Latest news

!!چلتے ہیں دبے پاؤں کوئی جاگ نہ جائے

آج نومبر2019ء کی 10اور ماہِ مبارک ربیع الاوّل کی 12تاریخ ہے ۔ بارہ ربیع الاوّل عالمِ اسلام کیلئے اصل خوشیوں اور مسرتوں کا دن ہے ۔ یہ وہ یومِ سعید اور عظیم مبارک دن ہے جب اللہ کے آخری رسول نبی کریم ۖ کی ولادت ہُوئی ۔ میری طرف سے اور میرے ادارے کے جملہ محترم وابستگان کی جانب سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عیدِ میلاد النبی ۖ مبارک ۔یہ دیکھ اور سُن کر دل اور دماغ خوشیوں سے بھر جاتا ہے کہ اس یومِ مبارک پر سارا ملک اللہ کے آخری رسول ۖ کی مبارک اور جانفزا نعتوں سے گونج اُٹھتا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمیں اِسی اسمِ مبار کۖ کے طفیل اور توسط سے آزادی کی نعمتیں میسر آئیں ۔ہماری جان ، مال اور عزت و آبرو، سب کچھ حضو ر نبی کریم ۖ پر قربان ہے ۔ حقیقت تو یہی ہے کہ ساری کائنات کی ساری رونقیں اور ہما ہمی حضور پاک ۖ ہی کے وجہ سے ہیں ۔ آپ ۖ اس دُنیا میں تشریف نہ لاتے تو یہ دُنیا ہی نہ ہوتی ۔ علامہ اقبال نے درست فرمایا ہے :
ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسّم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو، خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
خوشی اور مسرت کی بات یہ ہے کہ حضور نبی اکرم ۖ کی یاد میں موجودہ حکومت ریاستِ مدینہ کا نام لے رہی ہے اور بار بار لے رہی ہے ۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ 16ماہ گزرنے کے باوجود اس وعدے اور دعوے میں کوئی ایک بھی رنگ نہیں بھرا جا سکا ہے ؛ چنانچہ عوام بجا طور پر کسی قدر شبہات کا اظہار کرتے ہُوئے کہنے لگے ہیں کہ عمران خان کا یہ نعرہ بھی غالباً زیڈ اے بھٹو کے نعرے ( روٹی ، کپڑا اور مکان) اورآمر جنرل ضیاء الحق کے نعرے ( ملک میں نظامِ اسلام کی تنفیذ ) کی طرح سراب ہی ثابت ہو گا۔ اللہ نہ کرے کہ یہ خدشات و شبہات سچ ثابت ہوں ۔ عوام کو زندگی اور قومی محاز پر کسی ایک جگہ پر بھی ابھی تک ریلیف نہیں دیا جا سکا ہے ۔ 7نومبر کو پاکستان کے ایک معتبر اور وقیع سرکاری ادارے کی طرف سے یہ اعترافی بیان بھی جاری ہُواہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران ، عمران خان کی حکومت کے پہلے سال کے دوران مہنگائی کی شرح میں 11فیصد اضافہ ہُوا ہے ۔ یہ تو صرف سرکاری اعدادشمار پیش کئے گئے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ مہنگائی میں 11فیصد سے کہیں زیادہ اضافہ ہُوا ہے ۔ پہلے حکومت یہ بات تسلیم نہیں کرتی تھی لیکن حالات کے جبر نے عمران خان کی حکومت کو بھی یہ حقیقت ماننے پر مجبور کر دیا ہے ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت نے بھی بالآخر آئی ایم ایف سے درخواست کر دی ہے کہ ” مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے ، اسلئے آئی ایم ایف معاشی اہداف کے حوالے سے اپنی شرائط نرم کرے ۔”حکومت بظاہر اپنی معاشی تنگدستیوں کا رونا رہتی ہے ، اسلئے آئے روز ٹیکسوں میں اضافہ کررہی ہے؛ چنانچہ مہنگائی کا گراف بلند سے بلند تر ہورہا ہے ۔ بجلی کے نرخوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ اور دوسری طرف حکومت نے بھارتی اور دُنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کے لئے کرتار پور راہداری کھولنے ، سکھ یاتریوں کو جدید سہولتیں فراہم کرنے اور کرتار پور صاحب کمپلیکس تعمیر کرنے میں جو تیزیاں اور پھرتیاں دکھائی ہیں ، اس کے لئے اربوں روپیہ کہاں سے آ گیا ؟ جناب وزیر اعظم عمران خان نے9نومبرکو اس عظیم الشان کمپلیکس کا افتتاح کر دیا ہے (اور اسی روز شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبال کا یومِ پیدائش بھی منایا جاتا ہے ) حیرانی کی بات ہے کہ کئی ایکڑوں پر نئے تعمیر کردہ کرتار پور صاحب کمپلیکس( صوبہ پنجاب، ضلع نارووال ، تحصیل شکرگڑھ ) کے بارے میں نہ تو پنجاب کی صوبائی حکومت اس سوال کا جواب دے رہی ہے اور نہ وفاقی حکومت کہ اس پر کتنا سرمایہ خرچ کیا گیا ہے ؟ جس ضلع میں یہ مہنگا اور گرانقدر مقام استوار کیا گیا ہے ، وہاں کی ایک سڑک بھی سلامت اور درست نہیں ہے کہ عوامی ٹرانسپورٹ آرام سے گزر سکے ۔ ان سڑکوں کی تعمیرِ نَو کے لئے تو حکومت کیلئے فنڈز نہیں ہیں لیکن کرتارپور راہداری اور مذکورہ کمپلیکس کیلئے اربوں روپے فوری فراہم کر دئیے گئے ہیں ۔ یہ سوال عوام کے لبوں پر ہیں اور یہ ختم نہیں کئے جا سکتے ۔ حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ کرتار پور صاحب آنے والے بھارتی یاتریوں کیلئے متعینہ فیس ( 10ڈالر فی یاتری) اور پاسپورٹ کی شرط بھی وزیر اعظم عمران خان نے ختم کر دی ہے ۔ اس پر بھی کئی سوالات اُٹھ رہے ہیں ۔مثال کے طور پر دھرنے اور احتجاج پر بیٹھے مولانا فضل الرحمن صاحب نے اپنے خطاب میں کہا ہے :”9نومبر کو شاعرِ مشرق علامہ اقبال کا یومِ پیدائش ہے اور اسی روز وزیر اعظم عمران خان کرتار پور کوریڈور کا افتتاح کررہے ہیں ۔ حج پر تو اخراجات 5لاکھ روپے کر دئیے گئے ہیں اور سکھوں کیلئے پاکستان میں انٹری مفت ہوگی ۔ اس راستے کی زمینیں قادیانی خرید رہے ہیں ۔ کیا ہم آئندہ یہ دن اقبال ڈے کی بجائے رنجیت سنگھ اور بابا نانک کے دن کے طور پر منائیں گے ؟”۔اس بیان کو جتنا بھی مبالغہ اور غیر حقیقی کہہ لیا جائے لیکن کرتارپور کوریڈور کے حوالے سے سوالات تو اُٹھ رہے ہیں ، خاص طور پر اس بیک گراؤنڈ میں کہ کشمیریوں کو تو بھارت نے ایک سہولت بھی نہیں دی ، اور مقبوضہ کشمیر کو 100دنوں سے بھی زیادہ عرصے سے محصور کررکھا ہے لیکن ہم لوگوں نے بھارتی سکھوں کیلئے کرتارپور راہداری کھول دی ہے ۔آخر کیوں؟ جہاں تک اس علاقے میں قادیانیوں کے مبینہ طور پر زمینیں خریدنے کا تعلق ہے ، یہ دعویٰ شائد غیر حقیقی ہو لیکن یہ بہرحال حقیقت ہے کہ کرتار پور صاحب سے بجانبِ مشرق ( سرحد پار) قادیانیوں اور مرزائیوں کے اصل مرکز (قادیان ، جہاں سے یہ اسلام دشمن فتنہ اُٹھا) کا فاصلہ صرف 45کلومیٹر ہے ۔ سکھوں اور کرتارپور راہداری کے حوالے سے جو سوالات اور اشتباہات مولانا فضل الرحمن نے اٹھائے ہیں ،وہ ہر کوئی نہیں اٹھا سکتا کہ ہمارے میڈیا پر جو اَن دیکھا سنسر مسلط ہے ، اس نے سوالوں کا گلا گھونٹ دیا ہے ۔ اب سوال تو کئے جاتے ہیں مگر اشاروں کنایوں میں کہ کوئی ناراض نہ ہو جائے ۔ ہمارے عہد کے سب سے بڑے شاعر جناب فیض احمد فیض نے شائد اِسی نفسیاتی کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہا ہُوا ہے :
چلتے ہیں دبے پاؤں کوئی جاگ نہ جائے
غلامی کے اسیروں کی یہی خاص ادا ہے
ہوتی نہیں جو قوم حق بات پہ یکجا
اُس قوم کا حاکم ہی بس اُن کی سزا ہے
لیکن مولانا فضل الرحمن نے تو کسی بھی سود و زیاں کی پروا نہ کرتے ہُوئے یہ چبھتے ہُوئے سوال اٹھا دئیے ہیں ۔مولانا فضل الرحمن کا دھرنا اور احتجاج بھی حکومت کے رویوں کے خلاف جاری ہے ۔ ایک عشرہ گزر گیا ہے لیکن وہ ڈٹے ہُوئے ہیں ۔ بہت سے لوگ اُن سے اختلاف کررہے ہیں اور اُن پر تنقید بھی جاری ہے لیکن وہ اپنے مطالبات پر جمے ہُوئے ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ اُن کے دھرنے سے ملک و قوم کو معاشی طور پر روز بروز نقصان پہنچ رہا ہے اور بیرونِ ملک بھی پاکستان کو ( خصوصاً ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے) گزند پہنچ رہا ہے ، لیکن پی ٹی آئی حکومت کی نا تجربہ کاری اور تکبر کی وجہ سے یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں ۔ حالانکہ اگر حکومت کی طرف سے کوئی مخلصانہ تدبیر اختیار کی جاتی تو اس دھرنے کو آغاز ہی میں روکا جا سکتا تھا۔ لیکن حکومت تو ہوا کے گھوڑے پر سوار متکبرانہ رویہ اختیار کئے رہی ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مولانا موصوف اور اُن کے اتحادیوں کو احتجاج اور دھرنے کا راستہ عمران خان اور اُن کی پارٹی نے دکھایا ہے ۔اور یہ بھی تو حقیقت ہے کہ جمہوری حکومت کے خلاف اپوزیشن کے احتجاجات اور مظاہرے جمہوری کلچر کا لازمہ ہے ۔عمران خان بطور اپوزیشن لیڈر اس ”لازمے” کا بھرپور مظاہرہ کر چکے ہیں ۔ اُن کے دھرنے اور احتجاجی مظاہروں نے میاں محمد نواز شریف کی جمہوری منتخب حکومت کو کمزور بھی کیا اور اُن کے راستے بھی مسدود کئے ۔ منتخب جمہوری وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف عمران خان صاحب کے دھرنوں اور مظاہروں کو بھارتی میڈیا ہرروز ہائی لائیٹ کرتا تھا اور ساتھ مرچ مصالحہ لگا کر میاں صاحب کی حکومت بارے منفی تبصرے اور تجزئیے بھی نشر کرتا تھا لیکن نواز شریف نے کبھی ایک بار بھی یہ نہیں کہا تھا کہ ” عمران خان کے جلسوں کو بھارتی میڈیا میں یوں دکھایا جارہا ہے جیسے خانصاحب بھارتی شہری ہوں ۔”اب حزبِ اختلاف کے ایک رہنما کی حیثیت میں مولانا فضل الرحمن صاحب پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور لمبے دھرنے کا عندیہ بھی دے رہے ہیں تو اس کی بازگشت بھارتی میڈیا میں بھی صاف سنائی اور دکھائی دے رہی ہے ۔ ایسے میں جناب وزیر اعظم عمران خان کا یہ ارشاد سامنے آیا ہے :” مولانا فضل الرحمن کے جلسے جلوسوں کو بھارتی میڈیا یوں نمایاں کرکے دکھا رہا ہے جیسے مولانا بھارتی شہری ہوں۔” کاش، یہ الفاظ ادا نہ کئے جاتے ۔جناب عمران خان نے مولانا موصوف کے خلاف ایک بار پھر ایسا لہجہ اور اسلوب اختیار کیا ہے جو صلح جوئی کے منافی ہے ۔ سچ اور حق یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا ”آزادی مارچ” کُلیتاً پُر امن مارچ ہے ۔ یہ مارچ کراچی سے چلا اور اسلام آباد آ پہنچا ہے ۔ سینکڑوں کلومیٹر کے اس طویل فاصلے میں مولانا اور اُن کے پیروکاروں نے کہیں ایک جگہ پر بھی ہلّڑ بازی کی ہے نہ بیہودگی کا مظاہرہ کیا ۔ کسی پٹرول پمپ کو نذرِ آتش کیا نہ کسی گاڑی پر سنگ باری کی ۔ کہیں توڑ پھوڑ ہُوئی ہے نہ کسی جگہ گملہ تک ٹوٹنے کی شکائت سامنے آئی ہے ۔ مولانا صاحب کے یہ پیروکار اور عشاق زیادہ ترمذہبی اداروں اور مدارس سے وابستہ ہیں ۔ دیگر عوام بھی شریک ہیں لیکن مذکورہ طبقہ اکثریت میں ہے ۔ ان لوگوں نے اب تک جس ڈسپلن ، ضبط اور تہذیب و صبرکا مظاہرہ کیا ہے ، اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہمارے دینی مدارس میں اوّلین ترجیح تہذیب و تمیز اور تربیت کو دی جاتی ہے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسلام آباد میں شدید بارش کے باوصف مولانا صاحب کے جان نثار مگر انتہائی غریب ساتھی اپنی جگہ پر بیٹھے رہے ۔ یہ استقامت حیران کن ہے ۔ اسلام آباد میں ”آزادی مارچ” والوں کا ایک لاکھ سے زائد افراد کا مجمع فروکش ہے لیکن کسی شہری کو کوئی دکھ اور تکلیف نہیں پہنچی ہے ۔ جے یو آئی (ایف ) ، نون لیگ ، پیپلز پارٹی ، اے این پی اور پختونخوا ملّی عوامی پارٹی کے مقررین نے خانصاحب کی حکومت کے خلاف سخت تنقیدی خطابات ضرور کئے ہیں لیکن کسی نے حکومت اور حکمرانوں کے خلاف اخلاق سے گرالہجہ اختیار نہیں کیا ہے ۔ اگر ہم اس دھرنے یا احتجاج کا تقابلی جائزہ عمران خان ، مولانا خادم حسین رضوی اور مولانا طاہر القادری کے اسلام آباد و راولپنڈی میں دئیے گئے دھرنوں سے کریں تو مولانا فضل الرحمن کا یہ احتجاجی اجتماع تعداد میں بھی سب سے زیادہ ہے اور تہذیب و تمیز میں بھی اُن سے کہیں بڑھ کر ۔ کہیں قبریں کھودی گئی ہیں نہ کفن لہرائے گئے ہیں ۔ کیا اس نظم و ضبط کا کریڈٹ مولانا فضل الرحمن کے احکامات اور دینی مدارس کی تربیت کو نہیں جاتا ؟ بجا اعتراض کیا گیا ہے کہ حضرت مولانا کو حکومت اور عمران خان کو مطلق الٹی میٹم نہیں دینا چاہئے تھا ۔ لیکن یار لوگ 2014ء میں دئیے گئے عمران خان صاحب کے دھرنے کے دوران وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف خانصاحب کے وہ بیانات بھی سامنے لے آئے ہیں جن میں شدید قابلِ اعتراض زبان استعمال کی گئی تھی ۔یہ حقائق ہیں اور ہم ان سے نہ منہ موڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی موجودگی سے انکار کر سکتے ہیں ۔ خانصاحب اور اُن کے حواریوں نے اپنے سیاسی حریف نواز شریف کے خلاف جو گرہیں اور گانٹھیں ہاتھ سے لگائی تھیں ، اب وہ ایک پنجابی محاورے کے مطابق دانتوں سے کھولنا پڑ رہی ہیں ۔خانصاحب اور اُن کے وزیر مشیر اور خیر خواہ معترض ہیں کہ مولانا فضل الرحمن صاحب کے احتجاج اور دھرنے سے ملکی معیشت کا بھٹہ بیٹھ رہا ہے ۔ کہنے کو تو یہ بات درست ہے لیکن جواب دینے والے بھی موجود ہیں جو جواباً کہتے ہیں کہ 2014ء میں جب عمران خان نے نواز شریف کے خلاف دھرنا لگایا تھا ، کیا اُس وقت بھی انہیں ملکی معیشت کی کوئی فکر تھی ؟ حالانکہ اُس وقت تو پاکستان کے سب سے بڑے ، دیرینہ اور قدیم دوست ملک چین کے سربراہ پاکستان تشریف لا رہے تھے اور پاکستان میں 50ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرنے والے تھے ۔ اور یہ دَورہ صرف عمران خان کے دھرنے کی وجہ سے دونوں حکومتوں کو موخر کرنا پڑا تھا ۔ یہ ہماری تاریخ کے تلخ حقائق ہیں ۔ یقیناً یہ حقائق عمران خان کے ذہن میں بھی پوری طرح تازہ ہوں گے ۔ ان تلخ حقائق کے باوجود ہم سب اس امر پر بہرحال متفق ہیں کہ مولانا صاحب کو دھرنے اور احتجاج کی بساط اب لپیٹ لینی چاہئے ۔ لیکن اس کیلئے حکومت اور عمران خان کو اپنا ہاتھ آ گے بڑھانا ہو گا ۔ مولانا کے کچھ مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے کہ وہ خالی ہاتھ بہرحال اسلام آباد سے واپس جانے والے نہیں ہیں ۔ اگر ایسا کریں گے تو اُن کا سیاسی مستقبل تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ مولانا کی استقامت اور ڈٹے رہنے کا تو یہ عالم ہے کہ وہ یومِ عیدِ میلادالنبیۖپر اسی دھرنے والی جگہ پر سیرت کانفرنس بھی منعقد کرنے کا اعلان کر چکے ہیں ۔ لیکن حکومتی ارکان نے صلح جوئی کا کوئی راستہ اختیار نہیں کیا ہے ، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حکومتی ایما پر گجرات کے چودھری برادران کو میدان میں آنا پڑا ہے ۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی مبینہ طور پر اس معاملے پر احتجاجی مولانا صاحب اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے چار ادوار پر مشتمل ملاقاتیں کر چکے ہیں لیکن ان سطور کی تحریر تک کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل سکا تھا ۔ ممکن ہے اس کالم کی اشاعت تک کوئی نتیجہ نکل آئے ۔ ہم تو اُمید کرتے ہیں کہ جو نتیجہ بھی نکلے ، پاکستان کی سلامتی اور پاکستانی عوام کے حق میں نکلے ۔ فی الحال کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا ہے ، تبھی تو مولانا فضل الرحمن کا لہجہ بھی تلخ تر ہوتا جا رہا ہے ۔ مثال کے طور پر مولانا صاحب اور اُن کے قریبی ساتھیوں کا بار بار یہ بیان دینا کہ اب انتخابات میں فوج کو نگران نہیں بننے دیں گے ۔مولانا صاحب نے غیر مبہم الفاظ میں لا پتہ افراد کے بارے میں بھی بلند آہنگی سے سوال اٹھایا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کے لہجے میں بعض اداروں کے بارے میں بھی استفسارات شامل ہیں ۔ یہ مستحسن عمل نہیں ہے ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ڈی جی آ ئی ایس پی آر میجر جنرل آ صف غفور کو کچھ باتوں کا اشارتاً جواب بھی دینا پڑا ہے ۔اُنہوں نے کہا:” فوج غیر جانبدار ادارہ اور ملکی دفاع کے کاموں میں مصروف ہے ۔ کسی بھی دھرنے اور سیاسی سرگرمیوں سے فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔انتخابات میں بھی فوج کا کوئی کردار نہیں ہے ۔ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کی درخواست پر فوج نے صرف سیکورٹی کی ذمہ داریاں ادا کیں۔” ہم سمجھتے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے برقت اور مناسب ترین الفاظ میں مولانا صاحب کو جواب دے دیا ہے ۔ اس کے بعد کسی بھی شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ ویسے بھی کسی بھی سیاستدان کیلئے یہ مستحسن نہیں ہے کہ اپنے سیاسی اختلافات کی گردان پڑھتے ہُوئے فوج کو ساتھ گھسیٹ لے ۔ ایسے عمل سے ممکن ہے دشمنانِ پاکستان فائدہ اُٹھا جائیں ، اسلئے ہم سب کو احتیاط سے اپنی زبان کھولنی چاہئے ۔ خاص طور پر اس وقت جب ملک کئی اطراف سے کئی دشمنوں کے نرغے میں ہے ۔ ہمارے سیاسی بحرانات ہی ہم سے نہیں سنبھل رہے ۔ ایسے میں فوج کو سیاست میں گھسیٹنے اور رگیدنے سے باز رہنا چاہئے ۔ ان سیاسی بحرانوں میں شریف خاندان کے بحران نے ایک نیا موڑ مُڑا ہے ۔ نواز شریف بیماری ( پلیٹلیٹس کی مبینہ شدید کمی) کے کارن اور طبّی بنیادوں پر آٹھ ہفتے کی ضمانت حاصل کر چکے ہیں ۔ اُن کے ساتھ اُن کی صاحبزادی اور نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز بھی ضمانت پر رہا ہو چکی ہیں ۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ نواز شریف نے سروسز ہسپتال سے چھٹی حاصل کرکے شریف میڈیکل سٹی میں ایڈمٹ ہونے کی بجائے جاتی عمرہ میں اپنی نجی رہائش گاہ ہی کو ہسپتال بنا لیا ہے ۔ اس نے بھی کئی شکوک پیدا کئے ہیں ۔ ان وسوسوں اور شبہات کے باوجود اُمید یہی کی جاتی ہے کہ اللہ کرے باپ بیٹی کی یہ ضمانتی رہائیاں ملک و قوم کے لئے پائیدار امن اور معاشی خوشحالی کا موجب بن جائیں ۔

!!آمین


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.