اہم خبرِیں
انوپم کھیر کا خاندان بھی کورونا وائرس کا شکار فیصل واوڈا نے کے الیکٹرک سے متعلق بلاول بھٹو کی رپورٹ کو کرپشن... چین میں طوفانی بارشوں کے باعث بدترین سیلابی صورتحال پیدا گوگل کا بھارت میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان ’ارطغرل غازی‘ کی حلیمہ سلطان کو کیو موبائل نے اشتہار کیلئے منت... احسن اقبال کی نیب کو وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی د... ہوٹل کی7 ویں منزل سے گرنے والے شخص کی بالکونی میں دوسرے شخص سے... اسلام آباد ہائیکورٹ نے آن لائن پب جی گیم پر پابندی کےخلاف درخو... افغانستان سے پاکستان چرس کی بڑی کھیپ کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام سیاست سے دور جہانگیر ترین ان دنوں کہاں؟ لاہور سمیت پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں بجلی کی آنکھ مچولی جا... حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت، سپریم کورٹ دودھ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ بن قاسم پاور پلانٹ میں تکنیکی خرابی کا دعویٰ ،کے الیکٹرک 45 سالہ شخص کی 6 سالہ بچی سے زیادتی شوگر ملز ایسوسی ایشن سے جہانگیر ترین گروپ کا خاتمہ کووڈ-19 کی ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے خدمات انجام دینے پرپاکستان... سی ٹی ڈی کی کاروائی پر کالعدم تنظیم کے تین دہشت گرد گرفتار پنجاب میں لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری یواے ای کا مریخ پرروانہ ہونیوالا مشن ملتوی

سوشل میڈیا پر مجوزہ پابندیوں کے منصوبو ں کے خلاف قومی و عالمی ردعمل

جناب عمران خان نے اپوزیشن کے زمانے میں ہمیشہ اور ببانگِ دہل تسلیم کیا کہ وطنِ عزیز پاکستان میں میڈیا اگر آزاد نہیں ہے تو ملک ترقی کر سکتا ہے نہ سیاست میں آزادی آ سکتی ہے ۔وہ یہ بھی تسلیم کرتے رہے ہیں کہ کرپٹ حکمران ہی ملک میں آزادی اظہار پر پابندیاں لگانے اور میڈیا کا گلا گھونٹنے کے منصوبے بناتے ہیں تاکہ اُن کی کرپشن کی کہانیاں زبان زدِ خاص و عام نہ ہو جائیں ۔ بلا شبہ عمران خان صاحب جنرل میڈیا اور سوشل میڈیا کی آزادی کے بڑے علمبردار رہے ہیں ۔ لاریب اُن کا اقتدار میںآنا میڈیا کی اعانت اور محبت کا نتیجہ ہے ۔ پی ٹی آئی نے اقتدار میں آتے ہی مگر میڈیا کی مشکیں کسنے کی کوششیں کرنا شروع کر دی تھیں ۔ اس کے پہلے وزیر اطلاعات ، فواد چودھری ، نے میڈیا کی آزادی سلب کرنے کیلئے کئی عملی اقدامات کرنے کی سعی بھی کی ۔ اخبارات اور ٹی ویوں کو سرکاری اشتہارات کی ترسیل میں یکدم اور دانستہ کمی اس سٹریٹجی کا حصہ تھی ۔ یہ اب بھی جاری ہے ۔ اور اب عمران خان کی حکومت ملک میں متحرک سوشل میڈیا کی آزادی پر سخت پابندیاں عائد کرنے جارہی ہے ۔ مصدقہ خبریں سامنے آچکی ہیں ۔ اِسی لئے وطنِ عزیز میں ”سی پی این ای” کے صدر جناب عارف نظامی کی طرف سے باقاعدہ احتجاج اور تشویش کا اظہار کرتے ہُوئے کہا گیا ہے کہ ” سوشل میڈیا کیلئے وفاقی حکومت کی جانب سے قوانین کی منظوری پر ہمیں شدید تحفظات ہیں ۔ان قوانین پر اسٹیک ہولڈرز سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی ۔ حکومت کا یہ خفیہ اقدام جاننے اور معلومات تک رسائی کے آئینی حقوق کے خلاف ہے ۔یہ قوانین اختلافِ رائے اور آزادی اظہار پر قدغن لگانے کی کوشش ہے ۔”اس تشویش کی گرمی حکومت تک بھی پہنچی ہے ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ 19فروری2020ء کو خبر آئی کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے متعارف کروائی گئی حالیہ ‘پابندیوں’ پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد وزیراعظم عمران خان نے متعلقہ حکام کو ان قواعد کے نفاذ سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ اسلام آباد میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ تمام انٹرنیشنل سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کمپنیاں پاکستان میں کام جاری رکھیں گی اور حکومت ان کے تحفظات دور کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق اس بارے میں سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی شعیب صدیقی نے میڈیاکو بتایا کہ ‘اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ(سوشل میڈیا بارے) نئے قوانین کے نفاذ سے قبل تمام بین الاقوامی اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا جائے گا’۔اجلاس میں شرکت کے بعد سیکرٹری انفارمیشن کا مزید کہنا تھا کہ حکومت، انٹرنیشنل انٹرنیٹ کمپنیوں سے رابطے میں ہے اور جلد ان کے نمائندوں کو ایک اجلاس کے لیے بلایا جائے گا تاکہ انہیں نئے قوانین سے آگاہ کیا جاسکے اور پاکستان میں سوشل میڈیا ریگولیشن کے لیے ان کی تجاویز حاصل کی جاسکیں۔دوسری جانب صحافیوں کے عالمی ادارے یا تنظیم ”رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز” (RSF) نے حکومت سے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے متعارف کروائے گئے قواعد ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کی ریگولیشن ضروری ہے لیکن یہ سینسر شپ کا بھیس بدل کر نہیں کرنی چاہیے۔آر ایس ایف نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘انٹرنیٹ کو گھٹنوں پر لانے کی کوششوں میں آگے بڑھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے نئے قواعد(سیٹیزن پروٹیکشن اگینسٹ آن لائن ہارم رولز، 2020) 28 جنوری2020ء کو ایک خفیہ میمو میں منظور کیے’۔آر ایس ایف ایشیا پیسیفک ڈیسک کے سربراہ ڈینیئل بسٹارڈ کا کہنا تھا :” ریگولیشن میں استعمال کردہ مبہم اور غیر واضح زبان حکومتی اقدامات کی صوابدیدی نوعیت کی گواہی دیتی ہے۔ہم وفاقی حکام پر زور دیتے ہیں کہ ان قواعد کو ختم کیا جائے جو صحافیوں کے کام خصوصاً ان کے ذرائع کی رازداری کے حوالے سے بڑا خطرہ ہیں، سوشل میڈیا کی ریگولیشن ضروری ہے لیکن اسے سینسرشپ کے بھیس میں نہیں ہونا چاہیے ۔یہ قواعد سوشل میڈیا کمپنیوں پر حکومتی کنٹرول کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کردہ اقدامات ہیں۔” جب حکومت کی طرف سے سوشل میڈیا پر خفیہ طور پر پابندیاں لگانے کی خبریں عام ہونے لگیں تو ایشیا انٹرنیٹ کولیشن (AIC) نے وزیراعظم عمران خان کے نام لکھے گئے خط میں انہیں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے حکومت کے نئے قواعد سے پاکستان میں ڈیجیٹل کمپنیوں کا کام کرناانتہائی مشکل ہوجائے گا۔اے آئی سی کی جانب سے 15 فروری کو لکھے گئے خط کی نقول وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم، وزیرانفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھاٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) عامر عظیم باجوہ کو بھی بھیج دی گئی ہیں۔وزیراعظم کو اے آئی سی نے یہ خط سوشل میڈیا کے حوالے سے حکومت کے نئے قواعد کے جواب میں لکھا گیا ہے جس کے مطابق کسی قسم کی دستاویز یا معلومات کو جاری کرتے وقت متعلقہ تحقیقاتی ادارے کو دکھائی جائیں گی اور ان میں شرائط پر عمل کرنے میں ناکامی کی صورت میں 50 کروڑ تک جرمانہ کیا جائے گا۔اے آئی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر جیف پین نے خط میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے :”یہ قواعد پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو بری طرح اپاہج کردیں گے ۔اے آئی سی کے اراکین اس بات کے معترف ہیں کہ پاکستان میں صلاحیت ہے لیکن اچانک ان قواعد کے اعلان سے حکومت پاکستان کے ان دعووں کو جھٹلا دیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہوا ہے۔اس وقت بنائے گئے قواعد سے درحقیقت اے آئی سی اراکین کو پاکستان میں صارفین اور کاروبار کے لیے اپنی خدمات پہنچانے کے لیے انتہائی مشکل ہوگا”۔ یاد رہے کہ اے آئی سی اراکین میں نمایاں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی کمپنیاں شامل ہیں جن میں فیس بک، ٹویٹر، گوگل، ایمیزون، ایپل، بکنگ ڈاٹ کام، ایکسپیڈیا گروپ، گریب، لنکڈ ان، لائن ریکوٹین اور یاہو بھی شامل ہے۔گروپ کی جانب سے خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کسی اور ملک میں اس طرح کے ”یکطرفہ قوانین”کا اعلان نہیں کیا گیا اور پاکستان غیر ضروری طور پر پاکستانی صارفین اور انٹرنیٹ اکانومی کے بے پناہ مواقع کے حامل کاروبار کو غیر ضروری طور پر نظرانداز کرکے عالمی طور پر اس میدان سے منہا ہونے کا خطرہ مول رہا ہے۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت یا ان کا نقطہ نظر جانے بغیر قوانین کی منظوری دی ہے اور بین الاقوامی کمپنیوں کو پاکستان میں اپنے کاروبار کے منصوبے پر نظر ثانی کا باعث بن گیا ہے۔اے آئی سی نے کہا :”جس طرح ان قوانین کو منظور کیا گیا ہے، وہ بین الاقوامی کمپنیوں کو پاکستان میں قانونی ماحول سے متعلق اور ملک میں اپنی سرگرمیوں کی خواہش پر دوبارہ جائزہ لینے کی وجہ بن رہے ہیں۔ہم حکومتِ پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ نئے قواعد بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر مکمل عوامی مشاورت کو یقینی بنائیں ۔ہم سوشل میڈیا کے حوالے قانونی سازی کے خلاف نہیں ہیں جبکہ پاکستان میں پہلے ہی آن لائن بیانات پر وسیع قانونی فریم ورک موجود ہے لیکن بدقسمتی سے انفرادی سطح پر اظہارِ رائے کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ نئے قوانین جیسے اہم مسائل کو سلجھانے کے لیے ناکافی ہیں۔ نہ تو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ اور نہ ہی پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 میں قانون کے ذریعے کوئی ضمانت نہیں دی گئی ہے، اس کے برعکس PECA مصالحت کاری یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بحفاظت افعال کو تحفظ دیتا ہے۔اے آئی سی نے خط کے آخر میں کہا ہے کہ ہم حکومتِ پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کی معیشت پر ان قوانین کے باعث پڑنے والے غیرمتوقع اثرات کا جائزہ لیں۔دوسری جانب حکومتِ پاکستان کا اصرار ہے کہ نئے قواعد کا مقصد اظہار پر قدغن لگانا نہیں ہے بلکہ شہریوں کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کے اداروں نے اس پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔ عجب کھچڑی پک رہی ہے ۔ حکومت اور سوشل میڈیا کمپنیوں میں عدم اعتماد کی خلیج بڑھ رہی ہے ۔اے آئی سی نے رواں ہفتے کے اوائل میں بھی ایک بیان میں حکومتی قواعد پر اسی طرح کے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔بیان میں کہا تھا کہ’ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کو حکومت پاکستان کی جانب سے اسٹیک ہولڈرز اور صنعت سے مشاورت کے بغیر وسیع پیمانے پر آن لائن قواعد جاری کرنے پر تشویش ہے۔ان اصولوں کے تحت سوشل میڈیا کمپنیاں کسی تفتیشی ادارے کی جانب سے کوئی معلومات یا ڈیٹا مانگنے پر فراہم کرنے کی پابند ہوں گی اور کوئی معلومات مہیا نہ کرنے کی صورت میں ان پر 5 کروڑ روپے کاجرمانہ عائد ہوگا۔کابینہ سے منظور ہونے والے قواعدمیں کہا گیا تھا کہ ان قواعد و ضوابط کے تحت اگر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تحریری یا الیکٹرونک طریقے سے’غیر قانونی مواد’ کی نشاندہی کی جائے گی تو وہ اسے 24 گھنٹے جبکہ ہنگامی صورت حال میں 6 گھنٹوں میں ہٹانے کے پابند ہوں گے۔نئے قواعد میں کہا گیا تھا کہ ان کمپنیوں کو آئندہ 3 ماہ کے عرصے میں عملی پتے کے ساتھ اسلام آباد میں رجسٹرڈ آفس قائم کرنا ہوگا۔اس کے ساتھ ان کمپنیوں کو 3 ماہ کے عرصے میں پاکستان میں متعلقہ حکام سے تعاون کے لیے اپنا فوکل پرسن تعینات کرنا اور آن لائن مواد کو محفوظ اور ریکارڈ کرنے لیے 12 ماہ میں ایک یا زائد ڈیٹا بیس سرورز قائم کرنا ہوں گے۔سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی شعیب احمد صدیقی نے بھی اس حوالے سے رابطہ کرنے پر میڈیا کو بتایا تھا کہ ان قواعد و ضوابط کی کابینہ نے 28 جنوری کو ہونے والے اجلاس میں منظوری دی تھی اور رائے دی تھی کہ کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ پاکستان ٹیلی کمیونکیشن(ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996ء اینڈ پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ، 2016 کے ماتحت قانون سازی ہے’۔اسی دوران انسانی حقوق کی تنظیم” ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان” (HRCP) اور وفاقی صحافتی تنظیم” پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس” (PFUJ) نے بھی حکومت سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔ایچ آر سی پی نے سوشل میڈیا کے حوالے سے وضع کردہ مبینہ نئے قوانین پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا، جس کے تحت سوشل میڈیا پر مجاز اداروں کو آزادی اظہار رائے کومذہبی، ثقافتی، نسلی و قومی سلامتی کے لیے حساس مسائل کا تحفظ کرنے کے لیے کنٹرول حاصل ہوگا۔پاکستان میں وکلا برادری کی نمائندگی کرنے والی اعلیٰ تنظیموں نے بھی حکومت کی جانب سے اظہارِ رائے کی آزادی اور آن لائن شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق پر قدغن لگانے اور میڈیا کو ہراساں کرنے کی رپورٹس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان بار کونسل (PBC) کے نائب چیئرمین عابد ساقی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (SCBA) کے صدر سید قلب حسن نے کہا ہے :” سیٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) رولز 2020ء کا مقصد سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا ہے۔ یہ قواعد اسٹیک ہولڈرز مثلاً وکلا برادری، میڈیا اور شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے مشاورت کے بغیر خفیہ طریقے سے بنائے گئے۔ پی بی سی کا ماننا ہے کہ بادی النظر میں یہ قواعد آزادی اظہار کو روکنے، شہریوں کی پرائیویسی پر حملہ کرنے اور آن لائن معلومات تک ان کی رسائی محدود کرنے کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔یہ اقدامات نہ صرف آئین کی دفعہ 14، 19 اور 19 (اے) سے متصادم ہیں بلکہ شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی کنوینشن کے بھی خلاف ہیں جس پر پاکستان نے دستخط کر رکھے ہیں۔ پی بی سی کو تشویش ہے کہ الیکٹرونک کرائم ایکٹ کی طرح جسے برقی جرائم کی روک تھام کے لیے لایا گیا تھا لیکن اصل میں آن لائن اظہارِ رائے پر قدغن عائد کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، سوشل میڈیا سے متعلق ان (نئے) قواعد کا مقصد بھی آن لائن مواد اور شہریوں کو آن لائن نقصانات سے بچانے کے بجائے صارفین کے درمیان روابط پر ریاست کو مزید کنٹرول فراہم کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنے آپ کو رجسٹر کروانے، مقامی سطح پر دفتر قائم کرنے اور مقامی قوانین پر عمل کروانے کا نتیجہ سائبر اسپییس کی بے انتہا آن لائن سینسر شپ کی صورت میں نکلے گا۔”بار کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہ آمرانہ قواعد واپس لئے جائیں کیونکہ سوشل میڈیا کی ریگولیشن کی آڑ میں ان قواعد جیسے اقدامات سے قوم کو تکلیف پہنچتی ہے۔دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید قلب حسن کا کہنا ہے کہ ایس بی سی اے کو یقینِ محکم ہے کہ میڈیا کے آزادانہ اور منصفانہ طور پر کام کرنے کے بغیر حقیقی جمہوریت کا کوئی تصور نہیں کیونکہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے اور ہمیشہ انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے حکومت سنبھالنے سے لیکر اب تک” پیمرا” کا کردار متنازع ہے اور اس کی غیر جانبداری مجروح ہونے کے حوالے سے سوالات اُٹھ رہے ہیں۔وطنِ عزیز میں صحافیوں ، صحافتی اداروں اور سوشل میڈیا کے خلاف حکومتی سطح پر جو کھلواڑ ہورہا ہے اور جس طرح ہماری صحافت کی مشکیں کسنے اور صحافیوں کی زندگیاں اجیرن بنانے کی کوششیں بروئے کار لائی جارہی ہیں ، اس کی بازگشت عالمی اداروں میں بھی سنائی دینے لگی ہے ۔ مثال کے طور پر IFJکی طرف سے پاکستان کی صحافت پر آئے برے وقت پر تازہ ترین احتجاج !!20فروری 2020ء کو انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری مسٹر جیریمی ڈیئر نے پاکستان میں صحافیوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات، عدم تحفظ، بے روزگاری، صحت و انشورنس سمیت دیگر مسائل کو تشویشناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستانی صحافی چاہیں گے تو وہ پاکستان میں صحافیوں کو درپیش مسائل پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سمیت دیگر عالمی فورمز پرآواز اٹھا سکتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کا بھی ایک اپنا ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں کوئی شفاف و غیر جانبدارانہ قانون بھی ہونا چاہیے لیکن پاکستان میں اس کی آڑ میں آزادی اظہار اور صحافتی آزادی پر قدغن نہیں لگانی چاہیے۔انہوں نے یہ بات کونسل آف پاکستان نیوزپیپرایڈیٹرز (CPNE) کی دعوت پر سی پی این ای سیکریٹریٹ( کراچی) میں اخباری مدیران اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سی پی این ای سیکریٹریٹ آمد پر ڈپٹی جنرل سیکرٹری عامر محمود اور دیگر مدیران نے انہیں خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر مسٹر جیریمی ڈیئرنے کہا:” آئی ایف جے کے ساتھ 140 ممالک سے چھ ہزار سے زائد صحافی منسلک ہیں۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس دنیا بھر میں صحافتی آزادی اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جہاںمیڈیامکمل طور پر آزاد ہو۔ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں صحافتی آزادی اور صحافیوں کے تحفظ کی صورتحال سنگین ترین ہوگئی ہے۔ صحافیوں کو سستا اور فوری انصاف میسر نہیں۔ پاکستان میں صحافیوں پر حملے ہور ہے ہیں، انہیں قتل کیا جارہا ہے،صحافیوں کوان کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی سے روکا جارہا ہے۔ صحافیوں کی ملازمتوں کو تحفظ حاصل نہیں ہے، انہیں بے روزگار کیا جارہا ہے، وہ کئی کئی مہینوں سے بغیر تنخواہ کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہیں صحت اور انشورنس کی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جارہیں۔ یہ صورتحال بہت تشویشناک ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ صحافتی ادارے چلتے بھی رہیں اور آزادی صحافت کو بھی یقینی بنایا جائے۔” پاکستان میں سوشل میڈیا سے متعلق حکومتی قوانین اور وضع کئے گئے مبینہ نئے قواعد کے حوالے سے بھی اُنہوں نے اپنی تشویشات کا اظہار کیا ہے ۔حکومت سے ہماری بھی استدعا ہے کہ سوشل میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کرنے سے قبل وسیع پیمانے پر مشاورت کر لی جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے مشاورت میں بڑی برکت رکھی ہے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.