کورونا وائرس ، وزیر اعظم کا قوم سے چوتھا خطاب اور چندے کی اپیل

مہلک اور لرزا دینے والا کورونا وائرس رینگتا ہُوا ملک بھر میں آگے نہیں بڑھ رہا بلکہ ایک تیز رفتار آندھی کی طرح پاکستان بھر میں بھی پھیلتا اور خوف کے سائے پھیلاتا چلا جا رہا ہے ۔ پچھلے ہفتے تو یہ اطلاعات تھیں کہ وطنِ عزیز کا صوبہ سندھ کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور کورونا متاثرین میں سب سے آ گے ہے ۔ لیکن اب صوبہ پنجاب نے سندھ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ تازہ ترین مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہمارے صوبہ پنجاب میں کورونا متاثرین کی تعداد 2ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ جو بدقسمت پاکستانی شہری اس وائرس کے حملے میں اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں ، اُن کی تعداد تقریباً تین درجن ہو چکی ہے ۔ کورونا وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے 14اپریل تک متنوع پابندیاں عائد کر دی ہیں ۔ ساتھ ہی وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے اپیل کی ہے کہ نئے قائم کئے جانے والے فنڈ میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالیں ۔ حیرانی کی بات مگر یہ ہے کہ وزیر اعظم نے خود اس فنڈ میں کوئی حصہ نہیں ڈالا ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ترک صدر طیب اردوان نے کورونا وائرس کے حوالے سے اپنے ملک میں نیا فنڈ قائم کیا ہے تو سب سے پہلے اپنی سات تنخواہیں اس فنڈ میں ڈال کر نئی مثال قائم کی ہے ۔ اُن کے وزرا نے بھی کروڑوں روپیہ اس فنڈ میں جمع کروایا ہے جبکہ ہمارے ہاں وزرا ابھی تک باتوں سے کام چلا رہے ہیں ۔ ہم تو مسلسل اللہ کریم سے دست بدعا ہیں کہ یا اللہ ، ہمیں کورونا وائرس کے اس اَن دیکھے عذاب سے فوری اور جلد از جلد نجات عطا فرما ۔ دُنیا بھر میں اس وائرس اور وبا نے خوف و ہراس اور مایوسی کے سائے لہرا دئیے ہیں ۔ کئی لوگ ڈپریشن میں خود کشی تک کر چکے ہیں ۔ مثلاً جرمنی کے ایک ریاستی وزیر خزانہ ۔ پنجاب کے مشہور شہر ، لیہ ، میں ایک مذہبی جماعت کے آدمی نے پولیس افسر پر چھری سے حملہ کرکے اُسے شدید زخمی کر دیا ہے ۔ بھارت میں ایک شخص نے اِسی مرض سے پیدا ہونے والے ڈپریشن کے کارن اپنے گھر والوں کا کاٹ کھایا ہے ۔ ماہرینِ نفسیات ساری دُنیا کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ کورونا وائرس کے تحت پیدا ہونے والے نفسیاتی امراض اور ڈپریشن سے کیسے محفوظ رہا جائے ۔ ان حالات میں پنجاب میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ وزیر اعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار کیلئے تشوتش کا باعث ہونا چاہئے ۔پورا پنجاب تقریباً قرنطینہ میں محبوس کیا جا چکا ہے ۔ ایک کرفیو کے نفاذ کی صورت ہے ۔ شہر بند ہیں اور شاہراہیں مسدود ۔ موٹروے بھی بند ہے ۔ شہریوں کے سماجی فاصلے (Social Distance) زبردستی بڑھا دئیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود پنجاب میں کورونا وائرس کے متاثرین میں مبینہ اضافہ عوام کیلئے پریشانی کا باعث بن رہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مگر اس بارے میں لب کشائی کیلئے تیار ہیں نہ قوم کے سامنے آنے پر تیار ۔ صرف وزیر اعظم صاحب بار بار قوم کے سامنے آ کر اپنا مدعا بیان فرما رہے ہیں ۔جب سے مہلک اور دہشت انگیز کورونا وائرس کی وبا ملک بھر میں پھیلنے کا آغاز ہُوا ہے ، وزیر اعظم جناب عمران خان اب تک قوم سے چار بار خطا ب کر چکے ہیں ۔ کبھی اخبار نویسوں اور اینکروں سے ملاقاتوں کے توسط سے اور کبھی قوم سے براہِ راست مکالمہ کرکے ۔ اچھی بات ہے کہ وہ بار بار قوم کو اپنے اعتماد میں لے رہے ہیں ۔ ان اقدامات سے شائد حکمرانوں اور قوم میں اعتبار اور ہم آہنگی کی فضا بھی پیدا ہو رہی ہو ۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ قوم نے اب تک عمران خان کے ان خطبات سے کیا سیکھا ہے اور کیا اثر لیا ہے اور یہ بھی کہ آیا قوم نے اُن کی باتوں پر عمل اور یقین بھی کیا ہے یا نہیں۔دو باتیں اب تک اُن کے سبھی خطبات سے کھل کر سامنے آئی ہیں : ایک تو یہ کہ پورے ملک کو لاک ڈاؤن کرنا ملک کے غریبوں کیلئے بھلائی نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ پاکستان ایک انتہائی غریب ملک ہے ، اسلئے اس بحران میں پوری طرح اپنے غریبوں کی مدد کرنے سے قاصر ہیں ۔اس سے پہلے بھی وہ پچھلے 19ماہ کی حکومت میں دُنیا کے ہر فورم پر پاکستان کی غربت اور پاکستان بھر میں پھیلی کرپشن کی داستانوں کا ذکر تواتر اور تسلسل سے کرتے رہے ہیں ۔ اس ذکر سے اُنہیں ، ملک اور قوم کو اب تک کیا حاصل ہُوا ہے ، یہ ایک ایسا بڑا سوال ہے جس کا جواب عمران خان اور اُن کے ساتھی حکمران دینے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ وہ ان اذکار سے اپنے سیاسی حریفوں کے منہ پر پوری کامیابی سے کالک ملنے اور اُنہیں رسوا کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے ہیں اور نہ ہی اپنے اعلانات کے مطابق ابھی تک اپنے مبینہ کرپٹ سیاسی حریفوں کی جیبوں سے ایک دھیلا بھی نکلوا سکے ہیں ۔ اوپر سے کورونا وائرس کے نئے جان لیوا بحران نے پی ٹی آئی حکومت کے اوسان خطا کررکھے ہیں ؛ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنے حواس پر قابو پائے رکھنے کا شو قائم کرنے کیلئے وزیر اعظم پاکستان بار بار قوم کے رُوبرو آ رہے ہیں ۔ 30مارچ2020ء کی شام وہ ایک بار پھر قوم کے سامنے 22منٹ کیلئے خطاب کرتے ہُوئے پیش ہُوئے ۔ اس تقریر میں وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے خلاف اقدامات کو مزید موثر بنانے، کورونا وائرس کے متاثرین کی امداد کرنے ، نئے فنڈ کے قیام ، ٹائیگر فورس بنانے ، ریلیف فنڈ قائم کرنے کا اعلان،اپنے مالی وسائل کا پھر سے رونا رونے ، اہلِ ثروت کی طرف سے اعانت کیلئے ہاتھ آگے بڑھانے کی اپیل کرنے اور اللہ پر بھروسہ رکھنے کے اعلانات کرتے ہُوئے کہا:” ہمارے پاس وسائل نہیں مگر ایمان کی طاقت اور نوجوان آبادی ہے’ان دو چیزوں کے ذریعے ہم کورونا وائرس کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اس کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں۔نوجوانوں پرمشتمل ٹائیگر فورس فوج اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی’بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بغیر سوچے سمجھے پورے ملک کو لاک ڈاؤن کرنے پرقوم سے معافی مانگنا پڑی’جو کاروباری ادارہ مزدوروں کو بے روزگار نہیں کرے گا، اسے سستے قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ذخیرہ اندوزوں کو عبرتناک سزائیں دلوا ئیں گے’ملک میں پانچ سے سات دن تک کورونا کی صورتحال واضح ہو جائے گی، ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہم نے یہ جنگ حکمت سے لڑنی ہے’ اگر ملک کو مکمل لاک ڈاؤ ن کریں تو بہت بڑی آبادی متاثر ہو گی’اگر ہم لاک ڈاؤن کرتے ہیں اوروہاں کھانا نہیں پہنچاسکتے تولاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہو گا’ ہمارے حالات بھی چین کی طرح ہوتے تو تمام شہروں کو مکمل بند کر دیتا۔ریلیف فنڈ میں جمع کرائی گئی رقم کا ذریعہ نہیں پوچھا جائے گاجبکہ اس رقم پر ٹیکس ریلیف بھی ملے گا۔” جناب عمران خان نے کورونا وائرس کی شدت اور متاثرین کا ذکر کرتے ہُوئے کہا:” یہ وائرس صرف بوڑھوں اور بیمار لوگوں کے لئے خطرہ ہے’باقی لوگ خود کوقرنطینہ کرلیںتو ٹھیک ہو سکتے ہیں’یہ ایک ایسی بیماری ہے جو غریب اور امیر میں فرق نہیں کرتی۔ہمارے لئے دو چیزیں تقویت کا باعث ہیں جن میں سب سے بڑی ایمان کی طاقت ہے’دوسراہماری نوجوان آبادی دنیا کے کسی بھی ملک کی دوسری بڑی آبادی ہے، ان دو چیزوں کے ذریعے ہم کورونا کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں۔کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال میں امداد کے لئے کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کا اعلان کرتے ہیں، یہ فورس فوج اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی، ٹائیگر فورس لاک ڈاؤن والے علاقوں میں اشیائے خورد و نوش اور بنیادی ضروری اشیاء پہنچائے گی۔ٹائیگر فورس میں کوئی بھی نوجوان شامل ہو سکتا ہے، یہ لوگوں میں کورنا وائرس سے متعلق شعور بیدار کریں گے’ نوجوان ڈاکٹر، نرسز، طلبائ، انجینئرز، ڈرائیور اور مکینک بھی اس فورس کا حصہ بن سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہم انہیں بتائیں گے کہ کس طرح کام کرنا ہے۔ ملک میں اناج کی کوئی کمی نہیں، احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کو 12، 12 ہزار روپے فراہم کئے جائیں گے اور ان میں اضافہ بھی کیا جائے گا اور اس فنڈ کے ذریعے بھی ان کے لئے رقوم فراہم کی جائیں گی، فنڈ کا باقاعدہ آڈٹ ہو گا اور کوئی بھی اس کے بارے میں معلومات حاصل کر سکے گا۔”وزیر اعظم صاحب کے اس خطاب کے کئی حصوں کا تجزیہ کئے جانے کی ضرورت ہے ۔خاص طور پر اُن کی اس بات کا تجزیہ کہ وہ جب بھارتی وزیر اعظم کی معافی کا ذکر کرتے ہیں تو دراصل وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اُنہوں نے پاکستان میں ابھی تک مکمل لاک ڈاؤن نہ کرکے بہترین قدم اٹھایا ہے اور یہ کہ اُن کے اس اعلان میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں ۔ ممکن ہے وزیر اعظم کی یہ بات بہت سے لوگوں کے نزدیک درست ہی ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ پورے ملک میں اُن کی طرف سے لاک ڈاؤن نہ کئے جانے کے باوجود کئی اہم شہر لاک ڈاؤن کا نظارہ پیش کررہے ہیں ۔ لوگوں کو متعدد اور متنوع مشکلات کا سامنا ہے ۔ وزیر اعظم صاحب یہ تسلیم کریں یا نہ کریں ۔ وہ اپنے وعدوں کے باوجود ملک میں مہنگائی ختم کر سکے ہیں نہ اشیائے خورونوش کو بلیک میں فروخت ہونے سے روک پائے ہیں ۔ ملک بھر میں فیس ماسک کی نایابی ختم ہُوئی ہے نہ جراثیم کس سینیاٹائزرز دستیاب ہیں ۔ حالانکہ پچھلے ہفتے جب وہ چند اخبار نویسوں کے توسط سے قوم سے مخاطب تھے تو این ڈی ایم اے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے اُن کی موجودگی میں قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ملک بھر میں سینیٹائزرز بھی فراہم کر دئیے جائیں گے اور فیس ماسک کی کمی بھی نہیں رہے گی ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس اعلان سے ایفا نہیں ہو سکا ہے ۔ وہ تو خدا بھلا کرے چین کا کہ اِنہی ایام میں چین نے تین جہاز انہی اشیا سے بھر کر پاکستان بھیجے ہیں ۔ حیرانی کی بات ہمیں یہ ہے کہ جو ایٹمی ملک وبا اور بحران کے ان ایام میں اپنے شہریوں کو مطلوبہ مقدار میں فیس ماسک اور سینیٹائزرز فراہم کرنے سے قاصر ہے ، وہ دوسری سہولتیں قوم و ملک کو کیسے اور کیونکر فراہم کر سکتا ہے؟ یہ المیہ ہے اور اس المئے کے نظارے ہم ہر روز دیکھ رہے ہیں ۔ جو تاجر اور دکاندار مہنگے داموں سینیٹائزرز اور فیس ماسک فروخت کررہے ہیں ، اُن کے خلاف ابھی تک آن دی ریکارڈ کوئی کارروائی بھی نہیں کی گئی ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو شائد تاجروں کی کالی بھیڑوں کو کچھ تو عبرت ہوتی ۔وزیر اعظم صاحب اپنے اس خطاب میں جب یہ کہتے ہیں کہ ” ہم اپنے قائم کئے گئے فنڈ کا آڈٹ بھی کریں گے اور کوئی بھی اس بارے میں معلومات حاصل کر سکے گا” تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے عوام کو حکومتوں اور حکمرانوں کے قائم کئے گئے فنڈز پر یقین نہیں رہا ۔ حکمرانوں نے عوام کے یقین اور ایمان کو ماضی قریب میں بُری طرح اور بار بار دھچکا پہنچایاہے ۔ مثال کے طور پر ”قرض اتارو، ملک سنوارو” اور ” ڈیم بناؤ” فنڈز کو جس طرح بلڈوز کیا گیا اور آج تک ان کے بارے میں قوم کو بتایا ہی نہیں گیا کہ ان فنڈز میں دئیے گئے عوام کے اربوں روپے کہاں لگائے گئے ، کہاں غتر بود ہو گئے ؟انہی تلخ تجربات کی روشنی میںاب لوگوں کو یقین نہیں رہا ہے کہ اب عمران خان کورونا وائرس کے متاثرین کی امداد کیلئے جو فنڈ قائم کرنے جارہے ہیں ، آیا اس کا حشر بھی ماضی میں قائم کئے گئے فنڈز ایسا تو نہیں ہوگا؟ دودھ کا جلا چھاچھ بھی تو پھونکیں مارکر پیتا ہے ۔ ویسے کورونا وائرس کی اس وبا میں ایک بار پھر قوم پر یہ منکشف ہُوا ہے کہ پچھلے سات عشروں میں ہمارے ہر حکمران نے صحت کے محکمہ کو شدت سے نظر انداز کرکے درحقیقت بڑے جرائم کا ارتکاب کیا ۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ حکمران اور ہمارا مراعات یافتہ ریاستی و سرکاری بالا دست طبقہ اپنے علاج معالجے کیلئے بیرونِ ملک بھاگتا رہا ہے ۔ ایسے میں اس طبقے کو بھلا اپنے عوام کی صحت کی طرف توجہ دینے اور ملکی ہسپتالوں کو بہتر بنانے کا خیال کیوں آتا ؟ اب اللہ تعالیٰ نے پاکستان کے اس ظالم حکمران اور مقتدر طبقے سے یوں انتقام لیا ہے کہ حالیہ جاری کورونا وائرس کی وبا میں یہ لوگ بیرونِ ملک بھی فرار نہیں ہو سکتے ۔
خصوصی نوٹ: بھاری اور غمزدہ دل کے ساتھ ہم یہ اعلان کررہے ہیں کہ پاکستان کے نامور اخبار نویس اور جنگ گروپ کے چیئرمین و پبلشر جناب میر جاوید رحمن ہم میں نہیں رہے ۔ وہ 31مارچ کو کراچی میں ہم سے ہمیشہ کیلئے بچھڑ گئے لیکن ملک و قوم کیلئے اُن کی عظیم الشان اور شاندار خدمات کبھی فراموش نہیں کی جا سکیں گی ۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم میر جاوید رحمن کی بخشش فرمائے، اُن کی دانستہ و نادانستہ خطاؤں کو معاف کرے اور اُنہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام سے سرفراز فرمائے ۔ آمین ۔مرحوم میر جاوید رحمن وطنِ عزیز کے بے مثل اخبار نویس میر خلیل الرحمن مرحوم ( بانی روزنامہ جنگ) کے صاحبزادے اور ایڈیٹر انچیف جنگ و جیو جناب میر شکیل الرحمن کے بڑے بھائی تھے ۔ مرحوم کی نگرانی میں جنگ و جیو نے بھی دن رات شاندار ترقی کے لاتعداد مراحل طے کئے اور ہفت روزہ ”اخبارِ جہاں” کو بھی چار چاند لگائے رکھے ۔ میر جاوید رحمن مرحوم کی زیر ادارت شائع ہونے والے ”اخبارِ جہاں” نے اپنے معیار اور اندازِ صحافت کو مسلسل آگے بڑھائے رکھا ۔ اس حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ میر جاوید رحمن مرحوم کا جدید ہفت روزہ صحافت میں کوئی ثانی نہیں رہا تھا۔ وہ سرطان کے جان لیوا مرض میں مبتلا تھے لیکن اُنہوں نے بڑے حوصلے اور بہادری سے اس بیماری کا مقابلہ کیا ۔ بلاشبہ اُن کی وفات نے ہماری قومی صحافت میں ایک نہ مٹنے والا خلا پیدا کر دیا ہے ۔ یہ اتنا بڑا خسارہ ہے کہ اُن کے انتقال پر پورے ملک سے زندگی کے ہر شعبے نے غم کا اظہار کیا ہے ۔ صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی اظہارِ افسوس کیا ہے اور چیف آف آرمی اسٹاف نے بھی ، تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے بھی اظہارِ تعزیت کیا ہے اور اخباری صنعت نے بھی ۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ میر شکیل الرحمن صاحب کو بھی اپنے پیارے بھائی کی رحلت پر صبر جمیل عطا فرمائے اور میر جاوید رحمن مرحوم کے اہلِ خانہ کو بھی یہ بڑا غم برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے ۔آمین


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.