علامہ رضوی کا انتقال، عمران خان کا دَورۂ کابل اور کورونا کی نئی مہلک لہر

اِس ہفتے کی شائد سب سے اہم اور دلدوز خبر یہ ہے کہ حضرت علامہ خادم حسین رضوی صاحب انتقال کر گئے ہیں ۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ایک خاص شہرت حاصل کرنے والی مذہبی جماعت ”تحریکِ لبیک پاکستان” کے سربراہ اور بانی علامہ موصوف کے اچانک انتقال کی خبر ملک بھر میں حیرت اور افسوس کے ساتھ سُنی گئی ۔ اچانک اسلئے کہ ابھی چند دن پہلے ہی تو وہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں حکومت، حکمرانوں اور فرانسیسی حکومت پر گرج برس رہے تھے ۔ علامہ صاحب کے انتقال کی خبر جمعرات، 19نومبر2020ء کی شام کو سُنی گئی ۔ اُن کے لاکھوں چاہنے والوں کے دلوں پر یہ خبر بجلی بن کر گری ۔بتایا گیا ہے کہ شدید بخار کے سبب اُن کی موت واقع ہُوئی ہے ۔ علامہ خادم حسین رضوی ابھی چودہ اور پندرہ نومبر کو اپنے ہزاروں جان نثاروں کے جلوس کے ساتھ راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں میں وارد ہُوئے تھے ۔ اُن کے اس جلوس کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ وہ فرانسیسی حکومت اور پاکستان میں فرانسیسی سفیر کے خلاف بطورِ احتجاج آئے ہیں کہ فرانس نے گستاخ خاکے بنانے والوں کی مذمت کی نہ خاکہ نگاروں کی واضح طور پر گوشمالی کی اور نہ توہین کے مرتکبین کو سزا دینے کیلئے قانون سازی کا وعدہ کیا۔علامہ صاحب کا یہ جلوس بھی یلغار کی شکل میں اُن کے پچھلے تین عدد جلوسوں کی طرح کامیاب ٹھہرا تھا۔ اُنہوں نے اپنے مطالبات منوانے کیلئے اِس بار تین دن تک جڑواں شہروں کا محاصرہ کئے رکھا۔ پولیس نے اُن کے جان نثاروں کے حوصلے توڑنے کیلئے مبینہ طور پر ربڑ کی گولیاں بھی چلائیں اور آنسو گیس کے گولے بھی پھینکے لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے اور خود راولپنڈی اور وفاقی دارالحکومت کی پولیس کو علامہ کے عشاق کے سامنے پسپا ہونا پڑا تھا۔بالآخر عمران خان کی حکومت نے علامہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے اور اُن کی مرضی اور مطالبات کے عین مطابق ایک معاہدے پر دستخط کئے ۔ اس معاہدے پر لکھی گئی تمام شقوں کو بذریعہ سوشل میڈیا لاکھوں لوگ پڑھ چکے ہیں ۔ اس معاہدے پر حکومت کے وزیر داخلہ بریگیڈئر(ر) اعجاز شاہ ، وفاقی وزیر مذہبی اُمور علامہ نورالحق قادری اور وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کے دستخط تھے ۔ دوسری طرف علامہ رضوی کی طرف سے تین نامزد علما نے دستخط کئے اور تب ”تحریکِ لبیک” کا دھرنا اپنے اختتام کو پہنچا اور جڑواں شہروں کے باسیوں نے سکون اور اطمینان کا سانس لیا ۔ پچھلی بار ( نون لیگ کی حکومت کے خلاف، جب شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم تھے) جب علامہ خادم حسین رضوی نے راولپنڈی اور اسلام آباد پر اپنے مطالبات منوانے کیلئے یلغار کی تھی تو تقریباً تین ہفتے وفاقی دارالحکومت محاصرے میں رہا ۔ اس محاصرے کی خبریں عالمی میڈیا میں بھی سنائی دی گئیں ۔ اس دباؤ کے نتیجے میں نون لیگ حکومت کے ایک وفاقی وزیر کو گھر کی راہ لینی پڑی تھی ۔ یہ دراصل علامہ صاحب موصوف کی تحریک کی کامیابی تھی ۔ علامہ کے چاہنے والوں نے اسلام آباد اور لاہور موٹروے پر اپنے مخالفین اور حکومتی انتظامیہ سے جو تصادم اختیار کیا تھا، اس کا نقصان اربوں روپے میں لگایا گیا تھا۔ نون لیگی حکومت کے خلاف علامہ کی جماعت کا دھرنا اسقدر شدید تھا کہ اداروں کو بھی صلح کروانے اور دھرنا ختم کروانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا پڑا ۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں (جسے عزت مآب جسٹس فائز عیسیٰ صاحب نے لکھا تھا) بھی فیض آباد دھرنے کی بازگشت سنائی دیتی ہے ۔ ”تحریکِ لبیک پاکستان”(TLP)نے یوں ملک بھر میں شہرت حاصل کی؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب 2018ء کے انتخابات کا رَن پڑا تو علامہ خادم حسین رضوی کی مذکورہ جماعت نے بھی حصہ لیا اور مجموعی طور پر دو ملین کے قریب ووٹ حاصل کئے ۔ سندھ کی صوبائی اسمبلی میں ”ٹی ایل پی” کا ایک رکن منتخب ہوگیا۔ اگرچہ انتخابی میدان میں یہ کوئی بڑی کامیابی نہیں تھی لیکن اپنی پہلی انتخابی مہم میں اس جماعت نے جتنے ووٹ حاصل کئے تھے، تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ غیر معمولی کامیابی تھی ۔ بلا شبہ علامہ خادم حسین رضوی نے تھوڑے ہی عرصے کے دوران زبردست شہرت حاصل کی ۔ وہ پنجاب کے ضلع اٹک میں پیدا ہُوئے تھے اور لاہور، فیصل آباد اور جہلم کے دینی اداروں سے مذہبی تعلیم حاصل کی تھی ۔ بنیادی طور پر وہ لاہور میں بریلوی مکتبہ فکر کی ممتاز درسگاہ جامعہ رضویہ کے فارغ التحصیل تھے۔ اعلیٰ حضرت کے خاندان کی طرف سے خلافت بھی تھی جو مولانا اختر رضا خان بریلوی نے عنایت کی اسی کے ساتھ ساتھ سندِ حدیث بھی عنایت کی تھی۔ اعلیٰ حضرت کی محبت کی وجہ سے ”رضوی”بھی کہلاتے تھے ۔ عربی، فارسی کے معروف عالم تھے ۔ ایک اور اعزاز جو انہوں نے اپنے نام کیا وہ یہ کہ فتاویٰ رضویہ جو بریلوی مکتبۂ فکر کے بانی اعلیٰ حضرت کی انسائیکلوپیڈیا پڑھنے سے پہلے قارئین علامہ رضوی کا مقالہ پڑھا جائے گا اس مقالہ کا نام اعلیٰ حضرت بحیثیت مرجل علمائ۔ کلامِ اقبال سے خاص شغف تھا۔ اپنی تقاریر میں کلامِ اقبال بر محل اور متعدد بار استعمال کرتے اور سامعین کے دل گرما دیتے ۔ اُنہوں نے اپنے بارے میں یہ تاثر مستحکم کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی کہ وہ ایک سچے عاشقِ رسولۖ ہیں ۔ دوران ِ خطاب وہ اپنے مخالف فرقوں کے بارے میں جو متشددانہ اسلوب اختیار کرتے، یہ انداز اُن کے عشاق کے دلوں میں یقیناً گرمی اور جوش پیدا کر دیتا تھا لیکن متعلقہ فرقے کے لوگ گھائل ہو کر رہ جاتے ۔ لاریب وہ ایک معروف عالمِ دین تھے ۔ اور ہم تو تمام علمائے اسلام کی خدمت اور عزت کرنے والوں میں سے ہیں ۔ اس ناتے سے علامہ صاحب ہمارے لئے بھی قابلِ احترام و اکرام تھے۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ علامہ خادم حسین رضوی صاحب مرحوم کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تاجدارکائنات سرور کونین حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقے اُن کی دانستہ و نادانستہ لغزشیں معاف فرما دے (آمین) جس روز علامہ خادم حسین رضوی کی رحلت ہُوئی، اُسی روز وزیر اعظم عمران خان افغانستان کے دارالحکومت ”کابل” کے ایک روزہ دَورے پر گئے تھے ۔ وہ افغان صدر جناب ڈاکٹر اشرف غنی کی دعوتِ خاص پر کابل پہنچے ۔ اُن کا جس انداز میں شاندار استقبال کیا گیا، یہ منظر ہم پاکستانیوں کیلئے خوش کن تھا ۔ اُنہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ یہ دَورہ اسلئے بھی اہم تھا کہ اس کی پاکستان اور افغانستان دونوں کو اشد ضرورت تھی ۔ بھارت، افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف جو گند گھول رہا ہے، اس کے اپا اور تدارک کیلئے بھی یہ دَورہ انشاء اللہ مفید ثابت ہوگا ۔ کابل میں موجودگی کے دوران جناب عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی صاحب کے ساتھ بڑے اعتماد کے ساتھ انگریزی زبان میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ( افغان صدر نے پشتوو فارسی اور انگریزی زبانوں میں بات چیت کی)اس تاریخی موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا:” پاکستان ،افغانستان میں امن کا سب سے زیادہ خواہاں ہے اور پاکستانی شہری یہ محسوس کرسکتے ہیں کہ افغانستان کے لوگ امن چاہتے ہیں۔میں 50 سال سے افغانستان آنے کا سوچ رہا تھا۔ میں افغانستان کی تاریخ اور اشرف غنی پاکستان کی تاریخ جانتے ہیں”۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ 60 اور 70 کی دہائی میں پاکستانیوں کا پسندیدہ مقام کابل تھا۔افغان امن عمل میں کردار کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان صاحب نے کہا :”پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے، پہلے افغان طالبان اور امریکہ کے معاہدے اور پھر بین الافغان مذاکرات(انٹرا افغان ڈائیلاگ) کے آغاز کے سلسلے میں پاکستان نے ہر ممکن تعاون کیا۔بدقسمتی سے افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے لیکن پاکستان تشدد میں کمی کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔”ساتھ ہی انہوں نے صدر اشرف غنی کو مخاطب کرکے کہا: ”اگر آپ سمجھیں کہ کسی طرح اس بارے میں پاکستان کوئی مدد کرسکتا ہے تو ہمیں بتائیں، ہم ہر ممکن کام کریں گے۔پاکستان افغانستان میں امن کا سب سے زیادہ خواہاں ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ سابق پاکستانی قبائلی علاقے (فاٹا) دہشت گردی کے خلاف جنگ سے شدید متاثر ہوئے، لہذا سرحدوں کی دونوں جانب کے افراد کی مدد ہم امن قائم کرکے کرسکتے ہیں۔”اس سے قبل مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر جناب اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ” پاکستان اور افغانستان،دونوں ممالک کے مفادات مشترکہ ہیں۔”انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو دورہ کابل پر خوش آمدید کہتے ہوئے اسے ”تاریخی”قرار دیا۔صدر اشرف غنی کا مزید کہنا تھا :”تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ تعاون پر مبنی سیاست ہی مسائل کا حل ہے۔”اس موقع پر افغان صدر نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دورہ پاکستان کی دعوت بھی قبول کرلی۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی وزیر اعظم کا یہ تازہ ترین دَورئہ افغانستان مثبت ثمرات کا حامل بنے گا۔ اس وقت جبکہ امریکہ میں نئے صدر کی آمد آمد ہے اور وعدے کے مطابق امریکہ افغانستان سے اپنی تقریباً ساری فوجیں نکالنے بارے اعلان بھی کر چکا ہے ، عمران خان اور اشرف غنی کی یہ باہمی ملاقات دونوں اسلامی برادر و ہمسایہ ممالک پر نہائت مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ اور کئی غلط فہمیوں کو دور کئے جانے کا سبب بھی بنے گا۔یہ دَورہ افغان امن عمل (Peace Process) کے بڑھاوے میں بھی اپنا شاندار کردار اداکر سکے گا۔ہم اُمید کر سکتے ہیں کہ جس طرح پاکستان اپنے ہمسایہ ملک افغانستان بارے صحتمندانہ خیالات رکھتا ہے، اسی طرح کا جواب افغان اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بھی پاکستان کیلئے آئے گا۔ جناب عمران خان نے ایسے حالات میں افغانستان کا دَورہ کیا ہے جب پاکستان میں سیاسی استحکام کو بار بار دھچکے لگ رہے ہیں ۔ یہ دھچکے خانصاحب کی حکومت کو غیر مستحکم بھی کررہے ہیں اور ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات پڑ رہے ہیں جبکہ ملکی اقتصادی حالت پہلے ہی خاصی پتلی ہو چکی ہے اور ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ملک پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے ۔ ان حالات میں کووِڈ 19کی تازہ مہلک لہر نے بھی سبھی کو پریشان کررکھا ہے ۔ اس نئی لہر کے کارن ملک میں کورونا کے متاثرین میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔ سیاست و صحافت اور آرٹ کی دُنیا کے کئی معروف نام کورونا سے متاثر ہو کر یا تو اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں یا قرنطینہ میں چلے گئے ہیں ۔ مثلاً : پشاور ہائیکورٹ کے نامور اور قابلِ فخر چیف جسٹس کورونا کے باعث انتقال کر گئے ہیں ۔ اسی طرح ایک معروف نجی ٹی وی کے مشہور رپورٹر بھی کورونا کے باعث اللہ کے پاس چلے گئے ہیں ۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ ، سابق وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ اور نون لیگ کے رہنما کیپٹن(ر) صفدر اعوان بھی کورونا کے متاثرین میں شامل ہو کر قرنطینہ میں چلے گئے ہیں ۔ یہ مثالیں بتا رہی ہیں کہ ملک بھر میں واقعی معنوں میں کورونا کی نئی لہر روز بروز بڑھ رہی ہے ۔ اسی لئے حکومت نے پھر سے ملک میں کئی شہروں کیلئے سمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شائد پھر سے سکولوں کو چند ماہ کیلئے بند کر دیا جائے ، اگرچہ پرائیویٹ سکولوں کا مافیا اس مجوزہ پابندی کی ابھی سے مخالفت کرتا نظر آرہا ہے ۔ عمران خان نے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ”ہم نے کورونا کے خطرات اور خدشات کی اساس پر اپنے کئی جلسے منسوخ کر دئیے ہیں ، اسلئے اپوزیشن پر بھی لازم ہے کہ وہ بھی ”پی ڈی ایم” کے پلیٹ فارم سے آئندہ ایام میں کئے جانے والے جلسوں کا انعقاد منسوخ کر دے۔”لیکن افسوس کی بات ہے کہ اپوزیشن ( پی ڈی ایم) عمران خان کی بات ماننے اور کورونا کی نئی لہر کے حوالے سے حکومت سے تعاون کرنے پر تیار نظر نہیں آ رہی ہے ۔ نون لیگ نے عمران خان کی اس اپیل کے بعد بڑے دھڑلے سے مانسہرہ ( جو نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز کا سسرال بھی ہے) میں ایک بھرپور سیاسی جلسہ کیا ہے ۔ جس وقت قارئینِ کرام یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے ، ممکن ہے پشاور میں ”پی ڈی ایم” کا جلسہ ہورہا ہو ۔ پی ڈی ایم کے سربراہ علامہ فضل الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ ہمارے جلسے نہیں رکیں گے ۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان بد اعتمادی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اپوزیشن اب حکومت سے کوئی تعاون یا ملاقات کرنے پر بھی تیار نہیں ہے ۔ یہ مخالف اب ذاتی دشمنی کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ”پی ڈی ایم” کو اپنے سیاسی مفادات کیلئے عوام کی صحت خطرات میں نہیں ڈالنی چاہئے ۔ حکومت پر بھی لازم ہے کہ عوام الناس کی بہتری کیلئے اپنی مونچھ نیچے کرکے اپوزیشن سے ملاقات اور مذاکرات کرے تاکہ کورونا کی ہلاکت خیز نئی لہر کے سامنے بند باندھنے میں اپوزیشن کا تعاون حاصل کیا جا سکے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.