Latest news

مولانا فضل الرحمن کا پلان بی اور نواز شریف پر بانڈ کی شرط : تلخیوں کی نئی داستان

وطنِ عزیز کی معیشت ، سماج اور سیاست میں کئی تلخیاں گھل گئی ہیں ۔پی ٹی آئی کو برسرِ اقتدار آئے ڈیڑھ سال ہونے کو ہے مگر حالات سنبھلنے اور سلجھنے کی بجائے مزید بگڑ بھی رہے ہیں اور اُلجھ بھی رہے ہیں ۔اس گاڑ اور اُلجھاؤ کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہونے کے باوجود حکومت عوام کو مطمئن کر پارہی ہے نہ معیشت کسی کنارے لگ رہی ہے ۔ اور سیاست کی دُنیا میں اتنی ہڑبونگ اور افراتفری مچی ہُوئی ہے کہ ملک بھر میں انتشار اور بے جہتی ہی سکہ رائج الوقت بن کر رہ گئے ہیں ۔ کہا تو یہ جاتا رہا ہے کہ اگر پاکستان میں منتخب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی صفحے پر ہوں تو ستّے خیراں ہوتی ہیں اور ملکی سیاست و معیشت کو قرار بھی آتا ہے اور اس میں بہتری و ترقی کے امکانات روشن تر ہو جاتے ہیں ۔ یہ تجربہ بھی اس بار کرکے دیکھ لیا گیا ہے ۔ عمران خان کی حکومت کو ہیتِ مقتدرہ کی طرف سے ہر قسم کی حمائت اور اعانت حاصل ہے لیکن مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے ۔ اب تک تو صورتحال ایسی ہی ہے ۔ مستقبل قریب میں بہتری آ سکے تو وہ علیحدہ بات ہے ۔کیا اس کے ذمے دار جناب عمران خان ہیں جو حکمت اور تدبّر سے حالات کو سنبھالا نہیں دے سکے ہیں ؟ یا اُن کے اندازِ حکومت میں کہیں کوئی نقص ہے کہ بات آگے بڑھتی نظر نہیں آ رہی ۔ عوام نے اُن پر اپنی محبتوں اور تعاون کی بارشیں برسا کر جتنی توقعات وابستہ کر لی تھیں ، توقعات کے یہ محلات مسمار اور زمین بوس ہوتے محسوس ہو رہے ہیں ۔ ملکی میڈیا کی ناک موجودہ حکومت نے اس شدت اور حدت سے رگڑی ہے کہ میڈیا اور حکومت کے درمیان ایک واضح خلیج جنم لے چکی ہے ۔ بد قسمتی کی بات مزید یہ بھی ہے کہ حکومت کے میڈیا مینیجرز کو اس نقصان کا احساس تک نہیں ہے ؛ چنانچہ اس کے نتائج جو بھی نکل سکتے تھے ، نکل رہے ہیں اور ہر کوئی یہ مناظر دیکھ بھی رہا ہے ۔ شومئی قسمت سے وزیر اعظم نے حال ہی میں اپنے ایک خطاب میں میڈیا کے ایک حصے کو ”مافیا” کے لقب سے یا دفرمایا ہے لیکن اُنہوں نے اس کی نشاندہی نہیں کی ۔ اگر وہ ایسا کر دیتے تو اُن کی مہربانی بھی ہوتی اور بات بھی واضح ہوجاتی لیکن اُن کے الزام سے جو ابہام پیدا ہُوا ہے ، یہ ہم سب کیلئے مناسب نہیں ہے ۔ یہ مزید بحرانوں کا عنوان بن سکتا ہے ۔ پہلے ہی حکومت متنوع بحرانوں کی زَد میں ہے ؛ چنانچہ اُسے نئے بحران پیدا کرنے سے اعراض برتنا چاہئے ۔ حال ہی میں پیدا ہونے والے مولانا فضل الرحمن کے احتجاجی اورآزادی مارچ کے بحران نے ویسے بھی حکومت کو نڈھال کررکھا ہے ۔ یہ” آزادی مارچ” وفاقی دارالحکومت میں دو ہفتے تک پڑاؤ ڈالے رہا ۔ اس میں اگرچہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی شرکت کی لیکن اس کا بڑا حصہ صرف اور صرف جے یو آئی (ایف) ہی پر مشتمل تھا ۔ یوں یہ صرف مولانا فضل الرحمن کا نجی شو بن گیا تھا اور اُنہی کی سولو فلائیٹ جاری رہی لیکن اُنہوں نے کمال ہو شیاری سے یہ تاثر قائم کئے رکھا کہ اس مارچ میں تمام اپوزیشن شامل ہے ۔ مولانا صاحب کے نام نہاد آزادی مارچ کے یہ جو دو ہفتے اسلام آباد میں گزرے ہیں ، یہ اہلِ اسلام آباد کیلئے قیامت سے کم نہیں تھے ۔ یہ حکومت اور اسلام آباد انتظامیہ کے اعصاب پر ایک بوجھ بھی تھا اور سماجی اعتبار سے نہائت نقصان دِہ بھی۔ حکومت نے اچھا کیا کہ احتجاج کنندگان سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی اور یوں کوئی تصادم بھی نہ ہُوا ۔ البتہ مولانا فضل الرحمن جو لہجہ اختیار کئے ہُوئے تھے ، اور اُنہوں نے اپنے خطابات اور میڈیا انٹرویوز میں جو اسلوب اختیار کر لیا تھا ، وہ خائف کر دینے والا تھا ۔ ہمارا کوئی بھی ذمہ دار ادارہ اس لہجے سے ناآشنا اور ناواقف نہیں تھا ؛ چنانچہ بعض حساس اطراف سے اس بارے تشویشات کا اظہار بھی کیا گیا لیکن نہائت محتاط اسلوب میں ۔ سب مگر حیران تھے کہ ایک لاکھ سے زائد کے اس احتجاجی اجتماع کے بھاری اخراجات کون برداشت کررہا ہے ؟ اب انکشاف ہُوا ہے کہ اس دھرنے یا احتجاج کیلئے مولانا موصوف کی جماعت نے ایک ارب دس کروڑ روپے کے فنڈز اکٹھے کئے تھے ۔ اس فنڈ میں جے یوآئی (ایف) کے اپنے 35لاکھ رجسٹرڈ ارکان نے کم از کم ڈھائی سو روپے فی شخص چندہ جمع کروایا تھا ۔ جے یوآئی (ایف) سے وابستہ چند دولتمند تاجروں اور سینیٹر حضرات نے بھی کروڑوں روپیہ مبینہ طور پر مولانا صاحب کی خدمت میں پیش کیا ۔ یہ شائد اِنہی بھاری فنڈز کا کمال تھا کہ مولانا کے چودہ روزہ دھرنے کے دوران حاضرین اور شرکت کنندگان کو خورونوش کی کوئی کمی محسوس نہیں ہُوئی اور نہ ہی رہائش کے مسائل پیدا ہُوئے ۔ مولانا موصوف کے انٹرویوز اور خطابات سے لگتا تو یہی تھا کہ وہ ابھی مزید بیٹھیں گے اور وزیر اعظم کے استعفے کے بغیر اسلام آ باد سے ٹلیں گے نہیں لیکن 13انومبر کی شام اُنہوں نے اچانک دھرنے کی بساط لپیٹنے کا اعلان کر دیا ۔ اور ساتھ یہ بھی کہا:” کوئی یہ نہ سوچے کہ ہم خالی ہاتھ جا رہے ہیں اور ہمیں استعفیٰ نہیں ملا ہے ۔ ہم نے بہت کچھ حاصل کرلیا ہے ۔ہم نے شاخیں کاٹ دی ہیں اور اب تنا کاٹنا باقی ہے ، اسلئے اب ہمارا پلان بی شروع ہوگا ۔ ہم ملک بھر کی اہم شاہراہیں بند کرکے حقیقی لاک ڈاؤن کریں گے ، تاآنکہ اس حکومت سے ملک وقوم کو چھٹکارا نہ مل جائے ۔”حکومت نے تالیاں تو خوب بجائیں کہ مولانا کا دھرنا بھی ختم ہو گیا ہے اور وہ ناکام بھی واپس جا رہے ہیں لیکن شائد حکومت یہ نہیں جانتی تھی کہ مولانا صاحب کا پلان بی اُن کے دھرنے سے زیادہ نقصان دِہ ثابت ہوگا ۔ مولانا نے جو کہا تھا، اُس پر عمل بھی کرکے دکھا دیا ہے ۔ اُن کے اعلان کے دوسرے روز ہی جے یو آئی (ایف) کے کارکنوں کی طرف سے ملک کی کئی اہم شاہراہیں بند کر دی گئیں ۔اسلام آباد میں 26نمبر چونگی بند کرکے دراصل راولپنڈی کو پشاور سے بھی کاٹ دیا گیا اور اسلام آباد کے نئے ائر پورٹ کی جانب جانے والے راستے بھی مسدود کر دئیے گئے اور اِسی جگہ کے بند ہونے سے اسلام آباد سے لاہور ، فیصل آباد ، ملتان اور سرگودھا وغیرہ کو جانے والی موٹر وے مقفل ہو کر رہ گئی ۔ مسافر اور ٹرانسپورٹرز ذلیل و خوار ہونے لگے تھے ۔ انڈس ہائی وے، شاہراہِ ریشم،کوئٹہ کراچی ، کے پی کے ، سکھر ، گھوٹکی وغیرہ کی اہم ترین شاہراہیں بند ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں ۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ خاصا وائرل ہُوا ہے ۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے کارکنوں کی طرف سے سڑک بند کرنے پر ایک مریض شخص کا بیٹا گزارش کررہا ہے کہ سڑک کو تھوڑی دیر کیلئے کھول دیں تاکہ وہ اپنے والد صاحب کو ہسپتال لے جائے لیکن جے یو آئی (ایف) کے ایک قائد مفتی کفائت اللہ اُس شخص کو دھکے مار کر وہاں سے ہٹا رہے ہیں ۔ اس طرح کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن کی وجہ سے عوام میں مولانا فضل الرحمن اور اُن کی پارٹی کے خلاف سخت طیش پایا جارہا ہے ۔ اس پلان بی کے تحت مولانا کے وابستگان نے عوام کا دل بھی دکھانا شروع کر دیا ہے اور یہ دراصل مولانا کی وعدہ شکنی ہے ۔ وہ عوام سے وعدہ کر چکے ہیں کہ اُنکے احتجاج سے عوام کو مسئلہ نہیں ہوگا ۔ لوگ پریشان ہیں کہ اگر یہ پلان ٹو بھی ناکامی سے دوچار ہو گیا تو کیا اس کے بعد جے یو آئی والے کوئی پلان تھری لے آئیں گے؟ گویا عوام اور ملک کیلئے مستقل درد سری !! مولانا کی جماعت اور وابستگان نے اب جو لائحہ عمل اختیار کیا ہے ، اِس سے نمٹنا صوبائی حکومتوں کا کام ہے ۔ پنجاب نے اگرچہ کہا تو یہ تھا کہ ہم نے مولانا کے پلان بی کو ناکام بنانے کی حکمتِ عمل تیار کر لی ہے لیکن پہلے دن حکومتِ پنجاب جس بُری طرح ناکام ہُوئی ہے ، یہ تو کوئی اور ہی کہانی سناتی ہے ۔ قانون کے نفاز اور شہریوں کے سفر کو رواں دواں اور محفوظ رکھنے کیلئے لازم ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار مناسب ترین حکمتِ عملی اختیار کریں ، صرف بیانات پر خود کو محدود کر کے نہ رکھیں ۔ اور جیسا کہ ہم نے کالم کے ابتدا میں لکھا ہے کہ ہماری سیاست میں تلخی کا عنصر نمایاں ہو چکا ہے ، اسلئے مولانا کے تازہ حربوں سے نمٹتے ہُوئے صوبائی حکومتوں کو کوشش کرنا ہوگی کہ پہلے سے موجود تلخی میں مزید اضافہ نہ ہونے پائے ، ورنہ حالات میں مزید بگاڑ آنے کے شدید خدشات بہرحال موجود ہیں ۔ اس ممکنہ بگاڑ سے حکومت کے سیاسی بدخواہ فائدے اُٹھا سکتے ہیں ۔ نواز شریف کی بغرضِ علاج بیرونِ ملک جانے کا معاملہ بھی جس طرح لٹکا دیا گیا ہے ،اس نے بھی تلخیوں میں اضافہ کیا ہے ؛چنانچہ شہباز شریف کے مصالحت پسند لہجے میں بھی کڑتّن در آئی ہے ۔ نون لیگ کے تاحیات قائد اور تین بار وزیر اعظم رہنے والے ( لیکن اب عدالت سے سزا یافتہ مجرم)بیمار نواز شریف کو حکومت کی طرف سے تو ویسے اجازت مل گئی تھی کہ وہ بیرونِ ملک جا سکتے ہیں لیکن پھر اچانک یہ شرط عائد کر دی گئی کہ اُنہیں بیرونِ ملک جانے سے قبل ( اور ای سی ایل سے نام نکلوانے کیلئے ) 80لاکھ پاؤنڈز، ڈھائی کروڑڈالرز اور ڈیڑھ ارب روپے مالیت کا بانڈ بطورِ زرِ ضمانت حکومت کے پاس جمع کروانا ہوگا ۔ یہ شرط نواز شریف اور اُن کی فیملی کیلئے ( فی الحال) ناقابلِ قبول ہے، اسلئے اُس نے انکار کر دیا ۔ یوں معاملہ سلجھتا سلجھتا مزید اُلجھ گیا ۔ مبینہ طور پر وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیر اعظم کے ایک مشیر شہزاد اکبر یہ بانڈ بھروانے پر مُصر ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے معروف قانون دان اور سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے اس معاملے پر کہا ہے کہ فروغ نسیم نجانے ماورائے عدالت یہ شرط کہاں سے اُٹھا لائے ہیں؟ عمران خان حکومت کو شائد خدشہ ہے کہ نواز شریف ایک بار باہر نکل گئے تو واپس نہیں آئیں گے ۔ اور اگر ایسا ہُوا تو پی ٹی آئی کی حکومت کم از کم اپنی فیس سیونگ کرنے کی غرض سے اپنے ووٹروں کو یہ تو کہہ سکے گی کہ ہم نے نواز شریف سے یہ بھاری رقم تو وصول کر لی ہے ۔ عجب کشا کش کا عالم ہے ۔ نون لیگ کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب سمیت دیگر نون لیگی قائدین کا کہنا ہے کہ حکومت یہ شرط عائد کرکے دراصل ایک خطرناک کھیل کھیل رہی ہے ۔شہباز شریف کہتے ہیں:” یہ انڈیمنٹی بانڈ نہیں بلکہ تاوان ہے ۔”اس پر وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ترکی بہ ترکی کہتی ہیں:” تاوان اغوا کار طلب کرتے ہیں ۔ ہم سہولت کار نہیں ۔ نواز شریف نے ملک کو گروی رکھا تھا تو کیا وہ اپنے مفاد میں اور ایک قانونی تقاضا پورا کرنے کیلئے اپنی جائیداد گروی نہیں رکھ سکتے ؟اور اگر عدالت اُنہیں اس معاملے میں ریلیف دیتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔” چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عدالت نے اس معاملے میں جمعہ بتاریخ 15نومبر کو سماعت شروع کر دی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ حکومت نے بانڈ والی یہ شرط کیوں عائد کی ہے؟ حکومت اس سوال کے جواب میں کئی بیانات دے رہی ہے :(١) آج تک کوئی بھی سزا یافتہ مجرم محض علاج کی غرض سے بیرونِ ملک نہیں بھیجا گیا ہے (٢) اسلئے یہ شرط عائد کرنا بنیادی قانونی تقاضا ہے (٣) نواز شریف اور شہباز شریف کے ملزم بیٹے ملک سے نکل کر جس طرح برطانیہ میں پناہ گیر ہیں اور عدالتوں کو مطلوب ہونے کے باوجود واپس نہیں آرہے ، اسلئے اس خدشے کے پیشِ نظر نواز شریف پر یہ شرط لگائی گئی ہے ۔ ویسے دیکھا جائے تو جس طرح نواز شریف کے دونوں صاحبزادگان اور شہباز شریف کے ایک صاحبزادے لندن سے واپس نہیں آ رہے ، ان مثالوں نے بھی نواز شریف کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی ہیں کہ اعتماد اور اعتبار کو پہلے ہی دھچکا پہنچ چکا ہے ۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف کی صحت روز بروز گرتی جا رہی ہے ، اسلئے انسانی ہمدردی کے تحت اُنہیں بغرضِ علاج بیرونِ ملک جانے کی کھلی اجازت ملنی چاہئے ۔ اس معاملے میں گجرات کے چودھری برادران کا مصالحانہ کردار بھی سامنے آیا ہے اور وہ یہ کہ وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ دل بڑا کریں اورنواز شریف کو بغیر کسی بانڈ بھروائی کے باہر جانے دیں۔ چودھری شجاعت حسین نے تو یہ بھی کہا ہے کہ نواز شریف کو کوئی نقصان پہنچنے سے پہلے یہ اجازت ملنی چاہئے ۔ اُنہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ نواز شریف کے بیرونِ ملک جانے کے فیصلے میں کچھ لوگ مینگنیاں ڈال رہے ہیں ۔لیکن یہ ”کچھ لوگ” کون ہیں ، اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا ۔ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چودھری پرویز الٰہی بھی چودھری شجاعت حسین والا موقف رکھتے ہیں لیکن جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں ( بروز جمعہ بتاریخ 15نومبر) اس وقت تک نواز شریف کو حکومت کی طرف سے کوئی آزادانہ ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکا ہے ۔ ممکنہ ہے یہ کالم شائع ہونے تک نواز شریف اپنی کسی نئی منزل کی جانب روانہ بھی ہو چکے ہوں لیکن فی الحال شریف فیملی کیلئے اندھیرا ہے ۔ وہ حکومتی شرط کے سامنے جھکنے اور تقریباً سات ارب روپے کا بانڈ بھرنے پر تیار نہیں ہے ۔ یوں یہ خبر اور تلخ معاملہ سارے ملک کے اعصاب پر ایک بھاری بھر کم آسیب کی طرح چھایا ہُوا ہے ۔ آگے بڑھنے اور اس بند گلی سے باہر نکلنے کے راستے گویا مسدود ہو کر رہ گئے ہیں ۔ معاملے کے سبھی فریق اپنے اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کیلئے اپنے اپنے محاذوں پر ڈٹے ہُوئے ہیں اور اپنے اپنے پتّے کھیل رہے ہیں ۔ یوں صورتحال خاصی گمبھیر اور سنگین ہو گئی ہے ۔ یہ گمبھیرتا ملکی معیشت کو سخت نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہے ۔ حکمران طبقات تو اعلیٰ سرکاری مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں لیکن بیچارے بے نوا عوام اس تصادم میں پِسے جا رہے ہیں، بالکل اُسی طرح جیسے دو ہاتھیوں کے تصادم میں بیچاری گھاس پِس کر رہ جاتی ہے ۔ بے کس عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے ۔ وہ تو ٹک ٹک دیدم ، دَم نہ کشیدم کی عملی تصویر بن کر رہ گئے ہیں ۔یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ پاکستان کے دو بیمار اور اسیر سیاستدانوں کی وجہ سے سارا ملک متنوع رکاوٹوں کا شکار بن کر رہ گیا ہے ۔ ہر طرف نواز شریف اور آصف زرداری پر عائد تہمتوں اور سزاؤں کا غلغلہ بلند ہے ۔ ہر گلی ، ہر محلّے ، ہر دفتر، شہر اور دیہاتوں میں یہی موضوع زیر بحث ہے ۔ ملک کہاں جارہا ہے ، سماجی ترقی کیوں رک گئی ہے ، شرحِ خواندگی کم کیوں ہو گئی ہے ، ادویات کی قیمتیں آسمانوں سے کیوں جا لگی ہیں ، حکومت وعدے کے مطابق پچاس لاکھ نوکریاں دینے سے کیوں مُکر رہی ہے ، روپے کی قیمت زمین سے کیوں جا لگی ہے ، مہنگائی کا گراف ہر روز بڑھ کر عوام کی کمر کیوں توڑ رہا ہے ، سردیوں کی آمد کے باوجود بجلی کی قیمتیں کس بنیاد پر بڑھا دی گئی ہیں؟ ان سوالوں کے جواب دینے کیلئے حکومت اور وزیر اعظم کے پاس وقت نہیں ہے ۔ پورا ملک عجب گورکھ دھندے کا شکار بنا دیا گیا ہے ، حتیٰ کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت اور بھارتی ہم پر استہزائیہ انداز میں ہنس رہے ہیں ۔ اور ہمارے مقتدرین ہر قسم کی فکر سے آزاد ہو کر نہ معلوم منزلوں کی جانب بگٹٹ بھاگ رہے ہیں ۔ یہ صورتحال دیکھ کر عالمِ ارواح میں  بانیانِ پاکستان بھی ہمارے حکمرانوں پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتے ہوں گے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.