Latest news

!سورج کی دوستی پہ جنہیں ناز تھا فراز، وہ بھی تو زیر سایہ دیوار آگئے

دیکھا جائے تو پچھلے دو ہفتے کے دوران وطنِ عزیز کی جملہ سیاست صرف ایک نقطے اور ایجنڈے پر آ کر کھڑی ہو گئی تھی ۔ سب سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں اور سرگرمیوں کا مرکز یہی ایک نقطہ بن گیا تھا۔ ملک اس وقت شدید بحرانوں اور عالمی نازک حالات میں گھرا ہے لیکن ان سب سے قطعِ نظر محض یہ ایک نقطہ اور ایجنڈا مشہور انگریزی محاورے کے مطابق ”طوفان کی آنکھ” بن کر رہ گیا تھا۔ لگتا یہی تھا کہ اگر یہ نقطہ حل نہ ہُوا تو ملک وقوم دونوںدیوالیہ ہو کر رہ جائیں گے اور ملکی ترقی کا پہیہ منجمد ہی رہے گا ، جو پہلے ہی پی ٹی آئی کی حکومت کی متعدد پالیسیوں کے کارن رک چکا ہے اور پورا ملک زوال آمادہ معیشت کے چنگل میں پھنس چکا ہے اور باہر نکلنے کی راہیں مسدود ہو چکی ہیں ۔”طوفان کی آنکھ” بن جانے والا یہ نقطہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع تھا۔ گذشتہ برسوں میں کئی ایسے سپہ سالارِ پاکستان بھی تشریف لائے جنہوں نے کسی پارلیمنٹ اور عوام کی مرضی جانے بغیر خود ہی اپنی ملازمت میں توسیع کرڈالی ۔ یہ اقدام بار بار کئے اور عوام چپ سادھے رہے ۔ آمریت کا قہرمانہ ڈنڈا سب کے لبوں پر تالے ڈالے رہا ۔ایسا وقت بھی آیا جب ووٹوں کی طاقت سے منتخب ہونے والی سویلین حکومت کے وزیر اعظم نے ”قوم کے وسیع تر مفادمیں” کسی من پسند آرمی چیف کو ایکسٹینشن دے دی تاکہ کسی تنازعے اور پھڈے سے محفوظ رہا جائے ۔ ایسے بھی آرمی چیف آئے جو چاہتے تو تھے کہ اُن کی ملازمت میں بھی دو چار سال کی توسیع ہو جائے لیکن منتخب وزیر اعظم نے یہ ایکسٹینشن نہیں دی ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کو بھی پچھلے سال ماہِ اگست میں وزیر اعظم عمران خان نے تین سال کی ایکسٹینشن دے دی تھی ۔ یوں سمجھا گیا تھا کہ ایک معاملہ تو حل ہو گیا ہے لیکن پچھلے چیف جسٹس آف پاکستان جناب آصف سعید خان کھوسہ نے جاتے جاتے یہ حکم سنا دیا کہ ملازمت میں توسیع کے معاملے کی باقاعدہ منظوری پارلیمنٹ سے لی جائے تاکہ اسے آئینی اور قانونی حیثیت حاصل ہو جائے ۔ بس یہیں سے معاملات نے نیا موڑ مُڑا۔کہا گیا اور سوچا گیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت سے اپوزیشن کے معاملات چونکہ خاصے بگڑ چکے ہیں ، حکومت نے اپوزیشن کے کئی قائدین کو احتساب کے نام سے خاصا زچ کررکھا ہے ، اسلئے جب ایکسٹینشن کیلئے ترمیمی بلز پارلیمنٹ میں پیش کئے جائیں گے تو حکومت کو مشکلات کے کئی دریا عبور کرنا پڑیں گے ۔ کئی شرائط ماننا پڑیں گی لیکن پاکستان کے 22کروڑ عوام نے یہ حیرت خیز منظر ملاحظہ کیا کہ جب یہ بلز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کئے گئے تو اپوزیشن نے کسی مزاحمت کے بغیر انہیں شرفِ قبولیت بخش دیا۔ بقول شخصے: یہ صرف ڈھائی گھنٹے کا ”کھیل” تھا۔ اس کھیل کو کھیلنے کے لیے تمام رولز معطل کرکے بل پیش کیے گئے ۔ جنوری 2020ء کے پہلے ہفتے ہی میں مشترکہ قائمہ کمیٹی نے بھی کمال تیزی کے ساتھ بغیر کسی اعتراض کے یہ بل منظور کرلیا اور قومی اسمبلی سے باہر آکر وزیرِ قانون فروغ نسیم صاحب قوم کو مبارک دے رہے تھے۔جب بل پاس کرانے کا عمل شروع ہوا تو اجلاس کی کارروائی میں سب کچھ ملا کر آٹھ منٹ کا وقت لگا۔ قومی سلامتی کے نام پر کسی نے بلواسطہ تو کسی نے بلاواسطہ اپنا حصہ ڈالا۔ مسلم لیگ نون نے غیر مشروط حمایت کی تو پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنی شدید ترین مخالف حکومت کو ایک بڑی پریشانی سے بچالیا۔پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق قانون سازی سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت کی روشنی میں عمل میں لائی گئی ہے۔ اس قانون سازی کے عمل کے بعد حزبِ مخالف کی بڑی جماعتیں جہاں اپنے حامیوں سے منہ چھپاتی پھر رہی ہیں، وہیں دوسری طرف مخالفین انہیں خراجِ تحسین پیش کررہے ہیں۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری بڑی ”شاندار” بھی ہے اور” تاریخی ”بھی۔پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے باہر نکلنے والے ایک (ن) لیگی رکن بہت ہی جذباتی انداز میں بتارہے تھے کہ ”بڑے صاحب نے لندن سے فون کرکے کہا ہے کہ جو کہا جارہا ہے وہ کردو، سوال نہ کرو”۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ملک کے پارلیمانی حلقوں میں یہ بحث شروع ہوگئی تھی کہ دیوار سے لگائی گئی جس اپوزیشن پر سویلین بالادستی کا سحر طاری ہے، کیا وہ اس بار سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں سیاسی نظام کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی؟ یا کرسکے گی؟لیکن ان دنوں ابھی یہ بات واضح نہیں تھی کہ صرف آرمی ایکٹ میں ترمیم ہوگی یا اس میں آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ اپوزیشن کے مختلف اکابرین سے جب بھی اس بارے میں سوال ہوا تو کہا گیا کہ جب تک حکومت اس بارے میں کوئی بات نہیں کرتی، تب تک وہ بھی اس معاملے پر بات نہیں کریں گے۔ پاکستان میں آئینی اسکالر مانے جانے والے سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کا بھی یہی موقف تھا۔سپریم کورٹ کا فیصلہ پچھلے برس نومبر کے آخری ہفتے میں آیا تھا، اس لیے امید کی جارہی تھی کہ حکومت دسمبر2019ء میں اس معاملے پر کوئی اقدام کرے گی، لیکن دسمبر کے موسم کی طرح اس معاملے پر بظاہر حکومت کا رویہ بھی بہت ہی سرد محسوس ہوا، لیکن نئے سال کا جنوری ایسا نہیں تھا۔شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس 5 یا 6 جنوری کو ہونا تھا، لیکن اچانک 31 دسمبر کو صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی صاحب کی جانب سے یکم جنوری کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کرلیے گئے۔ اس ہنگامی طور پر بلائے جانے والے اجلاس پر پیپلزپارٹی نے شدید شور مچایا کہ 24 گھنٹے سے بھی کم کے نوٹس پر اجلاس میں شرکت ممکن ہی نہیں۔لیکن اس شور کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور یکم جنوری 2020ء کو قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جو معمول کے مطابق رہا۔ اپوزیشن والے ”کن کھر ہلائے ” بغیر حاضر ہو گئے۔ پھر سب نے دیکھا کہ2 جنوری کو مسلم لیگ نون اور حکومت،سب ایک پیج پر تھے۔ ماشاء اللہ۔یہ ایک حیران کن منظر تھا۔ وزیرِ دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی وفد بھی زرداری ہاؤس اسلام آباد حاضر ہوگیا، اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل پر پیپلزپارٹی سے غیر مشروط حمایت کی درخواست کردی۔اس ملاقات میں رضاربانی بھی موجود تھے ۔ حکومتی وفد روانہ ہوا تو کچھ دیر بعد بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئیٹ کیا کہ قانون سازی کے لیے پارلیمانی قواعد کی پاسداری ہونی چاہیئے۔ یہ بجھتی شمع کی آخری پھڑ پھڑاہٹ تھی۔ جو لوگ پارلیمنٹ میں موجود تھے، اُنہوں نے دیکھا کہ تین جنوری کو صبح سے ہی پارلیمنٹ ہاؤس میں بڑی گہما گہمی تھی۔ ایک طرف حکومتی جماعت کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہورہا تھا تو دوسری طرف مسلم لیگ نون اور جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی سر جوڑ کر بیٹھی ہوئی تھی۔ بلاول بھٹو زرداری اپنے چیمبر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نون لیگ کی دغا بازی کا رونا یوںرو رہے تھے کہ”یہ پیپلزپارٹی ہر بار نون لیگ کے سوراخ سے ہی کیوں خود کو ڈسواتی ہے”؟ لیکن ساتھ ہی بلاول بھٹو کے مشیروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ دوسرا راستہ کوئی نہیں ہے۔جس وقت بلاول بھٹو زرداری اپنے چیمبر میں میڈیا سے بات کررہے تھے ،اس وقت جے یو آئی (ف) کا ایک اجلاس مولانا عبدالغفور حیدری کی صدارت میں جاری تھا۔ اس اجلاس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی مخالفت کا ہی فیصلہ ہوا( پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور پی ٹی آئی کے اتحادی چودھری پرویز الٰہی نے جے یو آئی ایف کے قائد مولانا فضل الرحمن کے گھر حاضر ہو کر اُنہیں بل کی حمائت میں رام کرنے کی کوششیں تو بہت کیں لیکن مولانا صاحب اُن کے ڈھب پر نہ آئے ) کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کی یہ واضح ناکامی تھی ۔اور پھر انہی حالات میں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہُوا جس نے ایک تاریخ مرتّب کرنی تھی ۔سب سے پہلے وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے وقفہ سوالات معطل کرنے کے لیے تحریک پیش کی جو منظور کرلی گئی۔پھر خواجہ آصف نے سپیکر قومی اسمبلی سے مخاطب ہوتے ہُوئے کہا کہ اسیر ارکان کے لیے ہم نے آپ کو پروڈکشن آرڈرز کے لیے کہا ہے، اہم قانون سازی ہونے جارہی ہے اور اسیر ارکان کا ایوان میں ہونا ضروری ہے، لہٰذا اس بات کو یقینی بنائیں کہ چار جنوری کو اسیر ارکان ایوان میں موجود ہوں، قانون سازی میں ان کو ووٹ کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔ یہ گزارش سُنی، ان سُنی کردی گئی ۔پھر اسپیکر نے وزیرِ دفاع پرویز خٹک کو بل پیش کرنے کی دعوت دی۔ اُنہوں نے 3 منٹ میں 3 بل پیش کردیے اور قومی اسمبلی کا اجلاس اگلے دن ہفتے کو چھٹی ہونے کے باوجود صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ اتنی اہم قانون سازی پر قومی اسمبلی کے اجلاس کا یہ دورانیہ مختصر رہا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اجلاس شروع ہونے سے قبل ہی یہ پیغام دے دیا گیا تھا کہ قومی اسمبلی میں پیش ہونے والے بلز پر پارلیمانی روایت کے تحت قائمہ کمیٹی کا مشترکہ اجلاس 2 بجے طلب کیا گیا ہے۔ روایات کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ جس ایوان میں بل پیش ہو اس کی ہی قائمہ کمیٹی اس بل پر اپنی سفارشات دیتی ہے، لیکن کیونکہ عجلت زیادہ تھی، اس لیے حکومت کی طرف سے سوچا گیا کہ سینیٹ میں بل پیش کرنے سے پہلے ہی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے ارکان کو بھی قومی اسمبلی کی کمیٹی میں بٹھا کر ان سے رائے لے لی جائے۔ اور پھر اُسی روزدوپہر دوبج کر 10 منٹ پر کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین امجد خان نیازی کمیٹی میں موجود نہیں تھے، اس لیے ان کی جگہ کیپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد خان سے صدارت کروائی گئی۔ آدھے گھنٹے میں مشترکہ کمیٹی نے بل کی متفقہ منظوری دے دی۔ وزیرِ قانون فروغ نسیم نے اجلاس کے بعد باہر آکر اس کا اعلان بھی کردیا۔(ن) لیگ کی جانب سے بل کی غیر مشروط حمایت کے اعلان پر عوامی ردِعمل نے اسے دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کردیا تھا، جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد کہا کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل سینیٹ کی کمیٹی کے پاس بھی جانا چائیے۔ 6 جنوری2020ء کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس ایک بار پھر طلب کرلیا گیا، جس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل دوبارہ غور کے لیے ایجنڈے پر رکھے گئے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بری، بحری اور فضائیہ کے ترمیمی بلز کی منظوری دی گئی۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے کہا گیا کہ ان کی جانب سے تین تجاویز پیش کی گئیں تھیں اور حکومت نے یقین دہانی کروائی تھی کہ ان کو اس ایکٹ میں شامل کرلیا جائے گا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔سات جنوری کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایجنڈے پر آرمی ایکٹ میں ترامیم کے تینوں بل ایجنڈے پر رکھ دیے گئے۔ یہ اجلاس اس حوالے سے بھی اہم اور خاص الخاص رہا کہ اپنی حکومت میں کم ترین شرکت کا ریکارڈ رکھنے والے ہمارے وزیرِاعظم عمران خان صاحب نے بھی اپنی موجودگی سے ایوان کو رونق بخشی۔ وہ چھ مہینے بعد قومی اسمبلی میں تشریف لائے تھے ۔ اُن کے اپنی سیٹ پر براجمان ہوتے ہی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین نے اپنی کمیٹی سے منظور ہونے والے تینوں بلز کی رپورٹ پیش کی۔ اس کے بعد وزیرِ دفاع پرویز خٹک نے باری باری تینوں بلز پیش کیے۔جب وہ بلز پیش کررہے تھے تو اچانک جمعیت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی اور قبائلی اضلاع کے (دو) ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ واک آؤٹ کرنے والے ارکانِ اسمبلی ابھی لابی میں ہی تھے کہ تینوں بل منظور کرلیے گئے اور اجلاس کو ختم کردیا گیا۔ اس دوران ایوانوں کے کیمرے بند کرنے کی اطلاعات بھی میڈیا میں گردش کرتی رہیں۔حیرانی کی بات ہے کہ اس تاریخ ساز اجلاس اور ووٹنگ میں نون لیگ کے احسن اقبال ،رانا ثناء اللہ ، شاہد خاقان عباسی ایسے اہم ارکانِ اسمبلی شریک ہی نہ ہُوئے اور نہ ہی بلاول بھٹو اور آصف زرداری رائے شماری کے وقت ایوان میں موجود تھے ۔ درحقیقت گزشتہ پورا ہفتہ جو کچھ ہوا، وہ سب ”قومی مفاد” میں ہی ہوا۔ مسلم لیگ نون نے غیر مشروط حمایت کرکے اپنا ”فریضہ” ادا کیا، جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا۔ یوں قانون سازی کے اس تاریخ ساز عمل کو متنازعہ بنانے سے گریز ہی کیا گیا۔ شاعر نے شائد ایسے ہی کسی لمحے کی حقیقت بیان کرتے ہُوئے کہا ہے :
سورج کی دوستی پہ جنہیں ناز تھا فراز
وہ بھی تو زیرِ سایہ دیوار آ گئے!!
قوم کے” وسیع تر مفاد میں” ارکانِ قومی اسمبلی اکثریتی رائے سے یہ تاریخ ساز ترمیم منظور کر چکے ہیں ۔9جنوری 2020ء کو سینیٹ کے ارکان نے بھی اسے منظور کر لیا۔صدرِ مملکت ان پر دستخط کر چکے ہیں ۔آرمی ایکٹ کی تینوں ترامیم اب قانون بن چکی ہیں۔ سب کو اس پر فخر ہونا چاہئے اور خوشی ،مسرت اور اطمینان کا اظہار کرنا چاہئے کہ نئے پیدا ہونے والے حالات میں قومی سلامتی کے پیشِ نظر ایک اہم معاملہ متفقہ طور پر طے پا گیا ہے ۔ لیکن حیران کن مناظر یہ ہیں کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگئے نادم نادم سے نظر آ رہے ہیں ۔ جھکے ہُوئے سروں کے ساتھ وضاحتیں دے رہے ہیں ۔ اُن کے لہجے کی گھن گرج غائب ہو چکی ہے ۔ جو لندن میں براجمان ہیں ، اُنہیں تو بالکل ہی سانپ سونگھ گیا ہے ۔ شہباز شریف کی منمناتی سی آواز آئی ہے کہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ہم نے ترمیم کی منظوری کیلئے ووٹ دیا ہے ۔ زیادہ باتیں کرنے اور لمبی لمبی تقریریں کرنے والی محترمہ مریم نواز شریف خود بھی خاموش ہیں اور اُن کا ٹوئٹر بھی ۔ بس سوشل میڈیا پر مریم نواز کے کچھ ملازمین ، چیلے چانٹے اور وفادار عناصر اپنی قائد کی حمائت کرتے اور اُنہیں ”مستقبل کی بڑی لیڈر” ثابت کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ ”ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگانے اور اس حوالے سے ”غیرتمندی” کے اشعار پڑھنے والے نواز شریف تو بالکل ہی خاموش ہو چکے ہیں ۔ نجانے کیوں؟ عوام کا ایک کثیر طبقہ نون لیگ اور اُن کی قیادت سے نالاں اور ناراض ہے اور یہ کہتا بھی سنائی دے رہا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے اپنی بے تحاشہ دولت اور آل اولاد بچانے کیلئے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں ۔ اور یہ کہ شریف خاندان کو اخلاقی اور سیاسی شکست ہو چکی ہے ۔ یہی حال تقریباً پیپلز پارٹی کا بھی ہے ۔ مبینہ کرپشن نے ان دونوں پارٹیوں کے سر جھکا دئیے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر بھی بلند آواز سے دونوں پر لعنت ملامت ہورہی ہے ، اس آواز کے ساتھ کہ دونوں بڑھکیں تو بہت مارتے رہے لیکن جب وقتِ قیام آیا تو دونوں ”سجدے” میں گر گئے ۔واضح طور پر نون لیگ میں تقسیم پیدا ہو چکی ہے ۔ نون لیگ کے مرکزی رہنما خواجہ آصف اور رانا ثناء اللہ نے ایک نجی ٹی وی شو میں اس تقسیم کو بین السطور تسلیم بھی کیا ہے ۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اپوزیشن نے حکومت کے سامنے جس طرح غیر مشروط طور پر سرنڈر کیا ہے ، یہ دراصل اس امر کا مظہر ہے کہ اپوزیشن کو اپنی ضمانتوں اور جائیدادوں کی اصل فکر ہے ۔ کسی ندامت اور پریشانی کے بغیراپوزیشن کی طرف سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ہم نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حق میں ووٹ ہی تو دیا ہے، مارشل لا کے کسی حکم پر دستخط تو نہیں کئے ۔ سبحان اللہ کیا منطق ہے!! چلئے تسلیم کئے لیتے ہیں ۔ اور اب جبکہ سروسز ایکٹ ترمیمی بلز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکے ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ اُس طوفان کی طرف بھی توجہ کی جائے جو پاکستان کے ہمسایہ ملک ، ایران، میں پَل رہا ہے ۔ امریکہ نے میزائل داغ کر ایران کے سب سے اہم ترین کمانڈر ، میجر جنرل قاسم سلیمانی ، کو راستے سے بُری طرح اور ظالمانہ انداز میں ہٹا دیا ہے ۔ ایران کی طرف سے بدلہ لینے کے اعلانات بھی کئے گئے ہیں ۔ ایران نے جوابی طور پر عراق میں اُس جگہ پر اپنے میزائل بھی فائر کئے ہیں جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں ۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے 80امریکی فوجی ہلاک کرکے کچھ بدلہ لے لیا ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں سے ہمارا کوئی نقصان نہیں ہُوا ہے، اور یہ کہ ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی ۔ اگر ایران ، امریکہ یہ تصادم آگے بڑھتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے ۔ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کا اصل امتحان اب یہ ہے کہ اس ممکنہ جنگ کے منفی اثرات سے پاکستان کو کیسے محفوظ رکھنا ہے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.