Latest news

دل اُس کے وعدئہ فردا پہ شاد کتنا ہے !!

کون سا پاکستانی شہری یہ نہیں چاہے گا کہ اُس کا ملک اور اُس کے ملک کا منتخب حکمران دُنیا بھر میں ہراول دستے کا کردار ادا نہ کرے ؟ اگر پاکستان میں پارلیمانی نظامِ حکومت رائج ہے تو ہر پاکستانی کی یہی فطری خواہش ہو گی کہ وطنِ عزیز کا ہر وزیر اعظم قوموں کی دُنیا میں رہبری اور رہنمائی کرتا نظر آئے ۔ پاکستان ویسے بھی اللہ کے فضل و کرم سے عالمِ اسلام کی پہلی اور اکلوتی ایٹمی طاقت ہے ؛ چنانچہ خاص طور پر اسلامی ممالک میں اس لحاظ سے پاکستان کی منفرد توقیر اور عزت پائی جاتی ہے ۔ پاکستان کا جوہری طاقت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ساری اسلامی دُنیا کا مشترکہ اثاثہ ہے ۔ اس پس منظر میں اگر کوئی اسلامی ملک پاکستان کی ، کسی بھی شعبہ حیات میں، مدد کا خواہاں ہوتا ہے تو یہ خواہش اتنی بے جا اور غیر حقیقی بھی نہیں ہے ۔ہم مگر اس بنیادی تلخ حقیقت سے پوری طرح آگاہ اور آشنا ہیں کہ پاکستان معاشی اعتبار سے بہت کمزور ہے ۔ اس کے ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور یہاں سیاسی ابتری نے بے یقینی کی کیفیات پیدا کررکھی ہیں ۔ اگر کوئی برادری اور قبیلہ معاشی اور اقتصادی لحاظ سے کمزور اور نحیف ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے کسی بھائی ، برادری اور قبیلے کی کوئی مدد یا اعانت نہیں کر سکے گا۔ یہ کائنات کا ازلی اصول ہے ۔ ہاں ، یہ کمزور قبیلہ یا برادری محض اصولوں کی بنیاد پر اپنی کسی برادری یا قبیلے کی زبانی مدد کر سکتا ہے ۔ ملکوں اور قوموں کو بھی اِسی معیار اور پیمانے پر تولنا چاہئے کہ یہی زمینی حقیقت ہے ۔ اگر پاکستان معاشی میدانوں میں کمزور اور غیروں کا محتاج و دستِ نگر ہے تو وہ بھلا کیسے اور کیونکر اپنے کسی ہم مذہب بھائی ملک کو کسی بڑے بحران سے نکال سکتا ہے ؟ اگر ہم حقیقت شناس اور اپنی اوقات سے بخوبی آگاہ ہیں تو ہم کسی کی دستگیری کیسے اور کیونکر کر سکتے ہیں کہ ہم تو بوجوہ خود دوسروں کی طرف سے مالی دستگیری کی آس اور اُمید لگائے بیٹھے ہیں ۔بھوکا کسی تونگر اور طاقتور کی کیا مدد کر سکتا ہے ؟ پاکستان کے حکمرانوں کی بھاگ دوڑ کو بھی اسی پیمانے پر پرکھا جانا چاہئے ۔ ہمارا میڈیا پچھلا سارا ہفتہ وزیر اعظم عمران خان کے دو غیر ملکی دَوروں کی بازگشت سے گونجتے رہاہے ۔ یہ بازگشت اب بھی جاری ہے اور کئی دلوں کو لبھانے کا باعث بھی بن رہی ہے ۔ عمران خان صاحب نے ہنگامی بنیادوں پر ایران اور سعودی عرب کے دَورے کئے ہیں ۔ پہلے وہ ایران گئے اور پھر سعودی عرب ۔ بتایا گیا ہے کہ ان دَوروں کا واحد مقصدِ وحید یہ تھا کہ وہ اپنی نجی حیثیت میں ایران ، سعودی عرب مناقشہ ختم کروانا چاہتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب میں ممکنہ تصادم یا جنگ ٹل جائے ۔ خان صاحب سے منسوب یہ بیانات بھی سامنے آئے ہیں کہ امریکی صدر ،ڈونلڈ ٹرمپ، نے ستمبر میں اُن کے دَورئہ امریکہ کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ ایران اور سعودی عرب میں ثالثی یا مفاہمت کروائیں ۔ اس بات کی مگر امریکی سرکار کی طرف سے ہنوز کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ واقعی امریکی صدر نے ہمارے وزیر اعظم عمران خان سے اس قسم کی کسی خواہش کا اظہار کیا تھا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ایسی کوئی بات واقعیت میں موجود ہے تو یہ پاکستان اور پاکستان کے ہر شہری کیلئے باعثِ فخر ہے ۔ عمران خان کی ایرانی صدر جناب حسن روحانی اور ایرانی سپریم لیڈر جناب آئیت اللہ خامنہ ای سے ملاقاتیں کرتے تصویریں بھی میڈیا میں دکھائی گئی ہیں ۔ ان خوشگوار مناظر میںوہ سعودی فرمانروا جناب شاہ سلمان اور اُن کے صاحبزادے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقاتیں کرتے بھی دکھائی دئیے ہیں ۔ ہر پاکستانی کے لبوں پر ایک ہی سوال ہے : ان ملاقاتوں کے مگر نتائج کیا نکلے ہیں ؟ اور یہ کہ عمران خان مبینہ طور پر دونوں مذکورہ اسلامی ممالک میں ثالثی کروانے میں مصروف تو نظر آ رہے ہیں لیکن وہ مقبوضہ کشمیر میں جان لیوا کرفیو ختم کروانے کیلئے دُنیا کے کسی ایک ملک کا دَورہ کرتے یا کشمیر کے حق میں لابنگ کرتے نظر نہیں آ رہے ۔ کیوں ؟ حالانکہ پاکستان کے مفادات کا تقاضا تو یہی ہے کہ وہ سب سے پہلے اس جانب توجہ مبذول فرماتے کہ اب تو مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کو 10ہفتے گزر چکے ہیں ۔عام پاکستانی کے لبوں پر بھی یہی سوال ہے کہ خانصاحب سعودیوں اور ایرانیوں میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش تو کررہے ہیں لیکن وہ اور اُن کی حکومت مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال سے غفلت برتتی نظر آ رہی ہے ۔ آزاد کشمیر کے سینکڑوں لوگ بھی گروہ در گروہ چکوٹھی کے راستے ایل او سی عبور کرنے کیلئے دھرنا دے چکے ہیں ۔ ان میں سے کچھ نے مبینہ طور پر وہاں بھوک ہڑتال بھی کررکھی ہے ۔ ان لوگوں کا داعیہ ہے کہ وہ اپنے کشمیری بھائیوں کی مظلومیت سے لاتعلق نہیں رہ سکتے ، اسلئے ایل او سی عبور کرکے سرینگر جانا چاہتے ہیں ۔ آزاد کشمیر حکومت اور پولیس مگر اُن کی راہ روکے ہُوئے ہیں ۔ عمران خان بھی ناراض ہیں کہ یہ لوگ جتھوں کی شکل میں کیوں ایل او سی پار کرنا چاہتے ہیں ، ایسا کریں گے تو کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا ۔ ایک عجب طرح کی کشاکش شروع ہو چکی ہے ۔ لیکن ان سب باتوں سے لاپرواہی اختیار کرتے ہُوئے ہمارے وزیر اعظم صاحب دو ممالک کے درمیان ثالثی کروانے میں مگن ہیں ۔ ہمارا تو اندازہ ہے کہ یہ ثالثی کی کوششیں بار آور نہیں ہوں گی ۔ وجہ ؟ اگر ایران اور سعودی عرب امریکہ ایسے طاقتور ملک اور صدر کی بات نہیں مان رہے اور مسلسل ایک دوسرے پر الفاظ کے شعلے گرا کر ماحول کو گرم بنا رہے ہیں تو ایسے ماحول میں بھلا پاکستان ایسے کمزور اور محتاج ملک کے وزیر اعظم کی کون مانے گا؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے منہ میاں مٹھو بنتے ہُوئے کہہ رہے ہیں کہ ” وزیر اعظم عمران خان کے ثالثی دَوروں کی وجہ سے ایران اور سعودی عرب میں جنگ کے بادل چھٹتے جا رہے ہیں” حالانکہ حقائق اس بیان کے بالکل برعکس ہیں ۔ تاریخ اور تجربہ تو یہ بتاتا ہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان کا کوئی حکمران عرب ممالک میں ثالثی اور صلح کروانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکا تھا ۔ مثال کے طور پر انقلابِ ایران کے بعد ایک عشرہ تک عراق ، ایران جنگ جاری رہی جس نے دونوں ممالک کے عوام اور معیشت کو سخت نقصان پہنچایا ۔ اُس وقت جنرل ضیاء الحق پاکستان پر مسلط تھے ۔ اُنہوں نے بھی عراق اور ایران میں ثالثی اور صلح کروانے کی اپنی سی کوشش کی تھی لیکن ناکام ہُوئے تھے ۔ پھر جب عراق اور کویت میں جنگ چھڑی تو جناب نواز شریف پاکستان کے حکمران تھے ۔ اُنہوں نے بھی کویت اور عراق کے درمیان ثالثی کروانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہو سکے تھے ۔ اس تاریخ کے پس منظر میں کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان صاحب کی موجودہ کوشش ایک کارِ بیکار کے مصداق ہے ۔ محض وقت کا ضیاع۔ امیرِ جماعتِ اسلامی ، سراج الحق بھی کہتے ہیں کہ ”سعودی عرب اور ایران میں صلح کی کوششیں اچھی بات ہے لیکن جب اپنے گھر کو آگ لگی ہو تو پہلے اُسے بجھانے کی طرف توجہ دی جاتی ہے ۔”سراج الحق کا یہ بیان عین حکمت ہے ۔پاکستانی عوام بیک زبان کہہ رہے ہیں کہ ملک کے معاشی حالات روز بروز خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں ۔ ملازمتیں کم ہو رہی ہیں ۔ صنعت سکڑ رہی ہے ۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کا دور دُور تک نام و نشان نہیں مل رہا ۔ جبکہ عمران خان اور اُن کے حواریوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے بار بار اس وعدے کا ڈھول پیٹا تھا کہ اقتدار میں آتے ہی عوام میں ایک کروڑ نوکریاں دیں گے اور پچاس لاکھ مکانات تعمیر کرکے غریب اور مستحق لوگوں کے حوالے کریں گے ۔ پی ٹی آئی کو اقتدار میں آئے تقریباً ڈیڑھ سال ہونے کو ہے مگر ایک بھی وعدہ ابھی تک وفا اور ایفا نہیں ہو سکا ہے ۔ اور جب عمران خان اور اُن کے وزیروں مشیروں کو یہ وعدے یاد دلائے جاتے ہیں تو وہ سب اس یاددہانی پر سیخ پا ہو جاتے ہیں ۔ وزیر اعظم صاحب نے تو تنک کر عوام کو ”بے صبرے” بھی کہہ ڈالا ہے لیکن عوام بیچارگی میں یہ توہین آمیز الفاظ برداشت کر گئے ہیں ۔ حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ حکومت اب بھی جھوٹے وعدے کرنے سے باز نہیں آ رہی ۔ ایسے میں عوام بیچارگی میں مرتضیٰ برلاس صاحب کے اس شعر کی عملی تصویر بنتے نظر آرہے ہیں:
یہ جانتا ہے کہ وعدہ شکن ہے وہ، پھر بھی
دل اُس کے وعدئہ فردا پہ شاد کتنا ہے!!
حقیقی بات یہ ہے کہ عوام حکومتی وعدوں کے ڈسے ہُوئے ہیں ۔ یوں معاشی بدحالی کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ لوگوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے ۔ اور یہ مایوسی عوامی غصے میں بدل رہی ہے ۔ حکومت کیلئے یہ مناسب عنوانات نہیں ہیں ۔ ہم تو حکومت ، پی ٹی آئی اور عمران خان کے ہمیشہ سے حامی اور مددگار رہے ہیں ۔ میرے والد صاحب ، رحمت علی رازی مرحوم، نے ہر قسم کے سودو زیاں کی پروا کئے بغیر نواز شریف کی مخالفت کی اور عمران خان کو خوش آمدید کہا ۔ اس راستے میں اُنہیں بہت سے بھاری نقصانات بھی مسلسل اُٹھانے پڑے ۔ نواز حکومت نے اسی بنیاد پر انتقام میں آ کر ہمارے ادارے کے اشتہارات روک کر ہمیں مالی طور پر شدید نقصان پہنچانے کی قابلِ مذمت کوششیں بھی کیں ۔ ہم نے یہ نقصانات برداشت کر لئے لیکن عمران خان اور پی ٹی آئی کی حمائت سے ہاتھ نہیں کھینچا ۔ زندگی کے آخری لمحات تک میرے والد صاحب مرحوم و مغفور، رحمت علی رازی ،جناب عمران خان کے کٹر حامی رہے ۔ اُن کی وزیر اعظم عمران خان سے متعدد بار ملاقاتیں بھی ہُوئیں ۔ ہر ملاقات میں اُنہوں نے وزیر اعظم کے سبھی اقدامات کی تعریف و تحسین کی ۔ لیکن یہ حمائت کب تک برقرار رہ سکتی ہے ؟ ہم اخبار نویسوں نے عوام کو بھی منہ دکھانا ہوتا ہے ۔ ہم یکطرفہ حمائت کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ اگر حکومت کے اقدامات اور فیصلوں کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے متنوع طوفان اُمنڈ رہے ہوں تو حکومت کے معاشی اقدامات کی آنکھیں بند کرکے حمائت اور تعریف کیسے کی جا سکتی ہے ؟ اور ہماری قومی معیشت کا حال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ ”پاکستان میں رواں مالی سال کے دوران مزید بے روزگاری بڑھے گی۔” اسٹیٹ بینک آف پاکستان اعتراف کررہا ہے کہ مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا ۔ ملک میں کاریں بنانے والے کئی کارخانے اپنی پیداوارمیں بہت حد تک کمیاں کر چکے ہیں ۔ گاڑیوں کے شو روموں کے مالکان ہڑتالیں کررہے ہیں کہ ایف بی آر کی وجہ سے ٹیکسز اتنے بڑھ گئے ہیں کہ لوگوں نے کاریں خریدنا بند کر دی ہیں ۔ ان سختیوں کے باوجود خود ایف بی آر اپنے اعلانات کے مطابق ٹیکسز اکٹھے کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد بھی اعتراف کرتے نظر آ رہے ہیں کہ ” ملک میں خام مال کی درآمدات میں کمی ہو چکی ہے اور اس وجہ سے صنعتی پیداوار میں کمی آ رہی ہے ۔” مایوسی کی لہروں نے وطنِ عزیز کے ہر خاص و عام کو منفی طور پر متاثر کیا ہے ۔ اسلام آباد میں تاجروں کی طاقتور تنظیم نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 29اکتوبر کو ملک گیر دو روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کررہے ہیں ۔ دوسری طرف کئی عالمی سرمایہ کار ( مثال کے طور پر ایپل کمپنی) پاکستان کی بجائے بھارت میں سرمایہ کاری کررہے ہیں ۔ اور پی ٹی آئی کی حکومت میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے قانونی پیچیدگیاں اسقدر بڑھا دی گئی ہیں کہ مصدقہ خبر ہے کہ وہ اوورسیز پاکستانی جو پاکستان میں انویسٹمنٹ کرنا چاہتے تھے ، نئے حالات اور مذکورہ پیچیدگیوں کی موجودگی میں وہ بھی ہاتھ کھڑے کر گئے ہیں ۔ اس مایوسی میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے یہ کہہ کر مزید مایوسیاں پیدا کر دی ہیں کہ ” ہم عوام کو نوکریاں نہیں دے سکتے ” اور یہ کہ ” ہماری حکومت ملک کے 400سرکاری محکمے بند کررہی ہے ۔” اس بیان سے عوام میں ایک عجب طرح کی کھلبلی اور مایوسی پھیلی ہے ۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ وفاقی وزیر فواد چودھری نے یہ بیان دے کر دراصل یہ ثابت کیا ہے :ہُوئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو ؟ تقریباً ہر پاکستانی ذمہ دار اور سیاستدان نے فواد چودھری کے اس بیان کی مذمت کی ہے ۔ شنید ہے کہ 16اکتوبر کو بنی گالہ میں ہونے والے ایک بھرپور کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم نے بھی فواد چودھری کے اس بیان پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ اور جب ہر طرف سے دباؤ بڑھا اور مذمتیں کی گئیں تو فواد چودھری اپنے بیان سے مکر گئے اور کہا:” میڈیا نے میرا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے ۔” اپنے ہی بیان سے مکر جانا سیستدانوں کی پرانی عادت ہے۔ انتظامی سطح پر بھی عوام کیلئے کسی طرف سے کوئی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہیں آ رہا ۔ اس کا اندازہ کے پی کے اور پنجاب میں ڈاکٹروں کی( نئے سرکاری انتظام کے خلاف) مسلسل ہڑتالوں سے لگایا جا سکتا ہے ۔ ان ہڑتالوں کی وجہ سے غریب عوام رُل گئے ہیں ۔ اوپی ڈیز اور آپریشن تھیٹر بند کر دئیے گئے ہیں ۔ مریضوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے ۔ لیکن مذکورہ دونوں صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومت ہونے کے باوجود معاملات نہ تو سنوارے جا رہے ہیں اور نہ ہی سنبھالنے کی کوئی سبیل نکالی جا رہی ہے ۔ یوں لگتا ہے دونوں صوبائی حکومتیں ڈاکٹروں کی ہڑتالوں اور عوام کے مصائب سے بالکل لا تعلق ہو کر الگ تھلگ بیٹھ گئی ہے کہ آخر تھک ہار کر ڈاکٹرصاحبان خود ہی ہڑتالیں ختم کر دیں گے ۔ بھلا یہ حکومت کاری ہے جس میں سرکاری اقدامات صفر ہو جائیں ؟لائف سیونگ ڈرگز میں ایک بار پھر سات گنا اضافہ کرکے غریب اور مریض عوام کا بھرکس نکال دیا ہے ۔ ابھی چند ہفتے پہلے بھی ان ادویات کی قیمتوں میں 300فیصد اضافہ کیا گیا تھا ۔ عوام تو کرلا اُٹھے تھے۔ پنجاب میں کینسر کے غریب مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں سے مفت یا سستے ریٹس پر ادویات کی فراہمی بھی بند کی جا چکی ہے۔ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا سرکاری ہسپتالوں میں داخل مریضوں اور اُن کے لواحقین سے رویہ خاصا توہین آمیز ہے ۔ڈینگی کا جان لیوا مرض بھی پنجاب حکومت سے کنٹرول نہیں ہو رہا ۔ لاہور اور راولپنڈی میں اب تک تین درجن سے زائد ڈینگی زدہ مریض اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں ۔ایسے میں سرکارکی طرف سے عوام کیلئے زبردستی سڑکیں بند کرکے برطانوی شہزادے اور اُس کی اہلیہ کو خوش آمدید کہنے کے مناظر پسے ہُوئے پاکستانی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔ صد افسوس ہے کہ ایک طرف تو ملک میں عوام روٹی اور دوائی کو ترس رہے ہیں اور دوسری طرف برطانوی شاہی خاندان کے دو افراد کے سواگت اور ٹہل سیوا پر کروڑوں روپیہ قومی خزانے سے پانی کی طرح بہا دیا گیا ہے ۔ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں رہ گئی ہیں ؟ کیا حکمرانوں کو اللہ کا کوئی خوف یا اللہ کے سامنے جوابدہی کا کوئی ڈر نہیں ہے ؟ایسے میں مولانا فضل الرحمن کی جماعت اپنے سیاسی اتحادیوں کے ساتھ 27اکتوبر سے اسلام آباد پر یلغار کرتے ہُوئے دھرنا دینے کا پروگرام بنا رہی ہے ۔ جے یو آئی (ایف ) کے سربراہ نے اس یلغار کو تکنیکی زبان میں ”آزادی مارچ” سے موسوم کیا ہے ۔ اُن کا یک نکاتی ایجنڈا ہے : عمران خان کا استعفیٰ۔ پی ٹی آئی کی حکومت، جو پہلے اس یلغار بارے متکبرانہ لہجہ اپنائے ہُوئے تھی ، اب چار رکنی کمیٹی بنا کر مولانا صاحب سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے لیکن یہ سطور لکھتے تک مولانا فضل الرحمن حکومتی کمیٹی سے کوئی بھی ملاقات یا مذاکرات کرنے پر تیار نہیں ہے ۔ خانصاحب کی حکومت نے مولانا مذکور کے عزائم کو جس طرح غرور سے نظر انداز کیا تھا، اب اس کے نتائج بھگتنے کا وقت آیا چاہتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مملکتِ خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔ آمین۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.