Daily Taqat

ستر وزرا، شہباز شریف کا یو این او سے خطاب اور نواز شریف سے ملاقات

آج 19ستمبر2022ء کو وزیر اعظم شہباز شریف صاحب نیویارک پہنچ رہے ہیں ۔ وہ23ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے ۔ نیویارک پہنچنے سے قبل وہ تین دن سمر قند( ازبکستان) میں تھے جہاں اُنہوں نے ”شنگھائی تعاون تنظیم ” کے سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کی ۔اس اجلاس میں شہباز شریف کی رُوسی، ترکیہ، ایرانی اور وسط ایشیائی ممالک کے صدور سے اچھی ملاقاتیں رہیں ۔رُوسی صدر سے ملاقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رُوس، پاکستان کو گیس اور تیل فراہمی پر رضامند ہو گیا ہے ۔ مگر صرف رضامندی سے کیا ہوتا ہے؟ اصل بات تو یہ ہے کہ امریکہ بہادر پاکستان کو رُوس سے یہ گیس اور تیل لینے کی اجازت دے گا؟لیکن زیادہ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ابھی جنرل اسمبلی سے خطاب میں پورے پانچ دن باقی ہیں لیکن کسی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ پانچ روز قبل ہی ہمارے وزیر اعظم، شہباز شریف، کیوں نیویارک پہنچ گئے ہیں؟ان پانچ دنوں کا بھاری خرچہ قومی خزانے سے ادا کیا جائیگا کہ وزیر اعظم اکیلے نیویارک نہیں پہنچے ہیں ۔ اُن کے وفد میں کئی سرکاری اورغیر سرکاری افراد بھی شامل ہیں ۔ ان کے قیام و طعام کا کمر شکن خرچ بھی قومی خزانے سے ادا کیا جائیگا اور قومی خزانے میں پہلے ہی چوہے ناچ رہے ہیں ۔ شہباز شریف کی حکومت دُنیا بھر سے قرض کے نام پر بھیک مانگ رہی ہے ۔ ڈالر دن رات چھلانگیں مارتا مہنگا سے مہنگا تر ہوتا جا رہا ہے اور روپے کی قدر دن رات کم ہوتی جا رہی ہے ۔ وزیر خزانہ ، مفتاح اسماعیل ، کچھ بھی نہیں کر پارہے، سوائے پریس کانفرنسوں میں رونے کے ۔ اوپر سے سیلابوں نے ایک تہائی پاکستان کو غرقاب کررکھا ہے ۔ ساڑھے تین کروڑ پاکستانی سیلابوں سے براہِ راست متاثر ہو چکے ہیں ۔ پندرہ سو سے زائد افراد سیلاب کی نذر ہو کر جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ سینکڑوں بچے بھی سیلابوں میں بہہ گئے ہیں ۔ تقریباً6ملین پاکستانیوں کے گھر سیلاب نے صفحہ ہستی سے مٹا دئیے ہیں ۔ لاکھوں افراد سیلاب کے کھڑے پانی کی وجہ سے ڈینگی، ملیریا اور پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ اورخزانہ خالی ہے ۔ ایسے میں شہباز شریف کا پانچ دن پہلے ہی وفد کے ساتھ نیویارک براجمان ہو جانا حیرت اور ظلم کی بات ہے ، جبکہ ملک عالمی برادری سے سیلاب زدگان کی امداد کے لئے چندوں کی اپیلیں کررہا ہے ۔ تین کروڑ سے زائد سیلاب زدگان صاف پینے کے پانی، روٹی اور دیگر ضروری خورو نوش کی اشیا کو ترس رہے ہیں ۔ جو این جی اوز اپنے تئیں سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ضرورتمندوں تک پہنچ رہی ہیں ، سب کا کہنا ہے کہ سیلاب کے متاثرین بھوک اور پیاس سے اسقدر نڈھال ہیں کہ امدادی اشیا پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ کئی جگہوں پر ڈاکے پڑنے کی بھی اطلاعات ہیں ۔ وفاقی وزیر خزانہ، مفتاح اسماعیل، ٹی وی پی پر آکر آنسو بہاتے ہُوئے کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ”سیلابی تباہی اتنی وسیع ہے کہ ہم اکیلے سیلاب زدگان کی دستگیری نہیں کر سکتے ۔” ایک درجن سے زائد ممالک سے امدادی سامان سے لدے درجنوں جہاز ملک کے مختلف حصوں میں اُتر چکے ہیں ۔ مگر بھوک اور ضرورتیں اتنی ہمہ گیر ہیں کہ پوری پڑتی دکھائی نہیں دے رہی ۔ درجنوں ملکی اور غیر ملکی این جی اوز بھی سیلاب زدگان کی امداد کررہی ہیں ۔ شہباز شریف کی اتحادی حکومت رات دن واویلا کررہی ہے کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، امداد میں اضافہ کیا جائے ۔ شہباز شریف حکومت کے ترلے اور اپیلیں سُن کر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹی جنرل، انٹونیو گوتریس، بھی بنفسِ نفیس پاکستان کے دو روزہ دَورے پر پچھلے ہفتے پاکستان تشریف لائے ۔ اُنہوں نے بھی سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھ کر عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ سیلاب زدگان کی فوری اور دل کھول کر امداد کی جائے ۔ ایک طرف تو شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی اتحادی حکومت کی مالی حالت یہ ہے اور دوسری جانب دُنیا یہ دیکھ کر حیران ہی تو رہ گئی ہے کہ اِسی ”غریب” حکومت نے پچھلے ہفتے ( 13ستمبر2022ئ)8مزید مشیر ( معاونینِ خصوصی) کابینہ میں شامل کر لئے ہیں ۔ ان کے ”اسمائے گرامی” یوں ہیں :نوابزادہ افتخار خان، مہر ارشاد سیال، رضا ربانی کھر، مہیش کمار ملانی، فیصل کریم کنڈی،سردار سلیم حیدر، تسنیم قریشی اور علی شاہ باچا۔ ان کی تقرری کے نوٹی فکیشنز بھی جارہی ہو چکے ہیں ۔ ان آٹھوں کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے ۔ ان میں سے اولین چار قومی اسمبلی کے ارکان ہیں جبکہ بقیہ چار سادہ سیاستدان ہیں اور ماضی میں کبھی رکنِ اسمبلی رہ چکے ہیں ۔ یوں وزیر اعظم شہبازشریف کی ”غریب حکومت” کی کابینہ کی کُل تعداد 70ہو گئی ہے ۔ لوگ حیران اور ششدر ہیں کہ ایک طرف تو یہ حکومت بھکاریوں کی طرح ساری دُنیا سے امداد کی شکل میں بھیک مانگ رہی ہے اور دوسری جانب اس کی عیاشیوں ، لاپرواہیوں اور اللوں تللوں کا حال یہ ہے کہ مزید آٹھ معاونینِ خصوصی کابینہ میں شامل کر لئے ہیں ۔ یہ شرمناک صورتحال ہے اور اِس بات کا ثبوت بھی کہ شہباز شریف کی اتحادی حکومت کے سینے میں دل کی جگہ پتھر رکھا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اتنی بھاری بھر کم کابینہ کے بے پناہ اخراجات پورے کرنے کے لئے وزیر خزانہ، مفتاح اسماعیل، وحشت اور درندگی کے ساتھ غریب عوام پر آئے روز ٹیکس پر ٹیکس لگا رہے ہیں ، آئے روز بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشہ اور کمر توڑ اضافہ کیا جارہا ہے اور پاکستان بھر کے غریبوں کا قیمہ بنایا جارہا ہے ۔ شہباز شریف کے اس بہیمانہ فیصلے کی گونج ساری دُنیا میں سنائی دی گئی ہے اور سبھی نے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے ۔عالمی میڈیا میں بھی اس اقدام بارے شہباز شریف پر تنقید کی بارش برس رہی ہے ۔ مثال کے طور پر جرمنی کے مشہور میڈیا ”ڈاؤچے ویلے” نے بھی اِس پر اظہارِ خیال کرتے ہُوئے کہا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت کے اس ظالمانہ فیصلے سے ملک بھر میں ناراضی اور غصے کا طوفان اُبل پڑا ہے ۔ شہباز شریف کو مگر اس کا احساس تک نہیں ہے ۔ ”ڈاؤچے ویلے” نے مزید لکھا ہے :”کئی حلقوں میں اس فیصلے کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے اور اسے قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا دعوی ہے کہ ان آٹھ معاونین خصوصی کے تقرر کے بعد وفاقی کابینہ کا حجم تقریبا 70 کے قریب ہو گیا ہے، جس میں چونتیس وزرا، سات وزیر مملکت، چار مشیر اور پچیس معاونین خصوصی شامل ہیں۔پاکستان تحریک انصاف نے فوری طور پر ان تقرریوں پر اپنا ردعمل ظاہر کیا اور اسے قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا ہے۔پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی محمد اقبال خان آفریدی کا کہنا ہے :” ملکی خزانے کو لوٹنے کے لیے مزید لوگوں کو شامل کر لیا گیا ہے۔ ایک طرف شہباز شریف سرکاری خرچے پر ہیلی کاپٹر کے دورے کر رہے ہیں، جو صرف فوٹو سیشن کے لیے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے اپنے اتحادیوں کو خوش کرنے کے لیے معاونین خصوصی رکھ لیے ہیں، جس سے قومی خزانے پر مزید بوجھ پڑے گا۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ملک پہلے ہی 136 بلین ڈالرز سے زائد کا مقروض ہے”۔ملک بھر کے کئی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ” کابینہ کے حجم کو ایک ایسے وقت میں بڑھایا گیا ہے جب سیلاب زدگان کی مدد کے لیے پائی پائی کی ضرورت ہے۔جنوبی پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور سندھ میں سیلاب متاثرین بھوک وافلاس اور دربدری کا شکار ہیں۔ وہ بیماریوں سے مر رہے ہیں اور یہاں وفاقی کابینہ کے حجم کو بڑھایا جارہا ہے۔ اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ معیشت کو دس سے تیس بلین ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے۔ تیس لاکھ ایکڑ سے زیادہ اراضی تباہ ہوگئی ہے۔ لاکھوں انسان کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں یہ تقرریاں انتہائی شرمناک ہیں۔ حکمران طبقہ کی اس دلیل میں کوئی طاقت نہیں کہ وزرا اگر منسٹر انکلیو میں سرکاری گھروں میں رہتے ہیں، تو وہ اس کے پیسے اپنی تنخواہ سے کٹوا دیتے ہیں۔ اس جگہ گھر ایک ایک دو دو کینال یا اس سے بھی بڑے ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں ایسے گھر دس لاکھ سے بیس لاکھ روپے کرائے پر ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان وزیروں ، مشیروں اور معاونینِ خصوصی کا سفر مفت ہوتا ہے۔ ان کا علاج و معالجہ حکومت کرواتی ہے۔ پٹرول اور دوسری یوٹیلیٹیز پر بھی ان کو بہت رعایت دی جاتی ہے۔ تو ان کی مراعات پر بے تحاشہ پیسہ قومی خزانے سے خرچ ہوتا ہے، جو ان حالات میں سیلاب زدگان پر لگنا چاہیے۔”تاہم حکومت کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ صابر علی بلوچ کا کہنا ہے :” وزرا پر ہونے والے اخراجات بہت معمولی ہیں اور ان کو قومی خزانے پر بوجھ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان 22 کروڑ سے زیادہ آبادی کا ملک ہے، جہاں پر لوگوں کے مسائل کی نوعیت مختلف اور ہرعلاقہ اور ہرصوبہ وفاقی کابینہ میں نمائندگی چاہتا ہے تاکہ اس علاقے کے مسائل حل ہو سکیں۔ موجودہ معاونین میں سے ایک بڑی تعداد ایسے ہی علاقوں کی ہے۔ یہ اتحادی حکومت ہے جس میں حکومت کے دوسرے اتحادیوں کو شراکت اقتدار کے تحت حصہ دینا پڑتا ہے لیکن اس کا مقصد صرف عوام کی خدمت کرنا ہوتا ہے۔ یہ معاونین سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے میں وزیر اعظم کی مدد کر سکتے ہیں۔ یہ تصور غلط ہے کہ اراکین اسمبلی یا وزرا پر بے تحاشا پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ کچھ لوگ یہاں تک الزام لگا دیتے ہیں کہ وزرا حج اور عمرہ بھی سرکاری پیسے سے کرتے ہیں، جس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اسی طرح زیادہ تر بیرون ملک دوروں کے خرچے مہمان ممالک اٹھاتے ہیں۔”کئی حلقوں کا یہ دعوی ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی سطح پر کابینہ کا حجم اتنا بڑا نہیں ہو سکتا ؛ تاہم قانون سازی، پارلیمانی امور اور سیاسی امور کے ماہر احمد بلال محبوب کا کہنا ہے :” یہ بات درست ہے کہ وفاقی کابینہ کا حجم بہت زیادہ نہیں ہو سکتا۔ آئین کے آرٹیکل بانوے کے مطابق وزرا اور وزرائے مملکت کی تعداد اراکین پارلیمنٹ کی مجموعی تعداد کا گیارہ فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ ہماری پارلیمنٹ کی مجموعی تعداد 446 ہے۔ تو اس حوالے سے وفاقی کابینہ کے ارکان کی تعداد 49 ہونی چاہیے۔تاہم وزیراعظم معاونین خصوصی جتنے چاہے، رکھ سکتے ہیں، اس کی آئین میں کوئی حد نہیں ہے۔ وزیراعظم نہ صرف ان معاونین کا تقرر کر سکتے ہیں بلکہ ان کو وزیر یا وزیر مملکت کا درجہ بھی دے سکتے ہیں”۔آئین میں اِسی کمزوری کا فائدہ اب وزیر اعظم شہباز شریف بھی اُٹھا رہے ہیں اور اپنی کرسی مضبوط کرنے کے لئے اتحادیوں کو خوش کررہے ہیں اور غریب اور غربت و مہنگائی کی ماری عوام جائے بھاڑ میں ۔ اِس کی شہباز شریف کو پروا ہے نہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو ۔ یوں لگ رہا ہے جیسے یہ اتحادی حکومت بنی ہی اسلئے تھی کہ اِس میں شامل سیاستدان ”نیب” وغیرہ میں بنے اپنے مقدمات ختم کروا سکیں ۔ اِس الزام کی ایک تصدیق تو 18ستمبر2022ء کو ہو گئی ہے جب یہ خبر آئی ہے کہ ”نیب” میں ترامیم کے بعد ( نیب میں ترامیم بھی اتحادی حکومت ہی نے کی تھی) 150سے زائد سیاستدانوں کے خلاف ”نیب” میں بنے ریفرنسزواپس بھجوا دئیے گئے ہیں ۔ ان کیسز میں شپباز شریف ، حمزہ شہباز اور سید یوسف رضا گیلانی وغیرہ اتحادی حکومت کے کئی لوگ شامل ہیں ۔ پی ٹی آئی نے شائد بجا ہی کہا ہے کہ یوں اتحادی حکومت میں شامل افراد کو2400ارب کا ریلیف اور این آر او دیا گیا ہے ۔ اتحادی حکومت میں شامل ان سیاستدانوں نے اپنے لئے تو بے پناہ ریلیف لے لیا ہے لیکن اِس حکومت کے پاس غریب عوام کو ریلیف دینے کی کوئی طاقت ہے نہ نیت ۔ ایسے میں نون لیگ سمیت پی پی اور جے یو آئی ایف وغیرہ کس منہ سے اگلے انتخابات سے عوام سے ووٹ مانگ سکیں گے ؟ انہیں تو عوام سے ٹھینگا ملے گا۔ عوام کی بے بسی تو یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کیلئے مشورے کیلئے لندن پہنچ رہے ہیں ۔ ممکن ہے ان سطور کی اشاعت تک وہ لندن پہنچ بھی چکے ہوں ۔ اِس ضمن میں پی ٹی آئی شدید گلہ ہُوئے اگر یہ کہتی ہے کہ ایک مجرم بھلا اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کا مشورہ کیونکر دے سکتا ہے ، بجا ہی ہے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »