دس ستمبر تک اگر نواز شریف نے عدالت کے سامنے سرنڈر نہ کیا تو؟

میاں محمد نواز شریف پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے دو بار وزیر اعلیٰ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تین بار وزیر اعظم رہے ۔ یہ اعزاز کوئی معمولی نہیں ہے اور یہ اعزاز تاریخِ پاکستان میں صرف نواز شریف ہی کو حاصل ہے ۔اُن کے بھائی بھی پنجاب کے دو بار وزیر اعلیٰ رہے ۔ اُن کے سمدھی پاکستان کے دو بار مرکزی وزیر خزانہ رہے ۔ اُن کے بھتیجے اور داماد بھی رکنِ قومی اسمبلی رہے ۔ اُن کا ایک بھتیجا اور ایک بھائی اب بھی ایم این اے ہیں ۔ بھائی صاحب تو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں ۔اُن کی پارٹی نون لیگ اب بھی پاکستان کی دوسری سب سے بڑی اور طاقتور سیاسی جماعت ہے اور اب بھی عوام میں مقبولیت رکھتی ہے ۔ تازہ ترین سرویز بتاتے ہیں کہ اگر آج قومی انتخابات کا انعقاد ہو جائے تو نواز شریف کی پارٹی کو زیادہ ووٹ ملیں گے ۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کی پارٹی اب بھی ایک اہم سیاسی جماعت ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ نواز شریف ایک مجرم ہیں اور عدالت کے سزا یافتہ قیدی بھی ۔ وہ لاہور کی ایک جیل کے قیدی تھے جب پلیٹلیٹس کی کمی کی بیماری نے ہر طرف ہلچل مچا دی ۔ مبینہ طور پر اُن کی جان کے لالے پڑ گئے تھے ۔ پنجاب کی صوبائی اور وفاقی حکومت کو بھی پریشانیوں نے آ گھیرا تھا۔ میڈیکل رپورٹوں کی بنیاد پر قیدی اور مجرم نواز شریف کو جیل سے نکال کر سروسز ہسپتال (لاہور) میں داخل کر دیا گیا اور ہسپتال ہی کو سب جیل قرار دے دیا گیا ۔ بعد ازاں اُنہیں اُن کے گھر بھیج دیا گیا اور گھر کو ہسپتال اور جیل بھی قرار دیا گیا۔ اور پھر ایک روز خبر آئی کہ نواز شریف کے برادرِ خورد شہباز شریف کی ضمانت پر نواز شریف کو حکومت اور عدالت نے علاج کیلئے چارہفتوں پر لندن جانے کی اجازت دے دی لیکن اب یہ ضمانتی چھٹی چار ہفتے کی بجائے آٹھ مہینوں سے بھی زائد عرصے پر محیط ہو چکی ہے ۔ اس دوران نواز شریف نے لندن میں بظاہر کوئی علاج کروایا نہ کوئی آپریشن ۔ پچھلے دنوں مجرم نواز شریف کی لندن میں اپنے مفرور بیٹے کے ساتھ سیریں کرنے کی کچھ فوٹو سامنے آئیں جن میں وہ پی ٹی آئی کی حکومت کی بقول ”چنگے بھلے” اور ”نوجوانوں کی طرح صحتمند” نظر آرہے تھے ۔ یہ تصاویر عمران خان اور پی ٹی آئی کو اچھی نہیں لگی ہیں ۔ اس سے قبل بھی نواز شریف کی ایک لندن ہی سے جاری کی گئی اُس فوٹو نے بھی بڑی ہلچل مچائی تھی جس میں وہ لندن کے کسی فٹ پاتھ پر بیٹھ کر اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ کافی نوشِ جاں کررہے تھے ۔ اور اب یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ چند دن قبل نواز شریف کی مبینہ طور پر بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے فون پر گفتگو بھی ہُوئی ہے ۔شنید ہے کہ اس گفتگو پر نواز شریف کو محترمہ مریم نواز نے مائل اور قائل کیا تھا ۔ یہ دونوں سیاسی شخصیات عمران خان ، پی ٹی آئی کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو قطعی پسند نہیں ہیں کہ یہ دونوں سیاسی شخصیات مسلسل عمران خان کے خلاف سخت جدوجہد کرتی نظر آ رہی ہیں ۔ اس پس منظر میں نواز شریف کا لندن سے واپس نہ آنا ( جبکہ اُن کی ضمانتی مدت بھی ختم ہو چکی ہے) حکومت کے اعصاب پر بوجھ سا بن گیا ہے اور وہ نواز شریف کو ہر صورت میں واپس پاکستان لانے کے دعوے بھی کررہی ہے ۔ اور اسی پس منظر میں عمران خان نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہُوئے یہ بھی ارشاد فرمایا:” نواز شریف کو لندن بھیج کر ہم سے غلطی ہُوئی ہے ۔”ان الفاظ کے ادا ہوتے ہی پی ٹی آئی کے مقتدرین بھی بیک آواز بول اُٹھے ہیں کہ نواز شریف کو قانون کی طاقت سے واپس ملک لایا جائے گا۔ لیکن کیا نواز شریف کو واپس لانا اتنا ہی آسان ہے؟ کیا اس سے پہلے حکومتِ پاکستان ”قانون کی طاقت سے” اپنے دونوں بڑے مطلوب ملزمان( الطاف حسین اور اسحاق ڈار) کو برطانیہ سے واپس لا سکی ہے ؟ اگر نہیں تو اب نواز شریف کو کیسے اور کیونکربرطانیہ سے پاکستان لایا جا سکتا ہے؟ کیا انسانی حقوق کی چیمپئن برطانوی حکومت ”بیمار” نواز شریف کو حکومتِ پاکستان کے حوالے کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ؟ یہ بڑے مشکل ، اوکھے اور پیچیدہ سوالات ہیں ۔ اور چند دن پہلے جب پورے ملک میں نواز شریف کو واپس لانے کی باتیں بلند آہنگ سے دانستہ کی جارہی تھیں، نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو یکم ستمبر 2020ء بروز منگل اسلام آباد ہائیکورٹ طلب کیا گیا ۔ اُسی روز اسی عدالت میں نواز شریف کا کیس بھی زیر سماعت تھا؛ چنانچہ خبر آئی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے یکم ستمبر بروز منگل سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 10 ستمبر تک عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیا ہے، بصورت دیگر قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے بعد ایک تحریری حکم نامے میں لکھا کہ انہوں نے بیرون ملک جانے سے قبل آگاہ نہیں کیا تھا؛ لہٰذا وہ 10 ستمبر2020ء تک خود کو عدالت کے سامنے سرنڈر کریں کیونکہ العزیزیہ ریفرنس میں ان کی ضمانت غیر موثر ہو چکی ہے۔بینچ نے اپیلوں کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے مزید مہلت دی۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے موکل کو مفرور قرار نہ دیا جائے، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ عدالت نے دوسری جانب وفاق کو ہدایت کی ہے کہ وہ لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے ذریعے نواز شریف کی صحت کے بارے میں تصدیق کرے کہ واقعی ان کی حالت خطرے میں ہے یا نہیں۔ یکم ستمبر کو اسلام آباد میں عجب منظر تھا۔ اپیلوں کی سماعت سے دو گھنٹے قبل ہی اسلام آباد ہائی کورٹ جانے والے تمام راستوں پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کرکے راستوں کو خاردار تاروں سے بند کردیا گیا تھا ( شائد اسلئے کہ لاہور میں ”نیب” کی عدالت میں پیشی کے دوران مریم نواز کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم کو ہُوئے زیادہ دن نہیں گزرے تھے) اس کے باوصف کمرہ عدالت میں مخصوص تعداد میں لوگوں کو جانے کی اجازت تھی۔ عدالت کا کمرہ نمبر دو میڈیا، وکلا اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اسی رش میںمریم نواز کمرہ عدالت میں آئیں۔ پھر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کا آغاز کیا۔ یہ ایک اور تاریخی لمحہ تھا ؛ چنانچہ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس سماعت کی کارروائی کو بھی بطورِ ریکارڈ اپنے قارئین کے سامنے رکھا جائے ۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ ”ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کی معطلی کے بعد ضمانت منظور ہوئی جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو مشروط ضمانت ملی اور ان کا موجودہ سٹیٹس یہ ہے کہ وہ اس وقت ضمانت پر نہیں ہیں۔ وہ علاج کے لیے بیرون ملک گئے ہیں اور واپس نہ آنے کی وجوہات درخواست میں لکھی ہوئی ہیں۔”اس پرجسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ”کیا ضمانت ختم ہونے کے بعد نواز شریف کو عدالت میں سرنڈر نہیں کرنا چاہیے تھا؟ نواز شریف کی ضمانت مشروط اور ایک مخصوص وقت کے لیے تھی، اگر لاہور ہائی کورٹ نے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دیا تو کیا العزیزیہ ریفرنس میں سزا ختم ہوگئی؟”۔اس پر نواز شریف کے وکیل نے جواب دیا کہ ”ایسا بالکل نہیں کہ نواز شریف عدالت کے سامنے سرنڈر نہیں کرنا چاہتے۔” انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی نمائندہ یا برطانیہ میں پاکستان ہائی کمیشن کا کوئی فرد نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینے نہیں گیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ”آپ یہ بتا دیں کہ کیا نواز شریف ہسپتال میں داخل ہیں؟” خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ”ایک آرڈر پاس ہوا کہ ڈاکٹروں نے انہیں پاکستان سفر کرنے کی اجازت دی تو وہ واپس آنے کے پابند ہوں گے۔ ہسپتال میں داخل نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لندن میں زیر علاج نہیں جبکہ کرونا وائرس کی صورت حال کا بھی سامنا تھا۔نواز شریف کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ بھی موصول ہو گئی ہے جو دفتر خارجہ سے تصدیق کے بعد جمع کروائی جائیگی۔” اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ”وہ رپورٹ ابھی ہمارے سامنے نہیں، عدالت کے پاس جون کی میڈیکل رپورٹ جمع کروائی گئی ہے۔”عدالت عالیہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ”وفاقی حکومت کا نواز شریف کی صحت پر کیا موقف ہے؟” جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ”مجھے کوئی ہدایات نہیں ملیں۔” اس موقعے پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ”اگر نواز شریف مفرور ہیں تو الگ سے تین سال قید کی سزا ہوسکتی ہے، کیونکہ ٹرائل یا اپیل میں پیشی سے فرار ہونا بھی جرم ہے۔”جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ”ہم نواز شریف کو اس وقت مفرور قرار نہیں دے رہے لیکن ان کے بغیر اپیل کیسے سنی جا سکتی ہے؟ ایک سوال یہ ہے کہ اگر نواز شریف کی غیر حاضری میں اپیل خارج ہو گئی تو کیا ہوگا؟ یا اگر عدالت نواز شریف کو مفرور ڈکلیئر کر دے تو پھر اپیل کا کیا سٹیٹس ہو گا؟” جس پر ایڈووکیٹ خواجہ حارث نے کہا کہ ”اگر نواز شریف جان بوجھ کر نہیں آتے تو پھر عدالت چاہے انہیں مفرور قرار دے دے۔”عدالت نے ایک گھنٹے کی سماعت کے بعد کہا کہ ”ابھی ہم نواز شریف کو مفرور ڈکلیئر نہیں کر رہے بلکہ انہیں سرنڈر کرنے کے لیے ایک موقع فراہم کر رہے ہیں۔” اس کے ساتھ ہی عدالت نے العزیزیہ ریفرنس کی سماعت 10 ستمبر جبکہ ایون فیلڈ ریفرنس اپیل میں نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر اور مریم نواز کی اپیلوں پر سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کر دی۔ حیرانی کی بات ہے کہ سماعت کے آغاز سے قبل مریم نواز نے صحافیوں سے کھل کر غیر رسمی گفتگو بھی کی۔ گفتگو میں مریم نواز نے خواہش ظاہر کی کہ ان کے والد اپنا علاج مکمل کروائیں اور ابھی واپس نہ آئیں۔ انہوں نے کہا: ”کوئی نہیں چاہے گا کہ اس عمر میں اپنے ملک سے دور رہے، میاں صاحب کا علاج چل رہا ہے، جس میں تاخیر کرونا وائرس کی وجہ سے ہوئی ہے۔”انہوں نے ملکی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”وقت کی ضرورت ہے کہ تمام جماعتیں ملک کے لیے ایک پیج پر آئیں۔ میرا نہیں خیال کہ نواز شریف کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) میں جانے سے منع کریں گے۔ اے پی سی میں پتہ چل جائے گا کہ سب ایک پیج پر ہیں یا نہیں۔”ہمیں نہیں معلوم کہ نواز شریف 10ستمبر تک خود کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرتے ہیں یا نہیں لیکن اتنا منظر ضرور کھلا ہے کہ مریم نواز نے خاموشی کا روزہ توڑ ڈالا ہے ۔ یکم ستمبر کو اسلام آباد میں کی گئی اُن کی گفتگو سے صاف اشارے مل رہے ہیں کہ وہ نہیں چاہتیں کہ نواز شریف ابھی واپس پاکستان آئیں ۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر نواز شریف کیلئے شہباز شریف کی دی گئی ضمانت کا کیا بنے گا؟سچ کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے واپسی کیلئے اپنا وعدہ نہ نبھا کر اپنی اخلاقی پوزیشن کمزور کی ہے ۔ ہماری نام نہاد اشرافیہ قانون ، عوام اور عدالتوں کے سامنے کئے گئے وعدوں کا پاس کرنے کی عادی نہیں ہے ۔ اس سے قبل بھی ایک سابق صدرِ پاکستان (آصف علی زرداری) آن دی ریکارڈ وعدہ شکنی کرتے ہُوئے کہہ چکے ہیں:” وعدوں کی بھلا کیا حیثیت ہوتی ہے ؟”۔ شرم ان کو مگر نہیں آتی ۔ اس کے ساتھ ہی بعض ”شرارتی” عناصر نے یہ شوشہ اور سوال بھی چھوڑا ہے کہ سابق صدرِ پاکستان اور ایک سیاسی جماعت کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف جنہیں ایک مقدمے میں عدالت ”مفرور” قرار دے چکی ہے، کو کب بیرونِ ملک سے”قانون کی طاقت سے” واپس پاکستان لایا جارہا ہے ؟ یہ سوال اپنی جگہ درست ہے کیونکہ قانون تو سب کیلئے برابر ہونا چاہئے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.