Latest news

!یاد رکھئے، انصاف ہی قوموں کی زندگی کو توانا رکھتا ہے 

یہ دسمبر2019ء کی 16تاریخ تھی جب عدالتِ عظمیٰ پاکستان نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے ۔ اس تفصیلی فیصلے کا بڑی شدت سے انتظار کیا جارہا تھا۔ مختصر فیصلہ تو پہلے ہی (28نومبر 2019ء کو) سامنے آ چکا تھا لیکن اس کی تفصیلات اور جزئیات کے ہم سب منتظر تھے ۔ قانون دان بھی ، عسکری ادارے بھی، صحافی بھی اور سب سیاسی جماعتوں سے منسلکہ سیاستدان بھی ۔یقیناً اس فیصلے کی بازگشت دُور نزدیک بھی سنائی دی گئی ہے اور اس کے اثرات ہمارے ملک کے ہر شعبے پر تادیر مرتّب ہوں گے ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میںکہا ہے کہ اگر حکومت 6 ماہ کی مدت میں اس معاملے پر ( آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے حوالے سے) پارلیمنٹ سے قانون سازی میں ناکام ہوئی تو موجودہ آرمی چیف ( جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب) ریٹائر تصور ہوں گے۔پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا یہ اولین فیصلہ ہے ۔چیف جسٹس جناب آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا 43 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ۔ اسے جناب جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے ۔ فیصلے میں چیف جسٹس صاحب کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے۔سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں استفسار کیا ہے کہ ہماری حکومت قانون کی ہے یا افراد کی؟ اور یہ کہ ، ہمارے سامنے مقدمہ تھا کہ کیا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی جاسکتی ہے؟ کیس کا بنیادی سوال قانون کی بالادستی کا تھا۔عدالت ِعظمیٰ نے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ اگر وفاقی حکومت پارلیمنٹ سے جنرل یا آرمی چیف کی مدت اور دیگر شرائط پر قانون سازی اٹارنی جنرل کی یقین دہانی کے باوجود 6 ماہ کے اندر نہیں کرپائی تو آرمی چیف کے عہدے کو مکمل طور پر بے ضابطہ اور ہمیشہ کے لئے ایسا نہیں چھوڑا جاسکتا اور یہ آئینی طور پر نامناسب بات ہوگی۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ اٹارنی جنرل کی وعدے کے مطابق قانون سازی کے لیے وفاقی حکومت کی ناکامی کی صورت میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت تین سال میں مکمل ہوگی جو 29 نومبر 2016 کو شروع ہوئی تھی۔عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ سے 6 ماہ کے اندر اس حوالے سے قانون سازی میں ناکامی کی صورت میں صدرِ مملکت ،وزیراعظم کی تجویز پر حاضر سروس جنرل کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف تعینات کریں گے۔جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے تحریر کردہ اس فیصلے سے بینچ کے دیگر اراکین جسٹس مظہر عالم خان، میاں خیل اور چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اتفاق کیا؛ تاہم چیف جسٹس نے اضافی نوٹ بھی لکھا جس میں کہا گیا ہے :” میں اپنے برادر جج سید منصور علی شاہ کے فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں اور اس میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ مخصوص تاریخ کے تناظر میں آرمی چیف کاعہدہ کسی بھی عہدے سے زیادہ طاقت ور ہے۔آرمی چیف کا عہدہ لامحدود اختیار اور حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔بے ضابطہ صوابدیدی اختیار یا عہدہ خطرناک ہوتا ہے اوریہ انکشاف ہمارے لیے تعجب کا باعث تھا کہ آرمی چیف کے عہدے میں توسیع، دوبارہ تقرری کی شرائط و ضوابط کا کسی قانون میں ذکر نہیں ہے۔ آئین کے تحت مسلح افواج سے متعلق صدر کے اختیارات قانون سے مشروط ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری قوم کی جمہوری پختگی اس حد کو پہنچ چکی ہے جہاں یہ عدالت کہہ سکتی ہے، جیسا کہ انگلینڈ کے چیف جسٹس سر ایڈورڈ کوک نے 1616ء میں بادشاہ جیمز کے اختیارات کے حوالے سے کہا تھا، کہ ”آپ بالا تر ہوسکتے ہیں لیکن قانون آپ سے (بھی) بالاتر ہے۔”اندازہ کیجئے کہ ہمارے ہاں آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا کوئی حتمی فیصلہ ہی نہیں ہورہا اور بھارت ہے کہ اُ س نے اپنے نئے آرمی چیف کا فیصلہ کر دیا ہے ۔ اب جنرل منوج نروانے بھارتی آرمی چیف ہوں گے ۔ وہ31 دسمبر 2019ء کو کمان سنبھالیں گے جب موجودہ انڈین آرمی چیف ( بپن راوت) ریٹائر ہوں گے ۔کاش ہمارے ہاں بھی ایسی مثالیں قائم کی جا سکتیں اور نیا آرمی چیف بغیر کسی قضئے اور شور کے اپنا عہدہ سنبھال سکتا۔ اب سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد گیند پارلیمنٹ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے پاس چلی گئی ہے ۔ عمران خان اور اُن کی حکومت کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق نیا قانون بنانے کیلئے یقیناً اپوزیشن کے تعاون کی ضرورت ہو گی ۔ سوال مگر یہ ہے کہ آیا حکومت اور اپوزیشن کے باہمی تعلقات اتنے مستحسن ہیں کہ یہ قانون سازی آسانی سے ہو سکے ؟اور یہ بھی کہ آیا حکومت اور کابینہ اس معاملے میں سنجیدہ بھی ہے ؟ حقائق بتاتے ہیں کہ کابینہ کے کئی ارکان ( آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے قانون سازی کرنے کیلئے) اپوزیشن کے پاس نہیں جانا چاہتے ۔ وہ اپوزیشن کی توہین بھی کرتے ہیں اور اُن کا مذاق بھی اُڑاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر تین وفاقی وزرا شیخ رشید، مراد سعید اور فیصل واوڈا۔ فیصل واوڈا نے تو ابھی پچھلے روز ایک نجی ٹی وی ( جیو) کے ٹاک شو میں یوں کہا:” اپوزیشن والے آسانی ہی سے نہیں بلکہ لیٹ کر یہ قانون بنانے کیلئے حکومت کو ووٹ دیں گے ۔” موصوف نے یہ بھی کہا کہ ”ہم اپوزیشن سے تو ہاتھ بھی نہیں ملانا چاہتے ”۔ یہی مسٹر واوڈا پہلے بھی یہ بیہودہ بیان دے چکے ہیں کہ ” ہمیں اپوزیشن کے پاس کوئی رشتہ لینے، دینے نہیں جانا ہے ۔” جب اس طرح کی زبان استعمال کی جائے گی تو اپوزیشن والے کیوں اور کیونکر عمران خان سے تعاون کریں گے ؟ یوں بھی محسوس ہوتا ہے اور بدگمانیاں کی جارہی ہیں کہ حکومت دانستہ ایسا ماحول بنا رہی ہے کہ حزبِ اختلاف والے مشتعل ہو کر جنرل صاحب کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے پارلیمنٹ میں آنے والے قانون میں تعاون نہ ہی کریں ۔ ایسا مگر کیوں کیا جائے گا؟ یہ ایک پُر اسرار معاملہ ہے ۔وزیر اعظم صاحب خود بھی معاملات سلجھانے کیلئے آگے بڑھ کر کوئی کردار ادا کرتے نظر نہیں آ رہے ۔ جس وزیر اعظم نے اب تک پارلیمنٹ سیشن میں اپوزیشن لیڈر سے مصافحہ بھی نہ کیا ہو ، اُس سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ نئے قانون کے لئے اسی اپوزیشن کے پاس جائے گا ۔یوں معاملات خاصے اُلجھ گئے ہیں ۔ اور وزیر اعظم صاحب بھی مسائل کی دلدل میں پھنس گئے ہیں ۔ عمران خان صاحب کے راستے ( اسٹیبلشمنٹ کے شاندار تعاون کے باوصف) کانٹوں سے صاف نہیں ہو رہے ہیں ۔ابھی حکومت سپریم کورٹ کی طرف سے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے مشروط فیصلے سے سنبھلی بھی نہیں تھی کہ اسلام آباد میں بروئے کار خصوصی عدالت کی طرف سے 17دسمبر کو سابق صدر جنرل (ر) جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت سنا دی گئی ۔ خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت انہیں سزائے موت دینے کا حکم دے دیا۔وفاقی دارالحکومت میں موجود خصوصی عدالت میں پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقاراحمد سیٹھ کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔عدالت میں سماعت کے بعد 3 رکنی بینچ نے 2 ایک کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کو غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں سزائے موت کا حکم دے دیا۔اس فیصلے سے ملک بھر میں ایک سناٹا سا چھا گیا ۔ اور جب دو دن بعد پرویزشرف کے خلاف سنائے گئے فیصلے کا تفصیلی متن سامنے آیا تو یہ اور بھی حیرت انگیز تھا کہ اس کے پیراگراف 66کے الفاظ خاصے سخت گردانے گئے ہیں ۔ اس فیصلے کے مختصر حصے پر بھی افواجِ پاکستان کا ردِ عمل فوری سامنے آیا اور تفصیلی فیصلے پر بھی ۔ مختصر فیصلے پر اپنے سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہُوئے افواجِ پاکستان کے ترجمان، ڈی جی آئی ایس پی آر، نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر افواج پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا :”پرویز مشرف آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور صدر مملکت رہے اور 40 سال سے زیادہ پاکستان کی خدمت کی۔جنرل (ر) پرویز مشرف نے ملک کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں اور وہ کسی صورت میں بھی غدار نہیں ہو سکتے۔”بیان میں کہا گیا کہ کیس میں خصوصی عدالت کی تشکیل سمیت آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، جبکہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو اپنے دفاع کا بنیادی حق نہیں دیا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا :”عدالتی کارروائی شخصی بنیاد پر کی گئی اور کیس کو عجلت میں نمٹایا گیا۔”انہوں نے توقع ظاہر کی کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو آئینِ پاکستان کے تحت انصاف دیا جائے گا۔ 19دسمبر کو پرویز مشرف کے حوالے سے سامنے آنے والے تفصیلی فیصلے پر بھی ترجمان افواجِ پاکستان نے ایک پریس کا نفرنس کی شکل میں ترنت جواب دیا اور کہا کہ خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے تفصیلی فیصلے نے ہمارے خدشات کو درست ثابت کردیا ہے۔پریس کانفرنس کے آغاز ہی میں ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ 17 دسمبر کے مختصر فیصلے پر جن خدشات کا اظہار کیا گیا تھا، وہ تفصیلی فیصلے میں صحیح ثابت ہوئے ہیں، یہ فیصلہ کسی بھی تہذیب اور اقدار سے بالاتر ہے اور چند لوگ آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا :” ہم آج ہائبرڈ وار کا سامنا کررہے ہیں تو ہمیں اس بدلتی ہوئی جنگ کا بھرپور احساس ہے۔ اس میں دشمن، اس کے سہولت کار، آلہ کار کا کیا طریقہ ہوسکتا ہے۔ہمیں پوری طرح داخلی اور بیرونی خطرات کا اندازہ ہے اور ہم اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو ناکام بنائیں گے۔ جہاں دشمن ہمیں داخلی طور پر کمزور کرتے رہے، اب اس کے ساتھ ساتھ بیرونی خطرات کی جانب سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ کچھ لوگ اندرونی اور بیرونی حملوں سے اشتعال دلاتے ہوئے ہمیں آپس میں بھی لڑوانا چاہتے ہیں اور اس طریقے سے پاکستان کو شکست دینے کے خواب بھی دیکھ رہے ہیں، ایسا انشااللہ نہیں ہوگا۔ ہم اپنے بڑھتے ہوئے قدموں کو پیچھے نہیں ہٹائیں گے اور اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو ناکام کریں گے۔”ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا:” گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ ہم نے اس ملک کو استحکام دینے کے لیے بہت لمبا سفر کیا ہے اور عوام، اداروں اور افواج پاکستان نے بہت سی قربانیاں دی ہیں، ہم اس استحکام کو خراب نہیں ہونے دیں گے۔ افواج پاکستان صرف ایک ادارہ نہیں ہے بلکہ ایک خاندان ہے۔ ہم پاکستان کے عوام کی افواج ہیں اور جذبہ ایمانی کے بعد عوام کی حمایت سے مضبوط ہیں۔ہم ملک کا دفاع بھی جانتے ہیں اور ادارے کی عزت اور وقار کا دفاع بھی بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔ ہمارے لیے ملک پہلے ہے اور ادارہ بعد میں ہے، آج اگر ملک کو ادارے کی قربانیوں، پرفارمنس اور یکجہتی کی ضرورت ہے تو ہم دشمن کے ڈیزائن میں آکر ان چیزوں کو خراب نہیں ہونے دیں گے، ہم ملک اور ادارے کا بھرپور دفاع کریں گے۔ کچھ دیر قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی وزیراعظم پاکستان عمران خان سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ پرویز مشرف کے خلاف کیس کے فیصلے کے بعد افواج پاکستان کے کیا جذبات ہیں اور اس معاملے کو آگے لے کر کیسے چلنا ہے، اس پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ آرمی چیف اور وزیراعظم کی بات چیت میں کیا فیصلے ہوئے، اس سے حکومت تھوڑے عرصے میں آگاہ کرے گی۔ میری عوام سے درخواست ہے کہ وہ افواج پاکستان پر اپنا اعتماد رکھیں۔ ہم ملک میں کسی صورت انتشار نہیں پھیلنے دیں گے، لیکن ایسا کرتے ہوئے اپنے ادارے کی عزت اور وقار کو ملک کی عزت اور وقار کے ساتھ قائم رکھیں گے ۔” ڈی جی آئی ایس پی آر کے ان دونوں گفتگوؤں سے ملک بھر میں حالات نے ایک نیا پلٹا کھایا ہے ۔ملک کے کئی حصوں میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی سزائے موت کے خلاف مظاہرے بھی ہُوئے ہیں ۔ کئی ٹی وی ٹاکس میں مذکورہ فیصلے کے پیراگراف 66پر خاصی لے دے ہو رہی ہے ۔ ساتھ ہی پاکستان وکلا کے ایک گروہ نے ڈی جی آ ئی ایس پی آر کی دوسری پریس ٹاک پر خاصی ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا ہے ۔ ان نئے حالات نے عمران خان کے لئے حالات مزید دشوار بنا دئیے ہیں ۔ملکی معاشی حالات بھی اطمینان بخش نہیں ہیں ۔ وزیر اعظم صاحب ملک کو درپیش سنگین معاشی مسائل اور مصائب دُور کرنے کے لئے بھاگ دوڑ تو کررہے ہیں لیکن ڈور سلجھتی نظر نہیں آ رہی ۔ ابھی رواں ہفتے(16دسمبر) اُنہوں نے سعودی عرب ، بحرین اور جنیوا کے دَورے کئے ہیں ۔ بحرین میں تو اُنہیں سب سے بڑے سویلین ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے جو اس سے پہلے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی دیا جا چکا ہے ۔ لیکن اِسی تازہ اور حالیہ دَورے کے دوران وزیر اعظم صاحب کو ایک دھچکا بھی لگا ہے اور وہ یہ کہ سعودی عرب کے دَورے کے دوران ہی حکومتِ پاکستان کی طرف سے یہ اعلان کر دیا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان ملائشیا میں ہونے والی اہم ترین کانفرنس ( کوالا لمپور سمّٹ)میں شریک نہیں ہوں گے۔ اور پھر ہُوا بھی ایسا ہی ۔ کہا جارہا ہے کہ ”کوالالمپور سمّٹ” ( جس میں ایران کے صدر ، قطر ی سربراہ، ترک صدر بھی شریک ہو ئے ہیں اور یہ اجلاس18تا20دسمبر جاری رہا ہے) سے سعودی عرب ناراض تھا ۔ مبینہ طور پر سعودی عرب اسلئے ناراض تھا کہ ملائشیا کی یہ کانفرنس دراصل ”او آئی سی” کے مقابلے میں ایک نیا اسلامی بلاک بنانے کے متراف ہے اور یوں سعودی اثرو رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس مبینہ ناراضی کو دُور کرنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان بھی فوراً سعودیہ پہنچے اور سعودی ولی عہد سے ملے اور ساتھ ہی آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ نے بھی متحدہ عرب امارات میں قدم رکھا کہ یو اے ای بھی (سعودی عرب کے نقشِ قدم پر چلتے ہُوئے) ”کوالا لمپور سمّٹ” سے ناراضی کا اظہار کررہا تھا ۔ وزیر اعظم پاکستان نے اس کانفرنس میں شریک نہ ہو کر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ( جنہوں نے عمران خان کے اقتدار میں آتے ہی پاکستان کی مالی اور تیل کی فوری دستگیری کی تھی) کی ناراضی تو شائد دُور کر دی ہے لیکن ملائشیا اور ترکی کی ناراضی کیسے کم کی جائے گی؟ کیونکہ اس سمّٹ کو بلانے میں عمران خان اور ملائشین وزیر اعظم جناب مہاتیر محمد نے ہی باہمی صلاح مشورہ کیا تھا ۔اور اس کانفرنس کے انعقاد سے چند دن پہلے ہی مہاتیر محمد کی طرف سے ایک نہائت قیمتی گاڑی بھی ہمارے وزیر اعظم کو تحفے میں دی گئی۔ اہلِ دانش کہتے ہیں کہ مناسب تو یہ تھا کہ وزیر اعظم عمران خان سفارتی ہنر استعمال کرتے ہُوئے سعودی حکام کو باور کرواتے کہ ”کوالالمپور سمّٹ” کسی بھی طرح نہ تو سعودی مفادات کے مخالف ہے اور نہ ہی یہ ”او آئی سی” کے مقابل کسی نئے عالمی اسلامی فورم کی اساس رکھنے کا آغاز ہے ۔ ایسا مگر نہیں ہو سکا ہے ۔ یوں ترکی اور ملائشیا کی پاکستان سے ناراضی سامنے آنے کے اندیشے ہیں لیکن فوری نہیں کہ سفارتی دُنیا میں ایسے نتائج فوراً سامنے نہیں لائے جاتے ۔ یہ نتائج دھیرے دھیرے سامنے آتے ہیں ۔ یقیناً اس کے متوقع اثرات عنقریب ظہور میں آئیں گے اور اس سے نمٹنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی وزارتِ خارجہ کو غیر معمولی توانائیوں اور کوششوں کو بروئے کار لانا ہو گا۔ ہمیں یہ ہر گز نہیں بھولنا چاہئے کہ 5اگست2019ء کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور کشمیریوں پر نئے بھارتی مظالم کی مذمت میں یہ ترکی اور ملائشیا ہی دو بڑے مسلمان ملک تھے جنہوں نے پاکستان کی کشمیر پالیسی کے ساتھ کھڑے ہونے کی جرأت کی اور بھارتی مخالفت اور ناراضی کی کوئی پروا نہیں کی ۔ ملائشیا اور ترکی ہی دو ممالک ہیں جنہوں نے ”ایف اے ٹی ایف” میں بھارت کے مقابل پاکستان کے حق میں ووٹ دے کر پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں گرنے سے بچا لیا تھا جبکہ سعودی عرب نے اس حساس معاملے میں پاکستان کا ساتھ نہیں دیا تھا ۔ اب فروری 2020ء میں ”ایف اے ٹی ایف” کا پھر اجلاس ہورہا ہے جس میں پاکستان بارے فیصلہ کیا جانے والا ہے ۔ اب اس اجلاس میں ترکی اور ملائشیا کس طرح پاکستان کا ساتھ دیں گے؟ اللہ ہی جانتا ہے


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.