Daily Taqat

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دَورئہ پاکستان اورضمنی انتخابات کا التوا

آج 12ستمبر2022ء بروز پیر جب آپ قارئینِ کرام یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل جناب انتونیو گوتریس پاکستان کا دَورہ کرکے واپس نیویارک پہنچ چکے ہوں گے۔ انتونیو گوتریس صاحب دو روزہ دَورے پر پاکستان تشریف لائے تھے ۔ اُن کے دَورے کا بڑا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کے کروڑوں سیلاب زدگان کے مسائل اور مصائب کا احوال خود دیکھ سکیں تاکہ جب وہ عالمی برادری سے ان سیلاب زدگان کے لئے امداد کی اپیل کریں تو اس میں معنویت بھی ہو اور اس اپیل پر وہ خود بھی حق الیقین کر سکیں ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تین کروڑ سے زائد افراد مہلک سیلابوں سے متاثر ہُوئے ہیں ۔ کروڑوں ایسے ہیں جو اپنے مکانات، جائیدادوں اور زرعی اراضی و فصلوں سے محروم ہو چکے ہیں ۔یہ نقصان خاصا مہیب ہے ۔ زیادہ متاثرین کی تعداد سندھ، جنوبی پنجاب اور کے پی کے کے بالائی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ گلگت ، بلتستان کے چند علاقے بھی شدید طور پر متاثر ہُوئے ہیں ۔ یو این او کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اِسی لئے پاکستان تشریف لائے تھے تاکہ سیلاب متاثرین کے مصیبت زدہ افراد کے مسائل و مصائب سے براہِ راست آگاہی حاصل کر سکیں ۔ گوتریس صاحب کی آمد کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ پاکستانی حکومت نے سیلاب زدگان کی مدد امداد کے لئے جو امیر دُنیا سے اپیل کررکھی ہے، وہ رائیگاں نہیں گئی ہے ۔ جناب گوتریس صاحب پہلے بھی ہمارے سیلاب زدگان کی دستگیری کے لئے عالمی برادری سے 16کروڑ ڈالر کی فلیش امداد کی اپیل کر چکے ہیں ۔اس اپیل کے بھی مثبت جوابات آ رہے ہیں ۔ انتونیو گوتریس صاحب 8ستمبر کی شام اسلام آباد پہنچے تھے ۔ پاکستان کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور محترمہ حنا ربانی کھر نے ہوائی اڈے پر اُن کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ پُر تپاک استقبال کیا۔اُن کی آمد کا ایک مقصد جہاں یہ تھا کہ دُنیا کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے آگاہ کریں گے، وہاں دوسرا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ دُنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران سے نمٹنے کی اپیل بھی کریں گے کہ پاکستان میں جو ہلاکت خیز سیلاب آئے ہیں ، یہ بھی تو عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کا ایک شاخسانہ ہے ۔ حالانکہ پاکستان نے عالمی موسمیاتی تبدیلوں کے مہلک اثرات میں ایک فیصد بھی حصہ نہیں ڈالا ہے لیکن سب سے زیادہ اور سب سے پہلے سزا بے گناہ پاکستان ہی کو ملی ہے ۔ پاکستان آمد کے موقع پر ہی جناب انتونیو گوتریس نے ایک ٹوئٹ میں اپنی آمد کا اعلان کیا اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی تباہی سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے عالمی برادری سے دل کھول کر مدد کرنے کی اپیل بھی کی۔اِس دَورے کے دوران یو این او کے سیکرٹری جنرل نے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو سے بھی ملے ۔ اس کے علاوہ اُنہوں نے NFRCC( نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈی نیشن سنٹر) کے اہلکاروں اور زمہ داروں سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کرکے پاکستان کے سیلابوں اور سیلاب زدگان بارے مکمل معلو مات حاصل کیں ۔ ان بریفنگز کا پاکستان کے بد نصیب سیلاب زدگان ہی کو فائدہ پہنچے گا کہ اِنہی بریفنگز کے ساتھ عالمی برادری کی مالی امداد وابستہ ہے ۔ گوتریس صاحب نے 9ستمبر2022ء کو اسلام آباد میں ، وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ، ہونے والے ایک اہم اجلاس میں شرکت بھی کی ۔ اس اجلاس کا مقصد ہی یہ تھا کہ یو این سربراہ کو پاکستان کے کروڑوں سیلاب زدگان بارے مکمل معلومات فراہم کی جائیں ۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف کی گفتگو خاصی شاندار اور متاثر کن تھی۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اچھے الفاظ میں یو این سیکرٹری جنرل کو سیلاب زدگان بارے بریفنگ دی ۔ گوتریس صاحب اس بریفنگ اور فراہم کی گئی معلومات سے خاصے متاثر لگتے تھے ۔ اُنہوں نے بجا طور پر کہا کہ عالمی کلائمیٹ چینج میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن پاکستان ہی کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ سزا( بصورتِ مہلک سیلاب) ملی ہے۔اُنہوں نے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان کے سیلاب زدگان کی ہر طرح کی بحالی اور تباہ شدہ انفرا اسٹرکچر کی تعمیرِ نَو کے لئے عالمی برادری سے دل کھول کر امداد دینے کی اپیل کریں گے ۔ گوتریس صاحب جہاز میں بیٹھ کر سیلاب زدگان کا فضائی نظارہ کرکے چلے نہیں گئے ، بلکہ اُنہوں نے سیلاب زدگان سے کیمپوں میں ( مثال کے طور پر سکھر میں) خود بھی ملاقاتیں کیں ، اُن کے مسائل بھی جانے اور اُن کے تباہ و برباد شدہ گھروں کا جائزہ بھی لیا اور خود بھی تسلیم کیا کہ سیلابوں نے واقعی معنوں میں پاکستان کے کروڑوں افراد کی زندگیوں کو بے حد نقصان پہنچایا ہے ۔ اور اب ان کی بحالی کی از حد اور فوری ضرورت بھی ہے ۔ اُنہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ ان سیلابوں سے شائد پاکستان میں خوراک کا بحران بھی پیدا ہو جائے ، لہذا اس خدشے سے بھی نمٹنے کی قبل از وقت ضرورت ہے ۔ خیال رہے کہ پاکستان امیر ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ پاکستان سمیت موسمیاتی تبدیلیوں کے شکار دیگر غریب ممالک کی مدد کریں کیونکہ ان کی جانب سے بڑے پیمانے پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے گلوبل وارمنگ ہوئی ہے، تاہم امیر ممالک بظاہر موسمیاتی نقصان کی قیمت ادا کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کو موصول ہونے والی عالمی امداد کا ایک جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی زیر قیادت امدادی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے ہمارے دوست اور اتحادی ممالک کی ایک بڑی تعداد امداد کے لیے آگے آئی ہے ۔یقیناً ایسا ہی ہے ۔ لیکن ضروت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو ملنے والی غیر ملکی امداد نہائت دیانتداری کے ساتھ سیلاب زدگان کے مستحق ہاتھوں تک پہنچ سکے ۔ پہلے ہی پاکستان کی کئی حکومتیں اِس ضمن میں خاصی بدنام ہو چکی ہیں اور اپنا اعتبار کھو چکی ہیں ۔ اِس بدنامی نے خود پاکستان کو بحثیتِ مجموعی خاصا نقصان پہنچایا ہے ۔ قوموں کے فورم پر کسی ملک اور قوم کو سفارتی سطح پر گزند پہنچ جائے تو پھر اِسے بمشکل ہی درست کیا جا سکتا ہے ۔ جس وقت یو این او کے سیکرٹری جنرل پاکستان کا دَورہ کررہے تھے ، عین اُسی وقت پاکستان میں ہونے والے ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کے احکامات جاری کئے جارہے تھے ۔ ان ضمنی انتخابی حلقوں کی تعداد 13ہے جن میں زیادہ تعداد قومی سیٹوں کی ہے ۔ دس قومی اور تین صوبائی اسمبلی کی نشستیں ۔ای سی پی سے جاری بیان میں کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر راجا سکندر سلطان کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں قومی اسمبلی کی 10 اور پنجاب اسمبلی کی 3 نشستوں پر ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔دوران اجلاس شرکا کو بریفنگ دی گئی کہ چونکہ پاک فوج، رینجرز اور دیگر سیکیورٹی ادارے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مصروف ہیں ، اسلئے سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے صوبائی الیکشن کمشنرز نے ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز دی تھی۔اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ الیکشن کمیشن نے مورخہ 23اگست 2022 کو وزارت داخلہ کو ضمنی انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے پاک فوج، رینجرز اور کنسٹیبلری کی خدمات طلب کی تھیں تاکہ انتخاب کے پرامن انعقاد کو یقیی بنایا جائے لیکن تاحال قومی ایمرجنسی کی وجہ سے الیکشن کے انعقاد کے لیے متعلقہ اداروں کی تعیناتی کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو اطلاع دی گئی کہ پاک آرمی، رینجرز اور ایف سی ملک میں سیلاب زدگان کی امدادی کارروائیوں، اندرونی سیکورٹی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی روک تھام میں مصروف ہیں۔چنانچہ الیکشن کمیشن نے تمام حالات کو نظر میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انتخابات کا پرامن انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، لہٰذا ضمنی انتخابات میں پاک فوج، رینجرز اور کانسٹیلبری کی امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے دستیابی ضروری ہے، اس لیے ضمنی انتخابات ملتوی کیے جاتے ہیں۔خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقے این اے 157 ملتان، پنجاب اسمبلی کے حلقے 139 شیخوپورہ اور حلقہ 241 بہاولنگر میں ضمنی انتخابات 11 ستمبر کو شیڈول تھے۔کراچی کے تین حلقوں سمیت قومی اسمبلی کے 9 حلقوں پر ضمنی انتخابات 25 ستمبر کو ہونے تھے۔یہ بھی واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے مستعفی اراکین قومی اسمبلی کی خالی نشستوں پر 25 ستمبر کو ضمنی انتخابات کے لیے شیڈول جاری کیا تھا۔یہ بھی واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے قو می اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے پی ٹی آئی کے 11 اراکین کے استعفے منظور کرنے کے بعد جاری کیے گئے نوٹی فکیشن پر انہیں ڈی نوٹیفائی کردیا تھا۔ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وہ قومی اسمبلی کے تمام 9 حلقوں میں ضمنی انتخاب میں خود حصہ لیں گے۔الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقے این اےـ22 مردان 3، این اےـ24 چارسدہ 2، این اےـ31 پشاور 5، این اےـ45 کرم ون، این اےـ108 فیصل آباد 8، این اےـ118 ننکانہ صاحب 2، این اےـ237 ملیر 2، این اےـ239 کورنگی کراچی ون، این اےـ246 کراچی جنوبی ون میں ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا تھا۔اب ضمنی انتخابات ملتوی ہونے کے بعد ساری گیم ہی بدل گئی ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے بھی اس التوا پر احتجاج کیا ہے اور پی ٹی آئی نے بھی ۔ نون لیگ مگر بالکل خاموش رہی ہے ۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ ” کب تک لاڈلے کو ریلیف دیا جاتا رہے گا؟ ضمنی انتخابات کے لئے میرے سبھی اُمیدوار پوری طرح تیار تھے ، لیکن عین وقت پر ضمنی انتخابات ملتوی کر دئیے گئے ہیں اور اس کا مطلب پی ٹی آئی اور عمران خان کو فیور دینا ہے ۔ ہم اس اقدام اور فیصلے پر احتجاج کرتے ہیں۔”پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخابات کے التوا کا مطلب یہ ہے کہ اتحادی حکومت مقابلہ کرنے سے فرار اختیار کر گئی ہے کیونکہ ان سب کو معلوم ہے کہ وہ پی ٹی آئی کا انتخابی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے ردِ عمل دیتے ہُوئے کہا کہ اگر یہ ضمنی انتخابات وقت پر ہوتے تو نو، صفر سے انہیں شکست دیتے ۔ جماعتِ اسلامی کے امیر محترم سراج الحق نے کہا ہے کہ ” سیلاب کی وجہ سے ضمنی انتخابات ملتوی کرنے تھے تویہ فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا، اور اب جبکہ پانی اُتر رہا ہے اور سیلابی شدت کم ہو رہی ہے،تو ضمنی انتخابات کا التوا سامنے آگیا ہے ۔تاخیر نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو مشکوک بنا دیا ہے ۔” بات تو درست لگتی ہے ۔ اس فیصلے نے بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے ۔ بادی النظر میں یوں لگتا ہے جیسے یہ التوا دراصل نون لیگ اور اتحادی حکومت کے امیدواروں کو بچانے کے لئے کیا گیا ہے ۔ کئی سروے اداروں کا بھی اندازہ ہے کہ نون لیگ جب سے اقتدار میں آئی ہے اور اس نے جو عوام دشمن فیصلے کئے ہیں ، انہوں نے نون لیگ، پی پی پی اور جے یو آئی ایف کو نا مقبول بنا دیا ہے ۔ اس مبینہ نا مقبولیت کا ایک نتیجہ تو ضمنی انتخابات میں نون لیگ کی شکست کی صورت میں نکلنا ہی نکلنا تھا۔واقعہ یہ ہے کہ نون لیگ نے اقتدار قبول کرکے اور لالچ اختیار کرکے سیاسی طور پر اپنا بہت سا نقصان کر دیا ہے ۔ عوام عمران خان کی عوام دشمن پالیسیوں اور اقدامات کو بھول بھال چکے ہیں اور اب وہ نون لیگ کی عوام دشمن اقدامات کو یاد کرکے وزیر اعظم شہباز شریف ، نواز شریف اور اتحادی حکومت کے سارے شرکت کنندگان کو کوس رہے ہیں ۔ اجتماعی طور پر نون لیگ کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اس کا خود نون لیگ کو بھی احساس ہے ۔ اِسی لئے وہ ضمنی انتخابات سے فرار ہُوئی ہے ۔ عمران خان بھی اسی لئے نون لیگ اور پی پی پی کو للکار رہے ہیں ۔ وہ بجا ہی تو کہتے ہیں کہ ”13جماعتیں ضمنی انتخابات سے بھاگ گئی ہیں۔” اس للکار سے نون لیگ کے دل دہل رہے ہیں ۔10ستمبر2022ء بروز ہفتہ گوجرانوالہ میں ہونے والا عمران خان کا آخری جلسہ اسی سلسلے کی ایک دلیل اور کڑی ہے ۔عمران خان کے جلسوں کا جواب دینے کے لئے نون لیگ کی نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف نے چشتیاں میں ایک بھرپور جلسہ کیا تو ہے لیکن یہ عمران خان کے درجن بھر جلسوں کا جواب نہیں تھا۔ قطعی نہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »