اہم خبرِیں

کورونا وائرس کا مقابلہ : افواجِ پاکستان کی شاندار خدمات اور ہمارے دولتمندوں کا رویہ

کورونا وائرس کا مقابلہ : افواجِ پاکستان کی شاندار خدمات اور ہمارے دولتمندوں کا رویہ

 

کورونا وائرس کی ہلاکتیں روز افزوں ہیں ۔ متاثرین کی تعداد بھی تیزی سے بڑھی ہے ۔ اعدادو شمار کے مطابق ، وائرس سے عالمی سطح پر انتقال کرنے والوں کی تعداد پندرہ ہزار سے متجاوز ہے اور متاثرین کی تعداد چار لاکھ سے بڑھ گئی ہے ۔

 

ہم سب کو اس پر تشویش ہے ۔متاثرہونے والے افراد میں اب تو برطانوی شہزادہ چارلس بھی شامل ہو چکے ہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اُمید کا اظہار کرتے ہُوئے کہا ہے کہ ایسٹر تک یہ وبا ختم ہو جائے گی ۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو جائے ۔ ہم سب ایک ہی دعا مانگ رہے ہیں : یا الٰہی، ہمیں اس عذاب سے جلد از جلد بچا لے ۔ آمین ۔

سعودی حکومت نے اعلا ن کیا ہے کہ اگر خدانخواستہ کورونا وائرس کے حوالے سے ایسے ہی حالات جاری رہے تو حج کے انعقاد میں مشکلات پیدا ہو جائیں گی ۔حج تو بہر حال ہونا چاہئے ، خواہ محدود پیمانے پر ہی سہی لیکن یہ ہر گز ہرگز رُک نہیںسکتا ۔ موت اور حیات تو بہرحال اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔ حج ایسے دینِ اسلام کے سب سے بڑے رکن میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے ۔ وطنِ عزیز میں بھی کورونا وائرس کی وبا میں اضافہ ہی دیکھنے میں آرہا ہے ۔ ملک بھر میں نصف درجن سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ اللہ کرے جس وقت یہ سطور شائع ہوں ، اُس وقت تک بھی کوئی مزید جانی نقصان نہ ہو سکے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف ملک بھر میں جس نوعیت کا اتحاد و اتفاق ہونا چاہئے تھا، دیکھنے میں نہیں آرہا ۔ صوبے اپنی اپنی روش پر چل رہے ہیں ۔

اٹھارویں ترمیم کے تحت صحت کا شعبہ بالکل صوبوں کا نجی معاملہ بن چکا ہے ، اسلئے اب ملک بھر میں کورونا وائرس کے خلاف جہاد کرتے ہُوئے ایک ہی پالیسی بنانے اور اس کے نفاذ میں وفاقی حکومت کو دقتوں کا سامنا ہے ؛ چنانچہ اٹھارویں ترمیم وضع کرنے والوں کی نالائقیاں بھی سامنے آ رہی ہیں ۔ افسوس کے کئی دیگر مناظر بھی سامنے آ رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر کورونا کی بڑھتی ہلاکت خیزیوں کے باوجود وزیر اعظم عمران خان اپنی کسی خاص انا کی تسکین کی خاطر اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملانے اور اپوزیشن لیڈرشپ کو ساتھ لے کر چلنے پر تیار نظر نہیں آ رہے ۔ یہ عجب تماشہ ہے ۔

 

موصوف نے گذشتہ دنوں اپوزیشن کے ساتھ مل کر ( ویڈیو کانفرنس کے ذریعے) کوئی بات چیت آگے بڑھانے کیلئے ڈول تو یقیناً ڈالا لیکن اپنی تقریر کے بعد چلتے بنے اور اپوزیشن لیڈرشپ کی بات ہی نہ سُنی ۔ قومی اسمبلی میں قائد ِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے اس روئیے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور واک آؤٹ کر دیا ۔ اور یہ انداز بے جا بھی نہیں ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھی وزیر اعظم کے اس روئیے کے خلاف ردِ عمل ریکارڈ کروایا ہے ۔ ملک بھر میں کسی نے بھی عمران خان صاحب کے اس اسلوب کی تحسین نہیں کی ہے ۔سمجھ نہیں آتا کہ وزیر اعظم صاحب نے جاری بحران کے باوجود یہ طریقہ کیوں اختیار کیا؟ کیا اُنہیں قومی یکجہتی اور قومی اتفاقِ رائے کا بھی احساس نہیں ہے ۔ اگر وزیر اعظم کا یہ رویہ ہے تو ایسے میں دیگر سیاسی اداروں اور شخصیات سے کیا گلہ کیا جا سکتا ہے ؟ اس عدم اتفاقی سے ملک اور عوام کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔

 

کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ضعف اور کمزوری آ سکتی ہے ۔ وہ تو خدا بھلا کرے افواجِ پاکستان ، رینجرز اور پولیس کا جو اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر اور خود کو خطرات میں ڈال کر پوری قوم کی حفاظت میں لگے ہُوئے ہیں ۔ حالانکہ انہیں بھی کورونا کی خطرناکیوں کا یکساں سامنا ہے ۔ لیکن وہ ہماری سلامتی اور صحت کیلئے خطرات سے کھیل رہے ہیں لیکن ہم لاپرواہی کے مظاہرے کررہے ہیں ۔ ہمارے شغل اور مستیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں ۔

 

بحران اور امتحان کے ان ایام میں ہم قومی اور اجتماعی سطح پر ضرورتمندوں کی مدد امداد کرنے پر بھی تیار نظر نہیں آ رہے ۔ ہمارے دل مزید تنگ اور سخت ہو گئے ہیں ۔ یہ افسوس کا مقام ہے ۔ ایسا کرکے درحقیقت ہم اللہ اور اُس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضی مول لے رہے ہیں ۔ عشروں قبل ہمارے عظیم الشان قومی شاعرِ مشرق حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے کہا تھا:” ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے ، آتے ہیں جو کام دوسروں کے ۔” یہ شاعرانہ خیالات انسانیت نوازی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ جو شخص ، گروہ ، یا ملک دکھی انسانیت کی دستگیری کرتا ہے ، جو مصیبت اور آزمائش کی گھڑیوں میں انسانوں کی مدد کرتا ہے ، اصل میں وہی انسان کہلانے کا مستحق ہے ۔

 

وگرنہ جانور بھی اللہ ہی کی مخلوق ہیں مگر انسان اللہ کی مخلوق میں سب سے ممتاز اور محترم اسلئے ہے کہ اس میں شعور ہے ۔ یہ اپنے ہمنفسوں کے دکھ درد اور خوشی غمی میں شریک ہونے کے احساسات کی نعمتیں رکھتا ہے ۔ لیکن شعور اور احساس کی نعمت سے سرفراز ہونے کے باوجود کئی ایسے انسان بھی ہیں جو ضرورتمند انسانوں کی ضرورتوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ، اُنہیں بلیک میل کرتے ہیں تاکہ اپنی تجوریاں بھر سکیں ۔ ایسے تاجر اور انسان درحقیقت انسانیت کے دامن پر سیاہ دھبے کی مانند ہیں ۔ یہ لوگ انسان کہلانے ہی کے مستحق نہیں ہیں ۔ ہم نے حالیہ ایام میں خود دیکھا اور اس کا عملی مشاہدہ کیا ہے اور ہنوذ کررہے ہیں کہ جونہی دُنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں بھی مہلک کورونا وائرس کی وبا پھیلنا شروع ہُوئی ، پورے ملک سے وائرس سے بچاؤ کے لئے فیس ماسک بھی غائب ہو گئے اور ہاتھوں کو جراثیم سے محفوظ رکھنے کیلئے سینیٹائزرز بھی ۔ مارکیٹ سے مذکورہ وائرس کی موجودگی چیک کرنے کیلئے میڈیکل کٹس بھی معدوم ہو گئیں ۔ فیس ماسک اول تو نایاب ہی ہو گئے اور اگر بسیار کوشش کے بعد ملتے ہیں تو انتہائی مہنگے داموں ۔

 

دس پندرہ روپے والا ماسک دو دو سومیں ملتا ہے ۔ سینیٹائزر جو عام طور پر ساٹھ ، ستر روپے کا ملا کرتا تھا، اب بلیک مارکیٹ میں دو سو ، تین سو کا مل رہا ہے ۔ ملعون تاجروں نے منافع کی شرح سینکڑوں گنا بڑھا کر مصیبت زدہ اور آزمائش میں پڑے انسانوں کیلئے مزید مسائل اور مصائب کھڑے کر دئیے ہیں ۔ پاکستان کے انہی لالچی مسلمانوں اور لوبھی تاجروں کو دیکھ کر ہی شائد برسوں قبل علامہ اقبال نے فرمایا تھا: یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود! ہمارے لالچی اور کرپٹ تاجروں اور سیاستدانوں نے ملک لوٹ کر دولت غیر ممالک میں لے گئے ۔ ایسے انسانیت دشمن سیاستدانوں سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے؟ لیکن اِسی دُنیا میں کئی ایسے دولتمند انسان بھی ہیں جو کورونا کی ہلاکت خیز جاری وبا میں دکھی انسانیت کی دستگیری کیلئے اپنی دولت بے دریغ خرچ کرنے کیلئے باہر نکلے ہیں ۔

ایسے مخیر اور انسان دوست تاجروں میں چین کے ایک دولتمند شخص ( جیک ما) بھی ہیں ۔ اُنہوں نے رواں ہفتے ہی پاکستان سمیت کئی دیگر غریب ممالک کے کورونا زدہ افراد کی مدد کیلئے اربوں روپے مالیت کی امداد کا اعلان کیا ہے ۔ اس امداد سے کورونا مریضوں کا مفت معائنہ کرنے اور انہیں ادویات مفت فراہم کرنے میں آسانیاں رہیں گی ۔ ایشیا اور چین کے امیر ترین شخص جیک ما نے پاکستان سمیت متعدد ایشیائی ممالک کو لاکھوں فیس ماسکس اور کورونا وائرس ٹیسٹ کٹس دینے کا اعلان کیا ہے۔یہ جیک ما کی فلاحی خدمات کے لیے قائم ادارے کی جانب سے اس عالمی وبا کی روک تھام کے حوالے سے کوششوں کا حصہ ہے، جو اس سے قبل یورپ اور امریکا میں بھی فیس ماسکس اور کٹس فراہم کرچکا ہے۔ای کامرس کمپنی” علی بابا” کے بانی جیک ما نے رواں ہفتے اپنے ٹوئٹر پراعلان کیا تھا کہ جیک ما فائونڈیشن اور علی بابا فائونڈیشن کی جانب سے امریکا، ایران اور اٹلی سمیت یورپ کے کچھ ممالک کو فیس ماسکس اور ٹیسٹنگ کٹس فراہم کی جائیں گی۔اب اپنے نئے ٹوئٹ میں جیک ما نے کہا کہ پاکستان، بنگلہ دیشن، افغانستان، کمبوڈیا، لائوس، مالدیپ، منگولیا، میانمار، نیپال اور سری لنکا کو وائرس کی روک تھام کے لیے حفاظتی ملبوسات، وینٹی لیٹرز اور تھرما میٹرز سمیت فیس ماسکس اور ٹیسٹنگ کٹس فراہم کی جائیں گی۔یہ مسرت انگیز اور اطمینان بخش اعلان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں کورونا وائرس کے حوالے سے طبی اور حفاظتی آلات کی قلت کا سامنا ترقی پذیر کے ساتھ ترقی یافتہ ممالک کررہے ہیں۔مجموعی طور پر جیک ما کی جانب سے ایشیائی ممالک کو 18 لاکھ فیس ماسکس، 2 لاکھ سے زائد ٹیسٹنگ کٹس، 36 ہزار حفاظتی ملبوسات فراہم کیے جائیں گے۔جیک ما نے لکھا ہے کہ تیزرفتاری سے ان اشیا کی فراہمی آسان نہیں مگر ہم ایسا کریں گے ضرور۔

 

اس سے قبل سولہ مارچ کو بھی جیک ما کی جانب سے 54 افریقی ممالک کو فی ملک 20 ہزار ٹیسٹنگ کٹس، ایک لاکھ ماسکس اور ایک ہزار حفاظتی ملبوسات اور فیس شیلڈز فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں جیک ما نے کہا تھا :”اپنے ملک کے تجربے کے پیش نظر میں کہہ سکتا ہوں کہ برق رفتار اور درست ٹیسٹنگ، طبی عملے کے تحفظ کے لیے آلات اس وائرس کی روک تھام کے لیے سب سے موثر ہیں۔ توقع ہے کہ ان سپلائیز سے کچھ لوگوں کو مدد مل سکے گی،یہ بڑی وبا انسانیت کے لیے ایک چیلنج ہے، آج یہ ایسا چیلنج نہیں جو اس سے کوئی ملک اکیلا نمٹ سکے، بلکہ ہر ایک کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اس وقت ہمیں اپنے وسائل بغیر کسی قیاس کے شیئر کرنے چاہییں اور وبا کی روک تھام کے تجربے اور اسباق کا تبادلہ کرنا چاہیے تاکہ اس سانحے کو شکست دینے کا موقع مل سکے ۔متحد ہوکر ہم کھڑے رہ سکتے ہیں، تقسیم ہوئے تو گرجائیں گے”۔پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد سینکڑوں ہو گئی ہے۔کورونا کیسز کے سب سے زیادہ کیس صوبہ سندھ میں رپورٹ ہوئے جبکہ پنجاب دوسرے اور بلوچستان ،خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان ، اسلام آباد میں اور آزاد کشمیر کے نمبر بعد میں آتے ہیں ۔

 

دنیا بھر میں وائرس کے باعث بارہ ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں ۔ اسی وبا کے پھیلتے سایوں میں ایشیا اور چین کے امیر ترین شخص جیک ما نے اب 25مارچ2020ء کو لکھے گئے اپنے نئے ٹوئٹ میں جیک ما نے پھر کہا ہے کہ پاکستان، بنگلہ دیشن، افغانستان، کمبوڈیا، لائوس، مالدیپ، منگولیا، میانمار، نیپال اور سری لنکا کو وائرس کی روک تھام کے لیے حفاظتی ملبوسات، وینٹی لیٹرز اور تھرما میٹرز سمیت فیس ماسکس اور ٹیسٹنگ کٹس مفت فراہم کی جائیں گی۔ جیک ما کے اس انسانیت نواز اعلان کی تعریف و تحسین کی جانی چاہئے ۔وطنِ عزیز میں بھی دولتمند افراد کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ ہمارے تمام بڑے شہروں میں بڑی بڑی ہاؤسنگ اسکیموں میں رہنے والے زیادہ تر لوگ کروڑوں روپے کے گھروں میں رہتے ہیں ۔ اُن کے فارم ہاؤسز تواربوں مالیت کے ہیں ۔ چاہئے تو یہ تھا کہ آزمائش کی ان گھڑیوں میں وطنِ عزیز کے یہ دولتمند افراد بھی آگے بڑھتے اور ملک کے ضرورتمندوں کی اعانت کرنے میں ہاتھ بٹاتے ۔ افسوس مگر یہ ہے کہ اس معاملے میں ایک بھی شخص یا ادارہ آگے نہیں آ سکا ۔ ہاں کچھ نجی حیثیت میں چند اچھی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ مثلاً : ایدھی فاؤنڈیشن اور سیلانی ۔ ان دونوں اداروں اور این جی اوز کا تعاون قابلِ تحسین ہے ۔ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے میں اس تعاونی اور اعانتی دائرے کو مزید وسعت دینے کی از حد ضرورت ہے ۔

 

لیکن اجتماعی حیثیت میں کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے مسلمان دولتمند افراد سے زیادہ بہتر تو ملحد چین کا وہ شخص ( جیک ما) ہی ثابت ہُوا ہے جس کا اللہ تعالیٰ پر کوئی ایمان ہی نہیں ہے لیکن وہ انسانیت کی بہتری اور فلاح پر یقین اور ایمان رکھتا ہے ۔ ہم خود کو مسلمان تو کہلاتے ہیں ، ہم میں سے ہر سال لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں مسلمان حج اور عمرہ کرنے جاتے ہیں اور اس پر اربوں روپیہ خرچ کرتے ہیں لیکن کورونا وائرس کی پھیلتی مہلک وبا کے دوران کوئی صاحبِ حیثیت مسلمان شخص، خاندان اور گروہ کسی تہی دست اور ضرورتمند کی امداد کرنے اور اُس کے مسائل کم کرنے کیلئے سامنے نہیں آیا ( کراچی میں ایک مثال سامنے ضرور آئی ہے لیکن 56لاکھ روپے کا عطیہ کرنے والے صاحب نے اپنے نام نشر کرنے سے انکار کر دیا ہے) قومی سطح پر اور ایک مسلمان قومی معاشرے کی یہ بے حسی قابلِ شرم بھی ہے اور قابلِ مذمت بھی ۔

 

کورونا کی اس وبا کے دوران سارے ملک میں قابلِ خورد اشیا ء کی قیمتوں میں جس طرح بے تحاشہ اضافہ ہُوا ہے ، کیا اس عمل کی تحسین کی جا سکتی ہے؟ افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ حکومتی سطح پر بھی اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا ۔ مزید افسوس اور دکھ کا مقام یہ ہے کہ ہمارے دولتمند طبقات کسی بھی جگہ پر غریبوں ،تہی دستوں اور ضرورتمندوں کی فوری اور مطلوبہ امداد کرنے پر تیار نہیں ہیں ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے یہ صاحبانِ ثروت پاکستان کی سرزمین ہی سے دولتمند بنے ہیں ۔

 

شرم کی بات یہ ہے کہ اب جبکہ آزمائش اور امتحان کے ان لمحات میں پاکستان اور اس کے ضرورتمند عوام کو ان دولتمندوں کی طرف سے مدد امداد کی اشد ضرورت ہے ، یہ سب لوگ خاموش ہو کر تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ ملک بھر میں صنعتوں کا جال پھیلانے والے سیٹھ ، ملز مالکان خاندان ، رئیل اسٹیٹ کے ٹائیکون، لوہے کے کارخانوں کے مالکان ، لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کے جاگیرداراوروڈیرے، کاروباری حضرات وغیرہ سبھی ہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور اپنی تجوریوں میں پڑے فالتو اربوں روپے وطن ہی کے کروڑوں ضرورتمندوں کی دستگیری کیلئے بروئے کار نہیں لارہے ۔ یہ سب ملعون ہیں ۔ کیا ان ظالموں پر اللہ کا غضب نازل نہیں ہوگا؟وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے یہ تازہ اعلان مستحسن ہے کہ سرکار کی طرف سے مستحقین کو ( تین ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے) بارہ ہزار روپے ادا کر رہے ہیں تاکہ چار مہینوں کا گزارہ الاؤنس یکمشت پہنچ جائے ۔ ہماری گزارش مگر یہ بھی ہے کہ چاروں صوبوں ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو متحد ہو کر اس آسمانی آفت کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔ اِسی میں ہماری بقا ہے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.