اہم خبرِیں

لندن میں” بھی چَین نہ پایا تو(پھر) کدھر جائیں گے ؟”

باقی سیاسی باتیں تو بعد میں کی جائیں گی مگر سب سے پہلے تو ہم اُس قیامت کا ذکر کریں گے جو11دسمبر کو لاہور کے ایک حساس ہسپتال پر ٹوٹی ہے ۔ یہ بدقسمت اور ہدف بنایا گیا ہسپتال ہمارے روزنامہ ”طاقت” اور ہفت روزہ ” عزم” کے نزدیک ہی پڑتا ہے ؛ چنانچہ اس کی حدت اور شدت کے ہم عینی شاہد بھی ہیں۔11دسمبر کے روزوہاں جس جانکاہ سانحہ نے جنم لیا ، اس کی بازگشت پورے ملک ہی میں نہیں ،ساری مہذب دُنیا میں سنائی دی گئی ہے ۔یہ ہسپتال ”پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی” یا پی آئی سی کہلاتا ہے ۔ یہ پنجاب ، بلوچستان اور کے پی کے کا سب سے بڑا دل کا ہسپتال ہے جہاں امراضِ قلب کی شفا یابی کیلئے وطنِ عزیز کے مذکورہ تینوں صوبوں سے لوگ جوق در جوق آتے ہیں ۔ گیارہ دسمبر کو لاہور کے وکیلوں کے ایک غصیلے جتھے نے پی آئی سی پر حملہ کر دیا ۔ ڈاکٹروں پر بے پناہ تشدد کیا، زیر علاج مریضوں اور اُن کے لواحقین کی بھی پٹائی کی،گاڑیوں کو تہس نہس کر دیا اوروزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو بھی وحشت کا نشانہ بنایا گیا ۔اس قیامت میں مگر پنجاب پولیس پُراسرار انداز میں خاموش تماشائی بنی رہی ۔ حتیٰ کہ وہ اپنے وزیر کی بھی کوئی مدد نہ کر سکی ۔وحشی وکیلوں کا پی آئی سی پر یہ حملہ اتنا شدید اور اندھا دھند تھا کہ اس دوران کئی زیر علاج دل کے مریض جاں بحق ہو گئے لیکن ان سطور کی اشاعت تک قاتلوں کے خلاف کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی ہے ، اگرچہ پنجاب حکومت کی طرف سے بلند بانگ دعوے تو بہت کئے گئے ہیں ۔ ہم دل کی گہرائیوں سے وکیلوں کی اس غلیظ اور غیر انسانی حرکت کی مذمت کرتے ہیں۔ کچھ دن قبل چند وکیلوں اور پی آئی سی کے چند ڈاکٹروں کے درمیان تلخی ہُوئی تھی لیکن ڈاکٹروں نے اس پر وکیلوں سے معافی مانگ لی تھی ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹروں سے بدلہ لینے کیلئے وکیلوں نے سارے ہسپتال پر حملہ کر دیا اور ڈاکٹروں و مریضوں کو یرغمال بھی بنائے رکھا۔اس حملے کے دوران پنجاب حکومت ، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ، وزیر قانون پنجاب اور پنجاب پولیس جس بُری طرح ناکام ہُوئی ہے ، اس نے سارے پاکستان اور پنجاب کے سارے عوام کو سخت مایوس کیا ہے ۔حیرانی کی بات ہے کہ اس قیامت خیز سانحہ کے بعد پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت، وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اور وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے جو اکٹھی پریس کانفرنس کی ، وہ انتہائی پھس پھسی اور بد دلی کا شاہکار تھی۔ اس میں تینوں وزیروں نے مجرمان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے کسی عزمِ صمیم کا ذکر تک نہ کیا۔وزیر اعظم صاحب کی طرف سے بھی بس یہ خبر آئی کہ واقعہ کا نوٹس لے لیا گیا ہے لیکن افسوس کہ جناب عمران خان نے اپنے ”وسیم پلس” سے ابھی تک اس بارے کوئی باز پرس نہیں کی ہے ۔ بادلِ نخواستہ 12 دسمبر کولاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہنگامہ آرائی، فساد، خون ریزی اور توڑ پھوڑ میں ملوث ملزم وکلا میں سے 46 کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے 52 وکلا میں سے 46 کو انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج عبدالقیوم کے روبرو پیش کیا گیا تھا جہاں وکلا کے چہروں پر نقاب پہنائے گئے تھے۔پولیس نے ملزمان سے تفتیش کے لیے ان کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا بھی کی۔تاہم ملزمان کے وکلا نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور کہا کہ پولیس نے وکلا کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے، لہٰذا تمام وکلا کا میڈیکل کرایا جائے۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔سماعت کے دوران ملزم وکلا میں سے 8 نے اپنی ضمانتوں کی درخواستیں بھی دائر کی۔قبل ازیں لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مبینہ طور پر ڈاکٹروں اور عملے کو تشدد کا نشانہ بنانے، ہسپتال کی املاک اور پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے پر 250 سے زائد وکلا کے خلاف 2 ایف آئی آر درج کی گئی تھیں، جبکہ وکلا کے خلاف کارروائی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کردی گئی ہے۔ اس تصویر کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وزیر اعظم کے بھانجے وکیل ( بیرسٹر حسان نیازی) کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے ۔ حالانکہ پی آئی سی پر ظالم وکلا کے حملے میں بیرسٹر حسان نیازی بھی واضح طور پر بڑھ چڑھ کر فساد برپا کرتا اور اشتعال انگیز نعرے لگاتا نظر آ رہا ہے ۔ جن مشتعل وکیلوں نے پی آئی سی کے باہر کھڑی پولیس وین کو نذرِ آتش کیا، حسان نیازی سرکاری سی سی ٹی وی کیمروں میں اُن غیر قانونی حرکات میں بھی حصہ لیتا صاف دکھائی دیتا ہے ۔ ساری دُنیا نے اُسے یہ’ مہمات ‘ انجام دیتے دیکھا ہے ۔ اِسی شخص نے پی آئی سی پر حملے سے قبل وکیلوں کی طرف سے یلغار کئے جانے کے حوالے سے ایک ٹویٹ بھی کی تھی ۔ بعد ازاں جب وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور سوشل میڈیا پر اُس کی نشاندہی کرتے ہُوئے عمران خان پر بھی شدید تنقید کی جانے لگی تو حسان نیازی ‘صاحب’نے ایک دوسری ٹویٹ میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کر لیا ۔ سب لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ پنجاب پولیس نے عمران خان کے حملہ آور بھانجے (حسان نیازی) کا نام اُن ملزمان کی فہرست میں شامل کیوں نہیں کیا جنہوں نے پی آئی سی پر دھاوا بول کر ایک خاص قسم کی دہشت گردی کا ارتکاب کیا ہے؟ کیا یہ اقدام دو پاکستانوں کی کہانی نہیں سنا رہا ؟ عوام اور اس حملے سے شدید طور پر متاثر ہونے والے مریض اور اُن کے لواحقین بجا طور پر استفسار کررہے ہیں: کیا یہی ہے نئی ریاستِ مدینہ کے حکمرانوں کا انصاف؟ المناک بات یہ ہے کہ پی آئی سی پر حملہ کرکے لاہوری وکلا نے ثابت کیا ہے کہ اُن کے دلوں پر ہسپتالوں کی بھی کوئی حرمت اور توقیر نہیں ہے ، حالانکہ ہسپتالوں کا تو جنگوں میں بھی احترام کرکے اُن پر بمباری نہیں کی جاتی ۔ بے شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔ لاہور کے وکیلوں نے انسانیت کے سر شرم سے جھکا دئیے ہیں ۔ شائد ایسے ہی وکیلوں کے لئے برسہا برس قبل اُردو کے مشہور شاعر جناب اکبر الٰہ آبادی نے یہ کہا تھا:
پیدا ہُوئے وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحبِ اولاد ہو گئے!
ان وکیلوں کی دہشت گردی اور وحشت انگیزی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایک نوٹی فکیشن کے مطابق اب پنجاب کے آئی جی کے دفتر کی حفاظت رینجرز کے جوان کیا کریں گے ۔ کیا یہ اقدام پنجاب پولیس کیلئے ڈوب مرنے کا مقام نہیں ہے؟ کیا یہ فیصلہ اس امر کی شہادت نہیں دیتا کہ پنجاب پولیس نااہلوں کا ٹولہ ہے ؟ حیران کن بات یہ بھی ہے کہ وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان صاحب نے پی آئی سی پر المناک حملے کا الزام نون لیگ پر عائد کر دیا ہے ، حالانکہ نون لیگئے تو اپنے عذابوں میں پڑے ہُوئے ہیں ۔ نون لیگ کے تاحیات قائدنواز شریف کو دی گئی عدالتی ریلیف کا وقت ختم ہونے والا ہے اور نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز کو والد کی عیادت اور دیکھ بھال کیلئے لندن جانے کی اجازت کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے ۔ اور حکومت بھی مریم نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینے میں (فی الحال) انکاری ہے۔ عمران خان کی کابینہ نے متفقہ طورپر مریم نواز کو باہر جانے کی اجازت دینے کی مخالفت کر دی ہے۔15دسمبر2019ء کو جب یہ کالم اشاعت پذیر ہوگا، ہمارے سابق (اور عدالت سے سزا یافتہ) وزیر اعظم نواز شریف کو عدالتی اجازت سے لندن گئے چاردن کم چار ہفتے ہو چکے ہوں گے ۔ اُن کے ساتھ اُن کے برادرِ خورد ایم این اے و قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں محمد شہباز شریف بھی لندن گئے تھے ۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ شہباز شریف ہی اپنے بڑے بھائی کو لندن لے کر گئے ہیں ۔ عدالت نے یہ ریلیف میڈیکل گراؤنڈ پر دیا تھا ۔پہلے اُنہیں چھ ہفتے کی ضمانت دی گئی جس میں سے دو ہفتے اُنہوں نے ہسپتال اور جاتی عمرہ میں گزار دئیے ۔ میاں محمد نواز شریف لندن تو پہنچ گئے مگر اُنہیں وہاں بھی امن و چین سے علاج نہیں کروانے دیا جارہا ۔ اُن کے سیاسی مخالفین اور معاندین وہاں بھی اُن کے تعاقب میں لگے ہُوئے ہیں ۔ لندن میں اُن کے گھر ( جس سے نواز شریف ہمیشہ انکار کرتے رہے ہیں)کے باہر پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں نے زبردست مظاہرے کئے ہیں ۔ میاں صاحب کے خلاف دل آزار نعرے بھی لگائے گئے ہیں اور نواز شریف کے دونوں بیٹے بے بسی کی تصویر بنے رہے ۔ ایسی بے پناہ دولت کا بھی آخر کیا فائدہ جو انسان سے اُس کی عزت و حرمت ہی چھین لے ۔ حقیقت دیکھی جائے تو ( اکثریتی پاکستانی عوامی رائے کے مطابق) میاں نواز شریف اور اُن کے چھوٹے بھائی سکون اور چَین کی زندگی گزارنے کے لئے پاکستان سے لندن بھاگے تھے مگر چَین اُنہیں وہاں بھی نہیں مل رہا۔ اُستاد ابراہیم ذوق نے تو کبھی عالمِ مایوسی میں کہا تھا:
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چَین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
لیکن ہم یہ بد شگونی نہیں کرتے ۔ ہماری طرف سے تو دِلی دعا ہے کہ میاں نواز شریف کو اللہ کریم شفائے کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے اور وہ قوم اور عدالت سے کئے گئے وعدے کے مطابق جَلد واپس وطن آ جائیں لیکن اُنہیں لندن میں جن مخالفتوں اور عداوتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،اس پس منظر میںہم ”ضرورتِ شعری ” کے مطابق( اور مجبوراً) استاد ذوق کے محولہ بالا شعر کے مصرعہ اوّل میں ”تحریف ” کرتے ہُوئے ضرور کہیں گے کہ نواز شریف صاحب !!
”لندن میں” بھی چَین نہ پایا تو(پھر) کدھر جائیں گے ؟
ممکن ہے نواز شریف صاحب قبلہ کے ساتھ ساتھ جناب شہباز شریف بھی زیر لب یہی مصرعہ دہراتے ہوں ۔ واقعہ یہ ہے کہ میاں برادران نے 80ء کے عشرے میں اپنی سیاسی حریف محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف جن قابلِ مذمت روایات کی داغ بیل ڈالی تھی ، آج اُنہیں اسی کا بھگتان بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ جو بویا تھا، وہی کاٹ رہے ہیں ۔ اُنہوں نے مخالفت کاجو گڑھا پیپلز پارٹی اور بے نظیر بھٹو و آصف زرداری کیلئے کھودا تھا، آج وہ اُسی گڑھے میں گرتے نظرآ رہے ہیں ۔ اِسی لئے سیانے کہتے ہیں کہ سیاسی مخالفت اور انا پرستی میں اتنا آگے نہیں بڑھ جانا چاہئے کہ واپسی پر اپنے ہاتھوں سے دی گئی گرہیں دانتوں سے بھی نہ کھولی جا سکیں ۔ افسوس تو یہ ہے کہ نواز شریف نے کئی سال پہلے لندن میں بے نظیر بھٹو سے ” میثاقِ جمہوریت ”یا”سی او ڈی ” بھی کیا لیکن اس پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ؛چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ 2014ء میں نواز شریف اور شہباز شریف دوبارہ بلکہ سہ بارہ اقتدار میں آئے تو اُنہوں نے ایک بار پھر کھل کر پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کے خلاف دل بھر کر زبان درازیاں کیں ( زرداری کا پیٹ پھاڑ کر لُوٹی دولت نکالنے کا شہبازی اعلان تو سب کو یاد ہے) یعنی نواز شریف اور شہباز شریف نے دانستہ ”سی او ڈی” میں کئے اور لکھے گئے وعدے اور دعوے فراموش کر دئیے ۔ یہ موقع ہے کہ اب یہ باتیں پی ٹی آئی بھی یاد رکھے کہ وہ بھی نون لیگ اور پی پی پی کے بارے میں مخالفت کا وہی راستہ اور اسلوب اپنا رہی ہے جو ماضی میں نون لیگ اور پی پی پی نے ایک دوسرے کیلئے اپنایا اور اب پچھتا رہی ہیں ؛ چنانچہ نون لیگ کے ایک لیڈر خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں بجا طور پر پی ٹی آئی کو انتباہ کرتے ہُوئے کہا ہے کہ عمران خان اور اُن کی پارٹی آج جو کانٹے اپنے راستے میں بکھیر رہی ہے ، کل یہ کانٹے اُنہیں خود ہی چُننا ہوں گے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وارننگ کو شافی اور کافی سمجھنا چاہئے ۔ اچھی بات یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ پی ٹی آئی کے چند ایک ارکانِ قومی اسمبلی نے ٹی وی ٹاک شوز میں آن دی ریکارڈ لندن میں نواز شریف کے گھر کے باہر بد اخلاقی کے مظاہرے کرنے والے ( پی ٹی آئی کے مبینہ کارکنوں) کی مذمت بھی کی ہے اور اُن سے اعلانِ لاتعلقی بھی کیا ہے لیکن لگتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اس اعلان میں خود کو شامل نہیں کر پارہے ۔ جناب وزیر اعظم نے 9دسمبر کو اسلام آباد کی ”نسٹ” یونیورسٹی میں خطاب کے دوران اپوزیشن کا جس لہجے میں مذاق اُڑایا ہے ، اسے قابلِ ستائش نہیں کہا جا سکتا ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سیاست میں صلح کے عنصر کو بڑھاوا دینے کی بجائے ، مشتعل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ شائد اِسی بنیاد پر نون لیگ کے ارکانِ اسمبلی نے صاف کہہ دیا ہے کہ حکومت آئندہ ایام کے دوران جو فوری اور ضروری آئینی ترمیمات کروانا چاہتی ہے، ہم اس میں کوئی تعاون کریں گے نہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے نئے ارکان کے انتخاب میں مدد دیں گے ۔ پیپلز پارٹی بھی اب اور بھی شیر ہو گئی ہے ( اور حکومت کے خلاف ڈٹ بھی رہی ہے ) کہ 12دسمبر کو آصف زرداری اسلام آباد کی احتساب عدالت سے عبوری ضمانت پا کر رہا ہو گئے ہیں ۔ وہ مسلسل چار ماہ جیل کاٹنے کے بعد باہر آئے ہیں ۔ پچھلے کئی ہفتوں سے وہ اسلام آباد کے ”پمز” ہسپتال میں زیر علاج تھے اور کہا جارہا تھا کہ وہ ملٹی پل بیماریوں کے مریض ہیں ، اسلئے میڈیکل بنیادوں پر ضمانت پر رہا کئے جائیں ۔ رہائی کایہ موقع پیپلز پارٹی کی قیادت اور جیالوں کیلئے یکساں باعثِ مسرت تھا ، اسلئے ان کی طرف سے خوشی میں جشن بھی منایا گیا ۔اگرچہ اس دوران حساس پاکستانی شہریوں کی جانب سے یہ سوال بھی اُٹھایا گیا کہ آصف زرداری ایسے مبینہ طور پر کرپٹ شخص کی عبوری ضمانت حاصل کرنے پر کیا پیپلز پارٹی کے کارکنان کو بھنگڑے ڈالنا زیب دیتا تھا؟بہرحال، احتساب عدالت سے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی رہائی کی روبکار جاری ہونے کے بعد انہیں سب جیل قرار دئیے گئے ”پمز” سے رہا کردیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر نفیسہ شاہ ایسے پیپلز پارٹی کے وابستگان نے ”فخر” سے کہا کہ زرداری صاحب کی رہائی دراصل ”حق سچ” کی فتح ہے ۔ ہم مگر سب جانتے ہیں کہ یہ کتنی اور کہاں تک ”حق سچ” کی فتح ہے ۔ زرداری کو عدالت کی طرف سے ریلیف دیا گیا ہے اور بطورِ ضمانت ایک ایک کروڑ روپے کے دو مچلکے وصول کئے گئے ہیں ۔ دو افراد ( رب نواز اور سردار توقیر ) نے ضمانتی مچلکے جمع کروائے تھے ۔اور یوں عدالت کی طرف سے دی گئی ریلیف پر ہم کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے ۔یاد رہے کہ 11 دسمبر 2019 ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے آصف علی زرداری کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت منظور کرلی تھی۔عدالت عالیہ نے اپنے 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ آصف زرداری پر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں لیکن الزامات جب تک ثابت نہیں ہوتے ، وہ معصوم اور بے گناہ ہیں، لہٰذا اُنہیں ایک، ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض طبی بنیادوں پر ضمانت دی جارہی ہے ۔فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سابق صدر کے خلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ زیر سماعت ہے لیکن صرف کسی کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہونے پر اس کے بنیادی حقوق ختم نہیں ہوتے اور آصف زرداری کو بنیادی آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ میڈیکل رپورٹ کو دیکھتے ہوئے ضمانت نہ دینا آصف زرداری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی، قید میں ہوتے ہوئے آصف زرداری کا علاج قومی خزانے سے ہو رہا تھا لیکن ضمانت پر رہائی کے بعد وہ اپنی مرضی اور اپنے خرچ سے علاج کرائیں گے۔واضح رہے کہ مسٹر زرداری کو 10 جون 2019ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت منسوخ ہونے پر نیب نے گرفتار کیا تھا۔ اب جبکہ آصف علی زرداری اسلام آباد کی جیل سے رہا ہو چکے ہیں ( اور شائد ان سطور کی اشاعت تک وہ کراچی بھی پہنچ ہوں)، سوال پوچھا جارہا ہے کہ عمران خان جس تسلسل اور شدت سے زرداری صاحب پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے اور دعوے کرتے رہے ہیں کہ ”کسی کو این آراو نہیںدوں گا” ، اب ان الزامات اور دعووں کی کیا حیثیت اور وقعت رہ گئی ہے ؟ ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.