عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد!

اس وقت مسئلہ کشمیر پوری طرح دہک رہا ہے ۔ پچھلے ایک سال کے دوران بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر جتنا ظلم کیا ہے ، دُنیا اس پر بلبلا اُٹھی ہے ۔ اس گزرے ایک سال کے دوران اقوامِ متحدہ نے تین بار مسئلہ کشمیر ڈسکس کیا ہے جو دراصل کشمیریوں کے مسائل و مصائب سے دُنیا کی آگاہی کے مترادف ہے ۔ اس گزرے ایک سال کے دوران کشمیر پر قابض بھارتی فوجیوں نے 214نوجوان کشمیری شہید کئے ہیں ۔لاتعداد کشمیریوں کے گھر بھارتی فوج نے نذرِ آتش کر ڈالے ہیں ۔ ہزاروں کشمیری بچے مختلف بھارتی جیلوں میں قید کئے جا چکے ہیں ۔ پاکستان نے ان مظالم کے خلاف 5اگست 2020ء کو ملک بھر میں ”یومِ استحصالِ کشمیر” بھی منایا ہے ۔ معروف کشمیری حریت پسند رہنما سید علی گیلانی شاہ کو پاکستان کا سب سے بڑا سویلین ایوارڈ ”نشانِ پاکستان” بھی دے دیا ہے جس پر بھارت کو بہت تکلیف پہنچی ہے ۔ عالمِ اسلام بالخصوص عرب ممالک مگر مسئلہ کشمیر کی حمائت میں منہ میں گھنگنیاں کیوں ڈالے ہُوئے ہیں؟ یہ سب سے بڑی حیرانی کی بات ہے ۔ سعودی عرب کی قیادت میں ”او آئی سی” تنظیم اور کئی عرب ممالک واضح طور پر مسئلہ کشمیر کی حمائت میں پاکستانی موقف کے ہمنوا بننے سے انکاری ہیں ۔ تازہ ترین حج کے موقع پر سعودی عرب کے بڑے امام شیخ عبداللہ بن سلیمان صاحب نے حاجیوں سے جو خطبہ ارشاد فرمایا ہے ، اس میں کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کی مذمت بھی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی مسئلہ کشمیر کا ذکر کیا گیا ہے ۔ یہ سراسر زیادتی اور اُمتِ مسلمہ کے مفادات کے منافی عمل ہے ۔ ایسے میں پاکستان کے وزیر خارجہ نے آن دی ریکارڈ سعودی عرب اور ”او آئی سی” سے بجا طور پر زور دار الفاظ میں شکوہ کیا ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بروز بدھ(5اگست) غیر معمولی طور پر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے سعودی عرب کی زیر قیادت اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے کہا ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس کے انعقاد کے سلسلے میں پس و پیش سے کام لینا بند کرے۔ ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں شرکت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا :” میں ایک بار پھر احترام کے ساتھ اسلامی تعاون تنظیم( او آئی سی) کو بتا رہا ہوں کہ ہم وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس کی توقع کرتے ہیں، اگر آپ اس کو طلب نہیں کرسکتے ہیں تو پھر میں وزیراعظم عمران خان کو ان اسلامی ممالک کا اجلاس طلب کرنے پر مجبور کروں گا جو مسئلہ کشمیر پر ہمارے ساتھ کھڑے ہونے اور مظلوم کشمیریوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ اگر اسلامی تعاون تنظیم، وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس طلب کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پاکستان او آئی سی کے باہر اجلاس بلانے کے لیے تیار ہوجائے گا۔ پاکستان اس ضمن میں مزید انتظار نہیں کرسکتا”۔گزشتہ سال اگست میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو ملک میں ضم کر لیا تھا جس کے بعد سے پاکستان، اقوام متحدہ کے بعد سب سے بڑی تنظیم تصور کی جانے والی 57 اسلامی ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم(OIC) سے وزرائے خارجہ اجلاس بلانے پر زور دے رہا ہے لیکن یہ او آئی سی والے سعودی عرب کی قیادت میں ٹس سے مس نہیں ہو رہے ۔۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قبل ازیں ایک پریس کانفرنس میں پاکستان کے لیے سی ایف ایم کی اہمیت کی وضاحت کی تھی، تب انہوں نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر امت مسلمہ کی طرف سے واضح پیغام بھیجنے کی ضرورت ہے۔گزشتہ اگست کے بعد سے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر کشمیر سے متعلق رابطہ گروپ کا اجلاس ہوا ہے اور او آئی سی کے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن نے بھی مقبوضہ وادی میں حقوق انسانی کی پامالی کے بارے میں بیانات دیے ہیں لیکن مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس کی جانب سے کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔ او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس طلب نہ کرنے کے پیچھے ایک بڑی وجہ پاکستان کی طرف سے خصوصی طور پر کشمیر سے متعلق درخواست قبول کرنے میں سعودی عرب کی ہچکچاہٹ ہے ۔ہم سب جانتے ہیں کہ او آئی سی میں سعودی عرب کی حمایت انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں ریاض سمیت دوسرے عرب ممالک کا غلبہ ہے۔شاہ محمود قریشی نے اِسی پس منظر میں مذکورہ نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہُوئے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دسمبر میں سعودی عرب کی درخواست پر کوالالمپور سمٹ چھوڑ دیا تھا ( جس میں پاکستان ، ترکی ، ایران اور ملائشیانے مل بیٹھ کر مسئلہ کشمیر سمیت عالمِ اسلام کو درپیش سنگین مسائل حل کرنے کیلئے اتحاد کا اعلان کرنا تھالیکن سعودی عرب اس ضمن میں پاکستان سے ناراض ہو گیا تھا اور یوں پاکستان اس سمٹ یا سربراہی کانفرنس سے نکل گیا تھا اور اس اقدام سے ترکی ، ملائشیا اور ایران نے پاکستان کے خلاف بین السطور غصے کااظہار بھی کیا تھا) اب پاکستانی مسلمان سعودی عرب سے بجا طور پر مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اس معاملے پر قائدانہ صلاحیتیں دکھائیں؛ چنانچہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہُوئے کہا :” ہماری اپنی حساسیت ہے، آپ کو اس کا احساس کرنا ہوگا، خلیجی ممالک کو یہ سمجھنا چاہیے اور اب ہم مزید سفارتی نزاکتوں میں اُلجھ کر نہیں رہ سکتے۔مَیں جذباتی نہیں ہو رہا ہُوں ۔ اپنے بیان کے مضمرات کو پوری طرح سے سمجھتا ہُوں ۔ یہ درست ہے۔ ہم کشمیریوں کے دکھوں پر اب خاموش نہیں رہ سکتے۔او آئی سی کے کشمیر سے متعلق غیر فعال ہونے پر اسلام آباد میں مایوسی گزشتہ کئی ماہ سے بڑھ رہی ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے فروری میں ملائیشیا کے دورے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔عمران خان نے کہا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری کوئی آواز نہیں ہے اور ہماری صفوں میں تقسیم ہے، ہم کشمیر سے متعلق او آئی سی کے اجلاس میں مجموعی طور پر اکٹھے تک نہیں ہو سکتے”۔یاد رہے کہ ترکی، ملائیشیا اور ایران نے بھارت کی طرف سے کشمیر کے الحاق کو یکساں طور پر مسترد کیا تھا اور مقبوضہ وادی میں کشمیریوں پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کے مظالم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔یہ دراصل تین مسلم ممالک کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حق میں اور بھارت کے خلاف طاقتور ترین بیان تھا ۔ اس بیان میں بھارت کی مذمت بھی مضمر تھی ۔ ایسا بیان دراصل سعودی عرب ، بحرین ، مصر اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے بھی یکمشت آنا چاہئے تھا لیکن بد قسمتی سے ایسا کوئی ایک بیان بھی سامنے نہ آسکا ۔ اس کا کیا یہی مطلب نہیں ہے کہ یہ چاروں ممالک درحقیقت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے ساتھ ہیں ؟ اس کا یہ معنی اخذ کرنا بھی بجا ہے کہ یو اے ای ، بحرین اور مصر چونکہ سعودی عرب کی گود میں بیٹھے ہُوئے ہیں ، اسلئے انہوں نے سعودی عرب کی آنکھ کا اشارہ پا کر کشمیر بارے پاکستانی موقف کا واضح طور پر ساتھ دینے سے انکار کر دیا ۔ گویا ان ممالک کو مظلوم کشمیریوں کے مصائب کی بجائے بھارت سے اپنے تجارتی تعلقات کا زیادہ خیال ہے ۔ تو پھر کہاں گھس گئی نام نہاد اسلامی برادری اور مسلم اخوت؟بجا کہا ہے کسی شخص نے کہ اگر پچھلے ایک سال کے دوران سارے اسلامی ممالک بیک آواز بھارت سے اپنے تجارتی اور سفارتی تعلقات منقطع کرلیتے تو بھارت گھٹنوں کے بَل گر پڑتا اور مسئلہ کشمیر ، کشمیریوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل بھی ہو جاتا اور بھارت کو مقبوضہ کشمیر کو اپنے اندر ضَم کرنے کی جرأت اور جسارت بھی نہ ہوتی لیکن اسلامی ممالک اور او آئی سی نے کشمیریوں کا ساتھ نبھانے کی بجائے بھارت کی خوشنودی اور مرضی کو ترجیح دی ہے ۔ صرف پاکستان تمام تر خطرات اور خدشات کو بالائے طاق رکھتے ہُوئے مسئلہ کشمیر اور مظلوم کشمیریوں کا ہر قدم اور ہر گام پر ساتھ نبھاتا چلا جا رہا ہے ۔ اس حساس معاملے میں تیزی پیدا کرنے اور عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی طرف منعطف کروانے کیلئے ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خاصے متحرک ہُوئے نظرآتے ہیں ۔مثال کے طور پر6اگست2020ء کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کابھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں محاصرے اور 5 اگست 2019 ء کو پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرنا۔اسلام آباد میں ہمارے سفارتی ذرائع نے بتایا کہUNSCمیں 15 رکنی اِن کیمرا اجلاس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر ہوا۔شاہ محمود قریشی نے اس ملاقات کے بعد ایک ٹوئٹ میں کہا :”اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایک سال میں ہونے والا یہ تیسرا اجلاس بھارت کے اس دعوے کی مکمل تردید ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اس کا داخلی معاملہ ہے، اجلاس نے غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حق پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توثیق کی تصدیق کردی ہے” ۔چین جو سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے، نے مقبوضہ وادی میں بھارت کے مظالم سے متعلق عالمی برادری کے خدشات کی نشاندہی کرنے کے لیے اس اجلاس کو منعقد کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور تمام 15 ممبران نے اس مباحثے میں حصہ لیا۔اگست میں کونسل کی صدارت رکھنے والے انڈونیشیا کے سفیر ڈیان تریانسیہ دجانی نے اجلاس کی صدارت کی۔ اس ضمن میںوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا :” آج، جب دنیا نے بھارت کے کشمیر پر غیر قانونی قبضے کا ایک سال دیکھ لیا ہے، پاکستان یو این ایس سی کے اجلاس کا خیر مقدم کرتا ہے۔ یہ بین الاقوامی برادری اور یو این ایس سی کے ممبران کی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کی علامت ہے جو بھارتی فوج کے محاصرے کا سامنا کر رہے ہیں۔اس اجلاس سے ظاہر ہوا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی پامالی اور انسانیت کے خلاف جرائم عالمی برادری کے لیے شدید تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔پاکستان اس اجلاس کے انعقاد میں تعاون کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام ممبران بالخصوص چین کا شکر گزار ہے”۔انہوں نے نشاندہی کی کہ 5 اگست 2019 ء کو بھارت کی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیوں سے خطے کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، بھارت بھی مسلم اکثریتی خطے کی آبادی کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا :”بھارتی لابنگ کے باوجودUNSC کے مباحثے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مقیم امن، سلامتی اور انسانی حقوق کے لیے عالمی برادری کی شدید تشویش کی عکاسی ہوتی ہے”۔جب اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل غیر قانونی بھارتی کارروائی پر بحث کر رہی تھی تو ایل او سی کے دونوں اطراف کے کشمیری مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کے خلاف اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز(نیویارک) کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔انہوں نے عالمی ادارہ پر زور دیا کہ وہ صورتحال کا جائزہ لینے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لیے رپورٹ تیار کرنے کے لیے ایک وفد کشمیر بھیجے۔انہوں نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا کہ وہ 5 اگست 2019ء سے لے کر 5اگست 2020ء تک کی جانے والی تمام غیر قانونی کارروائیوں کو واپس لے اور کشمیری عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے دیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر بارے فضا ہموار ہو چکی ہے ، بس عالمی برادری کو بیدار کرنے اور اس کے سوئے ہُوئے ضمیر کو جھنجوڑنے کی بے حد ضرورت ہے ۔ اس کے لئے عمران خان ، ہمارے وزیر خارجہ اور پاکستان کے دفترِ خارجہ کو دن رات ایک کرنا پڑے گا ۔ صرف بیان دینے اور نئے سیاسی نقشے جاری کرنے سے حالات اور معاملات بہتری کی طرف گامزن ہوں گے نہ مسئلہ کشمیر اتنی آسانی سے حل ہو گا اور نہ ہی صرف بیانات کی توپیں داغنے سے کشمیریوں کو بھارتی چنگل اور ظلم سے نجات دلائی جا سکتی ہے ۔ حکیم الامت شاعرِ مشرق حضرت علامہ محمد اقبال نے کہا تھا:
رِشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم
!!عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.