Daily Taqat

عالمی ساہوکارآئی ایم ایف کے مظالم اور جناب عمران خان کے اعترافات

وزیر اعظم جناب عمران خان اقتدار میںنہیں ہوتے تھے تو عالمی ساہوکار اور قرض دینے والے ادارے ”آئی ایم ایف” پر خوب برسا کرتے تھے اور اس ادارے کے مظالم اور زیادتیوں کی ہر جگہ تشہیر کرتے تھے ۔ اپوزیشن کے ایام میں عمران خان صاحب بار بار اور جگہ جگہ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ ” اگر مَیں اقتدار میں آگیا تو مَیں کبھی قرض لینے کیلئے آئی ایم ایف کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کروں گا”۔ پی ٹی آئی کے سربراہ جناب عمران خان سینہ پھیلا کر ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ ”مَیں خود کشی کر لوں گا لیکن آئی ایم ایف سے کبی قرض نہیںلوں گا۔”وقت ایک سا نہیں رہتا۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ لیڈر کو کوئی بھی لفظ زبان سے نکالنے سے پہلے سو بار سوچنا چاہئے کہ اُس کی بات ساری دُنیا ریکارڈ رکھ رہی ہوتی ہے ۔ جناب عمران خان جب سے اقتدار میں آئے ہیں ، کئی بار آئی ایم ایف سے اربوں ڈالر ز کے قرضے لے چکے ہیں اور ہر بار آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر ۔ اِس بار ، جنوری2022ء کے پہلے ہفتے، عمران خان نے آئی ایم ایف سے ایک بار پھر بھاری سُود اور کڑی شرائط پر اربوں ڈالر کا قرض لیا ہے ۔ اور اس کے لئے آئی ایم ایف کے پاس مبینہ طور پر پاکستان کے ریاستی بینک کی آزادی بھی رہن میں رکھ دی ہے ۔ اس معاملے پر 13جنوری2022ء کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں منی بل اور دیگر بلز منظور کروانے کے لئے عمران خان اور مقتدر پارٹیوں کو اپوزیشن کی سخت مخالفت بھی برداشت بھی سہنا پڑی ہے اور کڑوی کسیلی بھی سننا پڑی ہیں ۔ حکمران جماعت مگر کان لپیٹ کر سب برداشت کرتی رہی کہ اُس کیلئے سب سے اطمیان بخش بات یہ تھی کہ بل منظور ہو گیا اور وزیر خزانہ و عمران خان آئی ایم ایف کے سامنے جھک کر قرض لینے میں سرخروہو گئے ۔ لیکن اس کا سب سے برا ، بڑا اور مہلک اثر پاکستان کے غریب عوام پر پڑا ہے کیونکہ ملک بھر میں نئی مہنگائی سونامی بن کر حملہ آورہُوئی ہے مگر عمران خان کو اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے اور وہ بدستور ارشاد فرما کر عوام کے زخموں پر نمک پاشی کررہے ہیں کہ ”پاکستان اب بھی دُنیا کا سستا ترین ملک ہے ۔” عمران خان کے مخالفین اور عوام کی اکثریت اُن کے ایسے دل شکن بیانات سُن کر بجا طور پر کہتے ہیں کہ عمران خان کو اسلئے پاکستان سستا ترین ملک محسوس ہوتا ہے کیونکہ اُنہیں اپنی زندگی کے اخراجات کے لئے کئی اے ٹی ایمز دستیاب ہیں ۔ عمران خان اگر اپنی جیب سے تمام اخراجات کریں تو اُن کے ہوش ٹھکانے آجائیں ۔ وزیر اعظم عمران خان کے منی بجٹ کی منظوری پر اُن کے مخالفین نے کہا ہے کہ ” عمران خان نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اور ریاستی آزادی گروی رکھ کر قرض حاصل کیا ہے ۔” یہ طنزیہ باتیں عمران خان سنتے ہیں اور کان لپیٹ لیتے ہیں کہ اب اُن کے پاس سوائے برداشت کرنے کے کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے ۔ عوام بھی اُن کے خلاف ہو چکے ہیں اور اتحادی بھی مبینہ طور پر اُن سے دُور ہوتے جا رہے ہیں ۔ اب جبکہ تمام اپوزیشن اور عوام کی اکثریت بیک زبان یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے سیکورٹی پر سمجھوتہ کرکے قرض حاصل کیا ہے تو عمران خان خود بھی اعتراف کرنے پر مجبور ہُوئے ہیں کہ ہاں ایسا ہی ہُوا ہے اور یہ ہماری ”قومی مجبوری” تھی ۔ اب جبکہ اُن کے بازو جبر کے بیلنے میں پھنس چکے ہیں اور وہ ایک مکمل طور پر ناکام حکمران بن چکے ہیں تووہی اعترافات کررہے ہیں جو ان سے قبل والے پاکستانی حکمران آئی ایم ایف کے پاس بھیک مانگنے جاتے ہُوئے کرتے تھے ۔ اب عمران خان کو احساس و ادراک ہُوا ہے کہ کارِ حکومت چلانا خالہ جی کا باڑہ نہیں ہے اور یہ کہ مملکت کو چلانا اور غریب عوام کی ہر میدان میں خدمت کرنا بڑے بڑے بول بولنے سے کہیں مشکل مہم ہے ۔ 14جنوری2022ء کو وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آبادکے ایک بڑے سرکاری فورم کے سامنے اپنی مجبوریوں اور ناکامیوں کا اعترافات کرتے ہُوئے کہا:” جب بھی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جاتے ہیں مجبوری میں جاتے ہیں اور قرض لینے کے لیے شرائط ماننے سے سیکیورٹی پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کا ارتقا بہت غیر محفوظ حالات میں ہوا۔جس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری سیکیورٹی فورسز نے ملک کو محفوظ بنایا اس کے مقابلے میں دیگر مسلمان دنیا کے ممالک مثلاً لیبیا، صومالیہ، شام، افغانستان کی افواج اپنے ملک کی حفاظت نہیں کرسکیں۔ سیکیورٹی کے بہت سے پہلو ہیں، اگر ایک ہی پہلو پر توجہ دی جائے تو ہمارے پاس سوویت یونین کی مثال ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور فورسز بھی سوویت یونین کو اکٹھا نہ رکھ سکیں۔ہماری کوشش ہے کہ ہماری حکومت، عوام ایک سمت میں چلیں، اگر معیشت درست نہیں ہو تو آپ اپنے آپ کو طویل عرصے تک محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ اگر ہر کچھ عرصے بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی سیکیورٹی متاثر ہوگی کیوں کہ ہمارے پاس کبھی بھی مشترکہ نیشنل سیکیورٹی کا تصور نہیں رہا۔ معیشت میں بھی کبھی یہ نہیں سمجھا گیا کہ ہمیں اپنے آپ کو کس طرح محفوظ بنانا ہے، شرح نمو بڑھتی تھی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ جاتا تھا جس سے روپے پر دباؤ پڑتا تھا اور آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا تھا۔ جب بھی آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں مجبوری میں جاتے ہیں کیوں کہ آخری حل کے طور پر صرف آئی ایم ایف مدد کرنے والا رہ جاتا ہے جو سب سے سستا قرض دیتا ہے۔ لیکن آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لیے ان کی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور جب شرائط مانتے ہیں تو کہیں نہ کہیں سیکیورٹی کمپرومائز ہوتی ہے جو لازمی نہیں کہ سیکیورٹی فورسز ہوں بلکہ اس کا مطلب یہ کہ آپ کو اپنے عوام پر بوجھ ڈالنا پڑتا ہے اور سب سے بڑی سیکیورٹی یہ ہوتی ہے کہ عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہوں”۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا:” قومی سلامتی پالیسی میں جامع نمو کا تصور دیا گیا ہے یعنی جب تک ہم بحیثیت قوم ترقی نہیں کریں گے اور صرف ایک طبقہ ترقی کرجائے تو وہ قوم ہمیشہ غیر محفوظ رہے گی۔سیکیورٹی اس وقت ہوتی ہے جب سب سمجھتے ہیں کہ ہم اس قوم کا حصہ ہیں، اس لیے جامع نمو کا پہلا تصور ریاست مدینہ میں آیا تھا جب فیصلہ کیا گیا کہ ریاست ہر کمزور طبقے کی ذمہ داری لے گی۔ اسلامی فلاحی تصور سب سے زیادہ اسکینڈینیوین ممالک میں دیکھا گیا ہے، ہر طرح ایک ریاست اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لیتی ہے جو پھر اس ریاست کو بچانے کے لیے اسٹیک ہولڈر اور اصل طاقت بن جاتا ہے۔جب بھارت میں افغانستان سے افواج آتی تھیں تو انہیں کہیں مزاحمت نہیں ملتی اور سیدھا پانی پت پر لڑائی ہوتی تھی کیوں کہ وڈیرہ نظام تھا یعنی جو اوپر بیٹھا ہوتا تھا ساری طاقت، پیسہ اس کے پاس ہوتا تھا اور نچلے طبقے کا ملک میں کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا اس لیے ان کی زندگیوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا چاہے کوئی بھی اوپر آجائے۔اس کے برعکس قبائلی علاقوں، افغانستان میں جمہوری طریقہ کار تھا، جرگہ نظام میں لوگوں کو انصاف دیا جاتا اور اپنی آزادی کی قدر کی جاتی تھی اس لیے وہ اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کی مزاحمت کرتے تھے۔ جامع نمو کا تصور یہ ہے کہ سب سے کمزور طبقے کی زندگی کو محفوظ بنایا جائے اور اسی مقصد کے لیے ہر خاندان کو ہیلتھ انشورنس دے کر محفوظ بنایا گیا ہے جو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں۔قومی سلامتی کے پیراڈائم کو رہنمائی فراہم کرنے کیلئے پالیسی کی ضرورت تھی۔” مذکورہ تقریب سے مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے بھی خطاب کیا ۔ اُنہوں نے کہا :” اس پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے ریاست کے تمام ستونوں، وفاق، صوبوں، عسکری قیادت سمیت ہر شعبے کے اتفاق رائے کی ضرورت تھی اس لیے اس میں وقت لگا۔ ہمیں اس پالیسی کی اس لیے ضرورت تھی کہ ایک ایسی دستاویز کی کمی تھی جو چھتری کی طرح مجموعی طور پر قومی سلامتی کے پیراڈائم کو سمت اور رہنمائی فراہم کرے۔ اصولاً یہ دستاویز اگر موجود ہو تو تمام شعبوں کی پالیسیز کے پہلو اس سے منسلک ہوتے چلے جائیں گے۔ اس پالیسی کے اجرا کے بعد جیسے جیسے دیگر شعبوں کی پالیسیز اپڈیٹ ہوں گی وہ آگے جا کر اس سے منسلک ہوجائیں گی۔پاکستان جب سے بنا ہے قومی سلامتی کے حوالے سے بہت بحث ہوئی، ہم نے پوری دنیا کی پالیسیز دیکھی بہت کم ممالک ہیں جو اتنے اعتماد سے ایسی پالیسیز کی وضاحت کرتے ہیں اس کا بڑا حصہ اپنی عوام کے لیے جاری کرتے ہیں کہ وہ دیکھ سکیں کہ ہمارا ارادہ کیا ہے اور قومی سلامتی کے حوالے سے ملک کس سمت جارہا ہے۔”اگلے روز ہی وزیر اعظم کے مذکورہ خطاب کے ساتھ ہی پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات میں تجدید پیدا کرنے کیلئے چند فیصلے بھی کئے ہیں ۔بھارت سے متعلق تمام نکات جو قومی سلامتی پالیسی کے عوامی ورژن میں موجود ہیں درج ذیل ہیں: (١)مغربی سرحد سے مواصلاتی رابطہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے تاکہ خطے اور افغانستان میں امن قائم کیا جا سکے۔ یہ اور بھی اہم ہے کیوں کہ بھارت کے جارحانہ عزائم نے اس مقصد کو یرغمال بنا رکھا ہے (٢)سرحدی تنازعات کے حل کے لیے خصوصی توجہ درکار ہے۔ خاص کر لائن آف کنٹرول اور ان مستقل سرحدی علاقوں پر جہاں بھارت کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزی نے عوام کی جان اور مال سمیت خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رکھا ہے (٣)بھارت کے ایٹمی عزائم اور اس پر مبہم بیانات سمیت خطرناک ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے (٤)مشرق کی جانب دو طرفہ تعلقات میں خرابی مسئلہ کشمیر کے حل میں تاخیر اور بھارت کی خود کو برتر ثابت کرنے کی سوچ کا شاخصانہ ہے۔ پاکستان اپنے پڑوسیوں سے برابری کی سطح پر تعلقات استوار کرنے کے لیے رضا مند ہے جس میں خود مختاری کا احترام اور مشترکہ اقتصادی فوائد کا خیال رکھا جائے (٥)جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ اور پرامن تصفیہ پاکستان کے لیے اہم سلامتی امور میں سے ایک ہے۔ بھارت کی جانب سے اگست 2019 میں لیے گئے یکطرفہ اقدامات کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام نے مسترد کر دیا ہے (٦)بھارت کشمیری حریت کی تحریک کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹا پراپیگنڈا کرتا رہتا ہے (٧)پاکستان قومی اور بین الاقوامی سطح پر امن کی پالیسی کے تحت بھارت سے تعلقات میں بہتری کا خواہاں ہے (٨)ہاکستان میں ہندتوا طرز سیاست میں اضافہ قابل تشویش ہے اور پاکستان کی سلامتی پر براہ راست اثرانداز ہو رہا ہے (٩)بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان کی طرف جارحیت کو سیاسی عزائم کے لیے استعمال کرنے کی روش نے مشرق میں فوجی مہم جوئی اور میزائلوں کے ذریعے جنگ کا خطرہ بڑھا دیا ہ ے (10)بھارت کی جانب سے تمام تصفیہ طلب مسائل پر یکطرفہ فیصلہ لاگو کرنے کی روش سے خطے میں امن اور سلامتی کو دیر پا خطرات درپیش ہیں (١١(بھارت پاکستان سے متعلق غلط خبریں پھیلانے میں مسلسل ملوث ہے۔ پاکستان تمام مسائل کا حل مذاکرات سے نکالنے پر یقین رکھتا ہے تاہم بھارت کے حالیہ اقدامات اس جانب بڑھنے میں نمایاں رکاوٹ ہیں۔”پاکستان کی اس قومی سلامتی پالیسی پر ماہرین کی رائے بھی سامنے آئی ہے ۔ مثال کے طور پر : قائد اعظم یونیورسٹی (اسلام آباد ) میں ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹیڈیز ڈپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمہ ملک کہتی ہیں :” قومی سلامتی پالیسی کے عوامی ورژن میں بنیادی سلامتی امور کو اجاگر کیا گیا ہے ۔یہ بات اہم ہے کہ سلامتی پالیسی کے لیے معیشت کو بنیاد بنایا گیا ہے اور سلامتی امور کے مشیر نے واضح کیا ہے کہ جب معیشت مضبوط ہو گی تب ہی دفاع مضبوط ہو گا۔”اس پالیسی کی تیاری میں چھ سو سے زائد نوجوان طلبہ سے بھی رائے لی گئی ہے جو کہ اس پالیسی کو مستقبل کے مطابق ڈھالنے میں معاون ہو گی۔ اس کے علاوہ صنف (جینڈر) اور سلامتی کے باہمی تعلق کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔’ بھارت سے متعلق سوال پر ڈاکٹر سلمہ ملک کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی سات سال کی محنت کے بعد متفقہ طور پر مرتب کی گئی ہے۔ ”ہو سکتا ہے اس لیے بھارت سے متعلق روایتی موقف میں تبدیلی نہ کی گئی ہو کہ کہیں تاثر غلط نہ جائے۔”


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »