Daily Taqat

اِک زمانے میں مزاج اُن کا سرِ عرشِ بریں تھا

آج سے ٹھیک چار دن بعد پورے ملک میں عام انتخابات منعقد ہوں گے۔ قومی بھی اور صوبائی بھی۔ اُمیدواروں کا پورا زور لگ رہا ہے۔ وطنِ عزیز کی تینوں بڑی پارٹیاں میدان میں ہیں۔ اقتدار کا ہما مگر کس کے سر بیٹھے گا، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ نااہل نواز شریف اور اُن کی نااہل بیٹی اور نااہل داماد زندان خانے سے صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں لیکن ”ثابت قدمی” کی حد ملاحظہ کیجئے کہ تینوں مجرم اپنے گناہوں اور جرائم کو ماننے پر تیار نہیں ہیں۔یقیناً دونوں باپ بیٹی کے مزاج کچھ نہ کچھ تو درست ہُوئے ہوں گے۔ اُن کے غرور اور تکبر میں کچھ تو کمی واقع ہُوئی ہو گی۔ اُن کے ہوش ٹھکانے آئے ہوں گے ۔ وہ لوگوں کو خود سے کمتر خیال کرتے تھے اور اُن کے دماغ عرش پر تھے۔ اب تنہا ہُوئے ہیں تو انہیں یاد آنے لگا ہے کہ جیل کے کمرے ٹھیک ہیں نہ جیل کے غسل خانے۔ جیل میں بستر بھی غلیظ ہیں اور جیل کا کھانا بھی غیر انسانی ہے۔ ایسے میں ہمیں ایک شاعر کا باکمال شعر یاد آگیا ہے:
اب وہ پھرتے ہیںاِس شہر میں تنہا لئے دل کو
اِک زمانے میں مزاج اُن کا سرِ عرشِ بریں تھا
تینوں بڑے مجرم راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بند ہیں ۔ نواز شریف اور مریم نواز کے بارے میں ابھی دو ریفرنسوں کے فیصلے ہونا باقی ہیں۔ قوم کی نظریں ان پر بھی لگی ہیں لیکن یہ نگران حکومت اور ہمارے نگران حاکم کیا تماشہ لگا رہے ہیں؟ پہلے نگرانوں کی طرف سے قوم کے سامنے یہ فیصلہ رکھا گیا کہ مجرم نواز شریف اور مجرمہ مریم نواز کے بارے دونوں مذکورہ بقیہ مقدمات کی سماعت اڈیالہ جیل کے احاطے کے اندر ہوگی۔ یہ فیصلہ مستحسن بھی تھا اور محفوظ بھی ۔ وجہ یہ تھی کہ دونوں مجرموں کے بارے کھلی عدالت میں ٹرائل کسی حادثے کا شکار بھی ہو سکتا تھا۔ ہمارے ملک میں سیکورٹی کے جو مخدوش اور مشکوک حالات جاری ہیں، اس پس منظر میں اڈیالہ جیل میں سماعت اچھا اور مناسب فیصلہ تھا۔ خاص طور پر اب تو اِس بارے میں زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت تھی کہ پشاور، بنّوں اور مستونگ میں دہشت گردوں نے جن خونی وارداتوں کا ارتکاب کیا ہے اور جن میں مجموعی طور پر 150سے زائد معصوم پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔ ابھی اِس فیصلے کے بارے عوام میں اطمینان کی لہر دوڑ ہی رہی تھی کہ 18جولائی2018ء کو وزیر اطلاعات علی ظفر شاہ نے ایک پریس کانفرنس کر کے سب کو چونکا دیا۔ موصوف نے پریس کانفرنس میں یہ اعلان فرمایا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کے بارے میں اڈیالہ جیل میں باقی دو ریفرنسوں کی سماعت بارے پہلے والا فیصلہ منسوخ کیا جاتا ہے اور اب یہ سماعت کھلی نیب عدالت میں ہو گی۔ جس نے بھی نگران وزیر اطلاعات کا متذکرہ اعلان سُنا ہے، سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہے۔ ہم بھی ابھی تک ششدر ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ ردِ عمل کا اظہار کیسے کیا جائے؟عوام نگرانوں پر حیران ہیں کہ انہیں یا تو اپنے فیصلوں پر اعتماد نہیں ہے یا پھر یہ اپنے فیصلوں میں ردو بدل کرکے دانستہ مجرم نواز شریف اور مجرمہ مریم نواز کو کسی نہ کسی شکل میں فائدے بہم پہنچانا چاہتے ہیں۔ ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ تازہ فیصلہ کمزور بھی ہے اور اس میں کئی خطرات بھی پوشیدہ ہیں۔ لوگ تو پہلے ہی جج محمد بشیر کے فیصلے کو کمزور بھی کہہ رہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جج مذکور نے شریفوں کو کرپشن سے صاف اور پاک کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے شریفوں کو فیصلے کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے مواقع بھی ملے ہیں۔ اب جب یہ فیصلہ سامنے آیا ہے کہ دونوں مجرموں کا ٹرائل اوپن کورٹ میں ہو گا تو اس کے یہ مطالب لئے گئے ہیں:(١) یہ کہ جب اڈیالہ جیل سے روزانہ مجرموں کو نیب عدالت اور نیب عدالت سے اڈیالہ جیل لایا اور لے جایا جائے گا تو اِس کا اصل فائدہ مجرموں ہی کو پہنچے گا(٢) مجرموں کے سیاسی کارکنوں کو نعروں اور جلوسوں کی شکل میں احتجاج کرنے کے واضح مواقع میسر آئیں گے(٣) اڈیالہ جیل سے نیب عدالت میں لانے اور لے جانے کے دوران میڈیا میںمجرموں کی بھرپور کوریج ہوگی جس سے مجرموں ہی کو فائدہ پہنچے گا(٤) عالمی میڈیا میں تصویروں کے ساتھ دونوں مجرموں کی ”مظلومیت” کی کہانیاں شائع ہوں گی جس کی وجہ سے عدالت کے زیر دباؤ آنے کے امکانات ہیں(٥)اِن خدشات کا اظہار بھی ابھی سے کیا جانے لگا ہے کہ اگر خدانخواستہ مجرموں کو اڈیالہ جیل سے نیب عدالت لانے اور نیب عدالت سے واپس اڈیالہ جیل لے جانے کے دوران کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ ملک میں سیکورٹی اور دہشت گردی کے جو حالات ہیں، اِن میں ایسے امکانات کو سرے ہی سے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ تازہ خود کش حملوں کی باز گشت تو پہلے ہی سارے ملک میں سنائی دے رہی ہے۔ اِس پیش منظر میں وزیر اطلاعات سید علی ظفر کا اعلان سب کو حیران کر گیا ہے۔ ہم واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ یہ اعلان کسی بھی طرح فریقین کے لئے مناسب نہیں ہے۔ یہ خطرات اور خدشات سے بھرا پڑا ہے۔ خدا کرے ہمارے خدشات اور شکوک بے بنیاد ثابت ہوں لیکن اِن خدشات کی ”بُو” سو نگھی جا سکتی ہے۔ اگر نگرانوں کو یہ ”بُو” نہیں آرہی تو اُنہیں اپنی قوتِ شامعہ کا علاج کروانا چاہئے۔ یہ فیصلہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب ابھی چند دن پہلے ہی سارے ملک میں ، دہشت گردی کے مسلسل سانحات کی بنیاد پر، یومِ سوگ منایا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے اپنی مذکورہ پریس کانفرنس میں شہدا کے لئے دعائے مغفرت تو کروائی لیکن اُنہیں مذکورہ خدشات و خطرات کا خیال نہ رہا، حالانکہ وہ مبینہ طور پر ایک معروف قانون دان بھی ہیں اور ایک بڑے قانون دان کے صاحبزادے بھی۔ لگتا مگر یہ ہے کہ نگران بس ڈنگ ٹپانے کی کوششوں میں لگے ہُوئے ہیں۔ اُن کے فیصلوں کے مضمرات کیا ہوں گے، ان کی طرف اُنکا دھیان کم کم جارہا ہے۔ اُن کے فیصلوں اور اُٹھائے گئے اقدامات کی بدولت ملک کو جو نقصانات پہنچ رہے ہیں، یہ دُور رَس بھی ہیں اور مہلک بھی لیکن کسی علیہ ماعلیہ کی پروا کئے بغیر اقدامات کئے جارہے ہیں اور انہیں ساری نگران کابینہ کا اجتماعی فیصلہ بھی قرار دیا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر ڈالر کی بے تحاشہ اُڑان۔ جب سے سابق چیف جسٹس ناصر الملک کی نگران وزارتِ عظمیٰ آئی ہے، ڈالر کی قیمت میں تین بار اضافہ کیا جا چکا ہے۔ روپے کی قدروقیمت گر گئی ہے اور ملک پر مجموعی طورپر تقریباً 1200ارب روپے کے اضافی قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب روپے کی قیمت کم ہو گی اور ڈالر کی شرح میں اضافہ ہو گا تو ملک کے کندھوں پر قرضوں کا بوجھ بڑھے گا۔ وطنِ عزیز پر پہلے ہی 92ارب ڈالر کا قرضہ چڑھ چکا ہے، نواز شریف اور اُن کے سمدھی اسحق ڈار نے اس قوم پر ظلم کے پہاڑ توڑتے ہُوئے وطنِ عزیز کی معاشی کشتی تقریباً ڈبو ہی دی۔ جو کسر رہ گئی تھی، وہ ان ظالموں نے لُوٹ سیل لگا کر پوری کرلی۔ اب جو نگران آئے ہیں ، ان سے اُمید تھی کہ یہ روپے کی قدر کو سہارا دیں گے لیکن ان کے اقدامات تو سابقین سے بھی دوہاتھ آگے ہیں۔ ہر بار جب بھی روپے کی قیمت کم کی جاتی ہے، قوم کو یہی تسلّی دی جاتی ہے کہ روپے کی قیمت کم اور ڈالر کی قدر زیادہ کرنے سے ملک کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہو گا، ملک میں ڈالروں کی بارش ہو گی لیکن قوم کو کبھی یہ بتانے کی تکلیف گوارا نہیں کی جاتی کہ روپے کی شرح کم کرنے سے ملک کی ایکسپورٹ میں کہاں تک اور کتنا اضافہ ہُوا ہے۔ کبھی نہیں۔ نگرا ن وزیر اعظم ، نگران وزیر خزانہ اور نگران وزیر خارجہ کی موجودگی میں اب جو ڈالر کی قیمت بڑھی ہے ، اس نے توعوام کے ہوش اُڑا کررکھ دئیے ہیں۔ اب ڈالر تقریباً130روپے اور برطانوی پاؤنڈ 167روپے کا ہو چکا ہے۔ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ ہمارے مقابلے میں تو بنگلہ دیش اور افغانستان کی کرنسیوں کی قیمت طاقتور ہے ۔ اور ہم ایک ایٹمی ملک ہونے کے باوجود اپنی معیشت اور روپے کو سہارا دینے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ ایک بار پھر آئی ایم ایف کے سامنے جھولی پھیلانے کی باقاعدہ تیاریاں ہو رہی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اس ملک کو دنیا کی نظروں میں تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔ نگرانوں نے اس تماشے میں اپنا تماشہ شامل کر کے صورتحال کو مزید گمبھیر کر دیا ہے۔قوم کو اِن اقدامات سے مایوسی ہُوئی ہے۔ نگرانوں نے نواز شریف اور مریم نواز کی لندن سے لاہور آمد اور پھر لاہور سے انہیں راولپنڈی منتقل کرتے وقت جو مضحکہ خیز احکامات جاری کئے، ان سے مجرموں کی ہمدردی میں تو اضافہ ہُوا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ واقعی مجرمان کو سزا کیلئے جیل بھیجا جارہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں مجرموں کی وطن واپسی ملک بھر میں کوئی بڑا جلوس نکالنے کا باعث نہ بن سکی ۔ بڑے مجرم کے سگے بھائی بھی اپنا قافلہ بھائی کے استقبال کیلئے ائر پورٹ تک لیجانے میں دانستہ کامیاب نہ ہو سکے۔ اِسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مجرموں سے پارٹی ارکان اور لیڈرز کتنے اور کہاں تک مخلص تھے اور ہیں؟ اس سلسلے میں مجرم نواز شریف کے سابق وزیر خواجہ آصف نے تو سچ بول کر ویسے ہی نون لیگ کی لُٹیا ڈبو دی ہے۔ خواجہ آصف نے صاف صاف الفاظ میں قوم کو بتایا ہے کہ کوئی جلوس ائر پورٹ تک اسلئے پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکا کیونکہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ نواز شریف کی آمد کے موقع پر کوئی جلوس اور قافلہ ائرپورٹ پر سرے سے پہنچے گا ہی نہیں۔ اگر دھوکہ دہی کا یہ فیصلہ تھا تو قوم کو سُولی پر کیوں لٹکا رکھا تھا؟ سارے لاہور میں کرفیو کا سماں کیوں پیدا کیا گیا؟ لاہور بھر کو آہنی کنٹینروں میں محصور کرکے سارے شہریوں کو عذاب میں کیوں مبتلا کیا گیا؟ نگرانوں کے ہاتھ پاؤں کیوں پھولے رہے؟ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟ہم سمجھتے ہیں کہ قوم کو اِس ذہنی اذیت سے نجات دلانے کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان کو آگے قدم بڑھانا چاہئے، وگرنہ آئے روز ملک بھر میں دونوں مجرم اور اُن کے بہی خواہ جگہ جگہ تماشے لگاتے رہیں گے اور شہریوں کا جینا حرام ہوتا رہے گا۔ عزت مآب چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب کا ہر فیصلہ اور ہر قدم ملک وقوم کی بہتری اور بھلائی کے لئے اُٹھ رہا ہے۔اُن کی صورت میں اُمید کی ایک نئی شمع روشن ہُوئی ہے۔ قوم اُن کی جانب بڑی توقعات کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ اور اِس میں کوئی مبالغہ بھی نہیں ہے۔ میڈیکل ڈاکٹروں، نجی میڈیکل کالجوں ، جعلی ادویات سازوں، زمینوں پر قبضہ کرنے والوں، کرپٹ سیاستدانوںوغیرہ کے بارے میں آپ نے جتنے بھی اب تک اقدامات کئے ہیں، سبھی کی بجا طور پر ستائش کی گئی ہے۔ یوں اُمید کی نئی کرنیں بیدار ہُوئی ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں، مقتدر حکمرانوں اور بیوروکریٹوں نے قوم کو جس بُری طرح مایوس اورنا اُمید کیا ہے، اس پس منظر میں میاں ثاقب نثار صاحب سے لگاؤ اور امیدوں کا وابستہ کیا جانا غیر فطری نہیں ہے۔ ملک میں پانی کے بحرانوں کو کم کرنے کے بارے میں عزت مآب چیف جسٹس صاحب نے ذاتی دلچسپی لے کر قوم کے اندر جس نئے جذبے کو بیدار کیا ہے، اِس بارے میں ہم سب اُن کے شکر گزار ہیں۔ یہ جذبہ دراصل ہمارے منتخب حکمرانوں کو پیدا کرنا چاہئے تھا جو عوام کے ووٹ لے کر حکمران بنتے رہے اور اقتدار کے مزے اُڑاتے رہے ہیں ۔ شومئی قسمت سے مگر ایسا نہ ہو سکا اور وقت کے پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا اورہم اب افسوس میں ہاتھ مَل رہے ہیں۔ اب جب آبی بحران سامنے نظر آرہے ہیں تو جناب چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے ایک مہم جُو ریفارمر کی مانند قدم آگے بڑھائے ہیں اور ملک کے دو ڈیمز (دیامر بھاشا اور مہمند) بنانے کے لئے ساری قوم سے عطیات اور چندوں کی شکل میں ایثار کی اپیل کررہے ہیں۔ اس ضمن میں اُنہوں نے پہل خود سے کی اور اس مَد میں دس لاکھ روپے جمع کروا دئیے۔ اُن کی شاندار مثال کے پیشِ نظر اب تک پاکستان بھر سے کئی نمایاں افراد اور اداروں نے دونوں ڈیمز کے لئے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے جمع کروا دئیے ہیں۔اِن اقدامات اور جذبوں کی قدر بھی کرنی چاہئے اور اُن کی تحسین بھی ہونی چاہئے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اب تک اس مَد میں 67کروڑ روپے تقریباً اکٹھے کئے جا چکے ہیں۔ دونوں ڈیمز کی تعمیر کے لئے اگرچہ مجموعی طورپر ایک ہزار ارب روپے کی ضرورت ہے ۔ یوں دیکھا جائے تو اب تک جمع شدہ رقم کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی ۔ شائداس کی وجہ یہ ہے کہ ساری قوم دل سے یہ چاہتی ہے کہ پہلے کالا باغ ڈیم بنایا جانا چاہئے ۔ یہ ڈیم بنے گا تو ہماری بگڑی تقدیر بھی سنورے گی، ہمارے گمبھیر آبی مسائل بھی حل ہوں گے، توانائی کی بے پناہ کمی سے بھی جان چھوٹے گی اور ہمیں پانی کے حوالے سے بھارتی بلیک میلنگ سے بھی ہمیشہ کے لئے نجات مل جائے گی ۔ کالا باغ ڈیم ہی ہماری ترجیح ہونی چاہئے۔ قوم اس ڈیم ہی کو باقی ڈیموں پر فوقیت دے رہی ہے۔ قوم نے کالا باغ ڈیم ہی سے اُمیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔جنرل ضیاء الحق ، نواز شریف، بینظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف اگر اِس بدقسمت ملک سے مخلص ہوتے تو رِسک لے کر بھی کالاباغ ڈیم کی تکمیل کی طرف مثبت اور کامیاب قدم اُٹھا سکتے تھے لیکن افسوس وہ اپنے اپنے مفادات کی تکمیل میں تو مگن رہے لیکن کالا باغ ڈیم کے ذکر پر یہ بہانہ تراشتے رہے کہ ”یہ متنازع ہے۔ قوم کا اس بارے میں اتفاق نہیں ہے۔” حیرانی ہے؛ چنانچہ اِسی پس منظر میں ہم جناب چیف جسٹس صاحب سے عرض گزار ہیں کہ خدارا، ڈیم بنانے کی طرف تگ و دَو کرنی ہے تو سب سے پہلے کالا باغ ڈیم بنایا جائے۔ پھر دیکھنا کہ پوری قوم کس جذبے کے ساتھ جوق دَر جوق آپکے پیچھے چلتے ہُوئے عطیات کی بارش کرتی ہے۔ اگر کالا باغ ڈیم کی آپ آواز لگاتے ہیں تو ساری قوم آپکی آواز میں اپنی آواز شامل کرے گی۔ یہ قد م پلیز آپ اُٹھا کر تو دیکھئے۔ملک بھر کے بینک دونوں ڈیموں کے حوالے سے عام لوگو ں اور اپنے کھاتہ داروں کو پیغامات بھی دھڑا دَھڑ بھجوا رہے ہیں کہ اُن کے توسط سے ڈیموں کی مَد میں عطیات جمع کروائے جا سکتے ہیں۔ کہنے اور سُننے کو تو یہ اچھا منظر ہے۔ ملک ہی کے مفاد میں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ تو کالا باغ ڈیم کی تعمیر ہے ۔ کالا باغ ڈیم ہمارے مسائل کے حل کے لئے شاہ کلید کی حیثیت رکھتاہے۔ یہ کنجی ہمیں میسر آئے گی تو ہماری تقدیر بھی بدل جائے گی۔ اِسے آزما کر تو دیکھئے!!


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »