Daily Taqat

افغانستان کی بگڑتی صورتحال اور شاہ محمود قریشی کی بڑھتے خطرات کی نشاندہی

دس جولائی 2021ء کو پاکستانی اور عالمی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں میں افغان طالبان کی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ طالبان نے افغانستان کے 85فیصد حصے پر قبضہ کرلیا ہے اور یہ کہ وہ آئندہ دو ہفتوں میں پورے افغانستان کا مکمل کنٹرول سنبھال سکتے ہیں ۔ یہ دعویٰ اپنے تئیں بہت بڑا ہے لیکن افغانستان سے آنے والی خبروں سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ افغان طالبان مسلسل فتوحات حاصل کرتے جا رہے ہیں اور یہ کہ افغانستان کی موجودہ حکومت کے فوجی بھی طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالتے جا رہے ہیں ۔ یہ اطلاعات بھی ہمارے ہاں شائع ہوئی ہیں کہ ایک ہزار سے زائد افغان فوجی طالبان سے ڈر کر ہمسایہ تاجکستان فرار ہو چکے ہیں ۔ دراصل افغانستان کے بارے میں اسقدر متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ وہاں کی اصل صورتحال ہے کیا؟ پاکستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اپنے جھنجھٹوں میں بُری طرح پھنسی ہوئی ہے ۔ اسے پاکستان کی اپوزیشن ( جس کی کمزوریاں اور ناکامیاں بُری طرح عیاں ہو چکی ہیں) کی مزید ناک رگڑنے اور آزاد کشمیر کے انتخابات کو ہر حال میں جیتنے کی زیادہ فکر ہے ۔ ایسے میں افغانستان کی دم بہ دم بگڑتی صورتحال کی کسے فکر ہوگی ؟ ان حالات میں افغان طالبان کی فتوحات کی خبروں پر لامحالہ یقین کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد مسلسل پیش قدمی کرنے والے افغان طالبان نے ملک کے 85فیصد حصے پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے تو درست دعویٰ ہی کیا ہوگا۔خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق: اس بات کا اعلان سینئر طالبان وفد نے ماسکو میں ایک ہفتے کے دورہ روس کے اختتام پر کیا جہاں اس دورے کا مقصد اس بات کی یقین دہانی کرانا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی تیزی پیش قدمی سے وسط ایشیا میں روس یا اس کے اتحادیوں کو کوئی خطرہ نہیں پہنچے گا۔طالبان کے اس دعوے کی تصدیق یا تردید کرنا ناممکن ہے لیکن مذکورہ بیان سابقہ دعوؤں کی نسبت کہیں زیادہ معلوم ہے جہاں ان کا کہنا تھا کہ ملک کے 421 اضلاع اور ضلعی مراکز میں سے ایک تہائی پر وہ قبضہ کر چکے ہیں۔طالبان کے حالیہ دعوے پر کابل میں افغان حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔اس ہفتے کے اوائل میں طالبان کی پیش قدمی کے نتیجے میں سیکڑوں افغان فوجیوں کو روسی فوج کے ایک اڈے کی حفاظت کرنے والے تاجکستان میں سرحد پار سے بھاگنا پڑا، اس کے نتیجے میں تاجکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی جنوبی سرحد کو مستحکم کرنے کے لیے 20ہزار فوجی محافظوں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا تھا۔روسی عہدیداروں نے طالبان کی پیش قدمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ طالبان شمالی افغانستان میں سوویت روس کے سابق وسط ایشیائی ممالک کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔اپریل کے وسط میں امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد طالبان نے پورے ملک میں پیش قدمی کی ہے، انہوں نے حال ہی میں کئی اضلاع کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور مبینہ طور پر اکثر لڑے بغیر ان کے قبضے میں آ گئے، گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران انہوں نے تاجکستان، ازبکستان اور ایران کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں پر قبضہ کر لیا تھا۔تاہم روس کے دارالحکومت میں پریس کانفرنس کے موقع پر طالبان نے وعدہ کیا کہ وہ صوبائی دارالحکومتوں پر حملہ یا زبردستی قبضہ نہیں کریں گے اور افغانستان کی قیادت کے ساتھ سیاسی حل کی امید ظاہر کی۔طالبان کے مذاکرات کار مولوی شہاب الدین دلاور نے کہا :” ہم افغان شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ نہیں کریں گے۔افغان حکام کو اس کی ضمانتیں دی جا چکی ہیں اور اس کے ساتھ ہی ہم نے افغان جیلوں سے مزید طالبان قیدیوں کی رہائی کے مطالبات بھی کیے۔ طالبان اب 85فیصد افغان علاقے پر قابض ہو چکے ہیں۔ ہم کسی فرد، ادارے کو امریکا اور اس کے اتحادیوں سمیت پڑوسی ملک، علاقائی ممالک اور دنیا کے دیگر ممالک کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے”۔طالبان کے ترجمان محمد سہیل شاہین نے بھی کہا ہے کہ ہم لڑنا نہیں چاہتے، ہم سیاسی مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنا چاہتے ہیں۔دراصل افغان طالبان سفارتکاری اور عسکری محاز پر زبردست اسٹریٹجی سے کام لے رہے ہیں ۔ وہ میڈیا کے محاز پر بھی سرگرم ہیں اور اپنی مسلسل کامیابیوں اور افغان افواج کے فرار کا پرپیگنڈہ بھی خوب کررہے ہیں ۔دوسری جانب عالمی میڈیا بھی تسلسل کے ساتھ یہ خبریں شائع کررہا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغان فوجوں کے قدم جم نہیں پا رہے اور وہ بددلی کا شکار ہے ۔ یہ اِسی بددلی کا اظہار ہے کہ اگلے روز افغان وزیر خارجہ نے الزام لگایا ہے کہ چونکہ افغان طالبان نے افغان حکومت سے دھوکہ کیا ہے ، اسلئے اس بحران میں پاکستان آگے بڑھ کر افغانستان حکومت کی مدد کرے ۔ پاکستان تو پہلے ہی افغان امن عمل میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے لیکن افغان صدر اشرف غنی کی حکومت اور اس کے عمال پاکستان کے احسانات اور مہربانیاں تسلیم کرنے کی بجائے بھارتی زبان میں مسلسل پاکستان پر الزامات عائد کررہے ہیں ۔ ایسے حالات میں بھلا پاکستان آگے بڑھ کر افغان حکومت کی کیا مدد کرے ؟اس پیش منظر میں پاکستان درست نشاندہی کرتے ہوئے درست ہی کہہ رہا ہے کہ افغان طالبان اور افغان حکومت کو مل بیٹھ کر کوئی درمیان کا ایسا راستہ اختیار کرنا چاہئے جس سے افغانستان مزید تباہی اور انتشار و فساد سے بچ جائے ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 9جولائی کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بالکل بجا کہا ہے کہ ہم اکیلے افغانستان کے ٹھیکیدار نہیں ہیں ، امریکہ نے افغانستان میں 20سال تک جن پر سرمایہ کاری کی ، وہ مقابلے کا دم خم ہی نہیں رکھتے تو پاکستان آگے بڑھ کر افغانستان کی کتنی اور کہاں تک مدد کرے ؟ ہمارے وزیر خارجہ نے یہ بھی بجا کہا ہے کہ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد اگر افغان مہاجرین کا ریلہ ایک بار پھر پاکستان کا رخ کرتا ہے تو پاکستان ان مہاجرین کو نہیں سنبھالے گا اور یہ بھی کہ ان مہاجرین کے بھیس میں افغان انٹیلی جنس کے لوگ اور ٹی ٹی پی کے وابستگان بھی پاکستان آ سکتے ہیں ، اسلئے پاکستان افغانستان کیلئے ایک بار پھر انگلیاں کیوں جلائے ؟ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر خارجہ قریشی نے سچی اور پاکستان کے اصل مفاد میں باتیں کی ہیں ۔ پاکستان آخر کب تک افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھاتا رہے گا؟ افغانوں کا تو کام ہی مرنا مارنا ہے اور اگر انہوں نے یہ مارکٹائی کرنی ہی ہے تو اپنے گھر میں کریں ، پاکستان کا رخ نہ کریں ۔ پلیز۔وزیر خارجہ جس وقت یہ پریس کانفرنس کررہے تھے ، ان کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹرمعید یوسف بھی براجمان تھے ۔ انہی معید یوسف نے گذشتہ روز ہی افغانستان کی بگڑتی صورتحال کے حوالے سے” وائس آف امریکہ” کو جو انٹرویو دیا ہے ، وہ بھی پاکستان کے مفادات کی ترجمانی ہے ۔ اُنہوں نے انٹرویو میں کہا ہے :” امریکا کا افغانستان سے انخلا ذمہ دارانہ نہیں بلکہ90کی دہائی جیسی غلطی ہے جس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان نے افغانستان پر بہت وقت اور توانائیاں صرف کی ہیں لیکن اس قدر محنت کے باوجود امریکہ کی طرف سے ‘ڈو مور’ سننا بہت زیادتی ہے۔ ڈو مور کیا، اگر پالیسی ہی غلط ہو تو آپ آسمان بھی توڑ لائیں تو نتیجہ نہیں نکلے گا۔ طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ وقت آنے پر کریں گے۔ پاکستان نے بارہا یہ کہا ہے کہ امریکی و اتحادی افواج کا انخلا ذمہ دارانہ ہونا چاہیے لیکن امریکا کا افغانوں کے درمیان کسی سمجھوتے کے بغیر نکل جانا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔امریکا افغانستان کو اس حال میں چھوڑ کر جا رہا ہے کہ چاہے افغان آپس میں لڑتے رہیں یا خطے میں بدامنی پھیلتی ہے تو پھیلتی رہے۔ پہلے یہی وہ غلطی تھی جو نوے کی دہائی میں دنیا نے کی تھی اور کہا تھا کہ دوبارہ نہیں دہرائیں گے”۔معید یوسف کے مطابق: ”افغانستان میں امریکا نے بڑی سرمایہ کاری کی ہے اور وہ ایسا کیوں چاہے گا کہ وہاں معاملات تباہی کی طرف جائیں لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ افغان دھڑوں میں مفاہمت کے لیے پاکستان آخر وقت تک کوشش کرے گا۔ سیاسی مفاہمت پیدا کرنے کے لیے پاکستان جو کوششیں کر سکتا تھا وہ بروئے کار لائیں گے تاہم فیصلہ افغان قیادت اور امریکا کو کرنا ہے جو براہِ راست افغان مسئلے کے فریق ہیں۔ ہم یہ کوششیں اس لیے بھی کر رہے ہیں کیوں کہ ہم افغانستان میں خانہ جنگی نہیں چاہتے، اس کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے۔ افغانستان دنیا کا مسئلہ ہے اور عالمی طاقتیں اسے حل کرنے میں ناکام ہو گئی ہیں لیکن پاکستان اس کے حل کو تلاش کرے گا کیوں کہ ہمیں اس خطے میں رہنا ہے۔ افغانستان میں دیرپا امن اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان نے طالبان کو امریکا کے ساتھ مذاکرات پر قائل کیا جس کی بدولت دوحہ امن معاہدہ طے ہوا تاہم دوسرے مرحلے میں بین الافغان سمجھوتے کے لیے کابل انتظامیہ پر کسی قسم کا دباؤدکھائی نہیں دیا”۔ڈاکٹر معید یوسف نے مزید کہا:” افغانستان کے معاملے پر پاکستان نے ہر ممکن حد تک مدد و تعاون کیا ہے اور اس سے زیادہ کچھ کرنا ممکن نہیں ۔ طالبان پاکستان کے تابع نہیں البتہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ہم انہیں مذاکرات کی میز پر ضرور لے کر آئے تھے۔ افغان تنازع کے حل کے لیے پاکستان صرف سہولت کار کا کردار ادا کرسکتا ہے جو ہم کر رہے ہیں اور امریکا بھی کئی بار کہہ چکا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان ایک تعمیری شراکت دار ہے۔ جب افغانستان سے متعلق پاکستان مشورہ دیتا تھا تو یہ کہا جاتا تھا کہ مداخلت ہو رہی ہے اور جب پاکستان مشورہ نہیں دیتا تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان کچھ کر نہیں رہا لیکن جب افغان مسئلے کی ناکامی کا ملبہ ڈالنے کی بات آئی تو توپوں کا رخ پاکستان کی طرف ہو گیا ۔یہ بہت غیر مناسب ہے۔ پاکستان 20 سال سے کہہ رہا ہے کہ افغان تاریخ اور خطے کے حالات کے تناظر میں جنگ کی صورت میں کامیابی ممکن نہیں لہذا سیاسی مفاہمت کے ذریعے ہی مسئلے کا حل نکالا جائے۔ پاکستان افغانستان میں مفاہمت کے لیے خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر کام کر رہا ہے تاہم ماضی میں بگاڑ پیدا کرنے والے ممالک ایسا نہیں چاہیں گے ۔ پاکستان اس بات کا ہر گز خواہش مند نہیں کہ افغانستان میں حکومت کون کرے گا، کون نائب ہو گا یا گورنر کون ہو گا یہ فیصلے افغان عوام کو کرنا ہیں اور پاکستان بارہا یہ کہہ چکا ہے۔ پاکستان آج بھی امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات اور ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہش مند ہے لیکن وسیع تر تعلقات کی خواہش کے ساتھ یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مشترکہ مفادات پر کام کریں گے۔ اگر پاکستان اپنے مفاد اور نظریے پر کھڑا ہوتا ہے اور اس بنیاد پر امریکا ناراض ہوتا ہے تو یہ مناسب عمل نہیں ہو گا کیو نکہ واشنگٹن بھی اپنے مفادات کے خلاف کبھی نہیں جائے گا۔پاکستان سے متعلق امریکی نظریے میں تبدیلی آئی ہے۔ ہم امریکا سے اپنے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں تاکہ افغانستان میں مشترکہ مفادات کو مل کر چلایا جاسکے اور داعش و کالعدم ٹی ٹی پی جیسے مشترکہ خطرات سے نمٹا جائے”۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے افغانستان اورافغان طالبان کے بارے میں جو کچھ بھی پچھلے دو چار دنوں میں کہا ہے ، یہ پاکستانی مفادات کا تحفظ ہے ۔ اور پاکستان کا یہ پیغام امریکہ ، افغان حکومت اور افغان طالبان کے ساتھ افغان عوام تک بھی واضح الفاظ میں پہنچ جانا چاہئے ۔ پاکستان کو دُنیا اور افغان عوام پر واضح کرنا چاہئے کہ پاکستان اب کوئی ایک افغان مہاجر بھی قبول نہیں کرے گا ۔ پاکستان پہلے ہی ان چالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی وجہ سے اپنا بہت زیادہ نقصان کروا چکا ہے ۔ یہ سارے افغان مہاجرین جب تک واپس نہیں جاتے ، پاکستان نقصان اٹھاتا رہے گا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »