Daily Taqat

بجٹ کی آمد آمد: معیشت پر حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

حکومتی ترجمانوں کا لشکر اپنے لیڈر کے اشارے پر یک زبان ہو کر شور مچارہا ہے کہ ملک میں معاشی اشارئیے مثبت ہو رہے ہیں ۔ عوام مگر اس ”اثبات” کو ماننے اور تسلیم کرنے پرتیار نہیں ہیں ۔ ویسے اب حالات اس نہج پر آ چکے ہیں کہ ”مثبت” اور ”منفی” کے معنی ہی بدل گئے ہیں ۔ کورونا نے مثبت اور منفی کے تصورات ہی بدل دئیے ہیں ۔ اِسی لئے شاعر نے نیگٹو اور پازیٹو کے بدلتے معنی پر تبصرہ کرتے ہُوئے یوں کہا ہے :
مَیں کیا بولوں اب اس مسئلے پر
خموشی ہی قرینِ مصلحت ہے
کرونے کی بدولت ہم نے جانا
کہ منفی ٹھیک ہے ، مثبت غلط ہے
ابھی تو معاشی بحالی کے اشاریوں کی بھی کڑی جانچ ہونی ہے۔ مثال کے طور پر عالمی بنک کا کہنا ہے کہ 2021 ء کے مالی سال میں پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 0.5 فیصد رہے گی، لیکن سٹیٹ بنک آف پاکستان کے مطابق معاشی شرحِ نمو 2 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ مگرموڈی کی پیش گوئی کے مطابق: یہ شرحِ نمو 1.5 فیصد تک رہے گی۔ آئی ایم ایف بھی پاکستانی معیشت پر نظریں جمائے بیٹھا ہے کہ کیا عمران خان کی حکومت اپنے وعدے کے مطابق کفایت شعاری کے پروگرام پرعمل کرتی ہے یا نہیں؟زیادہ تر معاشی ماہرین سوال پوچھتے ہیں کہ کیا پاکستانی معیشت کو منفی 2 فیصد سے مثبت 2 فیصد تک بحالی کو واقعی ”بحالی” کہا جاسکتا ہے؟کیونکہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے تحاشہ بے روزگاری اور کمر شکن مہنگائی سے نمٹنے کے لیے کم از کم 6 فیصد معاشی شرح نموضروری ہے۔ ایسے مایوس کن حالات میں حکومت دعوے کررہی ہے کہ پاکستان کی شرحِ نمو 4تک پہنچ گئی ہے ۔ حیرت ہے ۔ یہ معجزہ راتوں رات کیسے رونما ہو گیا ہے ؟اس دوران محصولات کا حجم بڑھنے کی بجائے زیر گردشی قرضے بڑھ رہے ہیں، مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ ہورہا ہے جبکہ حکومت کے اخراجات منجمد ہیں۔اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر معاشی شرحِ نمو بڑھتی ہے تو درآمدات میں اضافہ ہوگا۔ اس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھے گاکیونکہ حکومتی دعووں کے برعکس ملکی برآمدات نہیں بڑھ رہی ہیں۔ درآمدات بڑھنے سے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی آئے گی تو روپے کی قدر مزید گرے گی۔ اس کے لیے مزید قرض لینا پڑے گا۔یہ درحقیقت وطنِ عزیز کی معیشت میں انتہائی گھمبیر صورت حال کی نشاندہی ہے۔ان مسائل کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے عمران خان اپنے وزیروں ، مشیروں اور خصو صی مشیران برائے وزیراعظم کی فوج ظفر موج کو حکم دیتے سنائی دے رہے ہیں کہ یا تو وہ بلاچون وچراحکومتی موقف کی پیروی کریں یا گھر جائیں۔ یہ مناظر زبانِ حال سے بتا رہے ہیں کہ ناکام پالیسیوں کی وجہ سے حکومتی صفوں میں بھی بے چینی پھیل رہی ہے۔ اور یہ بے چینی خاصی قوی بھی ہے اور تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ کئی مشیرانِ کرام پریشانی سے پہلو پر پہلو بدل رہے ہیں۔ بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا نئے اضافے کے کارن مہنگائی کی شرح 11فیصد سے تجاوز کررہی ہے ۔ اور حکمران ہیں کہ بغیر کسی جھجک کے فرما رہے ہیں:کم ترین آمدنی میں گزارا نہیں ہوتا تو پھر مَیں کیا کروں؟حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملکی برآمدات ( خصوصاً ٹیکسٹائل صنعت ) میں قابلِ زکر اضافہ ہورہا ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ برآمدات میں یہ اضافہ کس قیمت پر ممکن ہوا؟ اس سوال کا جواب معروف ماہرِ معیشت جناب خرم حسین نے ان الفاظ میں دیا ہے : ہم حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان کو دی جانے والی مراعات کو دیکھیں اور پھر اس بات کا جائزہ لیں کہ مراعات کے حصول کے بعد برآمدات سے کتنی رقم ملک میں آئی؟ایندھن، بجلی اور قرضوں میں سبسڈی، اسٹیٹ بینک کی جانب سے قرضوں کی ری شیڈولنگ اور شرحِ سود میں تقریباً 50 فیصد کمی اور ٹیکسوں اور کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ جیسے اقدامات کو ملا کر حکومت کی طرف سے صنعتوں کو تقریباً 2 کھرب روپے کی مراعات فراہم کی گئیں ہیں۔ اس بات کا اندازہ لگانا تو مشکل ہے کہ اس میں سے برآمد کنندگان کو کتنی سبسڈی دی گئی لیکن انہیں اس کا ایک بڑا حصہ ضرور ملا ہے۔بدلے میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں برآمدات میں تقریباً 57 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ڈالر کی قیمت 160 روپے کے حساب سے یہ 92 ارب روپے بنتے ہیں۔ ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ برآمد کنندگان نے اصل میں کتنی مراعات حاصل کی ہیں لیکن یہ بات درست ہے کہ وہ مراعات 92 ارب روپے سے تو بہت زیادہ ہی کی تھیں۔تو آخر ہو کیا رہا ہے؟ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ برآمدات کی انڈر انوائسنگ ہو رہی ہے۔ یہ لوگ دراصل وزیرِاعظم کو دھوکے میں رکھ رہے ہیں۔ یہ بات بھی ممکن ہے کہ یہ اوور انوائسنگ کے ذریعے باہر جمع کی گئی رقم کو ترسیلاتِ زر کی شکل میں ملک میں واپس لارہے ہوں اور اسی وجہ سے کئی مہینوں سے ترسیلاتِ زر کی سطح 2 ارب ڈالر سے اوپر ہی برقرار ہے۔آخر وہ ایسا کیوں کریں گے؟ کیونکہ ان کے لیے اس طرح پیسہ واپس لانا اور اس سے تعمیراتی صنعت میں سرمایہ کاری کرنا بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔ ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے 186 ارب روپے اس صنعت میں داخل ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے بھی اس صنعت کو مراعات دی گئیں اور اسے خوب عروج ملا۔تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ معیشت نہ بہتری کی طرف جارہی ہے اور نہ ہی بحالی کی طرف، بلکہ یہ ریاست کی طرف سے دی جانے والی ایک خود ساختہ اور زبردستی کی ترقی کی ابتدائی سطح پر ہے جو ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں اور جس کا انجام بالآخر گھاٹے پر ہی ہونا ہے۔اس ترقی کے عامل تعمیراتی صنعت، اس کی معاون صنعتیں اور ٹیکسٹائل کی صنعت ہیں۔ بچت کے بغیر سرمایہ کاری اور محصولات کے بغیر اخراجات کسی بھی معیشت کے لیے نشے کی طرح ہوتے ہیں۔اسی دوران 3جون2021ء کو اپوزیشن ،خصوصی طور پر نون لیگی قیادت ، نے بجٹ کی آمد آمد کے موقع پر معیشت میں حکومتی دعووں کا پول کھولنے کیلئے ایک زبردست سیمینار کروایا ہے ۔ اس سیمینار میں نون لیگی قیادت نے عمران خان حکومت کے تازہ معاشی دعووں کو ”جعلی” اور ”دو نمبر” اور ”عوام کو دھوکہ دینے” کی سازش قرار دیا ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے حکومتی اعداد و شمار کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت میں کروڑوں پاکستانی غریب ہوگئے، مہنگائی تین گنا بڑھ گئی ہے۔جی ڈی پی میں 5.5 فیصد کمی آئی، معیشت کا حجم313 ارب ڈالر تھا اسے296 ارب ڈالر کر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کا سیمینار میں کہنا تھا :” حکومت کی غلط پالیسیوں نے غربت، مہنگائی بڑھا دی۔گزشتہ تین سال میں ہونے والی مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی،بیروزگاری میں اضافہ ہوا، بجٹ سے قبل حکومت کے پیش کردہ اعداد و شمار کی تائید اسٹیٹ بینک بھی نہیں کرتا، حکومت غلط اعداد و شمار بتا کر بھونڈی حرکات کر رہی ہے، دیگر جماعتوں کیساتھ ملکر اپنا موقف پیش کرینگے۔عمران خان نے غربت ختم کرنے کی ہماری محنت پر پانی پھیر دیا، حکومت کے بتائے گئے اعداد پر بجٹ سے قبل ہی بحث چل پڑی ہے، ملک میں بیروزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، عام آدمی کیلئے زندگی سے رشتہ بنائے رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ تین سال کے دوران 2کروڑ افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔ بجٹ اجلاس میں ہماری جماعت دیگر اپوزیشن جماعتوں کیساتھ ملکر اپنا موقف پیش کریگی، ہم بتائینگے کہ حکومت کیسے غلط اعداد و شمار بتا کر بھونڈی حرکات کر رہی ہے، ماضی میں پی ٹی آئی حکومت نے بجٹ کے بعد منی بجٹ پیش کئے۔ موجودہ دور حکومت میں سی پیک منصوبہ انتہائی سست روی کا شکار ہے،حکومت نے 50 لاکھ پاکستانی بیروزگار کیے، شرح نمو منفی میں جاچکی ہے۔ اس حکومت کے 3 برسوں میں مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، تین برسوں میں ایک عام خاندان کیلئے زندگی کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنا محال ہوچکا ہے، ان حالات میں جو بجٹ پیش کیا جارہا ہے اور اسے پہلے انہوں نے جو اعداد وشمار بتائے ہیں، اس پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ آج ہر شعبہ پکار پکار کر یہ کہہ رہا ہے، عام آدمی، غریب آدمی، یتیم اور بیوہ عورتیں کہہ رہی ہیں کہ ہمیں مفت ادویات اور کینسر کا مفت علاج دوبارہ فراہم کیا جائے۔ میڈیا کی آزادی کو صلب کرنے کیلئے جو آرڈیننس لایا جا رہا ہے، ہم اسکی بطور جماعت، بطور ایک فرد اور معاشرے کے اسکی بھرپور مذمت کرتے ہیں”۔ سیمینارسے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعہ سیمینار سے اپنے خطاب میں کہا:” 2013 الیکشن سے قبل پاکستان کو 6 سے 7 ماہ میں ڈیفالٹ کر جانے کا خطرہ تھا۔ ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کا عروج تھا اور 18 سے 20 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ جاری تھی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ 4 ہفتوں میں پروگرام طے کر لیا۔ آج ہم ٹوئٹ اور خوشیوں کو مشکوک ہونے کے باوجود اگر مان بھی لیں تو جی ڈی پی انتہائی کم ہے۔سیاسی استحکام کے بنا معاشی استحکام کسی صورت ممکن ہی نہیں۔ پبلک ڈیٹ پر یہ حکومت بات کرتی ہے مگر 1 سو 7 فیصد نقصان دے چکے۔موجودہ دور حکومت میں 23 سال کا معاشی نقصان کا ریکارڈ قائم ہوا۔ موجودہ دور حکومت میں روز مرہ اخراجات میں صرف اضافہ جاری ہے نہ کہ کوئی ترقی ہو پائے۔نواز شریف نے 2017 میں 1 سو 80 ارب کا ایکسپورٹ پیکج دیا۔موجودہ حکومت 1 سو 21 سے 1 سو 68 روپے فی ڈالر تک لے کر گئے ہیں”۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا :”نواز شریف نے 2 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا تھا مگر اس حکومت نے 2 کروڑ لوگوں کو دوبارہ غربت میں دھکیل دیا، 8 فیصد ملکی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی ہے اسکا جواب کون دے گا، وزیراعظم کو معیشت کی الف ب تک نہیں آتی۔ آج ملک میں مہنگائی کیوں بڑھ ہے، پریشانی کیوں بڑھ رہی ہے، جب ملک کی آمدن ہی کم ہوگئی اور قرض 14 ہزار ارب بڑھا تو ترقی کیسے ہوگی، ہمارے دور میں 10 ہزار ارب ڈالر قرض بڑھا مگر ہم نے دہشت گردی ختم کی۔پاور سیکٹر کے ساتھ انفراسٹرکچر لگایا، پاکستان کی جی ڈی پی شرح تین سال میں 19 ارب ڈالر کم ہوگئی یہ ملک کی حقیقت ہے، (ن) لیگ کی شرح پر ہی اگر چلتی رہتی تو موجودہ صورتحال سے 25 فیصد زیادہ بہتر ہوتی۔ جب الیکشن چوری ہونگے تو پھر اس طرح گردشی قرض بڑھیں گے۔ ہمارے دور میں گیس کا ریٹ ڈومیسٹک 310 تک تھا جو 987 تک پہنچ گئی،سی این جی 700 پہ تھی جو اب 1021 پر پہنچ گئی،وزیراعظم عمران خان کو معیشت کی الف ب تک نہیں آتی،پاکستان کی جی ڈی پی شرح تین سال میں 19 ارب ڈالر کم ہوگئی یہ ملک کی حقیقت ہے،یہ نمبرز ہمارے نہیں اسی حکومت کے اپنے ہیں”۔حکومت پر نون لیگی قیادت کی یلغار کا جواب دینے کیلئے وزیر اعظم عمران خان کی اکنامک ٹیم ( شوکت ترین اور حماد اظہر ) بھی خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے ۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے4جون2021ء کو ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں گرج کا کہا کہ عمران خان صاحب کی حکومت کو پچھلے ڈھائی تین برسوں کے دوران جتنی بھی معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ، اس کا ذمہ دار نواز شریف کا وزیر خزانہ اسحاق ڈار تھے ۔ اُن کے دعوے کے مطابق ،اسحا ق ڈار نے معیشت میں جعلسازیاں کر کے اور روپیہ کو مصنوعی طریقے سے استحکام دے کر ملکی معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا ۔ حکومت اور اپوزیشن کے ان متضاد دعووں میں عوام غریب حیران پریشان ہیں کہ اپنے معاشی مصائب کا اصل زمہ دار کسے ٹھہرائیں؟ عوام تو بیچارے بیکسی میں چکی کے دونوں پاٹوں میں بُری طرح پس رہے ہیں اور اُن کی شنوائی کرنے والا  بھی کوئی نہیں ۔ نہ اپوزیشن اور نہ ہی حکومت۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »