Daily Taqat

عسکری تبدیلیاں ، بلوچستان کا زلزلہ اورپاکستان کیلئے طالبان کے پیغامات

رواں ہفتے کے دوران افواجِ پاکستان میں اعلیٰ سطح کے چند تبادلوں اور تبدیلیوں کی باز گشت ہر طرف سنائی دے رہی ہے ۔ لیفٹیننٹ جنرلز کی سطح کے تبادلے یوں تو معمول کی کارروائی خیال کی جانی چاہئے لیکن پاکستان میں ایسے تبادلوں کو خاص نظر سے دیکھا، پرکھا اور سنا جاتا ہے ۔ ہمارے میڈیا میں ان تبدیلیوں اور تبادلوں پر اپنی اپنی نظر سے تجزئیے شائع اور نشر ہو رہے ہیں ۔ بنیادی طور پر دیکھا جائے تو ایسا ہونا نہیں چاہئے ۔ افواجِ پاکستان کو اپنے ڈسپلن اور نظم کی بنیاد پر اپنے فرائض انجام دیتے رہنا چاہئے ۔ ان کے تجزیوں کی ضرورت ہی لا یعنی ہے ۔ انہی تبادلوں میں آئی ایس آئی کے ڈی جی کا پشاور میں کور کمانڈر کی حیثیت میں تبادلہ اور نئے ڈی جی کی آمد کی خبر خاصی گرم رہی ۔ اگر یوں کہا جائے کہ گذشتہ ہفتے میں یہی خبر وطنِ عزیز کی سب سے اہم ترین خبر قرار پائی تو ایسا کہنا بے جا نہیں ہوگا۔ پاکستان میں عسکری تبدیلیوں اور تبادلوں کے انہی ایام میں ”نیب” کے چیئرمین کی ملازمت میں توسیع بھی کی گئی ہے اور ”نیب” قوانین میں چند ترمیمات بھی کی گئی ہیں ۔ اپوزیشن اس حکومتی اقدام پر خاصی طیش میں ہے اور عمران خان حکومت کے اس ایکشن کے خلاف عدالتوں کے دروازے پر دستک دینے کے اعلانات کررہی ہے ۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ خان صاحب نے”نیب” چیئرمین کی ملازمت میں توسیع کرکے اور ”نیب” قوانین میں من پسند ترمیمات کر کے دراصل خود کو این آر او دے دیا ہے ۔ جناب صدرِ مملکت نے خصوصی آرڈیننس کے ذریعے حکومت کی اس ضمن میں دستگیری فرمائی ہے ۔ اس عمل نے ”نیب” کے حوالے سے حکومتی اقدامات کو مزید قابلِ گرفت بنا دیا ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاملات مزید کشیدہ اور گمبھیر ہو گئے ہیں ۔ اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے ہفتے نون لیگ کی نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک خاص پٹیشن دائر کی ہے ۔ اس پٹیشن کا ہر جانب بڑا غلغلہ اور شور ہے ۔ اس پٹیشن میں بعض سنگین الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں ۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مریم نواز شریف نے یہ قدم اُٹھا کر دراصل ایک بڑا جُوا کھیلا ہے ۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد خاص طور پر اس پٹیشن کے حوالے سے مریم نواز پر بڑے برس رہے ہیں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ ” مریم نواز کے بیانات خونی ہوتے جا رہے ہیں” اور یہ کہ ” شہباز شریف مفاہمت کرکے کچھ زمین ہموار کرتے ہیں لیکن مریم نوازاس کوشش پر جھاڑو پھیر دیتی ہیں۔” پورا میڈیا مریم نواز کی اس پٹیشن پر تبصروں اور تجزیوں سے بھرا پڑا ہے ۔ ہر کوئی اس کے مضمرات کا اپنی اپنی استعداد کے مطابق جائزہ لے رہا ہے ۔ اس پٹیشن نے کئی اطراف میں پریشانیاں بھی پیدا کی ہیں ۔ انہی پریشانیوں میں بلوچستان کے علاقے ”ہرنائی” میں خوفناک زلزلہ آیا ہے جس میں ڈیڑھ درجن سے زائد پاکستانی شہری جاں بحق ہو گئے ہیں ۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد ایک سو سے زائد بتائی جا رہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے اور زخمی ہونے والوں کو جلد از جلد صحت سے نوازے ۔ آمین ۔ پاکستان میں زلزلے نے قیامتِ صغریٰ پیدا کی ہے تو افغانستان میں ایک خود کش بمبار نے کندوز میں ایک مسجد پر حملہ کیا ہے ۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب لوگ جمعہ کی نماز ادا کررہے تھے ۔ شقی القلب درندے خود کش بمبار کے اس اقدام کے نتیجے میں 100سے زائد بے گناہ افراد جاں بحق ہو گئے ۔ یہ سانحہ 8اکتوبر کو پیش آیا ہے ۔ مبینہ طور پر داعش کے کسی درندے نے اس ظالمانہ عمل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ کندوز کی جس مسجد پر خود کش حملہ ہُوا ہے ، وہ اہلِ تشیع کی تھی ۔ ایسے افسوسناک سانحات کی موجودگی میں نائب امریکی وزیر خارجہ ( وینڈی رُتھ شرمن) نے 8اکتوبر2021ء کو پاکستان کا دو روزہ دَورہ کیا ہے ۔ شرمن صاحبہ اس سے پہلے بھارت کا تین روزہ دَورہ کر چکی تھیں ۔ بھارت میں تو امریکی نائب وزیر خارجہ پاکستان کے بارے میں نامناسب بیانات کے گولے داغ رہی تھیں لیکن پاکستان پہنچتے ہی اُن کا لہجہ ملائم اور نرم ہو گیا ۔ ان کے دَورے کا مرکزی ایجنڈہ مبینہ طور پر پاکستان کا افغانستان میں اہم کردار بارے بتایا گیا ہے ۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ امریکہ اگر ان دنوں پاکستان سے ناراض ہے تو اس کی وجہ بھی افغانستان ہی ہے ۔ اور افغان طالبان کا حال یہ ہے کہ پاکستان کے بے پناہ تعاون اور امداد کے باوجود پاکستان کو آنکھیں دکھا رہے ہیں ۔15اگست2021ء کے بعد ، جب سے افغان طالبان نے باقاعدہ افغانستان کا اقتدار سنبھالا ہے، پاکستان مسلسل طالبان انتظامیہ اور طالبان کے نئے انفراسٹرکچر کی حمائت اور مدد کررہا ہے۔ پاکستان شائد دُنیا کا واحد ملک ہے جو اپنی کمزور معیشت اور کم مالی وسائل کے باوجود طالبان کی ہر شعبے میں دستگیری کرتا نظر آ رہا ہے ۔ نئے طالبان حکمرانوں کی اعانت اور امداد کرتے ہُوئے پاکستان کو کئی مخالف ممالک، عالمی اداروں اور حکمرانوں کی جانب سے طعنے مہنے بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں ۔ پاکستان کے اندر سے بھی بعض جوانب سے ایسی آوازیں اُٹھتی سنائی دے رہی ہیں کہ پاکستان کو مقتدر طالبان کی اتنی کھل کر امداد نہیں کرنی چاہئے کہ دُنیا ہمارے خلاف ہی صف آرا ہو جائے ۔وزیر اعظم جناب عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی طرف سے مگر افغان طالبان کی امداد کرنے میں کوئی فرق آیا ہے نہ کمی ۔ جناب عمران خان تو خود بھی عالمی اداروں اور دولتمند ممالک سے درخواستیں کرتے نظر آ رہے ہیں کہ طالبان حکومت کی فوری طور پر مالی اور سفارتی امداد کی جانی چاہئے ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ، شاہ محمود قریشی، اور ہمارے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر، معید یوسف، بھی اپنی اپنی جگہ کوشش کررہے ہیں کہ طالبان کو تنہا نہیں چھوڑا جانا چاہئے ، بصورتِ دیگر اماراتِ اسلامیہ افغانستان کے حالات اتنے دگرگوں ہو سکتے ہیں کہ ایک بار پھر افغانستان ساری دُنیا کیلئے درد سری کا باعث بن سکتا ہے ۔ طالبان کا مذہبی افغانستان رواں لمحوں میں شدید قسم کی خشک سالی اور قحط کا سامنا کررہا ہے ۔ افغانستان کے عوام کو اناج اور خورو نوش کے سامان کی بے حد ضرورت ہے ۔ پاکستان کے عوام خود کمر توڑ مہنگائی اور مہلک بے روزگاری کے جہنم سے گزررہے ہیں ۔ اس کے باوجود مگر عمران خان کے حکم سے آٹا، چینی، گھی اور خورونوش کے سامان سے لدے ہُوئے تین سی وَن تھرٹی ایسے دیو ہیکل جہاز افغانستان کے تین اہم شہروں میں بھیجے گئے ۔ اور ایک ہفتے بعد پاکستان نے بنیادی خوراک سے لدے سینکڑوں ٹرک پھر افغانستان بھیجے ہیں تاکہ افغان عوام کی کچھ تو مدد کی جا سکے ۔ یہ امداد پاکستان اور پاکستانیوں نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کربرادر افغانستان کیلئے ارسال کی ہے ۔اس جذبہ اخوت کے باوصف پاکستانیوں نے یہ افسوسناک منظر دیکھا ہے کہ پچھلے دنوں جونہی پاکستان کے امدادی سامان سے لدے ٹرک افغان سرزمین میں داخل ہُوئے، سرحد سے پار افغان طالبان نے پاکستان ٹرکوں سے نہائت دل آزار سلوک کیا۔ ان پاکستانی ٹرکوں کے آگے پاکستان کا ہلالی سبز پرچم لہرا رہا تھا اور ٹرکوں کے دائیں بائیں آویزاں بینروں پر انگریزی، اُردو اور پشتو زبانوں میں صاف لکھا تھا کہ یہ امدادی سامان پاکستان کی طرف سے افغان بھائیوں کیلئے بطورِ تحفہ بھیجا جارہا ہے ۔ اِن واضح نشانیوں کے باوجود افغان طالبان نے ٹرکوں پر لہراتے پاکستانی پرچم نہائت بیہودہ اور توہین آمیز طریقے سے اُتار لئے ۔ بعض طالبان نے پاکستانی پرچم کو جلانے کی بات بھی کی ۔ واقعہ یہ ہے کہ اس منظر نے پاکستانیوں کے دل کھٹے کر دئیے ہیں ۔ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر بھارتی میڈیا نے پاکستان اور مقتدر طالبان کے بارے میں مزید آتشیں پروپیگنڈہ کیا۔ اور جب اس سانحہ کی باز گشت، بذریعہ ویڈیو لنکس، مقتدر طالبان تک پہنچی تو اعلان کیا گیا کہ یہ اچھا نہیں ہُوا ۔ کابل انتظامیہ نے پاکستان سے معذرت بھی کی اور یہ بھی کہا کہ ذمہ دار طالبان کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ہمیںنہیں معلوم کہ ملزم طالبان کی گوشمالی کی گئی ہے یا نہیں لیکن ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ مقتدر طالبان کے اس اقدام سے پاکستانیوں کے دل دُکھے ہیں۔پاکستان اور طالبان کے جلی اور خفی دشمن مطعون کرتے ہُوئے کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی پرچم کی توہین کرکے محافظ طالبان نے پاکستان کو کوئی پیغام ضرور دیا ہے ۔طالبان نے پاکستان کے چند صحافیوں کو بِلا وجہ 10روز تک کابل میں قید بھی کئے رکھا ۔ یہ خبر وائس آف امریکہ نے بھی شائع اور نشر کی ہے ۔ہم تو مقتدر طالبان کی مسلسل حمائت کررہے ہیں ۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مقتدر طالبان کی طرف سے پاکستان کو برابر کی محبت اور اپنائت نہیں مل رہی ۔ ٹی ٹی پی ہی کا معاملہ لے لیجئے ۔ ٹی ٹی پی نے پاکستان اور پاکستانیوں کو بے پناہ جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے ۔ ہر پاکستانی کے ساتھ ہر طالبان ذمہ دار شخصیت بھی ان حقائق سے پوری طرح آگاہ ہے ۔حیرانی کی بات مگر یہ ہے کہ کابل کا اقتدار سنبھالنے کے بعد جب بھی طالبان سے ٹی ٹی پی کے پاکستان مخالف اقدامات کے بارے میں استفسار کیا گیا، طالبان ذمہ داران اور ترجمان ہو شیاری سے طرح دے گئے ۔ بلکہ آن دی ریکارڈ طالبان ترجمانوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اس بارے پاکستان اور ٹی ٹی پی والے مل بیٹھ کر کوئی فیصلہ کریں ۔ گویا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا گیا ، حالانکہ ایک دُنیا جانتی ہے کہ ٹی ٹی پی اب بھی مقتدر طالبان کے حلقہ اثر سے قطعی باہر نہیں ہے ۔ مقتدر طالبان کی طرف سے انکار کے بعد ، بہ امرِ مجبوری، پاکستان کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ اگر ٹی ٹی پی والے ہتھیار رکھ دیں تو اُنہیں ایمنسٹی دی جا سکتی ہے ۔ اس اعلان سے خاص طور پر پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے سینکڑوں مقتول طلبا و طالبات بچوں کے لواحقین کے دل جس طرح دُکھے ہیں، اس درد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ ٹی ٹی پی کے حوالے سے بھی مقتدر طالبان نے پاکستان کو جو ”جواب” دیا ہے، اس میں بھی بقول شخصے ایک پیغام ہی ہے ۔ کیا اس پیغام کے بین السطور کو پڑھنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ؟اور اس”پیغام ” کی حقیقت بھی جاننے کی بے حد ضرورت ہے کہ پچھلے ہی دنوں ، جبکہ افغانستان بھر پر طالبان کی گرفت پوری ہو چکی تھی، ایک طالبان کمانڈر( مبینہ طور پر جنرل مبین) نے اپنے ویڈیو پیغام کے زریعے پاکستان پر یہ الزام لگایا کہ ” پاکستان ، افغانستان میں مداخلت کررہا ہے ۔ اگر پاکستان باز نہ آیا تو ہم بھی پاکستان میں مداخلت کریں گے۔”جس پاکستانی نے بھی موصوف کے یہ تہمتی الفاظ سُنے ، ششدر ہی رہ گیا۔ اور پاکستان کی افغانستان کے طالبان اور افغان سے محبت و اکرام کا یہ عالم ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے 24ستمبر 2021ء کو جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں غیر مبہم الفاظ میں نئے افغانستان، افغان طالبان حکام اور افغان عوام کی زبردست حمائت اور وکالت کی ہے ۔ خانصاحب نے حال ہی میں امریکی ہفت روزہ جریدے ( نیوزویک)کو انٹرویو دیتے ہُوئے بھی ایک بار پھر طالبان حکام اور طالبان حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کی طرف دُنیا کو توجہ دلائی ہے ۔ ”نیوز ویک ” کو انٹرویو دیتے ہُوئے بھی جناب عمران خان نے صاف الفاظ میں ایک بار پھر کہا ہے کہ ”ٹی ٹی پی نے افغان سر زمین سے پاکستان پر ہزاروں حملے کئے ہیں ۔ ان حملوں میں ٹی ٹی پی کو بعض پاکستان دشمن خفیہ ایجنسیوں کی سرپرستی بھی حاصل رہی۔” افغانستان میں پناہ گیرٹی ٹی پی کے بارے میں ہمارے وزیر اعظم کے ان کھلے الفاظ کے باوجود طالبان حکام کا ٹی ٹی پی کے خلاف بروئے کار نہ آنا سب پاکستانیوں کو حیران کئے ہُوئے ہے ۔یہ امر بھی پریشان کن ہے کہ طالبان کے عنانِ حکومت سنبھالنے کے باوجود پاک افغان سرحد پر متعین پاکستان سیکورٹی فورسز کے افسروں اور جوانوں پر حملے رُکے نہیں ہیں ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »