Daily Taqat

براڈ شیٹ و فارن فنڈنگ کا قضیہ اور نئے پاک امریکہ دفاعی تعلقات !

پورا ملک شومئی قسمت سے بحرانوں اور مسائل کے بھنور میں گھرا ہے ۔ حکومت اپوزیشن پر الزامات لگ رہی ہے اور اپوزیشن (پی ڈی ایم) حکومت پر الزامات عائد کرتی نظر آ رہی ہے ۔ اوپر سے براڈ شیٹ اور فارن فنڈنگ کیس کا پنڈورا باکس کھل گیا ہے ۔ وزیراعظم نے فارن فنڈنگ کے حوالے سے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کرتے ہُوئے اپوزیشن کو چیلنج کیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن آ ف پاکستان کہہ رہا ہے کہ نہیں ، یہ تحقیقات اوپن نہیں ہو سکتیں ۔ عجب تماشہ لگا ہے ۔ حکومت نے براڈ شیٹ اسکینڈل کے حوالے سے جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی بھی بٹھا دی ہے لیکن عظمت سعید کا نام اپوزیش نے مسترد کر دیا ہے ۔ یوں ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے ۔ وزیر اعظم صاحب اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکال کر للکارتے ہُوئے سنائی دے رہے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے22جنوری کو فارن فنڈنگ اور براڈ شیٹ کے حوالے سے اپوزیشن کی طرف سے لگائے گئے متعدد الزامات کا مسکت جواب دیتے ہُوئے ایک نجی ٹی وی کے انٹرویو میں کہا:” پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی تمام فنڈنگ قانونی ہے اور ریکارڈ پر ہے جبکہ مجھے اگر فارن فنڈنگ کیس سے خوف ہوتا تو اوپن سماعت کا نہیں کہتا۔اپوزیشن فارن فنڈنگ کیس سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سمیت کہیں بھی لے کر جائے، اس کی اوپن سماعت ہونی چاہیے۔ پی ٹی آئی کی تمام فنڈنگ قانونی ہے اور ریکارڈ پر ہے لیکن ان کے پاس فنڈنگ کے ریکارڈز نہیں ہیں۔پچھلے الیکشن کمشنر نے فارن فنڈنگ کے حوالے سے تاخیری حربے استعمال کئے تھے ۔ وہ پی ٹی آئی کے سب سے بڑے دشمن تھے اور وہ ہمارے خلاف گیم کھیل رہے تھے، اس وجہ سے فارن فنڈنگ کیس میں تاخیر ہوئی ۔ایک آدمی جو پی ٹی آئی کا دشمن تھا، وہ ہمارے اکاؤنٹس کی تحقیقات کرے؟ ایسا نہیں ہوسکتا۔ آج الیکشن کمشنر پر ہمیں اعتماد ہے اور فارن فنڈنگ کیس میں یہ آج آجائیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔رہا براڈ شیٹ کا معاملہ تواس معاملے میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ جنرل مشرف نے براڈ شیٹ والوں سے معاہدہ کیا تھا اور بعد ازاں نواز شریف کو این آر او دے دیا جس کے بعد پاکستانی حکومت پیچھے ہٹ گئی ۔اب انکوائری کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ براڈشیٹ کا معاملہ کیسے حل کیا جائے۔براڈشیٹ کو اگر ہم ادائیگی نہ کرتے تو پاکستان کو یومیہ 5 ہزار پاؤنڈ سود دینا پڑتا”۔ وزیر اعظم عمران خان کی باتوں کا جواب دیتے ہُوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بائیس جنوری کو پارلیمنٹ لاجز میں براڈ شیٹ اور فارن فنڈنگ معاملے پر سابق وزراء احسن اقبال، خرم دستگیر اور مریم اورنگزیب کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں براڈ شیٹ کے حوالے سے کہا:” جون 2000ء میں براڈ شیٹ معاہدے پر اس وقت کے چیئرمین نیب نے دستخط کیے، حکومت پاکستان اب تک 1ہزار کروڑ روپے براڈ شیٹ کو ادا کر چکی ہے۔ 1 ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی جواب دینے والا ہے؟ کیوں پیسے بھیجے؟ کس مقصد کیلیے بھیجے گئے؟ براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ جسٹس(ر) عظمت سعید شیخ بنائے گئے ہیں اور یہ شخص وہ ہیں جو براڈ شیٹ سے معاہدے کے وقت پنجاب میں نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل تھے اور یہ شوکت خانم ہسپتال بورڈ کے ممبر بھی ہیں ۔ ایسے شخص سے انصاف کی توقع کیسے کی جائے ؟ چیئرمین نیب کے دستخط والے معاہدے میں طارق فواد ملک سمیت 2 گواہ ہیں، براڈ شیٹ ایل ایل سی وہ کمپنی ہے، جس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ چند دن پہلے بننے والی کمپنی سے مکمل یکطرفہ معاہدہ دستخط کیا گیا، جسے اب تک 1 ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی ہوچکی ہے، یہاں سے پیسے انگلینڈمیں پاکستانی سفارت خانے کے اکاؤنٹ میں بھیجے گئے۔ جنہوں نے انگلینڈ پیسے بھیجنے کا فیصلہ کیا، وہ آج کمیشن میں بیٹھے ہیں۔ وزرا اور سرکاری افسروں پر براڈ شیٹ سے حصہ مانگنے کا الزام لگا ہے۔”براڈ شیٹ اور فارن فنڈنگ کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نئے سرے سے نئی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے ۔ درمیان میں عوام پِس رہے ہیں ۔دوسری جانب ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی محازوں پر بیک وقت کئی چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ ملک کے اندر پی ڈی ایم نے عمران خان کی حکومت کیلئے متنوع مسائل پیدا کررکھے ہیں اور بیرونی محاز پر بھارت اور امریکہ ہمارے سر پر کھڑے ہیں ۔ امریکہ میں نئے صدر جو بائیڈن سامنے آچکے ہیں ۔ اُنہوں نے 20جنوری کو اپنی صدارت کا حلف اٹھا لیا ہے ۔ اگرچہ اُنہوں نے صدارت کا منصب سنبھالتے ہی بعض مسلمان ممالک پر ( سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے) عائد کردہ سفری پابندیاں ہٹا دی ہیں۔ اس کی تحسین بھی کی جارہی ہے اور یہ بھی نظر آرہا ہے کہ نئے امریکی صدر عالمِ اسلام کو اُس نفرت بھری نظروں سے نہیں دیکھتے ہیں جن نظروں سے سابق امریکی صدر دیکھا کرتے تھے لیکن کون جانے کہ نئے امریکی صدر کی نظر اور دل کب پھر جائے ؟چنانچہ وزیر اعظم عمران خان کو ابھی سے خود کو مقابلے کیلئے تیار کر لینا چاہئے ۔ پاکستان کی اکثریتی عوام اُن کے ساتھ ہے لیکن اُنہیں خارجہ محاز پر زیادہ تندہی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کا امیج بھی بہتر بنایا جا سکے اور نئی امریکی انتظامیہ کا اعتماد بھی حاصل کیا جائے ۔ اگرچہ نئی امریکی انتظامیہ کی طرف سے ایسے اشارے آنے لگے ہیں جو اس امر کے مظہر ہیں کہ جو بائیڈن انتظامیہ پاکستان سے بہتر تعلقات استوار کرنے کی خواہشمند ہے ۔ مثال کے طور پر :امریکا کے نامزد وزیر دفاع جنرل(ر) لائیڈ جے آسٹن نے نئے امریکی صدر جو بائیڈن کی تقریبِ حلف وفاداری سے ایک روز قبل پاک امریکہ دفاعی تعلقات کی نئی نہج کے حوالے سے ایک اہم پالیسی بیان دیا۔ اس بیان سے ہمیں یہ اندازہ لگانے میں مشکل نہیں رہتی کہ آنے والے چار برسوں کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن اور اُن کی پوری انتظامیہ پاکستان، پاکستانی انتظامیہ ، پاکستان کی وزارتِ دفاع اور پاک امریکہ معاشی و دفاعی تعلقات کو کس نظر سے دیکھ رہی ہے ۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے :” جو بائیڈن انتظامیہ، پاکستان کو افغانستان کے امن عمل میں ایک’ضروری ساتھی’ کے طور پر دیکھتی ہے اور ‘علاقائی عناصر’ کو امن عمل خراب کرنے سے روکنے کے لیے کام بھی کرے گی”۔دوسری جانب ٹونی بلِنکین، جو نئی انتظامیہ میں ممکنہ طور پر امریکا کے وزیر خارجہ ہوں گے، وہ امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے پر نظر ثانی کرنے کے خواہاں ہیں لیکن واضح کرتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کا افغانستان میں شروع کردہ امن عمل جو بائیڈن کے دَور میں بھی بدستور جاری رہے گا۔جنرل لائیڈ جے آسٹن امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ ہیں اور اگر امریکی سینیٹ منظور کردیتی ہے تو وہ نئے سیکریٹری دفاع ہوں گے جبکہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے سابق عہدیدار ٹؤنی بلنکین امریکا کے نئے سیکریٹری آف اسٹیٹ یعنی وزیر خارجہ ہوں گے۔امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جنرل لائیڈ آسٹن نے کہا:” افغانستان میں کسی بھی امن عمل کے لیے پاکستان ایک انتہائی ضروری ساتھی ہے۔ میں افغان امن عمل کو بگاڑنے کے لیے کام کرنے والے علاقائی عناصر کو روکتے ہوئے ایک علاقائی اپروچ کی حوصلہ افزائی کروں گا جو پڑوسی ممالک مثلاً پاکستان سے حمایت حاصل کرے”۔ اور جب جنرل لائیڈ آسٹن سے سوال کیا گیا کہ بحیثیت سیکریٹری دفاع وہ امریکا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کیا تبدیلیاں تجویز کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ میں ہمارے مشترکہ مفادات پر توجہ دوں گا جس میں بین الاقوامی فوجی تعلیم و تربیت فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کے فوجی رہنماؤں کی تربیت بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا :” پاکستان، افغانستان میں ہونے والے کسی بھی تصفیے میں اہم کردار ادا کرے گا، ہمیں القاعدہ اور داعش خراسان کو شکست دینے اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے”۔ نامزد سیکریٹری دفاع سے سوال کیا گیا کہ چونکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ستمبر 2018 میں پاکستان کو سیکیورٹی امداد روک دی گئی تھی تو کیا انہوں نے امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعاون میں کوئی تبدیلی محسوس کی ہے؟جس پر جنرل لائیڈ آسٹن نے جواب دیا :”میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان نے افغان امن عمل کی حمایت میں امریکی درخواستوں پر عمل کرنے کے لیے تعمیری اقدامات اٹھائے ہیں۔ پاکستان نے بھارت مخالف گروہوں مثلاً لشکرِ طیبہ اور جیش محمد کے خلاف بھی اقدامات اٹھائے حالانکہ ان کی پیش رفت ابھی نامکمل ہے ۔ہوسکتا ہے سیکیورٹی امداد کی معطلی کے علاوہ بھی کئی پہلو پاکستان کے تعاون پر اثر انداز ہوئے ہوں جس میں افغانستان مذاکرات اور پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی خطرناک کشیدگی شامل ہے”۔امریکی جنرل سے پوچھا گیا کہ وہ پاکستان پر اثر انداز ہونے کے لیے کیا حربے اور آپشنز استعمال کریں گے جس پر انہوں نے جواب دیا :”پاکستان ایک خود مختار ملک ہے۔ میں پاکستان پر دباؤ ڈالوں گا کہ وہ اپنی سرزمین کو عسکریت پسندوں کی پناہ گاہ اور پر تشدد انتہا پسند تنظیموں کے لیے استعمال ہونے سے روکے، پاکستان کی فوج کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے سے امریکا اور پاکستان کے کلیدی امور پر تعاون کرنے کی راہیں کھلیں گی”۔دوسری جانب نامزد امریکی وزیر خارجہ ٹونی بلِنکین سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور کہا :” وہ امریکا،افغان طالبان امن معاہدے پر نظر ثانی کریں گے کیونکہ اس ڈیل کے لیے مذاکرات کرنے والی ٹرمپ انتظامیہ کی طرح امریکا کی نئی حکومت بھی افغانستان میں بظاہر نہ ختم ہونے والی جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے۔ہم اس نام نہاد طویل جنگ کا خاتمہ کرنا اور اپنی افواج کو واپس لانا چاہتے ہیں، ہم دہشت گردی کی کسی بھی بحالی سے نمٹنے کے لیے کچھ صلاحیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں، جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ہے۔ ہمیں بغور یہ دیکھنا ہوگا کہ اصل میں مذاکرات کیا کیے گئے، مجھے ابھی تک اس کا علم نہیں ہے”۔ نئے امریکی صدر کے مذکورہ بالا دونوں اہم ترین وزرا ( جن پر آئندہ برسوں میں پاک امریک تعلقات کا محوری انحصار ہوگا) کے مذکورہ بالا تازہ ترین بیانات سے صاف عیاں ہورہا ہے کہ امریکہ آگے بڑھ کر پاکستان سے تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے اور یہ کہ گذشتہ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، کے چار سالہ دَور میں پاک امریکہ تعلقات میں جو کمزوری آئی اور رخنے پڑے ، ان سب کو وہ دُور کرنا چاہتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نامزد امریکی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کے تازہ بیانات کو غنیمت جان کر وزیر اعظم عمران خان اور اُن کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو تندہی اور سنجیدگی سے کام لیتے ہُوئے فوری طور پر نئے امریکی صدر سے دوستی کرنے اور قریبی تعلقات استوار کرنے میں کسی بھی تاخیر کے بغیر آگے بڑھنا چاہئے ۔ خاص طور پر اسلئے کہ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت نئے امریکی صدر اور نئی امریکی انتظامیہ کو مٹھی میں کرنے کی بھرپور کوشش کرتا نظر آ رہا ہے ۔ مثال کے طور پر نئے امریکی انتظامیہ میں دو درجن سے زائد بھارتی نژاد امریکیوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کئے جانے کی خبریں گردش میں ہیں ۔یہ افراد واشنگٹن میں بیٹھ کر یقیناً پاکستانی مفادات کو زک پہنچانے کی دانستہ یا نا دانستہ کوششیں کریں گے ۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جو بائیڈن کی پہلی صدارتی تقریر بھی ایک ایسے شخص نے لکھی ہے جو انڈین نژاد امریکی ہے اور ممتاز ترین امریکی تعلیمی اداروں کا فارغ التحصیل ہے ۔ اس شخص کا نام ونے ریڈی بتایا جا رہا ہے ۔ اس مثال سے یہ اندازہ لگانے میں مشکل نہیں رہتی کہ بھارتی نژاد امریکیوں نے کیسے نئے امریکی صدر تک رسائی حاصل کررکھی ہے ۔یہ مثالیں ہم پاکستانیوں کیلئے لمحہ فکریہ بھی ہیں اور ایک لحاظ سے تشویشناک بھی ۔گویا اس تناظر میں پاکستان کو امریکی دارالحکومت میں نئے سرے سے نئے چیلنجوں کا بھی سامنا ہے ۔امریکی ڈیمو کریٹ صدر ویسے بھی بھارت کے نزدیک ہُوا کرتے ہیں اور جو بائیڈن بھی چین کو نیچا دکھانے کے چکر میں بھارتی امداد چاہیں گے ، اسلئے ان حالات میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ، وزیر خارجہ اور وزیر اعظم پاکستان کو غیر معمولی محنت اور کمٹمنٹ سے کام کرنا ہوں گے ۔ہماری دعائیں تو پاکستان کے ساتھ ہیں ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »