Daily Taqat

کورونا ویکسین پر شرمناک سیاست، جہانگیر ترین کا واویلا اور ڈسکہ الیکشن

ملک بھر میں کووِڈ 19 المعروف کورونا وبا سے پھیلنے والے مرض کا شور مچا ہے ۔ بدقسمتی سے ہرروز ہی تقریباً چار پانچ درجن شہریوں کی وفات کی خبریں سنائی دیتی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خبریں دلوں کو ملول اور ذہنوں کو پریشان کر دیتی ہیں کہ کسی انسانی جان کا تلف ہونا کوئی معمولی سانحہ نہیں ہے ۔حکومت اس وبا کو روکنے اور محدود کرنے کیلئے اپنے پورے اور ممکنہ جتن کررہی ہے ۔ ملک بھر کے تمام صوبوں میں کئی جگہوں پر کئی تعلیمی ادارے بند بھی کر دئیے گئے ہیں ۔ اگرچہ اس اقدام سے طلبا کا بہت تعلیمی ہرج اور نقصان بھی ہورہا ہے ۔ کورونا وبا کی اس نئی لہر کی سب سے بڑی تشویش اور خطرناکی یہ ہے کہ کم عمر بچے بھی متاثر ہورہے ہیں ۔ شائد اسلئے بھی آٹھویں جماعت تک سکولز بند کر دئیے گئے ہیں تاکہ بچوں کو وبا سے محفوظ کیا جا سکے ۔ حکومت یہ بھی کوشش کرتی نظر آ رہی ہے کہ معمر شہریوں کو مفت کورونا ویکسین لگائی جائے ۔ اس کے لئے رجسٹریشن کا ایک باقاعدہ نظام بھی قائم کیا گیا ہے جس میں ایک ایپ پر معمر افراد اپنے شناختی کارڈز کے ذریعے اپنی رجسٹریشن آسانی کے ساتھ کروا سکتے ہیں ۔ حکومت نے اب یہ بھی اعلان کیا ہے کہ 60سال سے زیادہ عمر کے بزرگوں کو اُن کے گھروں میں مفت ویکسین لگائی جائے گی ۔ یہ فیصلہ اسلئے کیا گیا ہے تاکہ بزرگ افراد انتظار اور قطار کی کلفت سے بچ سکیں ۔حکومت کے ان اقدامات اور فیصلوں کی تعریف اور تحسین کی جانی چاہئے ۔ افسوس کی بات مگر یہ ہے کہ حکومت کے اندر ہی بعض مقتدر افراد کورونا ویکسین کے حوالے سے حکومتی اقدامات کو بلڈوز کرنے اور حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس کا تدارک از بس ضروری ہے ۔ لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال میں کورونا ویکسین کی سینکڑوں خوراکیں جس طرح غفلت سے ضائع کی گئی ہیں، اس کی مذمت کی جانی چاہئے ۔ حکومت پہلے ہی زیادہ تر دوست ممالک سے عطیات کی کورونا ویکسین حاصل کررہی ہے اور اوپر سے اس طرح ویکسین ضائع کرنا ایک بڑا مجرمانہ فعل ہے ۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ ابھی تک ذمہ دار شخصیات کے خلاف کوئی محکمانہ اور تادیبی کارروائی نہیں کی گئی ۔ کیا اس اقدام کو ملی بھگت کہا جائے ؟ ابھی چند دن پہلے وفاقی وزیر بشیر چیمہ کے خاندان کو بغیر کسی اصول اور باری کے محکمہ صحت کے کارپردازوں نے اُن کے گھر میں جا کر کورونا ویکسین کے شاٹ لگائے ۔ اس عمل کی بھی مذمت کی جانی چاہئے کہ یہ کردار وزیر کے لئے بھی شرمناک ہے اور محکمہ صحت کیلئے بھی ۔ کسی طرح سے یہ بے اعتدالی اور بے اصولی، ویڈیو کلپ کی شکل میں، میڈیا میں لِیک ہو گئی تو اس پر بے حد شور مچا ۔عوام حیران ہیں کہ اگر حکومتی وزرا ہی حکومتی پالیسیوں اور اصولوں کی دھجیاں اُڑانے پر تُل جائیں تو کسی عام آدمی کو کیا دوش دیا جا سکتا ہے ؟ ہم سمجھتے ہیں کہ مذکورہ وفاقی وزیر کو اس معاملے میں پوری قوم سے معافی مانگنی چاہئے تھی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جب اس وفاقی وزیر صاحب سے ایک نجی میڈیا کے اینکروں نے اس بے اصولی بارے استفسار کیا تو وہ بپھر گئے ۔ موصوف نے میڈیا کو جواب دینے کی بجائے نہائت بد تمیزی اور بیہودگی کا مظاہرہ کیا ۔ اس شرمناک روئیے کی مذمت کی جانی چاہئے اور وزیر اعظم جناب عمران خان کو بھی اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے تھا ۔ افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ ابھی تک وزیر اعظم صاحب بھی اس وزیر کی بے اصولی اور بد تہذیبی پر خاموش ہیں ۔ شائد اسلئے کہ یہ وزیر صاحب حکومت کی ایک اتحادی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اپنے اثرو رسوخ سے ، آؤٹ آف دی وے، جن لوگوں نے کورونا ویکسین لگوائی ہے ، ان میں ایک معروف اداکارہ اور ماڈل عفت عمر بھی شامل ہیں ۔ عفت عمر نے بھی کورونا ویکسین وفاقی وزیر بشیر چیمہ کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہی لگوائی ۔ وہ بھی پہلے تو اس معاملے سے انکاری ہی رہیں لیکن اب اُنہوں نے 8اپریل کو خود اس حوالے سے، بذریعہ ٹویٹ، قوم سے معافی مانگ لی ہے ۔ بات یہ ہے کہ اگر اثر ورسوخ والے پاکستانی سب سے پہلے کورونا ویکسین لگوا لیں گے تو اس ملک کے پسماندہ اور غریب طبقات کہاںجائیں گے ؟ اور اس بے اصولی اور ظلم کے خلاف کس سے فریاد کریں گے ؟ جبکہ اس حوالے سے وزیر اعظم بھی خود کو بے بس پا رہے ہوں۔ پاکستان میں نجی سطح پر کورونا ویکسین جس طرح مہنگے داموں فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے ، یہ بھی شرمناک حرکت ہے ۔ نجی سطح پر کورونا ویکسین بھارت میں تین چار سو رپے میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ پاکستان میں یہ نو سے دس ہزار روپے میں بیچی جا رہی ہے ۔ یہ کام حکومت کی ناک کے عین نیچے کیا جارہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ بعض اطراف سے الزام لگایا جارہا ہے کہ حکومت نے مہنگی کورونا ویکسین فروخت کرنے کی اجازت دے کر حکومت کے اندر ہی بیٹھے کچھ طاقتور افراد نے کروڑوں روپے اپنی جیبوں میں ڈال لئے ہیں ۔ یہ شرمناک منظر بھی اِسی ہفتے سوشل میڈیا پر دلوں کو تڑپاتا رہا جب سندھ میں ایک غریب ہاری نے کورونا ویکسین لگوانے کیلئے ہسپتال کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اُس بیچارے کو مقامی ہسپتال کی انتظامیہ نے پولیس منگوا کر تشدد کا نشانہ بنایا ۔ ہم سب اس ظلم کی مذمت کرتے ہیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ شرمناک اور قابلِ مذمت واقعہ جناب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے صوبے میں سامنے آیا ہے جو دن رات غریبوں کا نام لیتے نہیں تھکتے ۔ افسوس اُن کا قول اُن کے فعل سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ابھی تک سندھ حکومت نے اس افسوس ناک واقعہ کی انکوائری بھی نہیں کی ہے ۔پچھلے سال بھی کورونا کے حوالے سے حکومت کے کچھ ذمہ داران پر سنگین الزامات لگائے گئے تھے اور اب پھر الزامات کی دھول اُڑنا شروع ہو چکی ہے ۔ اس کا جلد از جلدتدارک کیا جانا چاہئے ۔لیکن حکومت کو شائد کورونا ویکسین کے حوالے سے اُٹھنے والے طوفانی الزامات سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے ۔ حکومت اپنے کچھ مفادات کے تحفظ میں آجکل چینی اسکینڈل میں اربوں روپے کی دیہاڑیاں لگانے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے درپے ہے ۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ ڈرامہ بھی کوئی نتیجہ نہیں نکال سکے گا اور مہنگی چینی کے نام پر غریب عوام کی جیبوں سے نکالے گئے اربوں روپوں میں سے ایک دھیلا بھی حکومت کو نہیں مل سکے گا۔ چینی کے اس اسکینڈل میں یوں تو تقریباً ملک بھر کے سات درجن شوگر مل مالکان ملوث ہیں لیکن میڈیا میں صرف جہانگیر ترین خان کا نام اچھالا جارہا ہے ۔ کیا یہ بھی کوئی سیاست ہے ؟ کیا حکومت اپنے سابقہ محسن جہانگیر خان ترین اور اُن کے اکلوتے بیٹے کو احتساب کے نام پر اپنے کسی ڈھب پر لانے کا پروگرام بنا رہی ہے ؟ ان سوالوں کی یلغار میں جہانگیر خان ترین بھی خاموش نہیں بیٹھے ہیں ۔ اب وہ بھی سامنے آئے ہیں ۔ اُن کے جوابات میں وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی حکومت سے دبے الفاظ میں گلہ اور شکوہ پایا جارہا ہے ۔لاہور میں بینکنگ جرائم کورٹ میں پیشی کے بعد عدالت کے باہر پی ٹی آئی کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا :” میری وفاداری کا امتحان لیا جارہا ہے، اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ میری بات کا جواب دیا جائے۔ ظلم بڑھتا جارہا ہے۔ میرے اور میرے بیٹے کے بینک اکاؤنٹ منجمد کردیے گئے ہیں۔ ابھی مقدمے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تو بینک اکاؤنٹ کیوں منجمد کیے گئے؟ ملک کی 80 شوگر ملز میں سے انہیں صرف جہانگیر ترین نظر آیا اور بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے سے کیا فائدہ ہوگا اور یہ کون کر رہا ہے؟ یہ میرے سوالات ہیں جس کا جواب چاہیے۔ ہم تحریک انصاف سے انصاف کا تقاضہ کرتے ہیں۔ میں تو دوست تھا مجھے دشمنی کی طرف کیوں دھکیلا جارہا ہے؟ اس لیے مجھے دوست ہی رکھو ۔ وقت آگیا ہے کہ سازشی عناصر کو وزیر اعظم عمران خان، مخلص ووٹر اور دیگر رہنما خود بے نقاب کریں۔ مجھے الگ کرنے سے تحریک انصاف کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچے گا۔ میری تحریک انصاف کے ساتھ راہیں الگ نہیں ہوئیں اور ایسا میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ میں پارٹی میں شامل ہوں اور رہوں گا”۔اس موقع پر پی ٹی آئی کے فیصل آباد سے رہنما ایم این اے راجا ریاض نے کہا:” عمران خان کے ارد گرد کے لوگ جہانگیر ترین کے خلاف سازش کر رہے ہیں جس کا وزیر اعظم کو ایکشن لینا چاہیے؟ عمران خان کے اعتماد کے ووٹ لینے میں سب سے زیادہ کردار جہانگیر ترین کا تھا۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر وزیر اعظم عمران خان کے اعتماد کے ووٹ لینے میں جہانگیر ترین پیش پیش تھے۔ جہانگیر ترین جیسے وفادار پارٹی رہنما کے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے اسے فوراً بند کیا جائے۔ جہانگیر ترین کے ساتھ روا رکھا جانے والے رویے دراصل پارٹی کے مجموعی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ دراصل حقیقت میں جو سیاسی نقصان ہورہا ہے وہ تحریک انصاف کو ہو رہا ہے”۔ سچی بات یہ ہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف اُٹھائے گئے احتسابی اقدامات کے دوران راجا ریاض نے سب سے بڑھ کر جہانگیر ترین کے حق میں آواز اُٹھائی ہے اور یہ بڑی حیران کن ہے ۔ 10اپریل بروز ہفتہ جہانگیر ترین صاحب مذکورہ احتسابی مقدمات بھگتنے کیلئے دوبارہ عدالت میں حاضر ہُوئے تو راجا ریاض تب بھی اُن کے ساتھ تھے ۔ اُن کے ساتھ دیگر بھی درجنوں پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی بھی محبت نبھانے کیلئے ساتھ آئے تھے ۔اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ جہانگیر ترین اور عمران خان کے درمیان فاصلے خاصے بڑھ گئے ہیں ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ترین صاحب نے پی ٹی آئی کے اندر ہی اپنے ہم خیالوں کا فارورڈ بلاک بنا لیا ہے ۔ اگرچہ پی ٹی آئی کی طرف سے اس کا انکار کیا جارہا ہے لیکن عنوانات بتا رہے ہیں کہ ایسا امکانات سے باہر نہیں ہے ۔ جہانگیر ترین خود سے کئے جانے والے حکومتی سلوک سے عاجز بھی آ چکے ہیں اور واویلا کرتے ہوئے غصے میں بھی ہیں ۔ اُنہیں اس بات کا زیادہ غصہ ہے کہ اُن کے بیٹے کو بھی عدالتوں میں گھسیٹا جا رہا ہے ۔ جہانگیر ترین اور اُن کے اہلِ خانہ کے 36بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کئے جانے کی اطلاعات ہیں ۔ منجمد کئے جانے والے مبینہ بینک اکاؤنٹس میں جہانگیر ترین ، اُن کے بیٹے علی ترین اور اُن کی اہلیہ کے نام لئے جا رہے ہیں ۔ یہ معمولی بات نہیں ہے ۔ حکومت کے ان اقدامات کے خلاف اپنا غصہ اورناراضی دکھانے کیلئے جہانگیر ترین نے 9اپریل کو لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر اپنے ہم خیالوں کو جو کھانا دیا ہے ، اس کی بازگشت بھی عمران خان کے حکومتی ایوانوں میں سنائی دی گئی ہے اور کہا جارہا ہے کہ خانصاحب اس منظر سے خوش نہیں ہیں ۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ جہانگیر ترین اور عمران خان کے درمیان کچھ دوست صلح صفائی کروانے کی کوششیں بھی کررہے ہیں ۔ لیکن معاملات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ یہ کوششیں کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں ۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر جہانگیر ترین نے چینی اسکینڈل میں کوئی گھناؤنا اور عوام دشمن کردار ادا کیا ہے تو اُن کے خلاف احتسابی ہاتھ کیوں حرکت میں نہ آئے؟ کیا حکمرانوں کے مبینہ کرپٹ دوستوں اور عزیزوں کے خلاف قانون حرکت میں نہیں آنا چاہئے ؟ اس ساری کہانی میں عمران خان بہرحال دباؤ تو محسوس کررہے ہیں ۔ اور یہ دباؤ اُس وقت سامنے آ رہا ہے جب ڈسکہ این اے 75میں ری پولنگ کا دنگل بھی ہورہا ہے ۔ عمران خان اور پنجاب حکومت یہ دنگل ہر صورت جیتنا چاہتے ہیں ۔ جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں ، ڈسکہ میں ضمنی انتخاب کا معرکہ ہورہا ہے ۔ دونوں دھڑون کا پورا زور لگ رہا ہے ۔ کہا تو یہ جارہا ہے کہ نون لیگ کی امیدوار نوشین افتخار کا پلّہ بھاری ہے لیکن اُن کے پی ٹی آئی کے مدِ مقابل علی اسجد ملہی کا زور بھی کم نہیں ہے ۔ جیت کس کے حصے میں آئے گی، آج پتہ چل جائیگا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »