Daily Taqat

اور وہ شخص بھی محرومِ سماعت نکلا!!

وزیر اعظم عمران خان چین کے پانچ روزہ دَورے سے واپس آ چکے ہیں۔ لیکن پہلے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار صاحب کے تازہ ترین ، حوصلہ افزا اقدامات پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ملک میں سابق حکمرانوں اور اُن کی باقیات نے اسقدر مایوسی اور کنفیوژن پھیلا رکھی ہے کہ یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے اس ملک کا کوئی روشن مستقبل ہی نہیں ہے، جیسے کرپٹ افراد یونہی دندناتے رہیں گے اور اُن کا کبھی حساب اور احتساب نہیں ہوگا، جیسے منہ زور اور سرکش سماجی عناصر یونہی اپنی من مانیاں کرتے رہیں گے اور اُنہیں کوئی لگام نہیں ڈالے گا، جیسے نیب عدالتوں سے سزایافتہ مجرم عناصر کسی اعلیٰ عدالت سے وقتی ریلیف پانے کے بعد مستقل رہائی پالیں گے ، جیسے معاشرے میں فسادبرپا کرنے والوں کا کبھی یومِ حساب نہیں آئے گا۔ الحمد للہ، مملکتِ خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ابھی ایسی طاقتیں اور ایسے بااختیار ادارے موجود ہیں جو ہماری اُمید ہیںاور جن کے ساتھ پورے ملک کے عوام نے اپنی تقدیریں وابستہ کررکھی ہیں۔ یہ ادارے ہمیں مایوسی اور نااُمیدیوں کی تاریکیوں سے بچاتے اور ہماری دستگیری کا باعث بنتے ہیں۔ عمران خان پانچ روزہ دَورے پر چین روانہ ہُوئے تو اُن کی غیر موجودگی میں ملک میں بوجوہ فسادات پھوٹ پڑے۔ ہماری معزز عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے ایک سزا یافتہ مسیحی پاکستانی خاتون کے حق میں سنائے جانے والے فیصلے کے ردِ عمل میں یہ فسادات یوں پھوٹ پڑے تھے کہ لگتا تھا پورا ملک انارکی اور لاقانونیت کی گرفت میں ہے۔غفلت، ہٹ دھرمی اور جہالت کے جذبات سے مغلوب ہو کر یہ ردِ عمل سامنے آیا۔ اگر ٹھنڈے دل اور صبر کے ساتھ سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ لیا جاتا اور اس کے مندرجات پر غورکیا ہوتا تو ہمارے بعض طبقات کی طرف سے کی گئی بیہودگی اور ہلڑ بازی کی یہ نوبت قطعی نہ آتی۔ یہ فیصلہ پڑھنا کچھ مشکل بھی نہیں ہے کہ یہ خصوصی طور پر اُردو زبان میں لکھا گیا ہے۔ قومی زبان میں یہ اہم اورحساس فیصلہ لکھنے کے مقاصد کے پیچھے حکمت ہی یہ کارفرما تھی کہ متعلقہ حلقوں کو بھی اسے پڑھنے اور سمجھنے میں دشواری اور دقت کاسامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے باوجود پورے ملک میں اُدھم مچا دیا گیا۔ تین دن تک ملک محبوس اور مسدود رہا۔فسادیوں اور بلوائیوں نے کھل کر اور بے حجابانہ انداز میں لوگوں کی ذاتی اور قومی املاک کو شدید اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ ایک محتاط حکومتی اندازے کے مطابق تین ایام کے دوران 200ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان پہنچا ہے۔ جو ملک پہلے ہی پائی پائی کا محتاج ہو، اُس ملک میں اگر تین دنوں میں بلاوجہ دوسو ارب روپے پھونک دئیے جائیں تو اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے؟یعنی: ہُوئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو؟ ” مذہب دوستوں” نے قوم اور ملک کا جس بے محابا اسلوب میں نقصان کیا ہے، ایسے میں کسی بیرونی دشمنِ پاکستان کو گزند پہنچانے اور ہاتھ ہلانے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟گاڑیوں اور املاک کو نذرِ آتش کرنے ، راستے روکنے اور انسانوں کو آزار پہنچانے والوں کا خیال تھا کہ وہ یونہی دندناتے رہیں گے اور پہلے کی طرح اُن پر کوئی احتسابی ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا۔ یہ اُن کی محض خام خیالی تھی۔ حکومت نے بھی ان کی گردنوں پر ہاتھ ڈالنے کے عملی اقدامات شروع کر تو دئیے ہیں۔ اور حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے اور انارکی پھیلانے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی دھرنوں میں بلوے اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف سوؤ موٹو لے لیا ہے۔ گویا فسادیوں کا یومِ حساب آ پہنچا ہے۔ حکومتی اقدامات تو مایوس کن تھے لا اینڈ آرڈر جس پویس کی ذمہ داری تھی انہوں نے دہشت گردوں کو عوام کی املاک جلانے کا پورا موقع دیا۔ عوام نے بجا طور پر محسوس کیا ہے کہ حکومت محض اعلانات ہی کرتی رہی اور شر پسند اپنا کام کرتے رہے۔ حکمرانوں کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہیے تھی تا کہ آئندہ اس کا اعادہ نہ ہو۔ وزیر اعظم کی چین سے واپسی کے فوراً بعد نیشنل سیکورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں وزیر اعظم صاحب کے ساتھ کابینہ کے سینئر ارکان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک ہُوئے۔ نیوی اور ائر فورس کی قیادت بھی شریک تھی۔ اِسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس کتنا اہم اور حساس معاملات بارے بریفنگ کا حامل تھا۔اطلاعات ہیں کہ دھرنے کے دوران فسادیوں کے رہنماؤں پر بھی مقدمے بنیں گے اور اس حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ بس بہت ہو چکا۔ اب مزید ڈھیل نہیں دی جا سکتی۔ مزید ڈھیل دینے اور خاموش رہنے کا مطلب فقط یہ ہے کہ ملک کو آگ اور خون کے حوالے کر دینا۔ اور دُنیا کی کسی بھی مملکت کے ذمہ داران یہ برداشت نہیں کر سکتے۔ پھر پاکستان کیوں کرے گا جسے پہلے ہی لاتعداد دہشت گردیوں اور دشمنوں کا سامنا ہے؟ یوں ایک اُمید بندھی ہے کہ پاکستان کے تینوں عسکری ادارے، سویلین سیاسی منتخب حکومت اور اعلیٰ ترین عدالتی ادارے مل کر اور متحد ہو کر حالیہ ایام میں دہشت گردی کرنے ، انارکی پھیلانے اور قومی املاک کو آگ لگانے والوں کا کڑا احتساب کریں گے اور ذمہ داران کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا۔ لیکن عوام ابھی تک حکومتی اقدامات کا انتظار ہی کر رہی ہے یہ تو کیا جا رہا ہے کہ سات ہزار کے خلاف مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں گرفتار ہیں۔ لاتعداد فسادیوں کا تعاقب جاری ہے۔ کیمروں ، وٹس ایپ ، سوشل میڈیا پر محفوظ فسادیوں کو ڈھونڈا جارہا ہے۔ چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اب دیکھتے ہیں کب شرپسندوں کو کیفرِکردار تک پہنچایا جاتا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کو دَورئہ چین کے دوران ان بلوائیوں اور دنگا بازوں نے جس طرح عالمی قیادت کے سامنے نادم کیا ہے ، اِس کا بھی تقاضا ہے کہ ملک اور ملک کے منتخب وزیر اعظم کی شرمندگی کا باعث بننے والے سبھی افراد کو سزائیں دی جائیں، بھاری جرمانے کئے جائیں اور انہیں جیلوں میں ٹھونسا جائے۔ ہماری تو یہ بھی تجویز ہے کہ جن لوگوں کے خلاف مقدمات ثابت ہو جائیں، اُنہی سے نقصان بھی پورا کیا جائے۔ اُن کی جائیدادیں فروخت کرکے قومی اور متاثرین کے نجی خسارے اور نقصان کا ازالہ کیا جائے ۔ ان سب کے نام ای سی ایل پر بھی ڈالے جائیں۔ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے محبت اور عشق کا تقاضا تو یہ ہے کہ ملک میں امن اور آشتی قائم کی جائے، قانون کی بالادستی تسلیم کریں ، حکمرانوں کی حاکمیت اور عدالتوں کے فیصلوں کے سامنے سر جھکا دیا جائے لیکن اگر کوئی شخص، گروہ یا جماعت یہ بنیادی سماجی ذمہ داریاں ادا کرنے سے منکر ہے اور بغاوت و سرکشی کاراستہ اختیار کرتا ہے تو وہ قانون، سماج اور دین کا دشمن ہے۔ توہین کا مرتکب کوئی بھی شخص قابلِ معافی نہیں ہے۔ اُس کے خلاف احتجاج کیا جانا چاہئے لیکن طریقے اور سلیقے کے ساتھ ۔ قوانین کے دائرے میں رہتے ہُوئے؛ چنانچہ ہمارے سمیت وطنِ عزیز کا ہر شہری یہ مطالبہ کرتا ہے کہ جن افراد نے عدالتِ عظمیٰ کے معزز ججوں، افواجِ پاکستان کی قیادت اور منتخب وزیر اعظم کے خلاف دریدہ دہنی کی ہے، عوام کو بغاوت پر اُکسایا ہے ، وہ سب سزا کے مستحق ہیں۔ ان کے خلاف فوری طور پر مقدمے بننے چاہئیں تاکہ دوسروں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ پاکستان میں اگر قانون اور تہذیب کی حاکمیت نہیں ہوگی تو یہ ملک جنگل بن جائے گا جہاں پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ افسوس اور دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ اطلاعات کے مطابق نون لیگ کے کئی کارکن اپنے لیڈروں کی ایما پر ان دھرنوں کے دوران گھیراؤ جلاؤ کی سنگین وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں تاکہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت کو بدنام اور ناکام کیا جا سکے۔ پہلے تو اِسے محض گپ بازی اور ڈس انفرمیشن کہہ کر مسترد کیا گیا تھا لیکن اب تو کئی شواہد بھی سامنے آ گئے ہیں۔ گھیراؤ جلاؤ اور آتش زنی کی ان وارداتوں میں مبینہ طور پر شیخوپورہ سے نون لیگ کے ایم این اے میاں جاوید لطیف کا نوجوان بھتیجا بھی شامل ہے ۔ یہ نوجوان میاں جاوید لطیف کے بھائی میاں منور لطیف کا بیٹا بیان کیا جارہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر اس کی بکثرت تصویریں وائرل ہُوئی ہیں جس میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ گاڑیوں کو خود نذرِ آتش کررہا ہے۔ اُس کی یہ سنگین وارداتیں موٹر وے پر سکھیکی سے لے کر کالا شاہ کاکو تک جاری رہیں ۔ اس علاقے میں آگ لگانے اور بلوے کرنے کی سرگرمیوں کی مبینہ طور پر یہ خود نگرانی بھی کرتا پایا گیا ہے۔ نہیں معلوم نون لیگ کے کتنے دیگر کارکن اور لیڈر یہ قوم دشمنی کرتے رہے۔پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض چوہان نے بھی کہا ہے کہ دھرنے کے دوران توڑ پھوڑ کرنے والوں کو نون لیگ کی اشیر واد حاصل تھی۔گویا نون لیگ اب بھی ملک دشمنی سے باز نہیں آرہی۔ اب حکومت پر لازم آتا ہے کہ ایسے شیطان صفت عناصر کو فوری گرفتار کرکے نشانِ عبرت بنا دیا جائے ۔اور اگر حکومت ٹال مٹول، سستی ، نیم دِلی اور کاہلی سے کام لیتی ہے ( جیسا کہ تازہ خبر یہ بھی ہے کہ دباؤ میں آ کر پنجاب میں کئی بلوہ بازوں کو چھوڑ دیا گیا ہے) تو ہم شرحِ صدر سے کہہ سکتے ہیں کہ حکومت کیلئے آگے بڑھنا نہائیت دشوار ہو جائے گا۔ یہ شورہ پُشت عناصر کوئی نہ کوئی بہانہ تراشتے ہُوئے پھر پلٹ کر حملہ آور ہوں گے۔خانصاحب کی حکومت کو خفی و ظاہری دشمنوں سے ابھی نجات نہیں ملی ہے۔ ہر روز ، کسی نہ کسی طرف سے حکومت کو بدنام کرنے کیلئے اقدام کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم چین کے دَورے پر تھے اور وہ چینی دارالحکومت بیجنگ میں ایک اہم فورم سے خطاب کررہے تھے۔ یہ خطاب براہِ راست پی ٹی وی پر بھی نشر ہو رہا تھا۔پاکستانی عوام یہ دیکھ کر حیرت میں ڈوب گئے کہ وزیر اعظم کی تقریر کے دوران سرکاری ٹی وی کی سکرین پر بار بار بیجنگ کی بجائے انگریزی لفظ” بیگنگ”( بمعنی بھیک مانگنا) جھلملا رہا تھا۔ یہ شرمناک صورتحال پورے 20سیکنڈ تک جاری رہی۔ اور جب اس کی نشاندہی کی گئی تو اسے ختم کر دیا گیا اور بعد ازاں بین السطور معذرت بھی کی گئی ۔ اس دل آزار خبر کی باز گشت بھارتی میڈیا میں بھی سنائی دی گئی اور بھارتی میڈیا نے جی بھر کر پی ٹی آئی حکومت اور پاکستان کا مذاق اُڑایا ہے۔ اسلام آباد اور پورے ملک میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ غلیظ حرکت پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر میں موجود نون لیگی باقیات نے دانستہ کی ہے تاکہ حکومت کو گندا کیا جا سکے۔اب اطلاعات کے مطابق اگرچہ ایم ڈی پی ٹی وی( کرنل ریٹائرڈ حسن عماد محمدی) کے ساتھ کئی دیگر ذمہ دارافسران کو بطورِ تادیب وقتی طور پر سبکدوش کر نے کے نوٹیفکیشن جاری کر دئیے گئے ہیںلیکن ہمارا تو یہ مطالبہ ہے کہ ایسے گندے عناصر کی ملازمتیں بھی ختم کی جائیں، اُن کی پنشن بھی منسوخ کر دی جائے اور انکوائری کرکے ان سب کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے ۔ اگر ایسا نہیں کیا جائیگا تو ہمت اور شہ پا کر یہ لوگ اس سے بھی بڑی خوفناک حرکت کے مرتکب ہوں گے اور حکومت اور ملک کے منہ پر کالک مَل دیں گے۔ویسے نون لیگیوں اور اُن کی باقیات کو اپنے منہ پر بھی کالک ملنے میں کوئی شرم اور حیا محسوس نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی مخالفت کرتے ہُوئے ان لوگوں نے اخلاق اور دین کا دامن بھی ہاتھ سے چھوڑ دیا ہے ۔ دہا ئی خدا کی یہ اتنے بے شرم ہو گئے ہیں کہ اسلامی شعائر کا مذاق بھی اُڑانے لگے ہیں۔ جیسا کہ عمران خان کے دَورئہ چین کے دوران نون لیگئے ہر طرح سے اُن کاٹھٹھہ اُڑانے کی کوششیں کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ نون لیگ کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے اپنی ٹویٹ پر ایسا پیغام لکھا کہ ہم سب کا خون کھول اُٹھا ہے۔ اس خاتون کی ٹویٹ کے الفاظ یہ تھے:” بھیک حاصل کرو ، خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے ۔”لا حولہ ولا قوة۔ یہ ٹویٹ نہیں ، دراصل توہین ہے۔مریم اورنگزیب نے یہ ٹویٹ کرکے درحقیقت اپنے اعمال ضائع کئے ہیں ۔ ہم اس سے زیادہ بات کو کھول کر نیا منظر پیدا نہیں کرنا چاہتے لیکن ہمارا دل ضرور دُکھا ہے۔ یہ سراسر بیہودگی ہے ، بدتمیزی ہے ، بد اخلاقی ہے اور اس کے ارتکاب پر اس نون لیگی اور عہدہ دار خاتون کو توبہ کرنی چاہئے۔ ہمارا تو ایمان ہے کہ جو بھی ایسی بیہودگی کرے گا، اللہ کی طرف سے اُس پر ذلّت اور عذاب نازل ہوگا۔ کیا نون لیگی قیادت پہلے کم عذابوں کا شکار ہے کہ ایک نئے عذاب کو دعوت دینے کی کوشش کی جارہی ہے؟ نون لیگ قائدین ازقسم نواز شریف ، راج دلاری ، صفدر اعوان اور شہباز شریف آج جن سنگین آزمائشوں سے گزررہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دراصل وہ اپنے قومی جرائم کا بھگتان بھگت رہے ہیں۔ صحیح تر الفاظ میں کہا جائے تو وہ دراصل اللہ کے عذاب کا ہدف بنے ہیں اور اسلئے ہدف بنے ہیں کیونکہ حکمرانی کے تخت پر بیٹھ کر یہ فرعون اور متکبر بن گئے تھے۔ اُنہیں تکبر ، نخوت اور غرور کی سزا مل رہی ہے۔ تین مجرموں کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج صاحب کی طرف سے عبوری ضمانتی ریلیف تو مل گیا لیکن مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے اور اِسی ریفرنس میں چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار صاحب نے چند دن پہلے ریمارکس دیتے ہُوئے کہا تھا:”شریف فیملی کی رہائی، ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، لندن فلیٹس درختوں پر اُگے یا من و سلویٰ اُترا؟ فیصلے نے فقہ قانون تباہ کر دیا ۔ ” گویا ابھی سر پر تلوار لٹک رہی ہے اور خواہشوں اور کوششوں کے باوجود کسی جانب سے کسی کو این آر او ملنے کا کوئی امکان بھی نہیں ہے ۔ چیف جج صاحب کے الفاظ معاملے کی درست نشاندہی کررہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ساری قوم کو جناب ثاقب نثار صاحب سے بڑی بلند توقعات ہیں۔ اللہ اُنہیں صحتِ کاملہ اور عاجلہ عطا فرمائے۔ آمین۔ اُنکے فیصلوں اور اقدامات کی وجہ سے کرپٹ افراد پر لرزہ طاری ہے۔ یوں اُن کا وجود پورے پاکستانی سماج کیلئے مبارک بن گیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ شریف فیملی سے کسی کو کوئی کد اور بَیر نہیں ہے۔ اُن سے کسی پاکستانی کو ذاتی دشمنی بھی نہیں ہے ۔ ہمارے سمیت تمام پاکستانی فقط یہ چاہتے ہیں کہ قوم کی لُوٹی ہُوئی رقم قوم کے حوالے کر دی جائے۔ نیا انکشاف یہ بھی ہُوا ہے کہ نواز شریف کے ایک صاحبزادے حسن نواز کے نام 17جائیدادیں رہی ہیں۔لُوٹ مار کی بنیاد پر ہی جائیدادوں کی یہ وسیع سلطنت قائم کی گئی۔ ساری قوم کے ساتھ ساتھ ہمارا بھی شریف فیملی کے جملہ اراکین سے یہی مطالبہ ہے اور اُنہیں برادرانہ مشورہ یہی ہے کہ اُنہوں نے لُوٹ مار کرکے ملک کو جس طرح کنگال کیا ہے، وہ ساری رقوم اور ان رقوم سے بنائی گئی بیرونِ ملک جائیدادیں واپس پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کروادیں اور پھر جہاں مرضی ہے تشریف لے جائیں۔ برطانیہ جائیں یا امریکہ یا افریقہ ۔ قوم کو اُن سے کوئی سروکار نہیں ہوگا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ کی پکڑ ہے کہ شریف فیملی پانامہ کیس میں دَھر لی گئی اورپھر ”نیب” نے اُنہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا لیکن ابھی ”نیب” کا کردار ختم نہیں ہُوا ہے۔ ابھی اِس احتسابی ادارے کو مزید تقویت حاصل کرنی چاہئے ۔ لیکن لگ یہ رہا ہے جیسے حکومت اور اپوزیشن باہم متحد ہو کر نیب کے پر کترنا چاہتے ہیں۔ خبر آئی ہے کہ وفاقی حکومت نے ”نیب” کی طرف سے مانگے گئے ایک ارب تیس کروڑ روپے دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ تشویشناک خبر ہے۔ اگر نیب کو اُس کے قانونی بجٹ سے محروم کیا جائے گا یا فراہمی میں دانستہ تاخیر کی جائے گی تو کرپٹ افراد کے خلاف نیب کے جاری آپریشنز متاثر ہوں گے اور اُن میں سستی کا عنصر دَر آئیگا۔ اس کا فائدہ لا محالہ کرپٹ گروہوں کو ہوگا جو بار بار حیلوں بہانوں سے نیب کے راستوں کو مسدود اور اس کی طاقت کو محدود کر دینا چاہتے ہیں۔ خبریں نکل رہی ہیں کہ پارلیمنٹ میں تینوں بڑی جماعتیں( پی ٹی آئی، نون لیگ، پی پی پی)مل کر نیب کا دائرئہ کار اور اختیار محدود تر کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا بیان بھی آن ریکارڈآ چکا ہے کہ اگر اپوزیشن نیب قوانین میں تبدیلی اور ترمیم چاہتی ہے تو اپنی تجاویز لائے ، ہم مل کر اس ضمن میں اقدام کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں اگر خدا نخواستہ ایسا کیا گیا تویہ دراصل کرپٹ گروہوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہوگا۔ پی ٹی آئی تو آئی ہی اقتدار میں اس نعرے کے ساتھ تھی کہ بلا امتیاز کرپٹ افراد کا احتساب کیا جائیگا ۔ وزیر اعظم بھی آئے روز ہر قومی و بین الاقوامی فورم پر یہی نعرہ لگاتے ہیں کہ کرپٹ لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا اور اب اگر اُن کی پارٹی نیب کے پر ہی کاٹ دینا چاہتی ہے تو پھر کہاں کا احتساب؟ اور کہاں کا حساب ؟ حیرانی کی بات ہے کہ ایک طرف تو ”نیب” کے اختیارات محدود تر کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے اور دوسری طرف مرکزی حکومت اٹھارویں ترمیم میں مزید ترمیم کرنے کے اعلانات کررہی ہے، اس دعوے کے ساتھ کہ یہ ترمیم صوبوں (خصوصاً سندھ ) میں کئی گروہوں اور محکموں کا احتساب کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ سندھ سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ ہم اٹھارویں ترمیم تبدیل یا ختم کرنے نہیں دیں گے ، کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائیگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم احتساب کرنے اور بدعنوانوں پر ہاتھ ڈالنے کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہے تو اُسے یہ ترمیم ضرور کرنی چاہئے۔ ہمیں ملک عزیز ہے اور قانون کی بالا دستی بھی۔ اور اگر یہ ترمیم ان دونوں کی راہ میں روڑے اٹکانے کا موجب بن رہی تو اسے راستے سے ہٹا دینا ہی قومی مفاد میں ہوگا۔قومی مفاد اور ملکی استحکام کے لئے تو وزیر اعظم عمران خان دُنیا بھر میں مارے مارے پھر رہے ہیں ۔ اُن کا چین کا حالیہ دَورہ بھی ملکی معاشی استحکام اور نیشنل سیکورٹی کی مزید مضبوطی کے لئے تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ دَورہ ہر لحاظ سے کامیاب رہا ہے۔ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھی 8نومبر کو تصدیق کرتے ہُوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا دَورئہ چین ہر رُخ سے کامیاب ٹھہرا ہے۔اور ایسے میں اگر وزیر اعظم صاحب کو اٹھارویں ترمیم کی شکل میں کوئی مشکل درپیش ہے تو اُنہیں کسی مخالفت کی پروا نہیں کرنی چاہئے اور اس مشکل مرحلے سے گزر جانا چاہئے۔ ہمارا خیال ہے کہ وزیر اعظم صاحب کو اس ترمیم میں حسبِ دلخواہ اور حسبِ منشا تبدیلی کرنے کے لئے اپوزیشن کو حکمت سے اپنے ساتھ ملانے کی کوئی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ اس پر غیروں کو ٹھٹھہ اُڑانے کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہئے۔ اور انتخابی منشور میں عوام کے گمبھیر مسائل حال کرنے کے جو وعدے کئے تھے ان پر ہی توجہ مرکوز رکھنی چاہئے۔ عوام جن مشکلات کا شکار ہیں ان مشکلات کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔ عوام تو ابھی سے کہنا بھی شروع ہو گئے ہیں کہ!
اور وہ شخص بھی محرومِ سماعت نکلا
ہم نے رو رو کے جسے درد سنائے اپنے


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »