اہم خبرِیں
مریخ پر پانی سے بھرے سمندرکبھی نہیں تھے، سائنسدان گلوکار بلال سعید نے مسجد میں گانے کی ریکارڈنگ پر معافی مانگ لی ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کی جائے، عرب ممالک بل گیٹس نے پاکستان کی کورونا کے خلاف کامیابی کو تسلیم کر لیا کورونا سے نمٹنے میں پاکستان دنیا کے لیے مثال ہے، اقوام متحدہ مسجد وزیرخان میں گانے کی عکس بندی، منیجر اوقاف معطل چمن، بم دھماکہ 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی حب ڈیم، پانی کی سطح میں ریکارڈ اضافہ لاک ڈاؤن کے بعد کراچی میں تفریحی مقامات کھل گئے سپریم کورٹ کا کراچی سے تمام بل بورڈز فوری ہٹانے کا حکم پاکستان کو اٹھارویں ترمیم دی اس لیے مقدمات بن رہے ہیں، ، زردار... وفاق کے اوپر کوئی وزارت نہیں بن سکتی، اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان پوسٹ آن لائن سسٹم سے منسلک اختیارات کا ناجائز استعمال، چیئرمین لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ر... موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوارکم ہوئی، وزیراعظم اسٹاک مارکیٹ، کاروباری حجم 4 سال کی بلندترین پرپہنچ گیا سائنسی انقلاب، مرے ہوئے شخص سے "حقیقی ملاقات" ممکن آمنہ شیخ نے دوسری شادی کرلی؟ آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری افغانستان لویہ جرگہ، 400 طالبان کی رہائی کی منظوری

!!”پھر ”اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

 

وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی پنجاب میں آئیڈیل ترقی اور تیزی کے خواب دیکھے تھے اور عوام کو بھی دکھائے تھے ۔ چنانچہ بلند آدرش اور توقعات لگا لی گئی تھیں ۔ پندرہ ماہ گزر گئے ہیں لیکن پنجاب میں متوقع تیزی کے ساتھ کہیں بھی ترقی سے وابستہ اُمیدیں بَر نہیں آئیں ۔ مایوسی کا پھیلنا تو پھر فطری تھا ۔ مطالبات سامنے آ رہے تھے کہ وزیر اعظم پر لازم ہے کہ وہ اب وزیر اعلیٰ پنجاب پر مزید تکیہ نہ کریں اور وزارتِ اعلیٰ کے ساتھ ساتھ صوبائی وزیروں کو بھی تبدیل کریں اور بیوروکریسی کو بھی جھٹکا دیں۔ پچھلے ہفتے وزیر اعظم پنجاب کے دارالحکومت ، لاہور، میں رہے اور متعدد تبادلوں سے ہلچل مچا دی ۔ خانصاحب نے وزیر اعلیٰ تبدیل کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور ساتھ ہی اُنہوں نے نئے سرے سے عثمان بزدار پر اپنے گہرے اعتماد کا اظہار کر ڈالا ہے ۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ نیا اعتماد دراصل عثمان بزدار کو دی گئی آخری آزمائش بھی ہے اور وارننگ بھی ۔ عمران خان صاحب نے جس انداز سے بیورو کریسی میں تبادلے کئے ہیں، اسے انگریزی میں بجا طور پرUp side downکہا جاتا ہے ۔ کہا تو یہ بھی گیا تھا کہ پنجاب کے متعدد وزیر بھی تبدیلیوں کی زَد میں آئیں گے لیکن فی الحال پنجاب کے وزیر اطلاعات ( میاں اسلم) اس نشانے پر آئے ہیں ۔ اُنہیں وزارتِ اطلاعات سے ہٹا دیا گیا ہے اور اُن کی جگہ پھر سے راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے فیاض الحسن چوہان کو بٹھا دیا گیا ہے ۔ اس تبدیلی پر سب کو حیرت ہُوئی ہے ۔ عمران خان کے پندرہ ماہ کی حکومت میں پنجاب میں وزارتِ اطلاعات کا قلمدان چوتھی مرتبہ تبدیل ہُوا ہے ۔ بزدار صاحب وزیر اعلیٰ بنے تو یہ وزارت فیاض الحسن چوہان کو عطا کی گئی تھی ۔ اُنہوں نے اداکاروں اور اقلیتوں کے بارے میں مبینہ طور پر” لُوز ٹاک” کی تو وزارتِ اطلاعات کا قلمدان اُن سے واپس لے لیا گیا تھا ۔ پھر اس وزارت پر جنوبی پنجاب کے ایک گدی نشین(صمصام بخاری) کو بٹھایا گیا ۔ وہ بھی زیادہ دنوں تک عثمان بزدار اور خانصاحب کی اُمیدوں پر پورا نہ اُتر سکے ( کہ کہا جاتا ہے کہ وہ کچھ زیادہ ہی شریف النفس واقع ہُوئے تھے) تو انہیں ہٹانے کے بعد یہ وزارت لاہور سے تعلق رکھنے والے میاں اسلم کو تفویض کر دی گئی جو کبھی قاف لیگ میں تھے اور اب پی ٹی آئی کے سرگرم سیاستدان ہیں ۔ وہ چنگے بھلے یہ وزارت چلا رہے تھے کہ اب پھر اُن کی جگہ فیاض الحسن چوہان کو براجمان کر دیا گیا ہے ۔ اب دیکھتے ہیں کہ اِس بار چوہان صاحب کتنے دن نکالتے ہیں ؟ ہم ایسے اُن کے خیر خواہوں کو اُمید ہے کہ وہ اب احتیاط ہی برتیں گے، لیکن لگتا ہے کہ چوہان صاحب اس بار بھی وزیر اطلاعات بن کر اپوزیشن کے خلاف غیر محتاط جارحیت سے باز نہیں آئیں گے ۔ دوبارہ وزیر اطلاعات بنتے ہی اُنہوں نے جو ٹویٹ کی ہے، اس سے اُن کے عزائم ظاہر ہوتے ہیں ۔چوہان صاحب نے اپنی ٹویٹ میں لکھا:”الحمد للہ ، اللہ پاک کے کرم اور بہترین لیڈرشپ کے بدولت ایک بار پھر مجھے وزیر اطلاعات کا قلمدان سونپ دیا گیا ہے ۔ قوم اور اپنے لیڈر سے وعدہ ہے کہ اس اپوزیشن اور میرے قائد پر ذاتی حملے کرنے والوں سے مَیں کیسے ڈیل کرتا ہُوں ، دُنیا دیکھے گی۔” فیاض الحسن چوہان کی مذکورہ ٹویٹ کے الفاظ میں جو گھن گرج اور دھمکی سنائی دیتی ہے ، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُن کی زبان اس بار بھی کیا کیا گُل کھلا سکتی ہے ۔اُنہیں یہ وزارت ایسے ماحول میں ملی ہے جب وزیر اعظم عمران خان کے حکم سے پنجاب کی ساری بیوروکریسی کو ہلا کر رکھ دیا گیا ہے ، اِس آس اور اُمید کے ساتھ کہ پنجاب میں رُکے ہُوئے کئی کام اور پراجیکٹ تیزی پکڑیں گے اور بے زار ہوتی عوام کو ریلیف بھی ملیں گے ۔خبر ہے کہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا قلمدان بھی تبدیل کیا جارہا ہے کہ اُن کی کارکردگی سے خانصاحب مطمئن نہیں ہیں ۔ڈاکٹر یاسمین راشد کی ڈاکٹری پنجاب کی صحت ٹھیک نہیں کر سکی ہے ۔ممکن ہے ان ہنگامہ خیز تبدیلیوں سے حکومت ایک بار پھر عوام کا اعتبار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے لیکن ان تبدیلیوں نے وزیروں اور بیوروکریٹوں میں جو عدم اعتماد پیدا کیا ہے ، اُن کے سروں پر ہمہ وقت خطرے کی جو تلوار لٹکا دی گئی ہے ، اس ماحول میں وہ دلجمعی سے کیسے اپنے متعینہ فرائض انجام دے سکیں گے ؟ شائد اس جانب توجہ نہیں دی جارہی ۔ پی ٹی آئی کے کچھ دیگر”احباب” کو پھر سے وزارتیں ملنے کے امکان بھی روشن ہو رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر علیم خان اور سبطین خان وغیرہ۔مرکز میں بھی بیوروکریسی میں خاصی اکھاڑ پچھاڑ ہُوئی ہے ۔ اللہ کرے یہ ”انقلاب” حکومت اور ملک کے استحکام کیلئے نیک شگون ثابت ہو۔بعض تبدیلیوں سے سینئر بیوروکریٹس نے شدید ردِ عمل اور ناراضی کا اظہار بھی کیا ہے ۔ مثلاً:ایف آئی اے کے سربراہ ( بشیر میمن)کو تبدیل کرکے اُن کی جگہ واجد ضیاء کو متعین کیا گیا ہے تو میمن صاحب نے سخت ردِ عمل دیا ہے ۔ طیش اور غصے میں اُنہوں نے اپنے حساس عہدے سے استعفیٰ ہی دے ڈالا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بشیر میمن کا غصہ بجا ہے ۔ اُن کی ریٹائرمنٹ میں چند ہفتے ہی رہ گئے تھے ۔ اگر اُن کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کر لیا جاتا اور اُنہیں عزت و اکرام سے رخصت کرکے نئے ڈی جی ایف آئی اے ( واجد ضیائ) کی اپوائنٹمنٹ کی جاتی تو یہ اقدام مستحسن کہا جاتا لیکن نہیں معلوم حکومت کو اتنی کیا جلدی تھی کہ بشیر میمن کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کئے بغیر واجد ضیاء کو نامزد کر دیا گیا ۔وفاقی دارالحکومت میں یہ” افواہیں” گردش میں ہیں کہ حکومت دراصل بشیر میمن سے اپنے بعض سیاسی حریفوں کے خلاف سخت اقدام کرنے کا بار بار تقاضا اور مطالبہ کررہی تھی لیکن بشیر میمن یہ بِلا جواز مطالبات ماننے سے انکاری تھے ۔ اس انکار کی پھر یہ سزا دی گئی ہے کہ میمن صاحب کو بیک بینی و دو گوش تبدیل کر دیا گیا ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ ایسا سخت ردِ عمل مگر پنجاب کی بیوروکریسی کی طرف سے دیکھنے میں نہیں آیا ہے حالانکہ یہاں بھی بڑے پیمانے پر سینئر بیوروکریٹوں کے تبادلے کئے گئے ہیں ۔یہ تبادلے خاصے حیران کن ہیں ، خصوصاً اسلئے بھی کہ نئی بیوروکریسی درحقیقت گذشتہ صوبائی حکومت کی معتمد بیوروکریسی رہی ہے ۔ پنجاب میں براہِ راست وزیراعظم عمران خان کی جانب سے( اور مبینہ طور پروزیر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب سے بالا بالا) بیوروکریسی میں کی جانے والی زبردست اکھاڑ پچھاڑ کے نتیجے میں ( کہا جارہا ہے کہ) شہباز شریف کی’ باصلاحیت’ ٹیم پھر واپس آگئی ہے ۔ اس عمل کے نتیجے میں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی کا سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کیخلاف کرپشن کا اپنا بیانیہ زنگ آلود ہوگیا ہے۔ عمران خان کے احکامات تلے پنجاب اور مرکز میں بیوروکریسی میں ہونے والی تبدیلیوں کے پیش منظر میں یہ بات بھی زبان زدِ خاص و عام ہے کہ شہباز شریف ملک اور حکومت سے باہر رہنے کے باوجود حکومت کررہے ہیں۔ شہباز شریف کے ساتھ کام کرنے والے ان افسروں پر عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت سخت تنقید کرتے رہے ہیں ۔ انہیں پنجاب کی ”بد قسمتی” کا اصل سبب گردانا جاتا تھا لیکن اب پھر اُنہی افسروں کو واپس لایا گیا ہے کہ وہی بگڑی بنائیں گے ۔ ایسی ہی کسی صورت میں میر تقی میر نے عالمِ مجبوری میں کبھی کہا تھا:
میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہُوئے جس کے سبب
اُسی عطا ر کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں!!
حقیقت یہ ہے کہ تبادلوں کے بعدنئے انتظام میں تمام اہم عہدے شہباز شریف کے من پسند افسران کو دیے گئے ہیں جو شہباز شریف کی گزشتہ دس سالہ حکومت میں ترقی اور حکمرانی سے متعلق کاموں کے ذمہ دار تھے۔ ان میں سے اکثر افسران کے پاس اہم منصوبوں کی ذمہ داریاں تھیں جو مسلم لیگ نون کی پہچان سمجھے جاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر:اورنج ٹرین، ملتان میٹرو، انڈر پاسز اور لاہور کے بڑے پروجیکٹس، نندی پور پاور پروجیکٹ۔ تازہ تبادلوں کے بعد درجن بھر افسران، جنہیں اب واپس عثمان بزدار حکومت میں واپس لایا گیا ہے، براہِ راست شہباز شریف کے ساتھ چیف منسٹرسیکریٹریٹ میں کام کرتے تھے۔ تاہم بیوروکریسی میں کچھ لوگ اس شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ عثمان بزدار کیا شہباز شریف کی طرح کامیابی سے ان باصلاحیت افسران سے کام لے پائیں گے یا نہیں۔ نئی بیوروکریٹک ٹیم (جسے پنجاب میں پی ٹی آئی کی تمام بیماریوں کا سبب بھی قرار دیا جا رہا تھا) کی قیادت میجر (ر) اعظم سلیمان کر رہے ہیں جو اب صوبے کے نئے چیف سیکرٹری ہیں ۔ یہ صاحب شہباز شریف کے دور میں پانچ سال تک انتہائی پرتعیش عہدے (سی اینڈ ڈبلیو) کے سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ شہباز شریف نے ترقی میں اس قدر دلچسپی دکھائی کہ انہوں نے کبھی سی اینڈ ڈبلیو کے وزیر کا تقرر نہیں کیا اور براہِ راست سیکریٹری اعظم سلیمان کے ساتھ رابطہ رکھتے تھے۔ یہ دراصل شہباز شریف کا اپنے اس سیکرٹری پر اندھا اعتماد بھی تھا، حالانکہ کہا تو جاتا ہے کہ شہباز شریف اپنے سیکرٹریوں پر کم کم اعتماد کیا کرتے تھے۔یوں اس معاملے میں میجر(ر) اعظم سلطان کو استشنائی صورت بھی حاصل تھی۔ اعظم سلیمان نے پنجاب اور لاہور میں بڑے بڑے پروجیکٹس پر عمل کے معاملے میں بہت زبردست کارکردگی دکھائی۔ کہا جاتا ہے کہ اعظم سلیمان اپنے ماتحت افسران میں سے کسی کی بھی کسی طرح کی بے وقوفی اور ناہلی کو برداشت نہیں کرتے تھے ۔ شائد اس اہلیت نے بھی اُنہیں شہباز شریف کے من پسند افسر بنا دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، شہباز شریف میجر اعظم کو اس قدر پسند کرتے تھے کہ گریڈ بائیس میں ترقی ہونے کے باوجود انہیں اے سی ایس ہوم پنجاب میں پانچ سال کیلئے مقرر کئے رکھا ۔ یہ کسی کیلئے سب سے طویل عرصہ ہے۔ عجیب بات ہے کہ اُس وقت پی ٹی آئی ان پر ماڈل ٹائون سانحے کا الزام عائد کرتی رہی تھی۔ نبیل اعوان، عبداللّٰہ سنبل، ندیم محبوب، جاوید قاضی، ساجد داہل وغیرہ جیسے تمام بہترین ڈی ایم جی / پی اے ایس افسران شہباز شریف کے ماتحت بطور سیکرٹری ٹو چیف منسٹر برائے ڈویلپمنٹ، عملدرآمد اور رابطہ کاری کام کر چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ افسران پنجاب سیکرٹریٹ میں پنجاب کی گورننس اور ترقی کے امور کے ذمہ دار تھے۔ جناب عمران خان کے ہاتھوں ہونے والی نئی اکھاڑ پچھاڑ میں ان سب کو اہم عہدے دئیے گئے ہیں۔ مثلاً: نبیل اعوان کو سیکرٹری ہیلتھ اور ساتھ ہی لائیو اسٹاک کا سیکرٹری لگایا گیا ہے۔ اسد سنبل فنانس کے اور ندیم محبوب کو سیکرٹری ہائوسنگ بنایا گیا ہے تاکہ وہ وزیراعظم کے اعلان کردہ ہائوسنگ ویژن پر عملدرآمد کر سکیں۔جاوید قاضی سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ مقرر ہوئے ہیں اور یہ سیاسی اور انتظامی لحاظ سے انتہائی اہم شعبہ ہے۔ ساجد داہل کو سیکرٹری ہائر ایجوکیشن مقرر کیا گیا ہے، اس اُمید کے ساتھ کہ پنجاب میں تعلیم کا شعبہ عوامی توقعات پر پورا اُتر سکے گا۔پنجاب اور وفاق میں مذکورہ تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں کی ”ترقیاں” بھی ہُوئی ہیں ۔وزیر اعظم صاحب نے نئے حالات میں اپنے بااعتبار دوستوں کو نوازا ہے ۔ مثال کے طور پر وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کو وزیر مملکت برائے داخلہ کے فرائض بھی تفویض کردیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو منی لانڈرنگ اور پیسے کی منتقلی سے منسلک دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے فعال اور اچھی کارکردگی کا حامل ادارہ بنانے کے لیے وزیراعظم نے انہیں ایف آئی اے کی تنظیم ِنَو کا ذمہ بھی دیا ہے۔ شہزاد اکبر کی تعیناتی سے وفاقی وزیر داخلہ کے اختیارات میں کمی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ یوں اس اقدام سے اعجاز شاہ کی طاقت نسبتاً محدود کرنے کی بھی سعی کی گئی ہے ۔شہزاد اکبر نے اپنی اس نئی ملازمت اور ذمہ داریوں بارے ایک انگریزی معاصر سے گفتگو کرتے ہُوئے کہا ہے :” وزیراعظم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (مالیاتی جرائم کے انسداد کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم) کی ہدایات کے تحت منی لانڈرنگ کے مسئلے کا حل چاہتے ہیں، اس لیے انہوں نے منی لانڈرنگ، انسدادِ بدعنوانی اور اس سے متعلق دیگر جرائم پر توجہ دینے کی ذمہ داری مجھے دی ہے۔ ایف آئی اے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے حکومت کو ایف آئی اے عہدیداران کو کچھ مراعات دینا ہوں گی۔ مثال کے طور پر ایف آئی اے کا ایک کانسٹیبل 35 ہزار ماہوار تنخواہ پارہا ہے جبکہ وہی کانسٹیبل نیب میں 80 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرتا ہے۔ مَیںجلد ایف آئی اے کی تنظیمِ نو کا منصوبہ وزیراعظم صاحب کو منظوری کے لیے پیش کروں گا۔”یہ باتیں تو اپنی جگہ درست ہوں گی مگر عوام استفسار کرتے ہیں کہ ایک طرف تو وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں اور دوسری طرف وہ اپنے وزیروں اور مشیروں کی فوج میں اضافہ کیوں کرتے جا رہے ہیں؟ ان اضافی وزیروں، مشیروں کے اضافی اور بھاری بھر کم اخراجات کہاں سے اور کیسے پورے کئے جائیں گے ؟ کیا عوام کی ٹوٹی کمر پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر ؟ تاکہ نئے ٹیکسوں سے نئے وزیروں کے اخراجات پورے کئے جا سکیں گے ؟ کیا اس کا نام تبدیلی ہے ؟ عوام تو بیچارے 300روپے فی کلو ٹماٹر خریدینے پر مجبور کر دئیے گئے ہیں اور ہر روز مہنگی ہوتی بجلی کا بوجھ برداشت کررہے ہیں اور حکومت ہے کہ اُس کے اخراجات میں آئے روز اضافے ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ ریلیف کی کوئی شکل و صورت سامنے نہیں آ رہی ۔ حکومت ہر روز عوام کو مزید انتظار کا کہہ کر لارے لگا رہی ہے کہ ”بس اچھے دن آنے ہی والے ہیں۔”عوام کہہ رہے ہیں کہ اگر حکومت غیر مسلموں کی صدیوں پرانی عبادت گاہ ( کرتار پور صاحب) کی نئے سرے سے تزئین و آرائش اور وسعت پر 14ارب روپے کی خطیر رقم ( اور وہ بھی مسلمان پاکستانیوں کے ٹیکسوں سے اکٹھی کی گئی)بے دریغ خرچ کر سکتی ہے تو عوام کو ریلیف دینے کیلئے اِسی حکومت کی جان کیوں نکلتی ہے؟قومی کنزیومرپرائس انڈیکس کی طرف سے جو اعدادو شمار5دسمبر 2019ء کو سامنے آئے ہیں ، انہوں نے تو ویسے ہی عوام الناس کے ہوش اُڑا دئیے ہیں ۔ عوام کمر شکن مہنگائی کے کارن روز قیامتوں سے گزرتے ہیں لیکن اب سرکار ہی کی مذکورہ ”کنزیومر پرائس انڈیکس” نے تسلیم کیا ہے کہ موجودہ حکومت نے پچھلے 9سال کا مہنگائی کا سارا ریکارڈ توڑ ڈالا ہے ۔ افراطِ زر 12.7فیصد کی خطرناک سطح تک پہنچ گیا ہے ۔ حکومت نے سنجیدگی سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے فوری اقدامات نہ کئے تو عوام کے صبر کا پیمانہ چھلک جائے گا ۔ پھر ایسا نہ ہو کہ پاکستان میں بھی وہی مناظر دیکھنے کو ملیں جو ہم ایران ، عراق ، بولیویاوغیرہ میں دیکھ رہے ہیں جہاں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف عوامی احتجاجات پر قابو پانے کیلئے حکومتوں کو وحشت میں گولیاں چلانا پڑی ہیں ۔ صرف عراق میں پچھلے دو ماہ کے دوران حکومتی فورسز نے 500احتجاجی لوگوں کو قتل کر ڈالا ہے ۔ اور اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ عراقی وزیر اعظم( عادل عبد المہدی) کو عوامی دباؤ سے مجبور ہو کر مستعفی ہونا پڑا ہے۔ ایران میں بھی دو سو کے قریب احتجاجی مار ڈالے گئے ہیں ۔ ہم حکومت کے خیر خواہ ہیں ، اسلئے حکومت سے دست بستہ عرض کرتے ہیں کہ خدارا، ملک میں تیزی سے پھیلتی بے روزگاری ، لاقانونیت اور مہنگائی کے عفریتوں کو کنٹرول کرنے کے فوری اقدامات کئے جائیں ۔ حکومت عوام کویہ کہانیاں سنا کررام کرنے کی کوشش نہ کرے کہ عالمی مالیاتی مانیٹرنگ ادارے ( موڈیز) نے پاکستان کی ریٹنگ منفی سے مستحکم کر دی ہے ۔ یہ خبر وزیر اعظم اور اُن کے وزیروں مشیروں کیلئے اطمینان بخش ہوگی لیکن عوام کیلئے ہر گز نہیں۔ پاکستان کیلئے کسی عالمی ادارے کی طرف سے ریٹنگ میں بہتری کی خبر سے بھوکے عوام کے پیٹ نہیں بھر سکتے ۔عوام کے پیٹ اس پُر اسرار خبر سے بھی نہیں بھر سکتے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے خزانے میں برطانیہ سے 38ارب روپے ( 190ملین پونڈز) آئے ہیں ۔ حیرانی کی بات ہے کہ حکومت اور وزیر اعظم صاحب کھل کر عوام کو یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ یہ بھاری بھر رقم کس کی ہے ؟ اپوزیشن عجب عجب انداز میں حکومت پر اِسی حوالے سے طنز کررہی ہے لیکن کوئی جواب نہیں مل رہا ۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کے کئی سوالوں کے جوا ب نہ دے کر اپنے معاملات خراب کئے ہیں ۔ اس کی ایک حالیہ مثال الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سربراہ ( سردار رضا صاحب) کے سبکدوش ہونے پر کسی نئے نام کے متفق نہ ہونے کی صورت میں سامنے آئی ہے ۔ اللہ ہمارے ملک پر رحم فرمائے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.