Latest news

وزیر اعظم عمران خان کے لئے نئی آزمائشوں کے نئے دریا

پہلے تو اپنے اُن بھائیوں ، بہنوں اور بچوں کیلئے دعائے مغفرت جو برفباری ، شدید سردی اور برفانی تودے گرنے کے نتیجے میں اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں ۔ ان کی تعداد 100 سے زائدہو چکی ہے ۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی بخشش فرمائے ۔ آمین ۔برفباری کے یہ ہلاکت خیز طوفان آزاد کشمیر، گلگت ، بلتستان،استور اور بلوچستان میں آئے ہیں ۔ آزاد کشمیر میں وادیِ نیلم اس کا مرکز بتایا گیا ہے جہاں 70سے زائد اموات ہُوئی ہیں ۔ اور بلوچستان کے وہ سات اضلاع جنہیں برفباری نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، ان کے نام یہ ہیں:قلات، مستونگ، کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، زیارت، ہرنائی ، پشین اور قلعہ عبداللہ ۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں متاثرین کی ہر ممکنہ کوشش کررہی ہیں ۔ بلوچستان میں تو ”سنو ایمر جنسی” کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے ۔ کئی علاقوں میں زمینی رابطے کٹ چکے ہیں ۔ایسے میں پاک فوج کے جوان اور افسر ہیلی کاپٹروں کے زریعے سے ریسکیو کا نازک فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔وزیر اعظم اور سپہ سالارِ پاکستان اس بحران سے نمٹنے کیلئے ضروری احکامات بھی جاری کررہے ہیں۔ہم اُمید رکھتے ہیں کہ سنو ایمر جنسی کے نفاذ سے متاثرین کی ہر رُخ سے جلد از جلد دستگیری اور امداد کی جا سکے گی ۔ یہ بھی ایک نئی قسم کی آزمائش خانصاحب کی حکومت کیلئے اُتری ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ عمران خان ہر روز ایک نئے امتحان، ایک نئی آزمائش کا شکار بنتے چلے جا رہے ہیں ۔مثال کے طور پر ایم کیوایم (پاکستان) کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت سے بطورِ اتحادی علیحدگی کا اعلان ۔ ایم کیو ایم (پی) کے وفاقی وزیر آئی ٹی خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔اس نے عمران خان کی حکومت کے ایوان میں زلزلہ برپا کر دیا ہے ۔مستعفی ہونے والے وزیر نے کہا ہے کہ ”ہم سے کئے گئے وعدوں میں سے ایک بھی وعدہ ایفا نہیں کیا گیا۔ پھر ایسی حکومت کا اتحادی بننے کا کیا فائدہ؟ آخر ہم نے کراچی اور حیدرآباد میں اپنے ووٹروں کو بھی کوئی جواب دینا ہے۔”اس استعفے نے پی ٹی آئی حکومت کے تالاب میں پہلا کنکر پھینکا ہے ۔ ابھی ایم کیو ایم پاکستان کی طرف سے حکومت سے جدائی کی خبریں ماند بھی نہیں پڑی تھیں کہ یہ خبریں بھی گردش کرنے لگی ہیں کہ عمران خان کی دوسری بڑی اتحادی جماعت ( پاکستان مسلم لیگ قاف) بھی ناراض ہو گئی ہے ۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی کے کابینہ میں شمولیت نہ اختیار کرنے کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ق) کے وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ نے بھی (15 جنوری کو) وفاقی اجلاس میں شرکت نہ کر کے کابینہ سے راہیں جدا کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے یہ تو تسلیم کیا ہے کہ’ ‘ایم کیو ایم نے کابینہ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے لیکن وہ حکومت کی اتحادی رہے گی’ ‘تاہم مسلم لیگ (ق) کے طارق بشیر چیمہ کابینہ اجلاس میں شامل کیوں نہیں ہوئے، اس حوالے سے معاونِ خصوصی نے خاموشی اختیار کی۔دوسری جانب مسلم لیگ قاف کے انفارمیشن سیکریٹری کامل علی آغا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق بشیر چیمہ کی کابینہ اجلاس سے غیر حاضری کی وجہ بتائی اور کہا کہ ان کی جماعت کے کچھ حقیقی، قانونی اور آئینی مطالبات ہیں جو وزیراعظم عمران خان نظر انداز کررہے ہیں۔کامل علی آغا نے کہا:” مسلم لیگ (ق) کے رہنما مونس الٰہی نے دوہفتے قبل وزیراعظم سے ملاقات کی تھی اور انہیں اپنی جماعت کی شکایات سے آگاہ کیا تھا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ہمیں 10 ماہ قبل ایک وفاقی وزارت کی پیشکش کی گئی تھی لیکن ہم نے اس سے انکار کر کے حکومت سے عوام کے مسائل حل کرنے اور فیصلہ سازی میں مسلم لیگ (ق) کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ہماری ساکھ داؤ پر ہے کیونکہ جب ہم لوگوں سے ملتے ہیں تو مہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانی میں اضافے کے حوالے سے ان کی شکایات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ وزیراعظم کی یقین دہانی کے باجود ہمارے مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا۔لیکن اس کے باوجود مسلم لیگ (ق) حکومت سے اپنی راہیں جدا نہیں کرے گی۔ہم مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے۔”اس ضمن میں وفاقی کابینہ کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ پنجاب میں ترقیاتی فنڈز نہ ملنا بھی مسلم لیگ قاف کی شکایات میں شامل ہے۔ قاف لیگ کے ساتھ ساتھ بلوچستان سے عمران خان کی ایک اتحادی پارٹی کے سربراہ اختر مینگل بھی اپنی ناراضیوں کا اظہار کررہے ہیں اور سندھ سے پیر صاحب پگاڑا بھی گلے شکوے کرتے نظر آ رہے ہیں ۔بحران گمبھیر ہورہا ہے لیکن ان بحرانوں پر اپوزیشن کی طرف سے تبصرہ کرنے سے دانستہ گریز کیا جارہا ہے لیکن اس بارے نون لیگ کی طرف سے سب سے توانا آواز رانا ثناء اللہ کی آئی ہے ۔ باقی نون لیگی قیادت تو بوجوہ خاموش ہی ہے ۔پاکستان مسلم لیگ نون پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ( جو حال ہی میں منشیات کے ایک الزامی کیس میں ضمانت پر ،چھ ماہ بعد، جیل سے باہر آئے ہیں) نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کی جانب سے وزارت سے مستعفی ہونے کے اعلان پر ردِعمل میں کہا ہے :” قومی اسمبلی میں 5 ووٹ کم ہونے سے وزیراعظم کا مینڈیٹ ختم ہوجاتا ہے۔پی ٹی آئی کی ووٹنگ کی صلاحیت اور اپوزیشن میں پاکستان مسلم لیگ نون ، پاکستان پیپلزپارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی تعداد کے برابر ہے۔ باقی جو ووٹ ہیں وہ کسی جگہ 7، کسی جگہ 9 ،کہیں 5 اور کسی جگہ پر 4 ہیں۔پی ٹی آئی کی مجموعی برتری بس 4 ووٹوں کی ہے، یعنی برتری کی شرح 172 ہے ۔ عمران خان صاحب نے جب وزیراعظم کا انتخاب لڑا تھا تو ان کے ووٹ 176 تھے، مجموعی طور پر 5 ووٹ کم ہوں تو ان کا مینڈیٹ ختم ہوجاتا ہے۔ خالد مقبول صدیقی کے حوالے سے یہ جو پیش رفت ہوئی ہے ،اس کو میں پیش رفت تو نہیں کہتا لیکن میں کہتا ہوں کہ اس سمت قدم ہوسکتا ہے۔ اس سمت واقعات اگلے تین سے چھ ماہ کے درمیان ہوں گے تو ان کا یہ آغاز ہوسکتا ہے اور اس سے زیادہ ان کے پاس وقت نہیں ہے۔اگر ان( پی ٹی آئی حکومت) کو اس سے زیادہ وقت دیا گیا تو جس طرح انہوں نے ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کیا ہے، مزید کر دیں گے ۔ انہوں نے عام آدمی کو دو وقت کی روٹی کھانا مشکل بنادیا ہے۔ ہر کاروباری آدمی پریشان ہے ۔ انہوں نے تمام سبسڈی بھی ختم کردی ہے۔اس صورتحال میں ملک بھی پیچھے جارہا ہے اور عام آدمی بھی پریشان ہے۔ ان کے پاس سوائے سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمے بنانے اور ان کو جیلوں میں ڈالنے کے علاوہ کوئی پالیسی نہیں ہے ۔اس طرح ملک نہیں چل سکتا، اس لیے یہ جتنی جلدی ملک و قوم کی جان چھوڑیں، اتنا ہی بہترہے۔”مسلم لیگ نون کی جانب سے حکومت بنانے کی کوشش کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا :”مسلم لیگ نون نے اس طرح کی حکومت کے لیے کبھی سوچا بھی نہیں اور چاہتی بھی نہیں ؛تاہم پاکستان مسلم لیگ نون چاہتی ہے کہ متفقہ رائے سے حکومت بنے اور وہ سب سے پہلے انتخابی اصلاحات کرے جس کے تحت آزاد اور شفاف انتخابات ہوں اور جس میں ووٹ کی عزت ہو۔” حکومت ایم کیو ایم سے صلح صفائی کی کوششیں تو کررہی ہے ۔ عمران خان نے بھی کہا ہے کہ صلح ہو جائے گی اور ایم کیوایم کے تمام مطالبات بھی تسلیم کئے جائیں گے ۔ اُنہوں نے صلح اور منانے کیلئے وفاقی وزیر اسد عمر کو بھی ایم کیو ایم کی طرف بھیجا ۔ اگرچہ اسد عمر فی الحال ناکام ہو گئے ہیں لیکن صلح اور دوستی کی اُمید ہنوذ باقی ہے ۔ اس رُخ پر تبصرہ کرتے ہُوئے رانا ثناء اللہ کہتے ہیں:” حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیںہے۔ کیسے کسی میں صلح کروائیں گے؟ وزیراعظم کا ایم کیو ایم کو منانے کی کوششیں بے سود ہوں گی۔ ایم کیو ایم اگر دوبارہ اتحادی بنے گی تو دوبارہ چلی جائے گی۔”کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی یہ ناراضی کتنے دنوں تک قائم رہے گی ۔ ممکن ہے یہ سطور شائع ہونے تک یہ واپسی ہو بھی جائے کہ اقتدار کے کھیل میں ناراضی یا راضی ہونا ایک ثانوی حقیقت قرار دی جاتی ہے ۔لیکن رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی حکومت میں جس شدید مالی مشکلات اور مہنگائی کا ذکر کیا ہے، وہ اپنی جگہ ایک ٹھوس حقیقت ہے ۔ ہر پاکستانی خانصاحب کی پیدا کردہ گرانی اور مہنگائی سے آنسو بہا رہا ہے ۔ خانصاحب نے 14جنوری کو ایک بار پھر اعلان تو فرمایا ہے کہ ”2020ء عوام کیلئے ریلیف کا سال ہے” مگر اُن کے اس اعلان پر کوئی یقین نہیں کرتا ۔ وجہ یہ ہے کہ پچھلے برس بھی بالکل ایسا ہی لالی پاپ اعلان عمران خان کی طرف سے کیا گیا تھا۔ نتیجہ مگر اس اعلان کے برعکس نکلا۔ریلیف کی بجائے عوام کی کمر مزید مہنگائی کے کارن جھکا دی گئی ۔اب تو عالمی مالیاتی ادارے ”فچ” نے بھی کہہ دیا ہے کہ پاکستان کے مالی حالات بہتر ہونے کی کم کم اُمید ہے ۔یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کو شرحِ نمو کا ٹارگٹ حاصل نہیں ہوگا۔اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے 10ارب روپے ڈوبنے کی اطلاعات ہیں ۔15جنوری2020ء کو ایشیائی بینک نے بھی ایک خصوصی رپورٹ میں کہا ہے کہ ”پاکستان ( عمران خان کی حکومت میں)جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ مہنگائی والا ملک بن چکا ہے۔بھارت میں شرحِ مہنگائی 4.1فیصد، بنگلہ دیش میں 5.5فیصد اور پاکستان میں 7.7فیصد ہے۔”ایسی رپورٹوں کی موجودگی میں عمران خان کے مذکورہ بالا بیان پر کون صدقِ دل سے یقین کرے گا؟عمران خان نے لوگوں کے دل بھی توڑ ڈالے ہیں اور اُمیدیں بھی ۔ عوام کو ریلیف دینے کی بجائے نئے سے نئے عذاب دئیے جا رہے ہیں ۔ اسمبلی اور سینیٹ کے فلورز پر وہ فیصلے کرکے کسی کو خوش تو کررہے لیکن عوام کو خود سے دُور کررہے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ جناب عمران خان کے” عظیم الشان دَور” کے اوّلین پندرہ جمہوری مہینوں میں دو فیصلے ایسے آئے ہیں جنہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کا اصل مرکز، منبع اور مخرج کہاں ہے !ہمیں یقین ہے کہ وزیر اعظم کو بھی یقین آگیا ہوگا۔ پہلے جمہوری فیصلے کے نتیجے میں آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں تین سال کا اضافہ لیگلائز اور آئینی قرار دیا جا چکا ہے ۔ اس فیصلے میں اُن ”جمہوری” سیاستدانوں نے بھی دل اور ذہن کھول کر اپنا حصہ اور ووٹ ڈالا جو ہمیشہ اس کے برعکس اعلانات کرتے اور بیانات دیتے رہے تھے لیکن مبینہ کرپشن کے دباؤ نے اُن کے سر اور ضمیر جھکا دئیے ۔ دوسرا فیصلہ 13جنوری 2020ء کو سامنے آیا ہے ۔ اس کے تحت لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر اور آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف غداری مقدمے کا فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل ہی کالعدم قرار دے دی ہے ۔ چند ہفتے قبل خصوصی عدالت نے غداری مقدمے میں پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی تھی ۔ فیصلے کے بعد یہ خبر آئی تھی کہ جنرل (ر) پرویزمشرف مبینہ طور پر ”شدید ” بیمار ہیں ۔ بسترِ علالت پر بیچارگی سے پڑے اُن کی ویڈیو خبریں بھی ہمارے میڈیا پر چلائی گئیں اور ایک جذبہ ترحم پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔ اب تازہ فیصلے کے بعد( جس میں پرویز مشرف کے خلاف سزا سنانے والی خصوصی عدالت کو کالعدم قرار دیا گیا ہے) خبریں آئی ہیں کہ مشرف صاحب ”تیزی” سے رُوبہ صحت ہورہے ہیں ۔ ماشاء اللہ ۔ ہماری بھی دعا ہے کہ جنرل(ر) پرویز مشرف کو اللہ تعالیٰ صحتِ کاملہ و عاجلہ سے نوازے کہ ہم بھی پرویز مشرف صاحب کے عشاق میں شامل ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز مشرف اور نواز شریف کی بیماریوں اور صحتیابی میں خاصی باتیں مشترک دیکھی گئی ہیں ۔ مثال کے طور پر : جب جناب نواز شریف لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے تو اُن کی بیماری ( پلیٹلیٹس میں مبینہ شدید کمی ) عروج پر تھی ۔ جونہی اُنہیں جیل سے سروسز (لاہور) ہسپتال منتقل کیا گیا، بیماری میں کچھ کمی کی خبریں آنے لگیں ۔ پھر اُنہیں عدالت سے ضمانت ملی اور وہ گھر والے ہسپتال میں منتقل کئے گئے تو بیماری میں مزید افاقے کی خبریں آئیں ۔ اور پھر حکومتی محبت اور تعاون سے میاں صاحب کو لندن جانے ( بغرضِ علاج)کی چھٹی مل گئی تو اُن کی مبینہ بیماری میں روز بروز افاقہ سامنے آنے لگا ۔ اور اب تو لندن سے یہ خبریں بھی تصویروں کے ساتھ شائع ہوئی ہیں کہ میاں محمد نواز شریف صاحب اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ لندن کے ایک مہنگے ریستوران میں کھانے کھا رہے ہیں ۔ اس تصویر کی اشاعت پر حکومتی وزیر ، فواد چودھری ، نے ایک ”شرارتی” ٹویٹ بھی کی ہے جس پر نون لیگ کے کچھ خاص لوگ خاصے سٹپٹائے ہیں ۔ نواز شریف کی یہ فوٹو بڑی وائرل ہُوئی ہے ۔ اسی کی بنیاد پر پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف لندن کے ریستوان کی ہوا سے علاج کروانے گئے ہیں اور ساتھ ہی طنز کرتے ہُوئے یہ بھی کہا ہے :” مریم نواز اب لندن جا کر کیفے ٹیریا میں بیٹھ کر اپنے والد صاحب کی عیادت کرنا چاہتی ہیں؟” اس کے ساتھ ہی اس فوٹو کے نتیجے میں مبینہ طور پر پنجاب حکومت نے نواز شریف اور اُن کے ذمہ داران سے میاں صاحب کی میڈیکل رپورٹس بھی مانگ لی ہیں ۔ شنید ہے کہ اگر شریف خاندان نے یہ رپورٹیں نہ دیں تو ”ایکشن” ہوگا۔ لیکن ایکشن کیا ہوگا؟ یہ نہیں بتایا گیا۔ عوام یہ سب ڈرامے دیکھ رہے ہیں اور زہریلی سی ہنسی ہنس کر رہ جاتے ہیں ۔ میاں نواز شریف کی بیماری کی طرح ، جونہی جنرل (ر) پرویز مشرف کے حق میں فیصلہ آیا ہے اور بظاہر اُن کے خلاف سنایا جانے والا (سزائے موت)کا فیصلہ بھی ختم ہورہا ہے، جنرل صاحب کے مسکرانے اور بیماری کے کم ہونے کی خبریں بھی گردش کرنے لگی ہیں ۔ جنرل (ر) پرویزمشرف کے حق میں آنے والے فیصلے پر سب سے دلکش اور معنی خیزتبصرہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کیا ہے ۔ اُنہوں نے ہسپتال سے ڈسچارج ہو کر باہر نکلتے ہُوئے (کہ اسمبلی سیشن میں شریک ہو سکیں)کہا:” پرویزمشرف کے حق میں آنے والا فیصلہ بڑا مفید ہے ۔ مشرف صاحب جیل آنے سے بچ گئے ہیں۔ اب اگر (خدانخواستہ)آئندہ بھی کوئی آئین سسپنڈ کرے گا تو اُسے سہولت ہوگی۔” جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا گیا ہے ، یہ دونوں فیصلے ایک بار پھر واضح کر گئے ہیں کہ وطنِ عزیز میں طاقت کا مرکز کہاں ہے ؟ اس کا مظاہرہ ہم نے حال ہی میں بھی دیکھا ہے : جس روز امریکہ نے بغداد میں ڈرون حملے کے ذریعے ایرانی جنگو مشہور کمانڈر ( قاسم سلیمانی ) کو قتل کیا تو ساری دُنیا ، بالخصوص اسلامی دُنیا اور مشرقِ وسطیٰ ، میں ایک نئے اور خطرناک بحران نے گھنٹیاں بجا دیں ۔ اس سے نمٹنے کیلئے امریکی وزیر خارجہ ( مسٹر پومپیو) نے دُنیا کے کئی اہم وزرائے خارجہ کو براہِ راست فون کرکے اپنی حمائت لینے کی کوشش کی ۔ مسٹر پومپیو نے اس سلسلے میں جرمنی ، چینی اور برطانوی وزرائے خارجہ کو فون کیا لیکن پاکستان میں اُس نے نہ تو وزیر اعظم عمران خان کو فون کیا اور نہ ہی ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ، بلکہ امریکی وزیر خارجہ نے براہِ راست سپہ سالارِ پاکستان کو فون کیا اور ضروری معاملات ڈسکس کئے ۔ یہ منظر ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کیلئے خوش کن نہیں ہے۔امریکی وزیر خارجہ کی طرف سے ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کو جس طرح نظر انداز کیا گیاہے ، اس روئیے کو کس طرح برداشت کیا گیا ہے، ہمیں نہیں معلوم لیکن اتنا بہرحال کہا جا سکتا ہے کہ یہ عنوانات اور آثار عمران خان کی منتخب حکومت کیلئے اچھے نہیں ہیں ۔ خانصاحب کا المیہ کھل کر یہ سامنے آیا ہے کہ اندرونِ ملک و بیرونِ ملک اُنہیں جتنے بھی چیلنجوں کا سامنا ہے، کسی سے بھی وہ موثر طور پر نمٹ نہیں پارہے ۔ اور ملک کے اندر اُن کی پارٹی کے ارکان اور وزرا کا حال یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کئی سیاسی اخلاقی حدود کو پامال کررہے ہیں ۔ مثال کے طور پر اِسی ہفتے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کا ایک نجی ٹی وی پروگرام میں میز پر فوجی بوٹ رکھ کر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت پر تبرّا کہنا۔ عمران خان کے اس وزیر کی اس بیہودگی کی گونج سارے ملک میں سنائی دی گئی ہے ۔ یہ اخلاقی دیوالیہ پَن کی تازہ ترین مثال ہے ۔ فیصل واوڈا نے فوجی بوٹ میز پر رکھ کر اپنے تئیں اپنی حریف سیاسی جماعتوں کا ٹھٹھہ اُڑایا ہے لیکن فی الحقیقت اُنہوں نے ملکی ادارے کو بدنام کرنے کی ایک گھناؤنی حرکت کا ارتکاب کیا ہے ۔ ایسے ہی حکومتی لوگوں نے وزیر اعظم کو آزمائشوں میں ڈال رکھا ہے۔ کیا وزیر اعظم عمران خان اپنے اس وزیر سے بازپرس کریں گے؟خبر یہ تو آئی ہے کہ وزیر اعظم صاحب نے فیصل واوڈا پر پابندی عائد کی ہے کہ وہ دو ہفتوں تک کسی بھی ٹی وی ٹاک شو میں شریک نہیں ہوں گے لیکن خود وزیر اعظم کی طرف سے اپنے اس وزیر کی مذمت بارے کوئی بیان سامنے نہیںآیا اور نہ ہی ایسی کوئی خبر میڈیا میں آئی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے فیصل واوڈا پر ناراضی کا اظہار کیا ہے ۔یہ امر سب کیلئے باعثِ تشویش ہے ۔ اور یہ خبر تو مزید باعثِ تشویش بنی ہے کہ جس اینکر کے شو میں واوڈا نے یہ حرکت کی ، پیمرا نے اُس پر تو دو ماہ کی پابندی عائد کر دی اور مسٹر واوڈا پر صرف دو ماہ کی قدغن ۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے ؟


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.