اقوامِ متحدہ میں وزیر اعظم پاکستان کی ایک بار پھر شیر کی طرح دھاڑ

پچیس ستمبر2020ء کا دن اس لحاظ سے یادگار اور تاریخی رہے گا کہ اس روز وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے ایک بار پھر جرأت و استقامت اور دلیری و شجاعت کے ساتھ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کیا اور دُنیا کو صاف الفاظ میں بتایا ہے کہ پاکستان سمیت عالمِ اسلام کے اصل مسائل کیا ہیں اور یہ کہ دُنیا کس طرح کے تعصبات میں گھر کر تیسری دُنیا اور بالخصوص اسلامی ممالک کی دولت بھی لُوٹ رہی ہے اور اس کا امن چَین بھی۔پچھلے سال بھی ستمبر ہی کے مہینے میں نیویارک پہنچ کر جناب عمران خان نے جنرل اسمبلی کے جس سربراہی اجلاس سے خطاب کیا تھا، سال بھر اس کی بازگشت دُنیا بھر میں سنائی دیتی رہی ۔ خصوصاً بھارت کے پیٹ میں پچھلے سال بھی وزیر اعظم پاکستان کی تقریر سے مروڑ اُٹھے تھے اور اب 25ستمبر 2020ء کے خطاب سے پھر بھارت کے چھکے چھوٹتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ اسلئے کہ جناب عمران خان نے خاص طور پر بھارت کے تعصبات اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی اسلام دشمنی اور کشمیر دشمنی کو بے نقاب کیا ہے ۔ بھارت اس پر تلملا رہا ہے ۔ شائد یہی وجہ تھی کہ جونہی اقوامِ متحدہ میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ورچوئل تقریر شروع ہُوئی ، جنرل اسمبلی میں بیٹھے بھارتی نمائندے واک آؤٹ کر گئے ۔ اُن میں ہمت ہی نہیں تھی کہ عمران خان کے دہکتے الفاظ کی تاب لا سکتے ۔ وزیر اعظم نے خاص طور پر بھارت کے اسلاموفوبیا کا تذکرہ کرکے بھارتی حکومت ، انڈین اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی خفیہ اداروں کے چہرے بے نقاب کئے ہیں ۔ ہم اگر جناب عمران خان کے یو این جنرل اسمبلی سے تازہ خطاب کا گہری نظر سے جائزہ لیں اور اُن کی تاریخ ساز تقریر کے مندرجات کا تجزیہ کریں تو یہی عیاں ہوتا ہے کہ اُنہوں نے نہائیت خوبصورتی اور دلیری کے ساتھ پاکستان سمیت عالمِ اسلام کی بھرپور نمائندگی کی ہے اور وہ درست معنوں میں کشمیر کے سفیر بھی ثابت ہُوئے ہیں ۔ وزیر اعظم پاکستان نے اپنی تقریر میں کوئی گوشہ تشنہ نہیں چھوڑا ہے ۔ پاکستان میں عوام نے اس پر بھرپور انداز میں اپنے اعتماد اور مسرت کا اظہار کیا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ وزیر اعظم کی حالیہ اس تقریر کو دُنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کروا کر ساری دنیا کے سفارتخانوں ، جامعات اور پالیسی سزا اداروں میں تقسیم کیا جانا چاہیئے تاکہ پاکستان کے نقطہ نظر اور خاص طور پر دُنیا میں امن قائم کرنے کی پاکستانی مساعی اور کشمیر پر بھارتی مظالم اور استحصال کا پیغام پوری طرح عیاں ہو سکے ۔ مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ اور یہ محنت کرنا ہماری وزارتِ خارجہ نے کم کم سیکھا ہے ۔ ہم یہاں وزیر اعظم جناب عمران خان کے اُن نکات کا خاص طور پر تذکرہ کریں گے جو پاکستان ، مقبوضہ کشمیر ، افغانستان اور عالمِ اسلام کے بارے میں ہے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ماورائے قانون کارروائیوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے کہا :” بھارت نے72 برسوں سے جموں و کشمیر پر غیر قانونی طور پر قابض کررکھا ہے۔ یہ کشمیر کے عوام کی خواہشات کے برعکس اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ بھارت نے گزشتہ برس 5 اگست کو غیر قانونی اور یک طرفہ طور پر مقبوضہ علاقوں کی متنازع حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی اور اضافی فوجی تعینات کر دیا جس سے فوجیوں کی تعداد 9 لاکھ ہوگئی جس سے 80 لاکھ کشمیری محصور ہوگئے۔ تمام کشمیری قیادت کو قید کردیا گیا، مکمل کرفیو نافذ کیا گیا، مواصلاتی رابطے مکمل طور پر معطل کیے گئے۔ بھارتی قابض افواج نے پرامن کشمیری مظاہرین پر پیلٹ گن سمیت اپنی طاقت کا ظالمانہ استعمال کیا،مجموعی سزائیں دیںاور سیکڑوں کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل کیا اور ان کی میتیں بھی لواحقین کے حوالے نہیں کی گئیں”۔جنرل اسمبلی سے خطاب میں انہوں نے مزید کہا :” کشمیر میڈیا اور آواز اٹھانے والوں کو ظالمانہ طریقے سے خاموش کردیا گیا۔ یہ تمام واقعات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر، انسانی حقوق کونسل کے خصوصی نمائندوں کی رپورٹس میں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ عالمی برداری ان سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے اور انسانیت سوز مظالم اور ریاستی دہشت گردی میں ملوث بھارتی شہریوں اورفوجی اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انہیں مکمل استثنیٰ حاصل ہے”۔عمران خان نے نریندر مودی کی ”مدر آرگنائزیشن” آر ایس ایس کو بھی اپنے خطاب میں بُری طرح لتاڑا ۔ اُنہوں نے کہا:” آر ایس ایس اور بی جے پی کی اس ظالمانہ مہم کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر کے خود ساختہ حل کو حتمی عملی جامہ پہنانا ہے اور اسی لیے فوجی محاصرے کے بعد مقبوضہ علاقے کی آبادی کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ کوشش کشمیریوں کی شناخت کو مٹانے کے لیے ہے۔ اس کا مقصد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے کے نتائج کو متاثر کرنا ہے، یہ اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون خاص کر چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ مقبوضہ کشمیر علاقے کی آبادی کا ڈھانچہ تبدیل کرنا ایک جنگی جرم ہے، بہادر کشمیری کبھی بھی بھارتی ظلم کے آگے سر نہیں جھکائیں گے۔ کشمیریوں کی جدوجہد مقصد کے حصول، بھارتی قبضے سے آزادی کے لیے ہے اور انہوں نے نسل در نسل قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان کی حکومت اور عوام کشمیری بھائی اور بہنوں کے حق خود ارادیت، قانونی طو پر جائز جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا” ۔ وزیر اعظم صاحب نے کشمیر کو فلیش پوائنٹ قرار دیتے ہُوئے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا قضیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے اور اگر ایسا ہُوا تو اس کا ذمے دار بھارت ہی ہوگا۔ عمران خان نے کہا:” بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے غیر قانونی اقدامات اور مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے، ایک خطرناک کھیل شروع کردیا اور وہ یہ کھیل کھیل رہا ہے اور جوہری طاقتوں کے خطے میں پاکستان کے خلاف فوجی جارحیت کو ہوا دے رہا ہے۔ پاکستان نے بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن (ایل او سی) اور ورکنگ باؤنڈری پر کی جانے والی خلاف ورزیوں، معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے باوجود پاکستان نے زیادہ تحمل کا مظاہر کررہاہے۔ ہم نے عالمی برادری کو بھارت کی طرف سے جھوٹے فلیگ آپریشن اور ناقص منصوبہ بندی سے مسلسل آگاہ کرتے رہے ہیں۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آر ایس ایس کی قیادت میں بھارت کی فسطائی مطلق العنان حکومت نے پاکستان کے خلاف کوئی جارحیت کی تو اس کا سامنا ایسی قوم سے ہوگا جو آخری لمحے تک اپنے دفاع میں لڑے گی۔ جب تک جموں و کشمیر کا مسئلہ عالمی قوانین کے مطابق حل نہیں ہوتا اس وقت تک جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔ کشمیر کو درست طور پر نیوکلیئر فلش پوائنٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے، سلامتی کونسل کو ہر صورت ایک تباہ کن تنازع کو روکنا اور اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرانا ہوگا، جس طرح مشرقی تیمور میں کیا گیا۔ سیکیورٹی کونسل نے گزشتہ سال تین مرتبہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حالات کا جائزہ لیا، اس پر مناسب عملی اقدامات بھی اٹھانے چاہیئں۔ بھارت کی طرف سے کشمیریوں کی نسل کشی کی لٹکتی ہوئی تلوار کو روکنے کے لیے بھی آگے آنا چاہیے۔ پاکستان نے ہمیشہ پرامن حل کی بات کی ہے، اسی لیے بھارت پر بھی لازم ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے 5 اگست 2019ء سے کیے گئے اقدامات کو واپس لے، کشمیر کا فوجی محاصرہ اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو ختم کرے۔ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اورکشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلے کے حل کیلئے تیار ہو”۔ عمران خان نے شیر کی طرح للکارتے ہُوئے اپنے خطاب کے دوران افغانستان میں قیامِ امن کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کا ذکر بھی کیا ۔ اُنہوں نے کہا:” پاکستان خطے میں امن کا خواہش مند ہے اور افغانستان میں پرامن سیاسی حل چاہتا ہے ۔ گزشتہ 2 دہائیوں سے مسلسل یہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور آگے بڑھنے کا واحد راستہ سیاسی حل تھا اور ہے، جس میں افغانستان کی پوری سیاست قیادت شامل ہو۔ پاکستان نے اس عمل میں مکمل طور پر تعاون کیا اور اس کا نتیجہ 29 فروری 2020 کو امریکا،طالبان امن معاہدے کی صورت میں سامنے آیا۔ پاکستان مطمئن ہے کہ ہم نے اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کی ہے، افغان قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ امن کے لیے یہ تاریخی موقع ہے اور جنگ زدہ ملک میں امن کو بحال کردینا چاہیے۔ بین الافغان مذاکرات کے تحت 12 ستمبر سے شروع ہوئے مذاکرات کے ذریعے جامع سیاسی حل نکالیں، یہ عمل ہر صورت کسی مداخلت یا اثر و رسوخ کے بغیر افغانستان کے اندر ہونا چاہیے اور ان کی سرپرستی میں ہونا چاہیے۔ افغان پناہ گزینوں کی جلد واپسی بھی سیاسی حل کا حصہ ہونا چاہیے، دودہائیوں کی جنگ کے بعد ضروری ہے کہ افغانستان کے اندر اور باہر سے اس عمل کونقصان پہنچانے والے عناصر کو اجازت نہیں دی جائے۔ افغانستان میں امن سے ترقی اور علاقائی رابطوں کیلیے نئی راہیں کھلیں گی”۔ افغانستان اور کشمیر کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہُوئے عمران خان مظلوم فلسطینیوں اور فلسطین کے گمبھیر مسائل کو بھی نہیں بھولے ۔ اُنہوں نے اس ضمن میں کہا:” فلسطین کا مسئلہ آج بھی ایک رستا ہوا زخم ہے، اس کا حتمی اور منصفانہ حل مشرق وسطیٰ اور دنیا کے لیے ناگزیر ہوچکا ہے۔ فلسطینی علاقے کا غیر قانونی الحاق، غیرقانونی بستیوں کی تعمیر اور فلسطین کے عوام کے لیے غیر انسانی رہائشی صورت حال خاص کر غزہ کے حالات کے نتیجے میں خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ پاکستان دو ریاستی حل کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حدود کے مطابق حمایت کرتا ہے۔ 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر واپسی اور القدس شریف ایک متحدہ اور آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہوں۔ اقوام متحدہ آج بھی بین الاقوامی تنازعات سے نبردآزما ہونے، امن و سلامتی کی ترویج مساوی بنیادوں پر ترقیاتی عمل کو فروغ دینے اور عالمی مسائل کو حل کرنے کے لیے مجموعی اقدام کرنے کا بہترین قانونی ادارہ ہے۔ میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر زور دیتا ہوں کہ وہ عالمی تنازعات کی روک تھام کے لیے آگے بڑھیں، انہیں سلگتے ہوئے علاقائی تنازعات اور دیرینہ مسائل کے حل کیلئے سربراہی اجلاس طلب کرنے چاہیئں۔ اقوام متحدہ کو موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری کردار ادا کرنا چاہیے، سلامتی کونسل سمیت اقوام متحدہ میں جامع اصلاحات ضروری ہیں۔ اس سے جمہوریت، احتساب، شفافیت اور استعداد کار کو وسیع تر فروغ دیا جاسکے گا۔پاکستان اس عمل اور جدوجہد میں یو این او کے دوسرے رکن ممالک کے ساتھ فعال کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ تنازعات سے پاک دنیا وجود میں آئے جہاں امن، سلامتی اور خوش حالی کے مواقع سب کے لیے یکساں ہوں”۔وزیر اعظم عمران خان کے اس خطاب کی بازگشت دُورونزدیک سنائی دے رہی ہے ۔ انشاء اللہ اس کے مثبت اثرات بھی سامنے آئیں گے ۔ ان ثمرات سے پاکستان کو آگے بڑھنے اور دنیا میں قوموں کی برادری میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کے مواقع بھی میسر آئیں گے ۔ ہم بجا طور پر اُمید رکھ سکتے ہیں کہ ہمارے منتخب وزیر اعظم عمران خان عالمِ اسلام کی قیادت کر سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں بہت ٹیلنٹ بخش رکھا ہے ۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ عمران خان کو اپنے ملک میں سیاسی استحکام نصیب ہو ۔ اور اگر ملک میں انتشار ، افراتفری اور عدم یکجہتی غالب رہتی ہے تو پھر پاکستان کو قیادت کا اہل بھی کم ہی سمجھا جائے گا۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران وطنِ عزیز میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جس سر پھٹول کے مظاہر سامنے آ رہے ہیں ، ایک دوسرے کے منہ پر الزامات کی کالک ملنے کی جو غیر مناسب کوششیں کی جارہی ہیں ، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں امتیاز پیدا کرنے کے جو ہتھکنڈے بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور اے پی سی کی شکل میں اپوزیشن کی جملہ قیادت جس اسلوب میں حکومت کے خلاف بے نیام ہو کر سامنے آئی ہے ، ان سب کی موجودگی میں اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اس کے منتخب وزیر اعظم جناب عمران خان کیسے اور کیونکر اقوامِ عالم میں پاکستان کا سر بلند رکھ سکتے ہیں ؟ ایسے مںحکومت اور اپوزیشن کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے ۔

وگرنہ ہم سب کی داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.