وطنِ عزیز کی صحافت اور میڈیا بارے صدرِ مملکت کا اظہار

چھبیس فروری2020ء کو اسلام آباد میں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی(اے پی این ایس) کے زیر اہتمام ایک شاندار اور یادگار تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔ یہ تقریب دراصل اپنی نوعیت کی 24ویں سالانہ تقریب تھی ۔ اس میں انعامات اور ایوارڈز تقسیم کئے گئے ۔ ایک نئے ایوارڈ کا اجرا بھی کیا گیا اور حقداروں میںاس کی پہلی تقسیم بھی کی گئی ۔ اس نئے ایوارڈ کو ”گولڈ ایوارڈ ” کا عنوان دیا گیا ۔ وہ قومی اور علاقائی اخبارات اور جرائد جنہیں مسلسل شائع ہوتے ہُوئے 50برس ہو گئے ہیں ، اُن کی خدمت میں یہ ایوارڈ پیش کیا گیا ہے۔ سب کا فرداً فرداً نام کیا لینا لیکن جن بھی اداروں اور افراد کو یہ ایوارڈ دئیے گئے ہیں ، ہماری طرف سے اور ادارہ ”طاقت” اور ”عزم” اور ہماری دیگر پبلی کیشنز کی طرف سے سب ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد۔ وزارتِ اطلاعات اور اس سے منسلک دیگر اداروں کا بھی شکریہ جنہوں نے اس نئے رُخ کی جانب پہلا مستحسن قدم اُٹھایا ہے ۔ اس تقریب کی صدارت صدرِ مملکت نے کی اور ایوارڈوں کی تقسیم بھی جناب ڈاکٹر عارف علوی کے دستِ مبارک سے ہُوئی ۔ حکومت اور وطنِ عزیز کے میڈیا کے مابین جو قابلِ ذکر خلیج پیدا ہو چکی ہے اور حکومت ملکی میڈیابارے آئے روز جس ناراضی اور غصے کا اظہار کرتی رہتی ہے، اس کی موجودگی میں ”اے پی این ایس” کے زیر اہتمام صدرِ مملکت کی طرف سے ایوارڈز کی تقسیم ایک اچھا عمل ہی کہا جائے گا ۔جناب ِ صدرِ مملکت نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے جو باتیں ارشاد فرمائیں ، ان میں بھی ملکی میڈیا بارے زیرِ تہ اور بین السطور تلخی محسوس کی جا سکتی ہے ۔ اگرچہ صدر صاحب نے پاکستان کی صحافت اور صحافیوں کی عظیم خدمات کی تحسین بھی کی ۔صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی صاحب نے کہا:” اے پی این ایس طویل عرصہ سے صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے جدوجہد کررہی ہے ۔ اس وقت پرنٹ میڈیا کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ حکومت ان مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن کردار ادا کررہی ہے ۔ میڈیا کو درپیش مسائل کا حل باہمی گفتگو سے ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے باوجود پرنٹ میڈیا کو معاشرے میں ایک مقام حاصل ہے ۔ ماضی میں حکومتوں نے ایڈورٹائزنگ پالیسی کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا ۔” صدر ِ مملکت نے مزید کہا:” جعلی خبریں معاشرے کیلئے تشویش کا باعث ہیں ۔ میڈیا کو حکومت پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے اور سماج کے مسائل اجاگر کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ میڈیا کو غیر متعصبانہ انداز میں حکومت کا ساتھ دے کر عوامی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔”بظاہر تو صدر صاحب کی یہ گفتگو نہائت نرم اور شاندار ہے ۔ ہم اس حوالے سے جناب کے شکر گزار بھی ہیں لیکن اس خطاب کا باریک بینی سے تجزیہ کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ گزارش یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا نے تو ہمیشہ ہی سے ملک اور معاشرے کی بہتری کیلئے اپنی خدمات پیش کئے رکھی ہیں ۔ ملکِ پاکستان پر جب بھی کوئی افتاد اور مصیبت آئی ، ہمارے پرنٹ میڈیا نے از خود حکومت اور ملک و قوم کا ساتھ دیا اور اس کیلئے کسی صلے کی پروا کی نہ کوئی معاوضہ ہی چاہا ۔ خود پی ٹی آئی کی سینئر قیادت اس امر کی گواہ ہے کہ ہم اور ہمارے پرنٹ میڈیا نے بغیر کسی لالچ اور لوبھ کے عمران خان اور پی ٹی آئی کی ہمیشہ اعانت کی اور برسرِ اقتدار حکومتوں اور مقتدر شخصیات کے طیش اور ناراضی کی کبھی قطعی طور پر پروا نہیں کی ۔ صدر ِ محترم کا مگر اب یہ ارشادِ گرامی ناقابلِ فہم ہے کہ ” ملک کا پرنٹ میڈیا بغیر کسی تعصب کے حکومت کا ساتھ دے۔”گویا دوسرے الفاظ میں صدر صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وطنِ عزیز کا پرنٹ میڈیا موجودہ حکومت بارے تعصبات کا اظہار کررہا ہے ؟ ہم سمجھتے ہیں کہ جنابِ صدر کا یہ ارشاد محض ایک تہمت اور الزام کے سوا کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر ہم اپنی بات کریں تو کسی جھجک اور اُلجھن کے بغیر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری سبھی پبلی کیشنز نے ہمیشہ پی ٹی آئی اور تحریکِ انصاف کے چیئرمین کی حمائت کی ہے ۔ افسوس کی بات مگر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے ہمارے تعاون کی برسرِ مجلس کم کم تعریف کی گئی ۔حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ صدرِ مملکت پاکستان کے پرنٹ میڈیا بارے اپنی تشویشات کا اظہار تو کررہے ہیں اور پرنٹ میڈیا کے مسائل حل کرنے کی نوید بھی سنا رہے ہیں لیکن عملی سطح پر کچھ بھی نہیں ہورہا ۔ یہ صدرِ مملکت اور پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران پہلی بار ہُوا ہے کہ پاکستانی میڈیا پر ہر روز کوئی نئی افتاد ٹوٹ رہی ہے ۔ سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں پرنٹ میڈیا سے جڑے اخبار نویس بے روز گار ہو چکے ہیں اور صدر صاحب فرمارہے ہیں کہ حکومت صحافیوں کے مسائل حل کرنے میں کردار ادا کررہی ہے ۔ ممکن ہے وہ درست ہی ارشاد فرما رہے ہوں لیکن اگر یہ کردار کہیں ادا کیا جارہا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا وجود ہے کہاں؟ پی ٹی آئی کی حکومت کے گذشتہ 18ماہ کے دوران پاکستان میں میڈیا کے حالات میں تیزی سے بگاڑ آیا ہے ۔ اس لئے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حکومت دانستہ ان حالات کو خراب کرنے کی راہ پر گامزن ہے تاکہ میڈیا اور اس کے وابستگان کی کمر توڑ کر اپنی حکمرانی کی راہ صاف اور ہموار کی جائے ۔ اسی ایجنڈے کے تحت وزیر اعظم عمران خان بھی ملکی میڈیا سے ناراضی کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔ پہلے بھی حکمرانوں اور اخباروں کے باہمی تعلقات کبھی اتنے آئیڈیل نہیں رہے لیکن اتنے بُرے بھی کبھی نہیں رہے جتنے اب ہو چکے ہیں ۔ حکومت اخبارات اور اخباروں کی آزادی کے درپے بھی ہے ۔ پرنٹ میڈیا کی آزادی محدود تر کرنے کیلئے آئے روز نت نئی قانون سازیاں کی جارہی ہے ۔ ایسے میں پرنٹ میڈیا کی آزادی کیسے برقرار رہ سکتی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مشکل دن بھی کٹ ہی جائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ جب موجودہ حکمران کبھی اپوزیشن میں بیٹھیں گے تو پھر وہ میڈیا سے کس طرح تعاون مانگ سکیں گے ؟ وطنِ عزیز میں میڈیا اور حکومت کے باہمی تعلق پر اُردو اور انگریزی میں جتنی بھی کتابیں لکھی گئی ہیں ، ان کی تعداد گنی چُنی ہے ۔ ہمارے پاس بھی کچھ کتابیں پڑی ہیں ۔ تقریباً سب کتابوں کا خلاصہ یہی ہے کہ صحافیوں اور حکمرانوں کے باہمی تعلقات کبھی ہموار نہیں رہے ہیں ۔ یہ تعلقات کبھی بے تموج نہیں رہے۔ ان میں اُتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں ۔ اخبارات اور حکومت کی محبت یکساں اور بلا رکاوٹ کبھی نہیں رہی ۔ پاکستان میں تو ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حکومت اور حکمرانوں نے بعض اخبارات پر شبخون مار کر مستقل طور پر اُنہیں اپنی گود میں لے لیا۔ یہ سلسلہ برسوں چلا تو سہی لیکن ان اخباری اور میڈیائی اداروں کا عوام اور قارئین میں اعتبار جاتا رہا ۔ یہ سرکاری اخبارات حکومت کیلئے سفید ہاتھی بن گئے ۔ ان کے مالی خسارے کروڑوں ، اربوں تک پہنچ گئے تھے ۔ تنگ آ کر حکومت نے ان سب سے پنڈ چھڑا لیا۔اب یہ سرکاری اخبارات اور ان سے وابستہ پرانے سرکاری اخبار نویس” تاریخ” کا حصہ بن چکے ہیں ۔ نجانے اسے المیہ کہا جا سکتا ہے یا نہیں ۔ تاریخی المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں ایک ایسا حکمران بھی آیا جس نے ہموطن صحافیوں کو بیچ بازار کوڑے بھی لگائے ۔میڈیا پر یہ سرکاری تشدد کی انتہا تھی ۔ اس سے آگے بس پھانسی کی سزا رہ جاتی تھی ۔ اور اگر مذکورہ حکمران یہ بھی کر گزرتا تو شائد اُس کا ہاتھ روکا نہ جا سکتا۔صحافت اور حکومت کا باہمی رشتہ ایسا ہے کہ اس پر گھنٹوں بولا اور برسوں لکھا جا سکتا ہے ۔ یہ ایسی دلخراش داستان ہے جس کے ذکر سے آنکھوں اور قلم سے خون ٹپکتا ہے ۔ وطنِ عزیز میں ، ہر دَور میں ، ایسے بھی اخبار نویس رہے ہیں جن کیلئے اخبار نویسی خسارے کا نہیں ، نفع کے سودا رہی ۔ اگر آزادیِ صحافت کی آبیاری کیلئے خون دینے والے صحافیوں کی تاریخ رقم کی گئی ہے تو اُنگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوانے اور بے انت منافع کمانے والے قلمکاروں کے نام بھی لکھے گئے ہیں ۔ ان سب نفع اندوزوں کی کہانیاں بھی لکھی جا چکی ہیں اور لکھی جا رہی ہیں ۔ آئندہ بھی لکھی جاتی رہیں گی ۔ لوحِ ایام پر یہ کہانیاں ہر دَور میں لکھی گئی ہیں ۔وزیر اعظم عمران خان اور میڈیا کا باہمی رشتہ بھی ، رفتہ رفتہ ، وہی شکل اختیار کرتا جاتا ہے جو سابقہ ادوار میں میڈیااور حکمرانوں کا رہا ہے ۔ یہ رشتہ ماضی میں خوشگوار کبھی نہیں رہا ۔ اب بھی یہ تلخ تر ہوتا جا رہا ہے ۔ خانصاحب سابقہ حکمرانوں سے اسلئے قدرے مختلف ہیں کہ ہمارے میڈیا نے اُنہیں غیر معمولی طور پر بڑھاوا دیا ۔ اپنا اور عوام کا محبوب و معشوق بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ بلا معاوضہ نجی ٹی ویوں اور اخبارات میں اُنہیں اتنی کوریج دی جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ۔ خانصاحب اسی صحافتی محبت کے بَل پر برسرِ اقتدار آئے ہیں مگر اب میڈیا سے ناراض اور نالاں لگ رہے ہیں ۔ اُن سے منسوب یہ بیان بھی شائع اور نشر ہو چکا ہے کہ ”مَیں نے اخبار پڑھنا بند کر دئیے ہیں۔” اُنہوں نے آن دی ریکارڈ یہاں تک ارشاد فرما دیا ہے کہ ”اپنے وزیروں سے مَیں نے کہہ دیا ہے کہ نہ تو نجی ٹی ویوں کے ٹاک شو دیکھیں اور نہ ہی ان میں شرکت کریں۔”جناب نے میڈیا سے ناراضی کا اظہار اسلام آباد کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے یوں بھی کیا:” میڈیا پر مجھے کچھ بھی کہو، عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔”یہ الفاظ میڈیا سے ناراضی کے عکاس ہیں ۔مگریہ اسلوبِ سیاست اور اندازِ جہانبانی شائد مناسب نہیں ہے ۔ خانصاحب میڈیا سے ناراضی اور غصے کا اظہار کرکے شائد اپنے تئیں درست ہی کررہے ہوں لیکن اُنہیں محبت کرنے والے عوام کو دلائل و براہین سے قائل کرنا چاہئے کہ اس ناراضی کی اساس کیا ہے ۔ اگر خانصاحب کی حکومت ٹماٹر ، چینی ، آٹا، بجلی ، گیس ، پٹرول وغیرہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اور بے منطق اضافہ کرتی ہے اور میڈیا اس کی خبر عوام تک پہنچاتا ہے اور اس پر تجزئیے اور تبصرے شائع اور نشرکرتا ہے تو یہ گناہ اور حکومت دشمنی کیسے کہی جا سکتی ہے؟ اگر اشیائے ضروریہ کے بارے میں کہیں کوئی میڈیا مین حکومت کے خلاف غلط اور بے بنیاد خبر دیتا ہے ، اپنے نجی مفاد میں تعصب کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس کا احتساب کیا جانا چاہئے ۔ اس کی غلط بیانی کا پردہ فوری چاک کیا جانا از بس ضروری ہے ۔ خانصاحب کے درجنوں مشیر وںاور وزیروں کو تصحیح کیلئے بروئے کار آنا چاہئے ۔ خصوصاً خانصاحب کی میڈیا ٹیم کو ۔ پنجاب میں جناب عمران خان کے منتخب کردہ وزیر اعلیٰ نے درجنوں مشیرانِ اطلاعات بنا رکھے ہیں ۔ انہیں بھاری سرکاری مراعات دی جاتی ہیں ۔ اگر کسی صحافی کی حکومت مخالف خبر پر مشیروں کی یہ اطلاعاتی فوج خاموش رہتی ہے یا عوام تک اپنا درست نقطہ نظر پہنچانے میں یہ سرکاری مشیرانِ اطلاعات ناکام و نامراد رہتے ہیں تو پھر خانصاحب کو ان کا محاسبہ بھی کرنا چاہئے ۔اپنے وزیروں اور مشیروں سے حساب لینے کی بجائے میڈیا پر برسنا شائد مناسب اسلوب ہے نہ یہ انداز کہ مَیں اخبار پڑھتا ہُوں اور یہ بھی کہ وزیروں سے بھی کہہ دیا ہے کہ ٹاک شو میں جایا کریں نہ انہیں دیکھا کریں ۔ یہ تو پسپائی ہے ۔ خانصاحب کو اس بات کا فوری جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے کہ اُن کی منتخب کردہ میڈیا ٹیم اور میڈیا میں فاصلے کیوں ہیں؟ اور یہ بھی کہ کیا خانصاحب کی منتخب کردہ سوشل میڈیا ٹیم ( جن سے وہ گذشتہ دنوں خطاب کرتے دیکھے گئے ہیں) اُن کی سرکاری میڈیا ٹیم کا متبادل ہو سکتی ہے ؟جناب وزیر اعظم کو یہ بھی جاننا چاہئے کہ پنجاب ، کے پی کے ، مرکز اور بلوچستان میں اُنہیں حالیہ ایام میں جن منتخب نمائندگان کی طرف سے مخالفت اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے ،اس بحران میں میڈیا کی لگائی بجھائی کا کوئی کردار نہیں ہے ۔ خانصاحب اگر ان بحرانوں سے نمٹنے کیلئے کے پی کے میں چند وزیروں کو بیک جنبشِ قلم فارغ خطی دیتے ہیں تو یہ نوبت میڈیا کی وجہ سے نہیں آئی تھی۔ میڈیا کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے اگر خانصاحب اپنے چند باعثِ زحمت (Troublesome) وزیروں کی بروقت باز پرس کرتے تومیڈیا کو بھی (تنقید میں) لب کشائی کا موقع نہ ملتا۔ مثال کے طور پر اُن کے ایک وفاقی وزیر کا بے ضرر وزیر اعلیٰ پنجاب کے بارے میں بے موقع خط لکھنا ۔ وفاقی وزیر کو یہ نامناسب خط لکھنے پر میڈیانے اُکسایا تھا نہ میڈیا نے اس کی ترغیب دی تھی۔ اس خط کے جواب میں پنجاب کے ایک وزیر نے وفاقی وزیر موصوف کے بارے میں آن دی ریکارڈ جو گفتگو کی ، یہ ایسی تھی کہ ہم یہاں اس کا اعادہ مناسب نہیں سمجھتے ( یہ سخت تنقیدی اور غصہ بھرے الفاظ میڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں) یہی الفاظ اگر میڈیا وفاقی وزیر کے بارے میں کہتا تو شائد حکومت والے بہت ہی ناراض ہوتے۔ اطلاعات ہیں کہ دونوں وزیروں کی خانصاحب نے پرسش نہیں کی ہے ۔ خانصاحب نے آج تک ایک بار بھی( آن دی ریکارڈ) پنجاب میں بروئے کار لاتعداد مشیرانِ اطلاعات کی کارکردگی کا حساب نہیں مانگا ہے ۔ اگر یہ حساب لیا جاتا اور قوم کے سامنے اس کا احوال بھی بروقت رکھا جاتا تو شائد میڈیا سے ناراض ہونے کی نوبت بھی نہ آتی ۔نام کیا لینا اور لکھنا، عمران خان کے اس وفاقی وزیر کا نام سب پر عیاں ہے ، جس پر اگلے روز سپریم کورٹ کے عزت مآب چیف جسٹس صاحب خاصے برہم ہُوئے ہیں ۔ اس وزیر کی کارکردگی عدالتِ عظمیٰ کے رُوبرو تھی اور وزیر کے پاس سپریم کورٹ کے اُٹھائے گئے سوالات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ عدالت عظمیٰ کی یہ کارروائی اگر میڈیا والے اخبارات اور ٹی وی میں رپورٹ کرتے ہیں تو حکومت ناراض ہوتی ہے ۔ پھر میڈیا والے اپنے بنیادی فرائض کیسے ادا کریں کہ خانصاحب کی ناراضی سے بھی بچ سکیں اور صدرِ مملکت کے غصے سے بھی؟؟


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.