Latest news

عمران خان کے آدرش اوراُن کا تازہ ترین دَورئہ ملائشیا

کئی آئیڈیلز ہیں جنہوں نے ہمارے وزیر اعظم جناب عمران خان کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ وہ انہی آدرشوں کی تکمیل بارے دن رات سوچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ایک آئیڈیل ملک کی شکل میں ڈھال دیں ۔ یہ خیالات مستحسن ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ رواں لمحات میں اگرچہ پاکستان شدید اقتصادی بحرانوں کی زد میں ہے لیکن پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم کرپشن کے داغ دھبوں سے پاک ہیں ۔عمران خان چونکہ خود بدعنوان نہیں ہیں ، اسلئے لا محالہ وہ خود بھی چاہتے ہیں کہ پورے پاکستان کے سیاستدان اور سرکاری عمال بھی ہر قسم کی کرپشن سے پاک ہوں ۔ یہ اُن کا دوسرا آئیڈیل ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اِسی آدرش کے حصول کیلئے وہ ملک میں کرپٹ افراد کو پسِ دیوارِ زنداں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اُن کا سخت احتساب کرنے کے خواہشمند ہیں ۔اس آئیڈیل کے حصول کیلئے اُنہوں نے کئی اقدامات تو کئے ہیں لیکن فی الحال ان اقدامات کے کوئی خاص نتائج سامنے نہیں آ سکے ہیں۔ وہ ملک کی کرپٹ اور کالی بھیڑوں سے کرپشن کا پیسہ ابھی تک نکلوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔عوام اس وجہ سے اُن سے قدرے ناراض بھی ہیں ۔ کرپشن کے خلاف عمران خان کی شروع کی گئی جنگ سے ملک میں سیاسی اور معاشی ابتری غالب ہے ۔چنانچہ کہیں کہیں سے یہ آوازیں بھی بلند ہورہی ہیں کہ عمران خان کو کرپٹ افراد کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں نرمی برت کر ”سب کو” ساتھ لے کر چلنا چاہئے اور یہ کہ اُن کی طرف سے ”مفاہمت” کا آغاز کیا جانا چاہئے ۔شائد اِسی خیال کے پیش منظر میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فاروق حیدر نے 5فروری2020ء کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی موجودگی میں اُن سے مخاطب کرتے ہُوئے کہا:”عمران خان اپنے سیاسی مخالفین کیلئے اپنا دامن کھولیںاور قومی اتفاقِ رائے پیدا کریں۔قوم بہت تقسم ہو چکی ہے، اسلئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب خود کو اوپر کریں اور سب کو ساتھ لے کر چلیں ۔”عمران خان مگر (فی الحال) اس نصیحت اور مشورے پر کان دھرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ہم دیکھتے ہیں کہ اُنہوں نے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے مذکورہ مشورے کا ترنت جواب دیتے ہُوئے اسے سرے ہی سے مسترد کر دیا۔ جناب فاروق حیدر کی موجودگی ہی میں عمران خان نے کہا:”کسی سے میری ذاتی لڑائی نہیں ہے ۔ گھر میں چوری کرنے والوں سے مَیں دوستی اور مفاہمت کیسے کر لُوں ؟مجھے ملک لُوٹنے والوں سے مفاہمت کرنے کا نہ کہیں ۔”عمران خان صاحب نے جس لہجے میں مفاہمت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ، اُن کے ووٹر اور سپورٹر تو یقیناً اُن پر فدا ہو رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جس پالیسی پر عمران خان اب تک کاربند رہے ہیں ، وہ تو ثمر آور ثابت نہیں ہو سکی ہے اور اگر آنے والے ایام میں بھی اس پالیسی کی یہی درگت بنی تو ملک اور قوم کی یکجہتی کا کیا بنے گا؟ اگر کرپشن سے قطعی پاک ملک کو دیکھنے کی خواہش کامل ناکامی سے دوچار ہو گئی تو خانصاحب کے بیانئے کا مستقبل کیا ہوگا؟ اور یہ بھی کہ اُن کے آس پاس بیٹھے وہ مبینہ کرپٹ عناصر جنہوں نے حالیہ ایام میں آٹے اور چینی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کرکے اربوں روپے اپنی جیبوں میں ڈال لئے ہیں ، خانصاحب اُن کی کرپشن کے خلاف خاموش کیوں ہیں؟ کیوں بی آرٹی پشاور اور مالم جبہ کے خلاف تحقیقات کروانے میں تاخیری حربے بروئے کار لا رہے ہیں؟تجزیہ کیا جائے تو یہ بات بھی کھلتی ہے کہ عمران خان ملک میں کرپشن کے خلاف جنگ کو اُسی منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں جس انجام تک ملائشیا کے بزرگ وزیر اعظم مہاتیر محمد اپنے مخالفین کے خلاف پہنچانے کا عہد کئے ہُوئے ہیں۔ جناب عمران خان کا حالیہ دَورئہ ملائشیا بھی شائد اِسی خواہش کا ایک شاخسانہ تھا۔ جب سے عمران خان صاحب نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا ہے ، یہ اُن کا دوسرا دَورئہ ملائشیا تھا ۔الحمد للہ ،وزیر اعظم جناب عمران خان کا یہ تازہ دَورہ بھی(جو دو روزہ تھا:3تا 4فروری2020ئ) معروف معنوں میں کامیاب رہا۔ وزیر اعظم عمران خان 3فروری کو ملائشیا پہنچے توکوالالمپور انٹرنیشنل ائرپورٹ کے” بونگا رایا کمپلیکس” پر ملائیشیا کے وزیر دفاع محمد صابو اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا تھا۔ملائیشیا میں پاکستان کی ہائی کمشنر آمنہ بلوچ اور پاکستانی ہائی کمیشن کے دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، منصوبہ بندی وترقی کے وزیر اسد عمر، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور سیکرٹری خارجہ سہیل محمود ان کے ہمراہ تھے۔ یہ خبر مستحسن قرار دی گئی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ملائشیا پہنچنے کیلئے بھارت کی فضائی حدود استعمال نہیں کی ہیں ۔ بلکہ ایک لمبا فضائی رُوٹ اختیار کرتے ہُوئے ، براستہ چین ، ملائشیا پہنچے ۔ یوں وقت اور جہاز کے اخراجات میں اضافہ تو یقیناً ہُوا لیکن اچھی بات یہ کہی گئی ہے کہ پاکستان کے منتخب وزیر اعظم نے بھارت کے سامنے فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست نہیں کی ۔ یہ قومی غیرت کا بھی سوال تھا۔ عمران خان اور جناب مہاتیر محمد کی دوستی اور محبت تب سے قائم ہے جب عمران خان ابھی باقاعدہ سیاست میں نہیں آئے تھے ۔ خانصاحب تب بھی مہاتیر صاحب کی محبتوں کے اسیر تھے ۔ اس امر سے ملائشین وزیر اعظم بھی آگاہ اور آشنا ہیں ۔ یہ شائد اِسی کا سحر تھا کہ عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے تین ماہ بعد ہی (نومبر2018ء میں) ملائشیا کا سرکاری دَورہ کیا تھا ۔ملائشیا میں اُنہیں بھرپور محبت اور احترام سے نوازا گیا تھا ۔ عمران خان نے اِسی دَورے کے دوران مہاتیر محمد صاحب کو پاکستان کے سرکاری دَورے کی دعوت دے ڈالی تھی ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب پچھلے سال ملائشین وزیر اعظم جناب مہاتیر ماہ مارچ میں ( اپنے بھاری بھر کم وفد کے ہمراہ) پاکستان تشریف لائے تو یہاں اُنہیں بڑی محبت دی گئی ۔ 23مارچ2019ء کے یومِ پاکستان ایسی اہم ترین اور ُپر شکوہ پریڈ میں اُنہیں مہمانِ خصوصی بنایا گیا ۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے ، مہاتیر محمد کی موجودگی میں ، اُنہیں جن شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا تھا، وہ بھی یادگار تھے ۔ ان الفاظ کی بازگشت اب بھی دونوں مسلمان برادر ممالک کے سفارتی حلقوں میں سنائی دیتی ہے۔ عمران خان نے اس تاریخی موقع پر کہا تھا:” عزت مآب وزیر اعظم ملائشیا جناب مہاتیر محمد عالمِ اسلام کے وہ قابلِ فخر لیڈر ہیں جن کا ایک خاص نظریہ حیات ہے ۔ وہ مسلمانوں اور عالمِ اسلام کا خالص درد رکھتے ہیں ۔ اُنہیں جرأت سے بات کرنا آتی ہے ۔ وہ سب کو خوش کرنے کے چکر میں ملفوف بیان نہیں دیتے ۔ جو کچھ کہتے ہیں ، ڈنکے کی چوٹ کہتے ہیں ۔ مہاتیر محمد وہ مسلمان لیڈر ہیں جو مسلمانوں کے حق میں بات کہتے ہُوئے کوئی خوف محسوس نہیں کرتے ۔ ” خانصاحب نے مزید کہا تھا:” جناب مہاتیر محمد نے جس پامردی سے اپنے ملک میں کرپشن کے خلاف جنگ شروع کی ہے ، یہ نہائت قابلِ تحسین ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک فطری طور پر غریب اور پسماندہ نہیں ہوتے بلکہ یہ کرپشن ہے جو ملکوں کو غربت اور پسماندگی کے گڑھے میں گرا دیتی ہے ۔ہم ملائشیا سے بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔” اس موقع پر مہاتیر محمد کو حکومتِ پاکستان کی طرف سے ریاست کا سب سے بڑا سویلین ایوارڈ ( نشانِ پاکستان) بھی دیا گیا تھا ۔ ملائشیا کے وزیر اعظم کے اس دَورے میں اُن کے بہت سے وزرا بھی ساتھ آئے تھے ۔ ہمارے (سابق) وزیر خزانہ اسد عمر ( جو اب وزیر منصوبہ بندی ہیں) نے اُن کے ساتھ کئی اہم ایم او یوز پر دستخط کئے تھے ۔ اس بارے اعلانات بھی سامنے آئے تھے ۔ مثال کے طور پر (١)ملائشیا اور پاکستان میں ایک دوسرے کے بینک کھولے جائیں گے (٢) ملائشیا نے پاکستان سے جے ایف 17جنگی طیارے خریدنے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے (٣) ملائشیا پاکستان سے ہلال گوشت خریدے گا (٤) پاکستان اپنے بہترین چاول بھی ملائشیا برآمد کرے گا(٥) کوشش کی جائے گی کہ ملائشیا کے آرڈر کے مطابق پاکستان جلد از جلد ملائشیا کو اینٹی ٹینک میزائل فراہم کر دے (٦) دونوں برادر ممالک کے دمیان سیاحت کی صنعت کو فروغ دیا جائے گا۔۔۔یہ شاندار اور قابلِ تحسین فیصلے تھے مگر ان ایم او یوز پر بعد ازاں کتنا ، کہاں اور کب عملدرآمد ہُوا ، ہم نہیں جانتے کیونکہ اس بارے حکومتِ پاکستان نے آن دی ریکارڈ کوئی بات میڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کی ہے ۔ اسی موقع پر اسلام آباد میں ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے مہاتیر محمد نے نہائت تاسف سے فرمایا تھا:” دُنیا میں 52سے زیادہ اسلامی ممالک ہیں لیکن افسوس ایک بھی اسلامی ملک کو مغربی ممالک کے مقابلے میں ترقی یافتہ نہیں کہا جا سکتا ۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم 2025ء تک ملائشیا کو ترقی یافتہ ملک کی شکل میں ڈھال دیں۔ ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لینا ہے کہ ہم پاکستان کو کیا کیا فروخت کر سکتے ہیں اور پاکستان ہمیں کیا کیا فروخت کر سکتا ہے ۔ یوں ہم ایک دوسرے کی تجارت کو بڑھاوا دے کر ایک دوسرے کی اقتصادی مدد کر سکتے ہیں۔”ہمیں جناب مہاتیر محمد کی اس پیشکش کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے تھا لیکن ہماری سیاسی ابتری اور اندرونی سیاسی خلفشار نے شائد مطلوبہ نتائج پیدا نہیں ہونے دئیے ۔خانصاحب کا یہ تازہ دَورئہ ملائشیا اسلئے بھی اہم ہے کہ یہ ہوائی اُڑائی گئی تھی کہ پاکستان اور ملائشیا کے تعلقات خراب ہو چکے ہیں اور یہ کہ ملائشیا کے وزیر اعظم جناب مہاتیر محمد ، وزیر اعظم عمران خان سے ناراض ہیں ۔ یہ افواہ اسلئے اڑائی گئی تھی کہ پچھلے سال دسمبر میں ملائشیا کے دارالحکومت میں ”کوالا لمپور” میں ایک اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ وزیر اعظم عمران خان وعدے کے باوجود اس میں شریک نہیں ہُوئے تھے ۔ خبریں آئی تھیں کہ عمران خان نے سعودی بادشاہ کے کہنے پر اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی تھی ۔ اب تازہ دورے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اگر کہیں یہ غلط فہمی موجود بھی ہے تو اسے تحلیل کیا جائے ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عمران خان صاحب نے ملائشیا میں مہاتیر محمد کی موجودگی میں ( مشترکہ پریس کانفرنس میں) اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا ذکر دانستہ کیا تاکہ معاملات صاف ہو سکیں ۔ خانصاحب نے کہا :” مَیں کہنا چاہتا ہوں کہ میں بہت افسردہ تھا کہ پچھلے سال دسمبر کے وسط میں کوالالمپور میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہ کرسکا ۔بدقسمتی سے پاکستان کے بہت قریبی ہمارے کچھ دوستوں کو یہ محسوس ہوا کہ شاید یہ کانفرنس اُمہ کو تقسیم کردے گی، جو واضح طور پر ایک غلط فہمی تھی کیونکہ کانفرنس کے انعقاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا مقصد امہ کی تقسیم نہیں تھا ۔مَیں خود بھی کانفرنس میں شرکت کا ‘منتظر’ تھا کیوں کہ مَیں سمجھتا ہُوں کہ مسلمان ممالک کا مغربی دنیا اور غیر مسلم ممالک کو اسلام کے بارے میں آگاہی دینا انتہائی اہم ہے۔تمام غلط فہمیوں کے پیشِ نظر چاہے وہ دانستہ ہوں یا غیر دانستہ، یہ اہم ہے کہ مسلمان ممالک ہمارے نبی ۖ کے حقیقی پیغام کے بارے میں بتائیں”۔تاہم آئندہ برس(2021ئ) کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ’ ‘بالکل، وہ (شرکت) کریں گے کیوں کہ اب یہ بات واضح ہے کہ کوالالمپور اجلاس نے امہ کو تقسیم نہیں کیا، اگر کوئی چیز امہ کو متحد کرتی ہے تو وہ ضرور آنا پسند کریں گے”۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ملائیشین ہم منصب کا انہیں اپنے ملک مدعو کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا :” یہ دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا جو روایتی طور پر بہت قریبی ہیں۔اس دورے کا مقصد (دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے) مزید قریب آنا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارتی، سرمایہ کاری اور تعاون کے بہترین تعلقات ہوں گے”۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ملائیشین ہم منصب کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرنے اور بھارتی افواج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں کی جانے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے پر مہاتیر محمدکا شکریہ ادا کیا۔ خانصاحب کا کہنا تھا :” بدقسمتی سے بھارت پر ایک انتہا پسند اور بنیاد پرست حکومت قابض ہوگئی ہے جس نے کشمیری عوام کو ایک کھلی جیل میں قید کردیا ہے۔” وزیراعظم کے دورے کے دوران دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کے متعدد سمجھوتوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جس میں سب سے اہم قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ تھا۔وزیر اعظم کا یہ دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے مابین مضبوط تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت دینے کے تناظر میں مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں ملائیشین وزیراعظم کا کہنا تھا : ”ہماری ( ملائشیا اور پاکستان کی )شراکت داری دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے، ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان کثیرالجہت تعلقات ہیں۔میری اور وزیراعظم عمران خان کی ملاقات میں باہمی تعاون کے امور کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر اچھی گفتگو ہوئی ہے۔ عمران خان کا یہ دورہ ہمارے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے ہمارے مشترکہ عزم کا عکاس ہے۔ہم نے اہم معاملات میں رکاوٹیں دور کر نے اور دونوں جانب سے اشیا میں عدم توازن کے مسئلے کو حل کرتے ہوئے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے باقاعدگی کے ساتھ بات چیت کی ضرورت پر اتفاق کیا”۔ پاکستان کے ملائیشیا سے مزید پام آئل کی خریداری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مہاتیر محمد نے بتایا :” دونوں رہنماؤں کے درمیان پام آئل کے خریداری کے حوالے سے گفتگو ہوئی ۔ہے میرے خیال میں پاکستان ملائیشیا سے مزید پام آئل درآمد کرنے کے لیے تیار ہے”۔اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ’ ‘یہ درست ہے، خاص طور پر ہم نے دیکھا کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر کی حمایت کرنے پر ملائیشیا سے پام آئل درآمد نہ کرنے کی دھمکی دی ہے، (لہٰذا) پاکستان اس کی تلافی کی بھرپور کوشش کرے گا”۔خیال رہے کہ ملائیشیا کی جانب سے کشمیر میں بھارتی مظالم پر آواز اٹھانے کے ردِ عمل میں بھارت نے دنیا میں پام آئل پیدا کرنے والے دوسرے بڑے ملک ملائیشیا سے اس تیل کی درآمد پر پابندی عائد کردی تھی اور تاجروں سے خصوصی طور پر ملائیشیا سے پام آئل کی درآمد روکنے کا کہا گیا تھا( پچھلے سال بھارت نے ملائشیا سے 12ارب ڈالر کا پام آئل خریدا تھا)اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ملائیشین ہم منصب کا انہیں اپنے ملک مدعو کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا :” یہ دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا جو روایتی طور پر بہت قریبی ہیں۔اس دورے کا مقصد (دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے) مزید قریب آنا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارتی، سرمایہ کاری اور تعاون کے بہترین تعلقات ہوں گے”۔جناب عمران خان نے ملائشیا کے دَورے اور وہاں کے ایک تھنک ٹینک میں عالمِ اسلام کے اتحادو اتفاق بارے جن شاندار آدرشوں کا اظہار کیا ہے ، سچی بات تو یہ ہے کہ دُنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کا یہی خواب ہے ۔ عمران خان نے جرأتِ رندانہ سے اس خواب کو زبان دی ہے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.