Latest news

بات کرنے کی بھی آزادی گئی؟۔۔۔ شہر سے اب رسمِ فریادی گئی؟؟

وزیر اعظم عمران خان تسلسل کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ نہ ڈِیل ہوگی اور نہ ہی اُنہیں این آر او دیا جائے گا۔جواباً نون لیگئے اور پیپلئے اصرار کے ساتھ اور بلند آہنگی سے کہتے سنائی دیتے ہیں کہ نہ تو ہم عمران خان سے کوئی این آر او مانگ رہے ہیں اور نہ ہی عمران خان کے پاس این آر او دینے کی اتھارٹی ہے ۔ چند ہفتوں سے یہ افواہ بھی پھیلائی جا رہی ہے کہ حکومت نے دونوں بڑی پارٹیوں کے مجرمان اور ملزمان سے کہا ہے کہ 160ارب ڈالر دے دیں اور گلو خلاصی کروائیں ۔

ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ دونوں مذکورہ پارٹیاں اگر یہ رقم قومی خزانے میں جمع کروادیں تو (١) اُن کے کرپشن کے گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا (٢) اُنہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت ہو گی (٣) نواز شریف کبھی سیاست میں حصہ نہیں لے سکیں گے(٤) مریم نواز شریف 10سال کیلئے سیاست سے آؤٹ رہیں گی (٥) آصف علی زرداری کو بھی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہو گی (٦) البتہ بلاول بھٹو زرداری سیاست میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔

اسلام آباد میں اس ”افواہ” کو خوب ہوا دی جارہی ہے لیکن رازدانِ درونِ خانہ کہتے ہیں کہ مذکورہ رقم خاصی بھاری ہے ، اسے کم کر نا پڑے گا ۔ لیکن دوسری طرف ایک نقطہ نگاہ یہ بھی ہے کہ اگر مذکورہ شرائط مان لی جائیں تو شریف اور زرداری خاندان کے پاس رہ کیا جائے گا؟ سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ ملک بھر کے عوام میں دونوں دھڑوں کا اعتبار جاتا رہے گا اور کرپشن کا مصدقہ سیاہ داغ دونوں خاندانوں کے چہروں پر ہمیشہ کیلئے ثبت ہو کررہ جائیگا ۔ کیا یہ داغ دونوں خاندان اپنے چہروں پر لگوانے کیلئے تیار ہیں؟ کیا وہ اتنی بڑی بدنامی مول لے سکنا افورڈ کر سکتے ہیں؟اسلئے ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ یہ ہوائی محض ”دشمن ”کی اُڑائی گئی ہے ۔حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ نواز شریف ، مریم نواز، آصف زرداری اور اُن کی ہمشیرہ فریال تالپور جیلوں اور قید خانوں میں اتنی سخت اور دگرگوں زندگیاں گزار رہے ہیں کہ مزید آزمائش اُن کے بس کی بات نہیں رہی؛ چنانچہ لا محالہ وہ ڈِیل کرنے کیلئے مبینہ طور پر تیار ہو چکے ہیں ۔

پیپلز پارٹی کی قیادت نے چند دن پہلے جس واضح انداز میں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے سے انکار کیا ہے ، اس سے بھی کچھ کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ لین دین کے معاملات میں سنجیدہ بھی ہے اور بگاڑ کی طرف بھی نہیں جانا چاہتی ۔دوسری طرف کا نقطہ نظر یہ سامنے لایا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی سے حکومت چل رہی ہے نہ احتساب کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نکل رہا ہے اور ملک کی معاشی حالت روز بروز بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے ، اسلئے اب مناسب یہی ہے کہ جیل میں ڈالے نواز شریف اور مریم نواز سے بین السطور انداز میں صلح کر لی جائے ۔ ایسی خبریں بھی اچھالی گئی ہیں کہ مبینہ طور پر کچھ ذمہ داران ( جن میں کچھ ریٹائرڈ حضرات اور کچھ حاضر سروس ہیں) کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملے ہیں تاکہ معاملات سنوارنے اور سنبھالنے میں اُن کا ”تعاون” حاصل کیا جائے ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان خبروں میں کتنی اور کہاں تک صداقت ہے لیکن قرائن بتا رہے ہیں کہ اب ڈِیل کے آثار بھی ہیں اور ڈِھیل کے بھی ۔ اِس ضمن میں ایک بڑی مثال 17ستمبر2019ء کو سامنے آئی ہے جب نواز شریف کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز کو اپنی پارٹی میں نائب صدارت کے عہدے پر متمکن کئے جانے کا مثبت فیصلہ سامنے آیا ۔ یہ فیصلہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مریم نواز کے حق میں دیا ہے ۔ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں مریم نواز کے خلاف اس عندئیے کے ساتھ مقدمہ لے کر گئی تھی کہ وہ نون لیگ میں نائب صدر کا عہدہ نہیں سنبھال سکتیں ۔ الیکشن کمیشن نے مگر اب مریم نواز کے مسلم لیگ (ن) میں پارٹی عہدے کے خلاف دائر درخواست کو خارج کردیا اور انہیں پارٹی میں نائب صدر کے لیے اہل قرار دے دیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مریم نواز کے پارٹی عہدے کے خلاف دائر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا ہے۔الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مریم نواز پارٹی کی نائب صدارت کے لیے اہل ہیں، تاہم مریم نواز کو پارٹی کا قائم مقام صدر نہیں بنایا جاسکتا اور وہ خود بھی پارٹی کا کوئی بھی فعال عہدہ قبول نہ کریں۔اس فیصلے سے حکمران جماعت کو یقیناً مایوسی ہُوئی ہوگی لیکن اس فیصلے سے ہوا کارُخ پہچاننے میں دقت نہیں ہونی چاہئے ۔شائد اِسی وجہ سے نون لیگ کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے مذکورہ فیصلہ سُنتے ہی تنک کر کہا :” تحریک انصاف ای سی پی میں سستی شہرت کے لیے درخواست لے کر گئی تھی۔ مریم نواز کو عوامی خدمت کے لیے کسی عہدے اور سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے مریم نواز کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔موجودہ حکومت چھوٹی حرکتیں کررہی تھی جس کا جواب انہیں الیکشن کمیشن سے مل گیا ہے۔”خیال رہے کہ مریم نواز کے پارٹی عہدے کے خلاف درخواست پر دوسری مرتبہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ اس سے قبل یکم اگست کو یہ فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا اور اسے 27 اگست کو سنانے کا کہا گیا تھا۔تاہم ای سی پی نے غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے اس فیصلے کو موخر کردیا تھا اور دونوں فریقین کے وکلا سے کہا گیا تھا کہ وہ اس میں مدد کریں کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں آیا سزا یافتہ شخص کے سیاسی جماعت کے صدر کا عہدے رکھنے پر عائد پابندی کا اطلاق نائب صدر پر بھی ہوتا ہے یا نہیں( مریم نواز کو عدالت کی طرف سے پہلے ہی سزا سنائی جا چکی ہے)اس معاملے پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں کمیشن کے 3 رکنی بینچ نے سماعت کی تھی جہاں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حسن مان نے اعتراض اٹھایا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے ساتھ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 203 کو بھی پڑھنا چاہیے۔جہانگیر ترین کیس کا اشارہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب سے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی کو اسی بنیادپر اپنی پارٹی پوزیشن کھونی پڑی تھی کیونکہ نااہل لیڈر کوئی پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا۔اس پر مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے کہا تھا کہ کچھ سیاسی جماعتوں کی سربراہی صدور کرتے ہیں جبکہ دیگر کی چیئرمین یا امیر، اور اختیارات رکھنے والے افراد کی اہمیت ہوتی ہے جبکہ نائب صدور کے کوئی اختیارات نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی خاص طور پر پارٹی سربراہان کا ذکر کیا گیا تھا، لہٰذا الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے قانون سازوں کی جانب سے دائر درخواست کو مسترد کرے۔9 مئی کو پی ٹی آئی کے قانون سازوں بیرسٹر ملیکہ بخاری، فرخ حبیب، کنول شوزب اور جویریہ ظفر نے بھی ایک درخواست دائر کی تھی۔ اس میں کہا گیا تھاکہ مریم نواز کی تقرری ( بطورِ نائب صدر) خلافِ قانون تھی کیونکہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما کو کسی بھی سیاسی یا عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔یہ سب دلائل اپنی جگہ لیکن اب مریم نواز کے حق میں فیصلہ آ چکا ہے ۔ اندازے لگائے گئے ہیں کہ ممکن ہے شریف خاندان کے لئے اب مزید ریلیف کی بھی کوئی راہ نکل آئے ۔ اسے محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا کہ جس روز مریم نواز کے حق میں فیصلہ آیا ہے ، اُسی روز شہباز شریف، خواجہ آصف اور احسن اقبال نے اکٹھے ہی کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف سے ملاقات کی ۔

اُن کے ساتھ نواز شریف کے وکلا کی ٹیم بھی تھی ۔ حکومت کی طرف سے بیک وقت ان تینوں نون لیگی لیڈروں کو نواز شریف سے ملنے کی اجازت دئیے جانے کے عمل کو بھی خاص نظر سے دیکھا جا رہا ہے ۔ مطالب یہ بھی اخذ کئے جارہے ہیں کہ یہ ریلیف کی ایک شکل ہے اور امکانات یہ ہیں کہ نواز شریف بھی جلد ہی جیل سے رہا ہو جائیں گے کہ عین اُسی روز لندن میں موجود جج ویڈیو اسکینڈل کے ایک مرکزی کردار (ناصر بٹ) بھی نمودار ہوتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ویڈیوز کے اصلی ہونے کے حوالے سے وہ گواہی دینے کیلئے بھی تیار ہیں اور عدالت میں پیش بھی ہو سکتے ہیں ۔ اس خبر نے بھی ایک تہلکہ مچا رکھا ہے ۔ نواز شریف کے حامیوں نے اس بنیاد پر بھی اپنے قائد کی رہائی کے حوالے سے اونچی توقعات لگا لی ہیں ۔ ہم مگر سمجھتے ہیں : دل کے سمجھانے کو غالب خیال اچھا ہے !! یہ آسان اور سہل کام نہیں ہے ۔یہ درست ہے کہ حکومت متنوع مشکلات کا شکار ہے لیکن اس کا شائد یہ معنیٰ نہیں ہے کہ حکومت” بعض لوگوں” پر ہاتھ بھی ہولا رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ کئی ایسی قوتیں متحرک ہیں جو عمران خان کو معاشی بدحالیوں کا ڈراوا دے کر نواز شریف کے حوالے سے نرم گوشہ پیدا کرنے کی متمنی ہیں لیکن خانصاحب ڈِیل اور ڈِھیل دینے کے لئے فی الحال تیار نظر نہیں آتے ۔

اگرچہ گرانی ، مہنگائی اور بے روزگاری کے عفریت نے اُن کے اوسان بھی خطا کررکھے ہیں ۔ اب تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی 13.25 فیصدسود کی شرح برقرار رکھتے ہُوئے یہ کہہ دیا ہے کہ مہنگائی توقعات سے بھی زیادہ بڑھنے کے خدشات منڈلا رہے ہیں ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے عمرہ کی ادائیگی کے دوران بھی حرمین شریفین سے پیغام بھیجا کہ مہنگائی کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے ۔ اسٹیٹ بینک کے اعتراف اور عثمان بزدار کے حکم نے عام شہری کو مزید پریشان کیا ہے ۔ اور اگر عام شہری خوفزدہ ہوتا ہے تو لا محالہ حکومت سخت تنقید اور مخالفت کی زد میں آئے گی ۔ پہلے ہی حکومت کی مقبولیت کا گراف بُری طرح گرا ہے ۔ہمارے لئے پریشانی اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان مزید مہنگائی بڑھنے کے خدشات کا اظہار کررہا ہے اور دوسری طرف وزیر اعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان فرما رہی ہیں کہ”پہلی بار حکمرانوں کی بجائے قومی خزانے کی آمدن بڑھ رہی ہے ۔”شائد ایسی ہی صورتحال کی موجودگی میں کسی شاعر نے بجا ہی کہا تھا: ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے !! سوال یہ ہے کہ اگر حکومتی خزانے کی آمدن بڑھی ہے تو اس کے مثبت اثرات عوام کی طرف منتقل کیوں نہیں ہو رہے ؟کیوں ایف بی آر یہ اعلان آئے روز کررہا ہے کہ ٹیکس کولیکشن کے اہداف پورے نہیں ہو رہے ؟کیوں عالمی مالیاتی ادارے پاکستانی معیشت بارے مثبت اور حوصلہ افزا رپورٹیں جاری کرنے سے ہچکچا رہے ہیں؟میڈیا یہی رپورٹیں قومی جذبے کے تحت شائع اور نشر کررہا ہے ۔ جو سامنے ٹھوس حقائق کی شکل میں نظر آتاہے ، میڈیا وہی اپنے قارئین اور ناظرین کو پڑھائے اور دکھائے گا۔لیکن حکومت کو میڈیا کی یہ آزادی ہضم نہیں ہو رہی ۔ پچھلی حکومتوں کی طرح یہ حکومت بھی چاہتی ہے کہ میڈیا اُس کی باندی بن کر رہے اور آنکھیں بند کرکے دن رات حکومت کے قصیدے گاتا رہے ۔ ایسا کرنا شائد ممکن نہیں ہے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور کہنے کو اس وقت بھی ملک میں جمہوریت ہی رائج ہے ۔ جمہوری ملک میں میڈیا کی آزادی یقینی بنائی جاتی ہے ۔ اور اگر کوئی حکومت میڈیا کی آزادیاں سلب کرنا چاہے تو یہ جمہوریت سے براہِ راست تصادم تصور کیا جاتا ہے ۔حیرت خیز بات یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت بھی میڈیا کی مشکیں کسنا چاہتی ہے ۔ اس غرض کے لئے ”خصوصی میڈیا ٹربیونلز” بنانے کی منصوبہ بندی سامنے آگئی ہے ۔وفاقی کابینہ نے مبینہ طور پر اس کی منظوری دے دی ہے ۔ خصوصی میڈیا عدالتیں بنائے جانے کی خبر سناتے ہُوئے وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے:” میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اور وزیراعظم میڈیا کی آزادی پر ریقین رکھتے ہیں، اس لیے حکومت ‘اسپیشل میڈیا ٹربیونل’ بنائے گی جس میں بشمول حکومت تمام اسٹیک ہولڈز کا احتساب ہو سکے گا۔ٹریبونل کو اختیار حاصل ہوگا کہ شکایت پر میرا، آپ کا اور صحافتی اداروں کے مالکان سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کا احتساب کر سکے۔

شکایات پیمرا کی’شکایت کونسل’ سے نکل کر میڈیا ٹریبونل میں منتقل ہوجائیں گئی۔ میڈیا ٹریبونل نئی اور زیر التوا شکایات یا مقدمات کا جائزہ لے گا۔اسپیشل میڈیا ٹریبونل کی سرپرستی اعلیٰ عدلیہ کرے گی اور ٹریبونل 90 دن کے اندر شکایت کا ازالہ کرے گا”۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وزیر اعظم سے میٹنگ کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہُوئے جو گفتگو فرمائی ہے، اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان میڈیا سے ناراض ہیں ۔ بقول فردوس عاشق اعوان:” وزیر اعظم نے کہا ہے کہ آزادی اظہار کی آڑ میں حکومتی شخصیات کے خلاف بغیر ثبوت کے الزامات لگائے جارہے ہیں،مثبت تنقید حکومتی کارکردگی بہتر بناتی ہے لیکن منفی پروپیگنڈے کا مقصد حکومت اور عوام میں پائے جانے والے اعتماد کو ہدف بنانا ہے ۔بقول فردوس عاشق اعوان، وزیر اعظم عمران خان نے کہا:میڈیا سے متعلق کوڈ آف کنڈکٹ پر عملدرآمد بنانے کیلئے پیمرا اپنا موثر کردار ادا نہیں کررہا ، حکومت ترقی یافتہ ممالک کی طرح میڈیا کو نئے خطوط پر استوار کرنا چاہتی ہے ۔”پاکستان کی صحافتی برادری نے مجوزہ” اسپیشل میڈیا ٹربیونلز” کو مسترد کر دیا ہے کہ یہ اقدام دراصل میڈیا کو مزید پابجولاں کرنے کے مترادف ہے ۔ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز( سی پی این ای) کے صدر جناب عارف نظامی نے اس فیصلے کے خلاف سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے جو بالکل بجا ہے ۔عارف نظامی نے اس فیصلے کو بد نیتی پر مبنی امتیازی اور جمہوریت دشمن اقدام قرار دیا ہے ۔ اُنہوں نے کہا:”میڈیا پہلے ہی غیر اعلانیہ شدید پابندیوں اور دباؤ کا شکار ہے اور اب میڈیا ٹریبونلز کے ذریعے مزید پابندیوں اور دباؤ میں جکڑنے کی کوشش کی جارہی ہے جو ملک میں جمہوری کلچر کے استحکام، تحریر وتقریر اور اظہار کی آزادی جیسے بنیادی حقوق کے فروغ میں رکاوٹ ثابت ہوگا۔”جناب عارف نظامی نے اے پی این ایس، پی ایف یو جے اور پی بی اے سمیت تمام میڈیا تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ ااس عفریت کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہو کر مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں ۔سی پی این ای کے صدر نے جو کچھ کہا ہے، ہم اُن کے الفاظ سے کامل اتفاق کرتے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ حکومت ایسے ہتھکنڈوں کو بروئے کار لانے سے باز رہے گی ، بصورتِ دیگر اُسے ملک بھر کی صحافتی تنظیموں اور کارکن صحافیوں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔میڈیا کی آزادی کے سب علمبرداروں کو متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہوگا، وگرنہ پھر وہ نوبت بھی آسکتی ہے کہ بقول شاعر سبھی یہی نوحہ پڑھتے سنائی دیں گے :

بات کرنے کی بھی آزادی گئی
شہر سے اب رسمِ فریادی گئی

افسوسناک بات یہ ہے کہ وزیر اعظم جناب عمران خان نے میڈیا کے لئے خصوصی عدالتیں بنانے کا فیصلہ عین اُس وقت کیا ہے جب وہ یو این او کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے اور” کشمیر کا سفیر” بن کر جا رہے ہیں ۔ ایسے ماحول میں تو اُنہیں ملک بھر کے میڈیا ، عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کی اجتماعی طاقت درکار ہے لیکن اُنہوں نے اس طاقت کے حصول کے برعکس قدم اُٹھا کر اُلٹا میڈیا کو ناراض کر دیا ہے۔ جب سے پی ٹی آئی برسرِ اقتدار آئی ہے ، اوّل روز سے وہ میڈیا کی آزادی سلب کرنے کے نت نئے منصوبے بنا رہی ہے ۔ اس مقصد کے حصول کیلئے کئی بین السطور اور خفی اقدام کئے گئے ہیں جن کے کارن ملکی میڈیا اور میڈیا ورکرز مشکلات کا شکار بنا دئیے گئے ہیں ۔

لیکن اب تو حکومت کھل کر میڈیا کی دشمنی پر اُتر آئی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے کو قانون بنانے سے قبل عمران خان کو میڈیا کی منتخب قیادت سے مل بیٹھ کر مشاورت کرنی چاہئے کہ ملکی سیاست اور معیشت پہلے ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ۔ پاکستان کے دو سابق وزرائے اعظم اور ایک سابق صدر جیلوں میں ہیں ۔ اور اب تو قومی اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی کے سینئر سیاستدان و ایم این اے سید خورشید علی شاہ بھی کئی الزامات کے تحت حراست میں لے لئے گئے ہیں ۔یہ عنوانات بہتری کی طرف جاتے نظر نہیں آتے اور اگر میڈیا دیانتداری سے اِنہی” عنوانات” کی رپورٹنگ اور تجزئیے شائع اور نشر کرتا ہے تو حکومت کی پیشانی پر بَل پڑ جاتے ہیں ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.