈے پر نظر ثانی کا امکان بھی نظر نہیں آتا، دوسری طرف مغربی، یورپی ممالک اور یورپی یونین کو طالبان سے اپنے سسٹم کو انکلوسیوبنانے پر نظریں مرکوز کیے ہوئے ہے ۔ان سے طالبان کو توقع ہے کہ وہ لازم و ملزوم نظام اقتدار کی مقبولیت کو یقینی بنائیں، ریاست میں سبھی لوگ نظام حکومت وریاست میں شریک ہوں، ان کے حقوق، سہولتیں اور عورتوں کو آزادی کے ساتھ تعلیمی، تفریحی اور ذرایع ابلاغ کی آزادی حاصل ہو، لیکن طالبان اسلامی شرعی نظام میں کسی قسم کی رعایت دینے پر تیار نہیں ہوں گے، افغانستان کا بنیادی مسئلہ اقتدار میں عوام کی شرکت ایک اہم نکتہ ہے۔امریکا طالبان سے اپنے معاملات میں کسی قسم کی کوئی سہولت اس وقت تک نہیں دے گا جب تک کہ اسے یقین نہ ہو کہ افغانستان انسانی حقوق اور خواتین کی آزادی اور بچوں کی تعلیم کے معاملے میں عالمی چارٹر اور انسانی حقوق کے بارے میں دیگر ممالک کے ساتھ چلنے پر طالبان تیار ہوںگے تب ہی امریکا سے کوئی رعایت لی جاسکے گی۔لیکن اس وقت بنیادی ضرورت انسانی صورتحال کی بہتری کے منظر نامہ کی اصلاح ہے، خطرات بڑھتے جارہے ہیں، انسانی سانحہ پر دنیا کی توجہ مبذول کرائی جارہی ہے لیکن صورتحال میں کوئی واضح تبدیلی دیکھنے میں نظر نہیں آرہی، افغان سیٹ اپ مالی اعتبار سے سقوط کے قریب پہنچ چکا ہے، عالمی پابندیوں کے باعث آئی ایم ایف تک اس کی رسائی ممکن نہیں، لہٰذا ورلڈ بینک اور دیگر ایجنسیوں سے امداد ملنے اور کاروبار جاری رکھنے کا بھی معاملہ بھی ٹھپ ہے، اس لیے دنیا کو افغانستان کے معاملہ پر ایک بڑے اقدام کا فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ پاکستان نے جس انسانی سانحہ کے رونما ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے وہ کسی بھی وقت رونما ہوسکتا ہے۔ اور اگر یہ سانحہ رُونما ہوتا ہے تو پاکستان پر اس کے نہائت منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دُنیا افغانستان کے معاشی حالات درست کرنے کیلئے اپنا کردار فوری ادا کرے ۔ بصورتِ دیگر افغانستان کو تباہی سے بچانا دشورا تر ہو جائیگا۔ مقتدر افغان طالبان کو بھی اپنے رویوں اور پولیسیوں میں نرمی پیدا کرنا ہوگی ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »