Daily Taqat

بختاور بھٹو کی شادی ، سینیٹ انتخابات اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ

سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو و سابق صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری کی بڑی صاحبزادی اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ محترمہ بختاور بھٹو زرداری رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ کریم اُن کی شادی میں برکت ڈال دے ۔ بختاور بھٹو کی منگنی تو چند ہفتے قبل طے پا گئی تھی لیکن نکاح اورشادی کی دیگر تقریبات اب 29 اور 30 جنوری2021ء کو مکمل ہوئی ہیں ۔ بختاور بھٹو کی منگنی کی فوٹوز ہمارے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بن کر چھائی رہیں ۔ اور اب شادی کی خبریں بھرپور انداز میں کئی دنوں تک ہمارے قومی اور سوشل میڈیا پرغالب رہی ہیں ۔ بختاور صاحبہ کی شادی پر سینکڑوں مہمان شریک ہُوئے ۔ پاکستان کی کئی اعلیٰ اور معروف سیاسی و غیر سیاسی اور مذہبی شخصیات نے بھی شرکت کی ۔ایسے مہمان بھی آئے جو بظاہر پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کی شخصیت اور سیاست کو پسند نہیں کرتے ہیں مگر ان لوگوں کی شرکت نے عوام کو بتایا ہے کہ ہمارے یہ معروف سیاسی و غیر سیاسی لوگوں کی باہمی مخالفتیں محض عوام کی آنکھوں میں مٹی ڈالنے اور اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے ہوتی ہیں ۔ اندر خانے سب ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں ۔ بختاور بھٹو کی شادی پر ایک فوٹو تو سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنی رہی ۔ اس فوٹو میں بلاول بھٹو ، آصفہ بھٹو، بختاور بھٹو اور تینوں بچوں کی خالہ صنم بھٹو نظر آ رہی ہیں ۔ سبھی خوش و خرم نظر آ رہے ہیں ۔ اپنی بڑی ہمشیرہ بختاور بھٹو کی شادی خانہ آبادی کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری چند دنوں تک سیاسی مصروفیات سے منقطع دکھائی دئیے ۔ ایسا ہونا بھی چاہئے تھا ۔ لیکن ایک بات نوٹ کی گئی ہے کہ عوام کی بات کرنے والی پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما کی بیٹی کی شادی میں عوامی رنگ نہیں تھا ۔ یہ خواص کی شادی تھی ، اسلئے عوام کو بھی اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ اس کے برعکس محترمہ بے نظیر بھٹو کی شادی عوامی انداز میں کراچی کی ککری گراؤنڈ میں ہوئی تھی جس میں عوام الناس کے ایک جمِ غفیر نے بھی شریک ہو کر اپنی مقبول و محبوب رہنما کی خوشیوں میں حصہ ڈالا تھا ۔ بختاور بھٹو زرداری کی شادی ایک مہنگی شادی کہی گئی ہے ۔ شادی کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کیلئے سندھ کے مہنگے ترین لوک فنکار (شمن علی چانڈیو) مدعو کئے گئے جنہوں نے سندھی اور بلوچی لوک گیتوں اور رقص سے مہمانانِ گرامی کا منو رنجن کیا ۔ یہ بھی سنا گیا ہے کہ آصف علی زرداری نے کراچی کے وسیع وعریض بلاول ہاؤس کے اندر ہی ایک حصے میں بختاور بھٹو کیلئے نیا گھر بنایا ہے ۔ شادی کے فوراً بعد بختاور بھٹو اسی حصے میں اپنے شوہر (محمود چودھری) کیساتھ منتقل ہوئی ہیں ۔ بلاول ہاؤس کے اندر ہی آصف زرداری کی دوسری بیٹی آصفہ بھٹو زرداری کیلئے بھی علیحدہ سے نیا گھر تعمیر کیا گیا ہے ۔ خبریں ہیں کہ بختاور بھٹو زرداری اپنے شوہر کے ساتھ دبئی منتقل ہو جائیں گی جہاں اُن کا وسیع کاروبار بیان کیا جاتا ہے ۔ وہ جب کبھی دبئی سے کراچی آئیں گی تو بلاول ہاؤس کے اندر بنائے گئے اپنے علیحدہ گھر ہی میں قیام کیا کریں گی ۔29جنوری کو کراچی میں محمود چودھری اور بختاور بھٹو کا نکاح ہو گیا۔ اُن کا نکاح غلام محمد سہو نے پڑھایا۔ شنید ہے کہ نکاح کی تقریبِ پُر سعید میں دونوں خاندانوں کے قریبی رشتہ دار ہی شریک ہُوئے ۔آصف زرداری کی طرف سے مہمانوں کی اصل تواضح تو اگلے دن کی گئی۔بختاور بھٹو زرداری کی یہ شادی کئی دنوں سے ہماری سیاست پر چھائی رہی ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پی ڈی ایم کی حکومت مخالف سرگرمیاں بھی جاری رہی ہیں ۔ ان سرگرمیوں میں چند ایک معاملات نمایاں رہے ۔ مثال کے طور پر (١) یہ بحث کہ پی ڈی ایم کو مشترکہ طور پر سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینا چاہئے یا نہیں (٢) ملک بھر کے کئی حصوں میں منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات میں کہاں کہاں پی ڈی ایم مشترکہ طور پر ایک دوسرے کے اُمیدواروں کو سپورٹ کرے گی (٣) فی الحال استعفے دئے جائیں یا نہیں (٤) کیا پی ڈی ایم میں شامل سبھی جماعتیں پیپلز پارٹی کی طرف سے دئیے گئے اس مشورے کو قبول کرنے کیلئے تیار ہیں یا نہیں کہ وزیر اعظم عمران کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے ؟ (٥) پی ٹی آئی حکومت کے خلاف اسلام آباد میں مشترکہ اور زوردار دھرنا کب دیا جائے ؟(٦) اور یہ کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پی ٹی آئی حکومت کے بارے میں جو تہلکہ خیز رپورٹ شائع کی ہے ، اس پر کیا اور کیسے ردِ عمل دیا جائے ؟پی ڈی ایم کی تحریک میں بظاہر کمزوری آ رہی ہے ۔ اس سے یار لوگوں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ اب پی ڈی ایم سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو کوئی خاص خطرہ نہیں رہا ۔ اسٹیبلشمنٹ بارے مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف جو زبان استعمال کررہے تھے، اب اس میں بھی خاصی تبدیلی آ چکی ہے ۔ لگتا ہے کہ کچھ معاملات اندر خانے طے پارہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کو توڑنے کی جو پُر اسرار کوششیں دیکھنے میں آرہی ہیں اور خود مولانا کی جماعت کے اندر سے جس طرح کی پھوٹ پیدا ہو رہی ہے ، اس نے بھی مولانا موصوف کو پریشان کررکھا ہے ۔ جے یو آئی کے منحرف اور ”باغی” ارکان نے بھی مولانا فضل الرحمن کا گھیراؤ کررکھا ہے ۔ مثال کے طور پر حافظ حسین احمد ، مولانا عبدالقادر لونی، مولانا شجاع الملک اور مولانا خان محمد شیرانی کی طرف سے مولانا کے خلاف کرپشن اور ناجائز بنائی گئی جائیدادوں کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں ۔ ان افراد کی طرف سے مولانا کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان میں یہ دعوے بھی دائر کئے جا رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن جمیعت علمائے اسلام کا نام اپنی جماعت کے طور پر استعمال کرنے کے مجاز نہیں ہیں ۔ ایک عجب طرح کی کھچڑی پک رہی ہے ۔ حکومت ان مناظر سے خوش بھی ہے اور مطمئن بھی ۔ حکومت اس امر سے بھی خوش ہے کہ عوام میں ”پی ڈی ایم” کے اس فیصلے کو سخت ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا گیا ہے کہ فی الحال اسمبلیوں سے استعفے نہیں دینے ہیں اور سینیٹ کا انتخاباب بھی مل کر لڑنا ہے ۔ یہ فیصلہ دراصل پی ڈی ایم کے اپنے بیانئے کی شکست اور ناکامی ہے ۔ پی ڈی ایم میں شامل نون لیگ اس بات پر بھی پریشان ہے کہ حکومت نے براڈ شیٹ کیس کی تحقیقات کیلئے جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کو متعین کیوں کیا ہے ؟ پچھلے دنوں اسی ضمن میں مریم نواز شریف نے ایک پریس کانفرنس میں بھرپور لہجے میں جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کو دھمکی بھی دی تھی کہ وہ اس کام سے دستکش ہو جائیں ورنہ اُن کے بارے میں کئی خفی باتیں سامنے لائی جائیں گی ۔ حکومت بھی اس بات سے خوش نظر آ رہی ہے کہ نون لیگ تحقیقات کے اس نئے پہلو سے خائف ہے ۔ لیکن اسی دوران ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے آنے والی رپورٹ نے منظر پلٹ دیا ہے ۔ اس رپورٹ پر بہت لے دے ہو رہی ہے اور اپوزیشن کو یہ کہنے کا موقع ملا ہے کہ عمران خان کی حکومت کے گذشتہ دو برسوں کے دوران ( بقول ایمنسٹی) پاکستان میں رشوت خوری اور کرپشن میں اضافہ بھی ہُوا ہے اور ملک کا درجہ کرپشن کے لحاظ سے نیچے جانے کی بجائے سات درجے اوپر چلا گیا ہے ۔ اسی پس منظر میں 30جنوری کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں جو کئی موضوعات پر مبنی پریس کانفرنس کی ہے، اُسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ مثال کے طور پر عباسی صاحب نے کہا:” اسپیکر قومی اسمبلی نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ وہاں( پارلیمنٹ لاجز میں) آپ پریس سے بات نہیں کر سکتے تو پاکستان کے منتخب نمائندے اب مجبوراً سڑکوں پر پاکستان کے عوام سے بات کررہے ہیںکیونکہ نہ ایوان چلتا ہے، نہ ایوان کی روایات کی کسی کو پروا ہے۔ آج ہم نے اسمبلی میں دو ایشوز پر بات کرنی تھی۔ ایک تو بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور دوسرا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ جو حکومت کی کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لاہور سے منتخب قومی اسمبلی کے رکن کھوکھر صاحب کے گھر کو مسمار کرنے کی بات بھی ہم نے کرنی تھی لیکن اس کی بھی اجازت نہیں دی گئی ۔ یہ نون لیگ کے کھوکھر صاحب کو دبانے اور اسمبلی سے دور رکھنے کے ہتھکنڈے ہیں تاکہ وہ اپنی پارٹی کا ساتھ نہ دے سکیں اور عوام کی نمائندگی نہ کر سکیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کسی رکن اسمبلی کا گھر مسمار نہیں کیا گیا لیکن آج ہم اس حد تک بھی جا چکے ہیں۔ آج کھوکھر صاحب نے تحریک پیش کی تھی کہ مجھے اسمبلی کے اجلاس میں اپنی نمائندگی کرنے سے روکنے کے لیے یہ کام کیا جاتا ہے لیکن اس کی بھی اجازت نہیں دی گئی ۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ملک کی قومی اسمبلی کا اسپیکر بھی فریق بن گیا ہے، وہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی میں جاتا ہے، اس کی غیرجانبداری پر انگلیاں اٹھتی ہیں اور جانبداری کے ثبوت ہیں، ایسے معاملات میں اسمبلی کہاں چلے گی اور عوام کے معاملات کب زیر بحث آئیں گے؟”۔ شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا:” پچھلے جمعے کو قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا اور آج اسے پیر( یکم فروری) تک ملتوی کردیا گیا ہے، 10 دنوں میں 5 گھنٹے اجلاس کی کارروائی ہوئی ہے لیکن دن دس گنے جائیں گے، ان 10 دنوں میں پاکستان کے عوام کی بات اس اسمبلی کارروائی میں نہیں ہوئی۔اب یہ آئین میں ترمیم کرنے جا رہے ہیں اور ترمیم کیا ہے؟ یہ کہ ان کے جو وزیر دوہری شہریت رکھتے ہیں ،ان کو این آر او دیا جائے”۔ اس پریس کانفرنس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ کا بھی ذکر آیا۔ اس موضوع پر بات کرتے ہُوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا:” حکومتی وزرا اور وزیر اعظم نے ہمیں کہا کہ جب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا اردو ترجمہ آئے گا تو آپ کو پتا لگے گا کہ یہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا ڈیٹا ہے جبکہ رپورٹ کی بہت سادہ انگریزی میں یہ واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اس رپورٹ کا ڈیٹا 2019ـ2020 ء کے پی ٹی آئی کے 2 سالوں کا ہے۔ تو گویا حکومت نے ہمیں یہ بھی بتادیا کہ وزیر اعظم اور ان کے وزیر سادہ انگریزی بھی نہیں پڑھ سکتے۔ یہ لوگ جو اردو کا ترجمہ کروانا چاہتے ہیں، اس کے لیے بھی جسٹس(ر) عظمت سعید کی سربراہی میں کوئی کمیشن نہ بنا دیں۔ میں یہ بات دہراؤں گا کہ پاکستان کی بار کونسل اور وکلا برادری نے جسٹس عظمت سعید پر براڈشیٹ کمیشن کے لیے عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے ۔ ہو سکتا ہے عظمت سعید بہت قابل ہوں، ہمیں ان سے ذاتی دشمنی نہیں ہے لیکن اس پورے معاملے میں وہ ایک فریق ہیں”۔ اس پریس کانفرنس میں پی ڈی ایم اور سینیٹ میں اوپن بیلٹ کا ذکر بھی آیا تو سابق وزیر اعظم نے ترنت کہا:” پی ڈی ایم میں کوئی انتشار نہیں ہے، پی ڈی ایم میں 11 جماعتیں ہیں، اختلاف رائے ہمیشہ رہتا ہے، مشاورت رہتی ہے، ایک بات پر اتفاق ہوتا اور اسی پر پی ڈی ایم عملدرآمد کرتی ہے، جو اس پر عمل نہیں کرے گا ،وہ پی ڈی ایم سے خارج ہے۔ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے آج اگر حکمرانوں کو اپنے اراکین پر شبہ ہے تو شو آف ہینڈز کا انہیں بہت دیر سے خیال آیا۔ اگر سینیٹ کا رکن شو آف ہینڈز سے منتخب ہو گا تو قومی اسمبلی کا رکن بھی شو آف ہینڈز سے منتخب ہو گا۔ ووٹ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اسے خفیہ رکھنا ہوتا ہے تاکہ میں جس کو ووٹ دوں، وہ میرے حق کا غلط استعمال نہ کرے”۔شاہد خاقان عباسی کی مذکورہ بالا پریس کانفرنس ملک کے حالات کی عکاس ہے ۔ اس سے ہم یہ بھی بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں پارلیمانی روایات کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں ۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے ۔ معاملات سنورنے کی بجائے روز بروز بگڑ رہے ہیں اور عوام کے مصائب کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں ۔ کوئی ہے جو اس الجھاؤ کو سلجھا سکے ؟؟


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »