Latest news

!!ضمانتوں کا موسم: سبق پڑھ پھر عدالت کا ، صداقت کا

 

ملک بھر میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے قائدین کی ضمانتوں کی منظوری اور منسوخی کا ایک نیا موسم طلوع ہو چکا ہے ۔ اس منظر نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ کچھ معلوم نہیں ہو رہا کہ حکومت اور اپوزیشن کا اونٹ کس کروٹ بیٹھ رہا ہے ۔ ہر روز سیاسی حالات نئی کروٹ لے رہے ہیں ۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ ماحول قدرے گدلا ہورہا ہے تو ایسا کہنا شائد بے جا نہ ہو ۔ معزز عدالتوں کے حیرت انگیز فیصلوں سے حکومت کی پریشانیوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔مثال کے طور پر : پہلے سابقہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب کی طرف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے بارے میں ایسا مشروط فیصلہ سنایا گیا جس نے ملک بھر کی سیاسی فضا کو حیرت میں مبتلا کر دیا اور پی ٹی آئی کی حکومت قدرے اس فیصلے کے کارن اپوزیشن کی محتاج سی بنا دی گئی ۔ابھی اس فیصلے کی بازگشت بھی نہیں تھمی تھی کہ خصوصی عدالت کی طرف سے سابق(آمر ) صدرِ پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا گیا ۔ اس فیصلے سے عمران خان کی حکومت ایک نئے مسئلے سے دوچار ہو چکی ہے ۔ مشرف مخالف فیصلے نے وطنِ عزیز کو ایک نئے دو راہے پر لا کھڑا کیا ہے ۔ ملک بھر میں اس کی حمائت اور مخالفت میں بحثیں جاری ہیں ۔ ابھی پرویز مشرف کے خلاف آنے والے فیصلے کی بازگشت مدہم بھی نہ پڑی تھی کہ اپوزیشن کے کئی لیڈروں ( جن پر کرپشن اور مبینہ الزامات کی بھرمار تھی) کی ضمانتیں بھی دھڑا دھڑ منظور ہونے لگیں ۔ پہلے سابق صدرِ پاکستان آصف زرداری کی ضمانت منظور ہُوئی ۔پھر اُن کی ملزمہ ہمشیرہ فریال تالپور بھی ضمانت پررہا کر دی گئیں ۔ پی پی پی کے ایک اور ملزم شرجیل میمن بھی ضمانت پا چکے ہیں حالانکہ اُن پر کرپشن کے سنگین چارجز ہیں ۔ مگر حیران کن امر ہے کہ پیپلز پارٹی کے ایک مشہور لیڈر سید خورشید شاہ کی منظور کی گئی ضمانت سندھ سے منسوخ ہو گئی ۔ اقتدار اور اختیار کی بلند کرسیوں پر بیٹھے صاحبان جو فیصلے کررہے ہیں ، ان سے سیاست کا کھیل پُراسرار صورت اختیار کرتا جارہا ہے ۔اس کے ساتھ ہی ہم نے دیکھا کہ گذشتہ ایام ہی میں احتساب عدالت نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیس میں گرفتار کئے گئے نون لیگی رہنما اور سابق وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل کی درخواست ضمانت منظور کر لی ۔پیپلز پارٹی کے زیر حراست ملزمان کو ملنے والی ضمانتوں اور منسوخیوں کے اس ماحول میں نون لیگ کے مشہور لیڈر ، سابق صوبائی وزیر قانون اور فیصل آباد سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی رانا ثنا ء اللہ بھی ضمانت پا کر جیل سے باہر آ گئے ۔ اُن پر منشیات کی ”بھاری مقدار” کی مبینہ سمگلنگ کا سنگین الزام عائد کرکے حراست میں لیا گیا تھا ۔ یکم جولائی2019ء کو جب اُنہیں اے این ایف نے موٹر وے سے مبینہ طور پر ”رنگے ہاتھوں” گرفتار کیا تھاتو اُس وقت کے وزیر داخلہ شہر یار آفریدی صاحب نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہُوئے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف دستاویزی ویڈیو ثبوت بھی پیش کئے جائیں گے ( شہر یار آفریدی نے رانا ثناء اللہ کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہُوئے یہ مشہور جملہ بھی ادا کیا تھا: اللہ کو جان دینی ہے) چھ مہینے گزر گئے لیکن آفریدی صاحب کی طرف سے کوئی ویڈیو ثبوت ( فی الحال) پیش نہیں کیا گیا تو رانا صاحب کی ضمانت منظور ہو گئی ۔ اس ضمانتی رہائی کا اعلان 24دسمبر2019ء کی شام سامنے آیا۔ لاریب حکومت کو اس فیصلے سے بڑا دھچکا لگا ہے ۔24دسمبر کو صوبائی دارالحکومت کی عدالتِ عالیہ کے جسٹس چوہدری مشتاق احمد نے رکن قومی اسمبلی رانا ثنااللہ کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا۔عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے منشیات برآمدگی کیس میں 10، 10 لاکھ روپے کے 2 مچلکے کے عوض رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔خیال رہے کہ 20 نومبر2019ء کو منشیات برآمدگی کیس میں رانا ثنا اللہ نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اپنی درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ اُن کی طرف سے حکومت کے خلاف تنقید کرنے پر انتقامی طور پر اُن کے خلاف منشیات اسمگلنگ کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا۔مذکورہ درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ معاملے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) تاخیر سے درج کی گئی جو مقدمے کو مشکوک ثابت کرتی ہے جبکہ ایف آئی آر میں 21 کلو گرام ہیروئن اسمگلنگ کا لکھا گیا جبکہ بعد میں اس کا وزن 15 کلو گرام ظاہر کیا گیا۔ساتھ ہی انہوں نے عدالت سے یہ استدعا کی تھی کہ منشیات اسمگلنگ کیس میں ان کی ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دیا جائے۔اس درخواست پر گزشتہ سماعت کے دوران رانا ثنااللہ کے وکیل ایڈووکیٹ ناظم تارڑ نے درخواست ضمانت پر دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ رانا ثنااللہ کے خلاف سیاسی بنیادوں پر جھوٹا کیس بنایا گیا کیونکہ وہ حکومت پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرنے سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے ایک پراسیکیوٹر نے کہا تھا:” نئے موقف کی بنیاد پر دوسری درخواست ضمانت دائر نہیں کی جاسکتی۔ رانا ثنااللہ کا جرم ناقابلِ ضمانت ہے اور انہوں نے ہیروئن کی ریکوری کے علاوہ ایف آئی آر میں شامل تمام واقعات کا اعتراف کیا تھا۔ اگر لاہور ہائی کورٹ ہدایت جاری کرے تو ایک ماہ کے اندر ٹرائل مکمل کیا جاسکتا ہے۔”پراسیکیوٹر نے درخواست ضمانت مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگر درخواست گزار (رانا ثنااللہ) بے قصور پائے گئے تو انہیں ٹرائل میں رہا کردیا جائے گا۔شاہد خاقان عباسی ، خواجہ برادران ، میاں حمزہ شہباز شریف کی جیلوں میں موجودگی اور نواز شریف و شہباز شریف کی ملک میں عدم موجودگی کے کارن اگرچہ نون لیگ شدید ڈپریشن میں مبتلا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ رانا ثناء اللہ اور مفتاح اسماعیل کی ضمانتوں پر رہائی نے نون لیگ کو ایک نیا ولولہ اور حوصلہ بخشا ہے ۔رانا ثناء اللہ کا معاملہ خاصا حیرت انگیز ہے ۔ وہ مسلسل چھ ماہ جیل کے سخت ماحول میں رہے ہیں جہاں اُنہیں ( نواز شریف اور شہباز شریف کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کے برعکس) واقعی معنوں میں کوئی سہولت میسر نہیں تھی۔ رانا صاحب بیمار بھی تھے ( اُنہیں گردوں اور ہائی بلڈ پریشر کے عوارض ہیں)لیکن اُنہوں نے رہائی کیلئے نہ تو میڈیکل گراؤنڈ پر کوئی درخواست دی اور نہ ہی باہر نکلنے کیلئے کوئی اور بہانہ تراشا۔ یوں دیکھا جائے تو رانا ثناء اللہ اعصابی طور پر شریف برادران کے مقابلے میں زیادہ سخت اور صابر ثابت ہُوئے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کی اہلیہ محترمہ اور اکلوتے داماد نے جس عزم اور حوصلے کے ساتھ اُن کی رہائی کیلئے جنگ لڑی ہے، یہ ایک اور بھی حیران کن واقعہ ہے ۔ حیران کن امر یہ بھی ہے کہ رانا ثناء اللہ کو180دن جیل میں رکھا گیا لیکن اس دوران اُن کا ٹرائل ہی نہ کیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ چھ ماہ ٹرائل شروع نہ کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ ملزم یا پراسیکیوشن؟ اور یہ بھی کہ کیا ایسا ریاستِ مدینہ میں ہو سکتا ہے؟اس سے حکومت کے عشاق کو کیا پیغام پہنچا ہے؟رانا ثناء اللہ کی ضمانت سے ملک بھر میں ایک نئی لہر اُبھری ہے ۔ ایک نیا ہیجان پیدا ہُوا ہے ۔ تقریباً سبھی نجی ٹی ویوں پر اس ضمانت بارے تفصیلی پروگرام نشر کئے گئے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے ۔ سبھی پر پی ٹی آئی کی حکومتی ناکامیوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ عمران خان اپنے دعووں کے ساتھ مبینہ کرپٹ ملزمان سے ایک دھیلا برآمد نہیں کروا سکے ۔ کئی نجی ٹی ویوں پر شہر یار آفریدی خود بھی سامنے آئے تاکہ رانا ثناء اللہ کی ضمانت کے حوالے سے اُٹھنے والے بنیادی سوالات کے جواب دے سکے لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ اینکر پرسنز کے اُٹھائے گئے سوالات کا ایک بھی اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر رہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ناکامی دراصل عمران خان کی حکومت کے کھاتے میں شمار کی جارہی ہے ۔ خصوصاً ”سمائ” ٹی وی پر شہر یار آفریدی تو باقاعدہ پسپائی اختیار کرتے پائے گئے ۔اگر موصوف جواب دینے کی پوزیشن ہی میں نہیں تھے تو اُنہیں الیکٹرانک میڈیا میں آنے سے گریز کرنا چاہئے تھا لیکن ایسا نہ کیا جا سکا اور یوں پی ٹی آئی کی حکومت کا گراف مستحکم نہیں ہو سکا ہے ۔اس پس منظر میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی حکومت مزید ندامتوں سے محفوظ رہ سکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ خانصاحب اپنے وزیروں کے زیادہ بولنے پر پابندیاں عائد کر دیں ۔یہ وزرا صاحبان بولنے کے شوق میں بغیر کسی تیاری کے بولتے ہیں اور بلا تکان بولتے ہیں تو اپنی ہی حکومت کے لئے شرمندگیوں کا باعث بن جاتے ہیں اور یہ شرمندگیاں پھر حکومت کے لئے وبالِ جان بن جاتی ہیں ۔ اور یہ واقعہ مزید حیران کن ہے کہ جس روز رانا ثناء اللہ کی ضمانت منظور ہُوئی ، اُسی روز پی ٹی آئی کی حکومت نے نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف کو باہر جانے کے حوالے سے اُن کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے انکار کر دیا۔ اس حکومتی فیصلے سے نون لیگ کی خوشیوں پر اوس سی پڑ گئی ۔ وزیراعظم کی معاون ِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے24دسمبر کی شام اسلام آباد میں پی آئی ڈی آفسز میں ایک خصوصی پریس کانفرنس میں بتایا :” کابینہ نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی درخواست متفقہ طور پر مسترد کردی ہے۔ کابینہ کے سامنے پیش کردہ سمری کسی خاندان سے متعلق نہیں تھی۔ وزارتِ داخلہ نے کابینہ کے سامنے 24 کیسز پیش کیے جس میں سے 4 نام ای سی ایل میں شامل اور 8 نام خارج کردیے گئے۔ ای سی ایل میں شامل کیے جانے سے متعلق 8 ناموں کو موخر اور ایک کو مسترد کردیا گیا۔ کابینہ نے پورے پاکستان میں ‘ایک اور یکساں قانون’ کے نفاذ پر اتفاق رائے ظاہر کیا اور ای سی ایل پر کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارش کی توثیق کی۔ ذیلی کمیٹی نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کی درخواست کی مخالفت کی تھی۔ ”واضح رہے کہ ڈاکٹر فردوس اعوان کے اس اعلان سے ایک دن پہلے لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر جو بھی فیصلہ کرے، اس سے درخواست گزار (مریم نواز) کو آگاہ کیا جائے۔ اس سے پہلے 9 دسمبر کو عدالتِ عالیہ نے وفاقی حکومت کی نظرثانی کمیٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ 8 اگست 2019ء کو چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ نون کی نائب صدر، مریم نواز شریف، کو اُن کے کزن یوسف عباس کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا، بعد ازاں 25 ستمبر 2019ء کو احتساب عدالت نے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔اور پھر لاہور ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کرنے پر گزشتہ ماہ ان کی ضمانت ہوئی تھی؛ تاہم ان کا پاسپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔ 22 دسمبر کو وزیراعظم کے معاون خصوصی اور سینئر وکیل بابر اعوان نے بھی کہا تھا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے سے متعلق قوانین حکومت کو مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست منظور کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔مریم نواز کی درخواست مسترد کئے جانے سے یقیناً شریف فیملی کو دھچکا لگا ہوگا لیکن اس فیصلے کی شائد اُنہیں بھی توقع تھی ، اِسی لئے تو مریم نواز کی طرف سے ایک اور درخواست بھی عدالت کے رُوبرو پیش کی جا چکی ہے ۔ اس سارے تماشے کی موجودگی میں عوام کے دلوں میں کئی سوال بھی اُٹھ رہے ہیں ۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مریم نواز شریف پاکستان چھوڑ کر لندن کیوں جانا چاہتی ہیں؟ لندن میں اُن کے دو بھائی موجود ہیں اور دو بھاوجیں بھی ۔ کیا یہ چاروں افرادِ خانہ میاں محمد نواز شریف کی صحیح طرح عیادت، خدمت اور ٹہل سیوا نہیں کر سکتے ؟ کیا وہ سب نواز شریف کا مناسب انداز میں خیال رکھنے کے اہل نہیں ہیں؟ پھر مریم نواز شریف کی ایک اور ہمشیرہ ( اسما) بھی ہیں اور وہ کسی مقدمے میں عدالتوں کو ماخوز بھی نہیں ہیں ۔ کیا وہ لندن میں اپنے والد کی ٹیک کیئر نہیں کر سکتیں؟ آخر مریم نواز ہی کو لندن جا کر اپنے والد کی ٹیک کیئر کرنے میں کونسی ایمر جنسی ہے؟ شائد عوام کے دلوں میں اُٹھنے والے یہی سوالات ہیں جن کی موجودگی میں حکومت نے بھی اُن کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے صاف انکار کر دیا ہے ۔مریم نواز شریف کو اجازت نہ ملنا دراصل نون لیگ کیلئے ایک نیا دھچکا ہے لیکن نون لیگ اور خود مریم نواز خاموش ہیں ۔ نون لیگ نے تو پہلے بھی جنرل(ر) پرویزمشرف کے خلاف عدالتی فیصلہ آنے پر ( جس کی مدعی خود نون لیگ کی سابقہ حکومت تھی) پُر اسرا ر طور پر خاموش ہے اور اب وہ مریم نواز بارے بھی خاموش ہے ، شائد اسلئے کہ نون لیگ ابھی کسی ریلیف کی منتظر ہے ، اسلئے زبان کھولنے سے احتراز کررہی ہے ۔ خود مریم نواز شریف جو خود بھی ٹوئٹر پر بہت متحرک رہتی تھیں ، اب اُن کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی خاموش ہے ۔ مریم نواز کو حکومت کی طرف سے انکار اُس روز ملا ہے جس دن نون لیگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال کو ”نیب” نے حراست میں لیا ۔ ضمانتوں کے اس موسم میں نون لیگ کیلئے یہ ایک اور دھچکا ہے ۔اسے معمولی خیال نہیں کیا جا سکتا ۔ احسن اقبال نہ صرف رکن قومی اسمبلی بھی ہیں بلکہ وہ پانچ بار حلقہ نارووال سے ایم این اے منتخب ہو چکے ہیں ۔ وہ سابق وفاقی وزیر داخلہ بھی ہیں اور وزیر منصوبہ بندی بھی رہے ۔ نون لیگ کے دَورِ حکومت میںانہی کی نگرانی میں ”سی پیک” کے کئی ترقیاتی منصوبے پروان چڑھ رہے تھے ۔ اُنہیں نواز شریف اور شہباز شریف کا اعتماد بھی حاصل ہے ۔ وہ پروفیسر ٹائپ سیاستدان ہیں ۔ اپنے انتخابی و سیاسی حلقے نارووال میں اُنہوں نے کئی ترقیاتی منصوبے مکمل کئے ۔ مثال کے طور پر:جدید طرز کا ڈسٹرکٹ ہسپتال بنایا، نئی انجنیرنگ یونیورسٹی تعمیر کی، کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ کی بنیادیں رکھیں ، ماڈرن ریلوے اسٹیشن بنوایا ، میڈیکل کالج منظور کروایااور سب سے بڑھ کر اسٹیٹ آف دی آرٹ سپورٹس کمپلیکس کو پروان چڑھایا ۔ یہ کمپلیکس اربوں روپے کا منصوبہ تھا جس کا آغاز دراصل پیپلز پارٹی کے دَور( 2008ء تا2013ء)میں ہُوا تھا ۔ احسن اقبال نے تو اسے آگے بڑھایا اور تکمیل کی طرف گامزن رکھا ۔ اب یہی سپورٹس کمپلیکس اُن کی جان کو آگیا ہے ۔ اِسی کی بنیاد پر اُٹھنے والے الزامات کے کارن ”نیب” نے اُنہیںدھر لیا ہے ۔ نون لیگ کی مرکزی قیادت کی طرف سے اس گرفتاری پر سخت احتجاج سامنے آرہا ہے اور اسے”عمران خان کی انتقامی سیاست” کا نام دیا جارہا ہے ۔ نون لیگ کے صدرشہباز شریف نے لندن سے اس گرفتاری کی مذمت کی ہے ۔ نارووال میں بھی عوام اور احسن اقبال کے ووٹروں نے بڑے بڑے احتجاجی جلوس نکالے ہیں لیکن اس سب کے باوجود سابق وزیر داخلہ (جنہیں انتخابات کے دوران گولی بھی لگی تھی) ”نیب” کی تحویل میں ہیں ۔ احسن اقبال نے گرفتار کرنے والوں کو چیلنج کیا ہے کہ اُن پر عائد کئے جانے والے الزامات کا مقدمہ عوام کے سامنے اور ٹی وی پر چلایا جائے تاکہ وہ سب کے سامنے ان تہمتوں اور الزامات کا عوام کی عدالت میں جواب دے سکیں ۔دیکھتے ہیں احسن اقبال کا چیلنج کون ، کب قبول کرتا ہے ۔ لگتا مگر یہی ہے کہ یہ کیس طُول پکڑے گا ۔ پروفیسر احسن اقبال کی جان اس شکنجے سے جلد چھُوٹنے والی نہیں ہے ۔ وزیر مملکت برائے انسدادِ منشیات شہر یار آفریدی کا بیان ہے کہ ”یہ ضمانتوں کا موسم ہے۔” اور اگر واقعی ایسا ہی ہے تو ممکن ہے ضمانتوں کے اس موسم کا فائدہ احسن اقبال کو بھی مل جائے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.