Latest news

کاٹا ہے ہم نے تین سو پینسٹھ غموں کا سال/ چاہو تو پچھلے بارہ مہینوں سے پوچھ لو

آج نئے سال 2020ء کو طلوع ہُوئے پانچواں دن ہے ۔ میری طرف سے میرے سبھی قارئین کو نئے سال کی مبارکباد اور یہ دعا بھی کہ اللہ کریم پاکستان، اہلِ وطن، سب مسلمانوں اور عالمِ اسلام کو امن ، قوت اور اتحاد کی طاقت سے مالا مال کرے اور ہمیں ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ یہ بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو خوشحالی کی عظیم نعمتیں عطا فرمائے اور معاشی مسائل کی دلدل میں پھنسے پاکستان کو نجات عطا کرے ۔ آج نئے سال کی نئی دہلیز پر کھڑے ہم گذشتہ برس کے 365دنوں پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے خساروں کا وزن ،ہماری کامیابیوں سے بڑھ کر ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اپنے سیاسی مخالفین کا احتساب کرنا تو سیکھ رکھا ہے لیکن قومی سطح پر اپنا احتساب کرنا نہیں سیکھا ۔ اس عمل سے جن خرابیوں نے جڑ پکڑی ، وہ ہماری تباہی اور ذلّت کا باعث بن گئے ہیں ۔ در حقیقت ایک مسلمان اور مسلم ملّت کیلئے لازم ہے کہ وہ ہر وقت اپنا احتساب کرتا رہے کہ احتساب ہی سے قومیں نکھرتی اور نمو پاتی ہیں ۔ علامہ اقبال نے بھی اسی پس منظر میں ارشاد فرمایا تھا:
صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
کرتی ہے ہر زماں جو اپنے عمل کا حساب
ہم نے چونکہ ایمانداری اور دیانتداری سے اپنا اور اپنی قوم کا حساب اور احتساب کرنا سرے سے سیکھا ہی نہیں ، اسلئے ناکامیاں بھی ہمارا مقدر بنی ہیں ۔ غم اور پریشانیاں ہمارے تعاقب میں ہیں۔ ہم اپنے مسائل اور مصائب کا ذمہ دار غیروں کو تو ضرور گردانتے ہیں لیکن اپنا احتساب کرنے اور اپنی منجی کے نیچے ڈانگ پھیرنے کیلئے ہر گز تیار نہیں ہیں ۔ ہم دوسروں کی آنکھ کا بال تو ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر بھی ظر نہیں آتا ۔ اس خامی اور کجی نے ہمارے کردار و افکار کو بھی ٹیڑھا اور کج کر دیا ہے ۔ اسی خامی اور ناکامی نے ہمارے غموں اور فکروں میں اضافہ کیا ہے ؛ چنانچہ گزرے برس کا حساب کرتے وقت ہم میں سے ہر کوئی یوں پکار اُٹھتا ہے :
کاٹا ہے ہم نے تین سو پینسٹھ غموں کا سال
چاہو تو پچھلے بارہ مہینوں سے پوچھ لو
ہم اگر پچھلے بارہ مہینوں کا حساب کرنا شروع کریں تو ہمارے پاس سوائے افسوس اور تاسف کے کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔ ہمارا گزرا یہ سال ناکامیوں ، نامرادیوں اور نااہلیوں سے عبارت رہا ۔ قومی سطح پر ملک کیلئے ہماری کوئی کامیابی مقدر بن سکی نہ عوامی سطح پر کوئی خوشی اور خوشحالی دیکھنے کو مل سکی ۔ ایک گہرا ڈپریشن سارے ملک پر چھایا رہا ۔ مہنگائی ملک کا ٹریڈ بنی رہی ۔ ہر شخص سر پر بانہیں رکھ کر روتا اور واویلا کرتا دکھائی دیا ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے برسرِ اقتدار آتے ہی عوام اور قوم سے جتنے بھی وعدے وعید کئے تھے ،گزرے برس میں سب خاک اور کھوکھلے ثابت ہُوئے ۔ حکومت کی طرف سے ایک بھی وعدہ پورا نہ کیا جا سکا ۔ ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی حکومت نے کہہ مکرنیوں اور یو ٹرنز کے نئے اور تاریخ ساز ریکارڈ قائم کئے اور سب نے ان کا ٹھٹھہ اُڑایا ۔ اپنے کہے گئے ہر اچھے بیان کی بے حرمتی اپنے ہاتھوں انجام دی ۔ گزرا یہ برس یوں گزرا ہے کہ گرانی اور مہنگائی نے عوام کا جینا جہنم بنائے رکھا ۔ پی ٹی آئی حکومت نے گزرے سال کے بالکل آغاز میں یہ بڑ ہانکی تھی کہ یہ سال خوشحالی کا سال ہو گا مگر جب 365دن گزرے اور یہ سال آخری ہچکی لے کر غروب ہو گیا تو عوام کا دامن کسی بھی خوشحالی اور فارغ البالی سی تہی اور خالی تھا ۔ معاشی سطح پر حکومت نے ریکارڈ قرضے لئے ۔ گیارہ ارب ڈالر کے قرضے ۔ اور بہانہ یہ بنایا کہ پچھلے حکومتوں نے ملکی معیشت کا اتنا بُرا حال کررکھا تھا کہ ملک کو چلانے کیلئے اتنا بھاری قرضہ لینا پڑا ۔ عمران خان اپنے وعدوں کے برعکس آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کیلئے پاؤں پڑے دکھائی دیتے رہے ، حالانکہ یہی عمران خان تھے جو اپوزیشن رہنما کی حیثیت میں کہتے رہے تھے کہ اگر میری حکومت کے دوران مجھے آئی ایم ایف کے پاس قرض کے لئے جانا پڑا تو مَیں خود کشی کر لُوں گا ۔ عمران خان قرضے کیلئے سعودی عرب ، دبئی ، چین اور ترکی کے سامنے بھی دامن پھیلاتے دکھائی دئیے لیکن ملکی معیشت پھر بھی اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو سکی ۔ پاکستا ن کی انفلیشن یا افراطِ زر بارہ فیصد سے بھی تجاوز کر گئی جس نے روپے کی قدر میں شدید کمی کر دی اور ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہُوا ۔ کسی ایک بھی عالمی مالیاتی یا ریٹنگ ادارے نے پاکستان کے بارے میں مثبت اشارے نہ دئیے ۔ اس دوران خصوصی عدالت کی طرف سے سابق صدرِ پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کو آئین توڑنے کے جرم میں سزائے موت سنا دی گئی۔ اس نے پی ٹی آئی حکومت کے معاملات مزید اُلجھا دئیے ۔ اور اسی دوان بھارت سے تعلقات تو بگڑے ہی رہے، سفارتی سطح پر بھی کسی ایک ملک سے پاکستان کے تعلقات بہترین نہ بن سکے۔ یہاں تک کہ چین ایسے پاکستان کے دیرینہ اور آزمودہ دوست کی ناراضی کی خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ عمران خان کے ایک مرکزی وزیر نے آتے ہی ”سی پیک” کے حوالے سے نہائت نامناسب بیان داغ ڈالا تھا ۔ اس بیان نے چین کو سخت ناراض اور سیخ پا کیا کہ اُس نے تو پاکستان میں ساٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے ۔ وہ تو اللہ بھلا کرے سپہ سالارِ پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کا جنہوں نے بروقت خطرہ بھانپتے ہُوئے دوڑ دھوپ کی اور پاکستان کے چین سے تعلقات کی گاڑی کو پھر سے پٹڑی پر چڑھا دیا ۔ اور یوں عمران خان کو بھی ایک بار پھر چین کا دورہ کرنے کا موقع مل گیا ۔ لیکن خانصاحب کی حکومت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ کیا کِیا؟ اُنہیں ملازمت میں توسیع دینے کا مستحسن فیصلہ تو کیا لیکن پھر اپنی نااہلی کے سبب خود ہی یہ معاملہ بگاڑ ڈالا ۔ اس پر سپریم کورٹ نے گرفت بھی کی اور معاملہ مزید اُلجھ گیا ۔ اگر عمران خان اور اُن کے عزیر مشیر سمجھ بوجھ سے کام لیتے تو یہ نازک ڈور کبھی نہ اُلجھتی ۔ ڈور یہاں تک اُلجھی کہ سپریم کورٹ کے سابق سربراہ ( جسٹس آصف کھوسہ ) نے فیصلہ سناتے ہُوئے مشروط طور پر حکم جاری کیا کہ جنرل باجوہ اگلے چھ ماہ کیلئے ایکسٹینشن پر رہ سکتے ہیں لیکن اس دوران عمران خان کی حکومت کو جنرل کی ملازمت میں توسیع بارے پارلیمنٹ سے کوئی قانون منظور کروانا پڑے گا۔ یہ ایک مشکل کام تھا ۔ حکومت کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس مشکل سے کیسے کامیابی کے ساتھ گزرے ؟ اور پھر ایک حل نکالنے کی کوشش کی گئی۔ 2جنوری2020ء کو وطنِ عزیز کی مقتدر جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی ایکٹ پر ترامیم کی منظوری دے دی ۔ رپورٹ کے مطابق آئین کی دفعہ 172 اور آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کرنے کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا جس کا واحد ایجنڈا آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع تھا۔آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے قواعد میں ابہام دور کرنے کے سپریم کورٹ کے دیے گئے حکم کی روشنی میں حکومت نے اس معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے ہونے کے بعد ترمیمی بل پارلیمنٹ میں بھی پیش کرنے کا فیصلہ کیا ۔اس ضمن میں کابینہ کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ’ترمیم کے مطابق، آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی صورت میں ان کی ریٹائرمنٹ کی زیادہ سے زیدہ عمر 64 برس ہوجائے گی جبکہ عمومی عمر 60 سال ہی رہے گی’ اور وزیراعظم کا استحقاق ہے کہ مستقبل میں آرمی چیف کو توسیع دے دیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ اجلاس کے بعد طے شدہ پریس کانفرنس وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کو بغیر کوئی وجہ بتائے ملتوی کردی۔ اس اقدام پر اسلام آباد کی اخبار نویس برادری کی حیرت قابلِ دید تھی لیکن لگتا ہے حکومت اقتدار کے نشے میں ایسی لاپروائیوں سے بلند تر ہو چکی ہے ۔اس ضمن میں کابینہ کے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘اجلاس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کی تجویز دی گئی جس کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ 2023ء تک آرمی چیف برقرار رہیں گے۔آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے بل پارلیمان میں پیش کرنے سے قبل حکومت نے اس معاملے پر اتفاق رائے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے حکومتی ٹیم کی سربراہی کی جبکہ سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپوزیشن کی ٹیم کے سربراہی کی۔ مذکورہ ٹیموں کا اجلاس پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے جاری حالیہ سیشن کے دوران ہونے کا امکان ہے۔یہ کالم بروز جمعہ بتاریخ 3جنوری لکھا جا رہا ہے ۔ممکن ہے ان سطور کی اشاعت تک آرمی ایکٹ کے بارے کوئی حتمی فیصلہ ہو چکا ہو اور جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا مسئلہ خوش اسلوبی سے بھی طے پا جائے ۔اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر کا کہنا تھا کہ جیسا کہ حکومت نے جمعے کو بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے، اس لیے حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے مابین مذاکرات دوبارہ ہوسکتے ہیں۔ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا ان کی جماعت نے یہ معاملہ قیادت کے ساتھ اٹھایا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ‘ہم یہ مسودہ دیکھنے کے بعد کریں گے، اب تک ہمارے پاس کچھ نہیں ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ وہ (اپوزیشن) نہیں چاہتی کہ حکومت اتنی اہم قانون سازی کو ختم کرے ،اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اس پر پارلیمان اور متعلقہ کمیٹیوں میں بحث کی جائے۔اور اُدھر لندن میں بھی نواز شریف اور شہباز شریف اس نازک مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھے رہے ۔ وہاں سے تازہ خبریں یہ آئی ہیں کہ نواز شریف نے کہا ہے : ہم آرمی ایکٹ کی منظوری بارے اور اسے منظور کرنے کے حوالے سے مثبت انداز میں غور کریں گے لیکن یہ مناسب نہیں ہے کہ اتنے حساس اور نازک معاملے کو چوبیس یا اڑتالیس گھنٹوں میں منظور کر لیا جائے یا پارلیمنٹ سے بالا بالا، کسی بحث کے بغیر، اسے منطوری دے دی جائے ۔ پیپلز پارٹی بھی مثبت اشارے دے رہی ہے ۔ اُمید یہی ہے کہ پی پی پی ، نون لیگ، جے یو آئی اور اے این پی سمیت تمام چھوٹی بڑی اپوزیشن جماعتیں کوئی خاص مزاحمت کے بغیر آرمی ایکٹ منظور کر لیں گی ۔ نون لیگ نے اس بارے جس بزدلی کا مظاہرہ کیا ہے ، سارے ملک میں اُن پر پھٹکار ڈالی گئی ہے ۔ سب عوام کی طرف سے یہی کہا جارہا ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی والے اپنے دولتمند قائدین کی کرپشن ، جائیدادیں اور دولت بچانے کیلئے اس ایکٹ کیلئے اور آرمی کی خوشنودی کیلئے ہر صورت پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ووٹ دے گی ۔ اسی لئے تو وفاقی وزیرشیخ رشید احمد نے تاریخی طنز کرتے ہُوئے بیان دیا تھا کہ ” نون لیگ اور پیپلز پارٹی والوں کے بازو ویلنے میں پھنسے ہیں ، وہ خوشی خوشی اور لیٹ کر بھی اس معاملے میں پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے ۔”ایک اور وفاقی وزیر خان سرور خان سے جب نجی ٹی وی کے ایک اینکر نے پوچھاکہ” اپوزیشن تو بڑے نخرے سے یہ کہتی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان اس ترمیم کی منظوری کیلئے خود چل کر ہمارے پاس آئیں گے تو ہم دیکھیں گے ، لیکن اب آپ لوگوں نے کونسی جادو کی چھڑی گھمائی ہے کہ اپوزیشن نے شریف بچوں کی طرح آپکے حق میں ووٹ دینے کی حامی بھر لی ہے ؟” اس پر وفاقی وزیر نے مسکراتے ہُوئے کہا:” چھڑی گھمانے والوں نے چھڑی گھمائی ہے تو سب راضی خوشی ووٹ دینے کیلئے تیار ہو گئے ہیں ۔” اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن کی سیاست او ر بیانات کتنے اصولوں پر کھڑی ہے ۔ دراصل یہ سب مفادات کے مارے لوگ ہیں اور چھڑی والے ان کی جملہ کمزوریوں سے خوب آگاہ ہیں ۔ ان کی کیا مجال کہ جنرل صاحب کی مدتِ ملازمت کا معاملہ ہو اور یہ ووٹ دینے سے انکار کر دیں!!حال یہ ہے کہ چند دن پہلے ہی”نیب” کی چھ ماہ کی سخت اور ذلّت آمیز قید بھگت کر آنے والے ایم این اے رانا ثناء اللہ نے بھی اب بیان دے دیا ہے کہ ”ہم آرمی ایکٹ کی غیر مشروط حمائت کریں گے ۔” نیب کی سزا کی وجہ سے رانا صاحب کی سرکش مونچھیں اب زرا بیٹھ سی گئی ہیں ۔اُنہیں 2جنوری 2020ء کو ”نیب” نے ایک بار پھر اپنے ہاں بلایا تھا کہ زرا یہ بتاؤ کہ آپ پر الزام ہے کہ آپ نے اپنے معلوم ذرائع سے زیادہ جائیدادیں اور اثاثے کیسے بنالئے ؟گویا رانا صاحب کی جان ابھی آسانی سے چھوٹنے والی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف بھی لندن سے واپس وطن نہیں آرہے ، حالانکہ عدالت کی طرف سے دی گئی مشروط ضمانت کا وقت اب ختم بھی ہو چکا ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت اور عمران خان بھی اب اس بارے میں خاموش ہی ہیں ۔ شائد اسلئے کہ وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ دونوں شریف برادران ملک سے باہر ہی رہیں تو اُن کی جان بھی چھوٹی رہے گی ۔ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی بھی یہی نظر آتی ہے ۔گویا اگر آپکے پاس طاقت اوربے پناہ دولت ہے تو بڑے بڑے جرائم کے باوجود کوئی آپکا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا ۔ اس منظر سے ہماری اخلاقی اقدار کی کمزوری اور عدالتوں کے دائرئہ اختیار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ اگر مجرموں اور کرپٹ ٹولوں کو یونہی دندنانے کی اجازت ملتی رہے تو پھر اس ملک پر اللہ کی رحمتیں کیسے برس سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہماری مدد کو کیوں پہنچیں؟ حیرانی کی بات ہے کہ نون لیگ کا سیکرٹری جنرل احسن اقبال بھی ”نیب” کے ہتھے چڑھ چکا ہے ، حالانکہ موصوف کہتے رہے ہیں کہ اُن ایسا شریف النفس سیاستدان ملک بھر میں کوئی اور نہیں پایا جاتا اور اب اُنہیں ”نیب” والے نارووال ( جو احسن اقبال کا انتخابی حلقہ ہے) میں سپورٹس سٹی کمپلیکس کی تعمیر میں کروڑوں اربوں روپے کے مبینہ گھپلوں کے الزامات میں گھسیٹ رہے ہیں ۔ ابھی اُن پر عائد کئے گئے الزامات ثابت تو نہیں ہُوئے ہیں لیکن فی الوقت پریشانیوں اور بے عزتیوں نے اُن کا گھر تو دیکھ لیا ہے ۔ آ جا کے نون لیگ کے خواجہ آصف باہررہ گئے ہیں ۔ ممکن ہے وہ بھی کسی الزام کے تحت ”نیب” کے ہاتھوں کسی روز دھر لئے جائیں ۔ ایسے منظر نامے میں پی ٹی آئی کیلئے سیاسی میدان بالکل کھلا ہے ۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اس پیش منظر میں عمران خان زیادہ آسانی سے ملک اور عوام کی دستگیری کر سکتے لیکن یہ کام اُن سے ہونہیں رہا ۔ نئے سال کے شروع ہوتے ہی جناب وزیر اعظم نے بجلی، پٹرول ، گیس اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کی جھکی کمروں پر جو نیا بم مارا ہے، اس نے عوام کو پی ٹی آئی حکومت سے مزید دُور اور مایوس کر دیا ہے ۔ سادہ سی بات ہے کہ حکمران اگر عوام پر ہوشربا مہنگائی کے مظالم توڑتے رہیں تو عوام حکمرانوں کی کیسے اور کیونکر حمائت اور تعریف کریں؟ حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں درپیش سنگین حالات کا کوئی حل نکالنے میں جس ناکامی کا منہ دیکھا ہے ، اس نے بھی عوام کو دھچکا پہنچایا ہے ۔ عمران خان تو اعلان کرتے ہُوئے کشمیریوں کو دلاسہ دیتے تھے کہ فکر کی کوئی بات نہیںہے، مَیں کشمیر کا سفیربنوں گا۔ لیکن اب پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے مظلومین ، سبھی عمران خان سے پوچھتے ہیں کہ کہاں گئی آپکی سفارت کاری ؟ تو سچی بات ہے پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان کے پاس اس سوال کا کوئی شافی اور اطمینان بخش جواب نہیں ہے ۔عالمِ عرب کی طرف سے بھی کشمیر بارے پاکستان حمائت کھو چکا ہے ۔ اوپر سے3جنوری2020ء کی صبح عراق میں امریکہ نے ڈرون حملے میں نامور ایرانی جنرل اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ (جنرل قاسم سلیمانی) کو مار ڈالا ہے جس نے عالمِ اسلام میں ایک عجب ہیجانی صورتحال پیدا کر دی ہے ۔ ایران اس حملے کا جواب ضرور دے گا ۔ حالات بگڑنے کے خدشات ہیں ۔ پاکستان کے حکمرانوں کے لئے نئی آزمائش پیدا ہو گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو محفوظ فرمائے ۔ آمین ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.