Latest news

سود کی لعنتیں اورگورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ڈراؤنا اعلان

پاکستان اسلام کے نام پر معرضِ عمل میں آیا ۔ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی متعدد بار اعلانات فرمائے تھے کہ پاکستان کی سر زمین اسلام کا گہوارہ ہوگی اور یہاں اسلام ہی کے اصولوں کا پرچم بلند ہوگا ۔ پاکستان بننے کے دو سال بعد قرار دادِ مقاصد منظور کی گئی اور اس میں بھی یہی عہد کیا گیا کہ پاکستان میں قرآن و سنت کے مطابق قوانین وضع کئے جائیں گے اور یہ کہ کوئی قانون اسلام کی مبادیات سے متصادم نہیں ہوگا ۔ یہ قرار دادِ مقاصد اب ہمارے آئین کا سرنامہ ہے ۔یہ سب کچھ مستحسن ہیں لیکن افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سُود کا کاروبار نہ صرف دھڑلے سے کیا جارہا ہے بلکہ اسے ریاستِ پاکستان کی چھتری بھی میسر ہے ۔ سُود اسلام میں حرام ہے ۔ اس کا لینا دینا کسی بھی شکل میں ممنوع اور ناجائز ہے ۔ پاکستان ایسی اسلامی ریاست میں اس کا چلن ممکن ہی نہیں ہونا چاہئے تھا لیکن اس کے باوجود یہ چل بھی رہا ہے اور پھل پھول بھی رہا ہے ۔ پرانی باتوں کو تو رکھئے ایک طرف 29جنوری2020ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رضا باقر نے صاف اور غیر مبہم الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شرحِ سُود 13.25فیصد پر برقرار رہے گی ۔ ایک اسلامی مملکت ہونے کے ناتے کیا پاکستان کے 22کروڑ مسلمان اس اعلان پر فخر کر سکتے ہیں ؟ کیا اسے جائز کہا جا سکتا ہے ؟ کیا ہمیں بحثیتِ مجموعی اپنے خالق اور مالک سے معافی نہیں مانگنی چاہئے ؟ حیرانی کی بات ہے کہ مملکت کے ہر کام میں ٹانگ اڑانے والے ہمارے محترم علمائے دین بھی اس معاملے میں خاموش رہ کر منہ میں گھنگنیاں ڈالے ہُوئے نظر آ رہے ہیں ۔ اس خاموشی اور سہل انگاری کو کیا نام دیا جائے ؟ بہانہ سازی کرتے ہُوئے ریاستی سطح پر کہہ دیا جاتا ہے کہ کیا کیا جائے کیونکہ سُودی کاروبار صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی کی مجبوری نہیں ہے بلکہ دُنیا میں پائے جانے والے چار درجن سے زائد اسلامی ممالک میں بھی تو سُود کا کاروبار جاری و ساری ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بہانہ قابلِ قبول نہیں ہے ۔ اگر پاکستان کو اسلامی دُنیا کیلئے ماڈل اور نمونہ بننا ہے تو اسے معیشت کی دُنیا میں بھی ماڈل بننا ہوگا ، سُودی کاروبار کی لعنت سے ملک اور قوم کو نجات دینا ہوگی ۔ واقعہ یہ ہے کہ سُود کی لعنت سے انسانی زندگیاں زنجیروں میں جکڑ کر رہ جاتی ہیں ۔ یہ دراصل یہودیوں کا ایسا شکنجہ ہے جس سے اُمتِ مسلمہ سمیت پاکستان کو ہر صورت نکلنا چاہئے ۔ لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں تبدیلی والے حکمران بھی پاکستان کی بجائے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ملازمین کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا سربراہ بنائیں گے تو پھر سُود کی لعنتوں سے نجات کیونکر حاصل کی جا سکے گی ۔ جب سے رضا باقر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر بنایا گیا ہے ، پاکستان کو بطورِ مملکت اور پاکستانی عوام کو ایک بھی معاشی ریلیف نہیں ملا ہے ۔ اس صاحب کی آمد سے ملک میںسُود کی شرح میں بھی بے پناہ اضافہ ہُوا ہے اور مہنگائی کی شرح میں بھی ۔ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نگرانی میں کئے گئے فیصلوں کا سب سے بڑا منفی اثر یہ برآمد ہُوا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہُوا ہے ۔ روپے کی قیمت گرنے اور ڈالرکی قیمت بڑھنے سے ملک میں مہنگائی اور گرانی کا ایک منہ زور طوفان آیا ہے جس نے عوام کی زندگیاں جہنم بنا دی ہیں ۔ شرحِ سُود میں 13فیصد سے بھی زیادہ اضافے کے منفی نتائج یہ بھی نکلے ہیں کہ ملک میں صنعت کاروں نے قرضے ہی لینے بند کر دئیے ہیں ۔ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق ، پاکستان میں تازہ مالی سال کی پہلی ششماہی ( جولائی 2019ء تا جنوری2020ء تک) کے دوران بینکوں سے قرضہ لینے والوں کی تعداد میں ایک تہائی کمی آئی ہے ۔ یہ انکشاف خاصا تشویشناک ہے ۔ اس کا ایک بڑا منفی نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ ملک میں صنعتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہو کررہ گئی ہیں ۔شرحِ سُود میں اضافے کے کارن ملک میں ہاٹ منی کا کاروبار کرنے والے ( غیر ملکیوں ) کی چاندی ہو گئی ہے جس نے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ۔ پاکستان اس وقت دُنیا کا واحد ملک ہے جہاں شرحِ سُود سب سے زیادہ ہے ۔ اس سے فائدہ اُٹھانے کیلئے کئی غیر ملکی مالی ایجنسیاں پاکستان میں ہاٹ منی کا کاروبار کرتی ہیں ۔ تھوڑے عرصے کیلئے پاکستان میں ڈالر کا کاروبار کرتی ہیں اور کم محنت سے زیادہ شرحِ سُود کی بنیاد پر زیادہ منافع کما کر ملک سے نکل جاتی ہیں ۔زیادہ شرحِ سُود نے ملکی بینکوں کی بھی کمر توڑ دی ہے ۔ سادہ سی بات ہے کہ لوگ بینکوں سے اگر قرض ہی نہیں لیں گے تو بینک کاروبار کیا کریں گے ؟گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان رضا باقر نے بلند شرحِ سُود ہی برقرار رکھنے کا اعلان نہیں کیا بلکہ یہ اعلان کرکے بھی پاکستان کے 22کروڑ عوام کو ڈرا دیا ہے کہ رواں سال مہنگائی کی شرح 12فیصد رہے گی ۔ مہنگائی کے خوف میں لرزتے ڈرتے پاکستان کے عوام رضا باقر صاحب کے اس نئے اعلان سے مزید ڈر کر اور سہم کر رہ گئے ہیں ۔ اچھے دنوں کی جو اُمید سینے سے لگا کر رکھی گئی تھی ، وہ شمعِ اُمید بھی اب ٹمٹمانے لگی ہے ۔ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اس اعلان کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات کھلتی ہے کہ اُن کا یہ تازہ ترین ڈراؤنا اعلان دراصل وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کے اعلان سے متصادم ہے ۔وزیر اعظم صاحب نے تو کمال مہربانی کرتے ہُوئے ابھی چند دن پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ 2020ء عوام کیلئے ریلیف کا سال ہوگا مگر رضا باقر کا اعلان خانصاحب کے مذکورہ اعلان کی نفی اور تکذیب کررہا ہے ۔اگر مہنگائی 12فیصد رہے گی تو پھر کہاں کی ریلیف اور کیسے ؟؟ جس روز گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مہنگائی برقرار رہنے کا یہ اعلان کیا، عین اُسی روز وزیر اعظم پاکستان کا یہ اعلان میڈیا کی زینت بنا کہ ”غربت کے خاتمے اور زراعت کے فروغ کیلئے چین کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔” عوام بیچارے کس کی بات کا یقین کریں؟ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان یہاں بھی نہیں رُکے ۔ اُنہوں نے یہ اعلان کرکے مزید ڈراوا دیا ہے کہ ” ملک میں زرعی پیداوار ہدف سے کم ہونے کے خدشات ہیں۔”ابھی تو پاکستان کے عوام ملک بھر میں آٹے اور چینی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے پر سینہ کوبی کررہے تھے کہ اوپر سے جناب رضا باقر نے زرعی پیدوار کم ہونے کی بد خبری سنا دی ہے ۔ گویا پاکستان کے عوام کو ذہنی طور پرتیار رہنا چاہئے کہ مہنگائی مزید بڑھے گی ، آٹا مزید مہنگا و نایاب ہو گا اور چینی کے نرخ مزید اوپر جائیں گے ۔ یعنی ہو ر چوپو ۔ ابھی چند دن پہلے اخبارات میں شوگر ملز مالکان نے اجتماعی طور پر ایک اشتہار شائع کروایا ہے جس میں گنا مہنگا ہونے کا رونا رویا گیا ہے ۔ یہ بھی دراصل اس امر کا پیشگی اعلان ہے کہ چینی کے نرخ مزید بڑھیں گے ، عوام تیار ہو جائیں ، حکومت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔اس اشتہار کا جواب اگرچہ اشتہار کی زبان میں گنّے کے کاشتکاروں نے بھی دینے کی کوشش تو کی ہے اور شوگر ملز مالکان کے جھوٹ اور کاشتکاروں پر اُن کی مظالم کی داستان سنائی ہے لیکن کھرب پتی شوگر مافیا کے سامنے ان بیچارے کسانوں کی آواز نقارخانے میں طوطی کی آواز ہی ثابت ہوگی ۔ مکمل طور پر صدا بہ صحرا۔خاص طور پر اس پس منظر میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ شوگر مافیا اور شوگر ملز مالکان کی اکثریت حکومت میں شامل ہے ۔ ایسے میں کون ان ظالموں اور عوام دشمنوں کا بال بیکا کر سکتا ہے ؟ ناممکن !! پھر وزیر اعظم کی طرف سے 2020ء میں عوام کو ریلیف دئیے جانے کا مطلب و معنی کیا ہے ؟؟ کوئی نہیں جانتا ۔عوام آٹے اور روٹی کی گرانی پر ماتم کناں ہیں اور اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم صاحب ابھی آٹا بحران کی وجوہات تلاش کرنے کیلئے اجلاس وغیرہ بلا رہے ہیں ۔ یعنی نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی ۔تو کیا ایسے پیش منظر میں مجبور اور مہنگائی کے مارے عوام یہ کہنے اور قیاس کرنے میں حق بجانب نہیں ہیں کہ حکومت کا ہاتھ نہ باگ پر ہے اور نہ پاؤں رکاب میں ہیں؟ کوئی بھی عوام سے کیا گیا وعدہ ایفا نہیں ہو رہا ۔ اعلان کیا گیا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) میں جن اعلیٰ سرکاری افسروں نے اپنی بیگمات کے نام پر جعلی رقوم لُوٹی ہیں ، اُن کے نام میڈیا کے سامنے لائے جائیں گے ۔ لیکن حکومت اس اعلان سے بھی پھر گئی ہے ۔ اب یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ان بدعنوان ، کرپٹ اور بد معاش سرکاری افسروں کے نام سامنے نہیں لائے جائیںگے ۔ کیوں؟ جواب دیا گیا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو بیوروکریسی مزید حکومت سے تعاون کرنے سے انکار کر دے گی ۔ لا حولہ ولا قوة۔ گویا حکومت بیوروکریسی کے ہاتھوں یونہی بلیک میل ہوتی رہے گی ؟ حکومت اب تک نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی کو عدالت کی طرف سے سنائے جانے والا جرمانہ (100ملین پونڈز) بھی وصول نہیں کر پائی ۔ مبینہ کرپٹ اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا گھر بھی نیلام نہیں ہو سکا ۔ حکومت کی سستی اور نااہلی کے کارن یہ کیس اسلام آباد ہائیکورٹ چلا گیا جہاں 28 جنوری 2020ء کو حکم جاری کیا گیا کہ یہ گھر نیلام نہیں ہو سکتا۔ یہ حکومت پھر سابقہ حکمرانوں کی مبینہ کرپشن کا پیسہ کیسے اور کیونکر واپس لے سکے گی؟عمران خان صاحب نے کرپشن اور کرپٹ افراد کے خلاف بڑی جنگ کرنے کے بڑے بڑے اعلانات کئے تھے لیکن اب عمل کے میدان میں پہنچ کر وہ رفتہ رفتہ اپنے سبھی اعلانات سے پسپا ہوتے جا رہے ہیں ۔ پھر عوام میں مایوسی اور بددلی کیوں نہ پھیلے ؟ لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت متنوع بحرانوں کا اسقدر شکار ہو چکی ہے کہ اُس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں ۔ سندھ کے آئی جی پولیس (کلیم امام ، جنہیں اب سیکرٹری انسدادِ منشیات ڈویژن لگایا گیا ہے) کا تبادلہ اور نئے آئی جی کا تقرر بھی عمران خان کی مرکزی اور سندھ کی صوبائی حکومت کیلئے دردِ سر بنا رہا۔ کے پی کے میں اپنی ہی پارٹی حکومت کے تین سینئر صوبائی وزیروں( عاطف خان، شہرام ترکئی اور شکیل احمد) کو فارغ کرکے عمران خان کی درد سری میں فی الحال کوئی افاقہ نہیں ہُوا ہے ۔ ان میں عاطف خان تو وزیر اعظم کی ناک کا بال قرار دئیے جاتے رہے ہیں ۔یہ مسائل بتاتے ہیں کہ واقعی کارِ حکومت نہائت دشوار است ۔ حکومتی وزیر ، فیصل واوڈا، جس طرح عدالت کے سامنے پیش ہونے پر مجبور ہُوئے ہیں ، اس سے حکومت کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہُوا ہے ۔ فیصل واوڈا نے پچھلے دنوں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فوجی بوٹ میزبان کی میز پر رکھ کر ایک طوفان برپا کیا تھا اور اب یہی وزیر صاحب اپنے ہی ہاتھوں کی دی گئی گانٹھوں کے چکر میں آ گئے ہیں ۔الزام لگایا گیا ہے کہ الیکشن سے قبل فیصل واوڈا نے جو کاغذاتِ نامزدگی داخل کروائے تھے ، اُن میں جھوٹ بولا گیا تھا ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اُن کے خلاف کیس دائر کیا گیا ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ فیصل واوڈا کو دہری شہریت چھپانے اور جھوٹا حلف نامہ دینے پر نااہل کیا جائے ۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2018ء کے الیکشن کے فارم نامزدگی داخل کرواتے وقت موصوف امریکی شہری تھے اور یہ کہ اُنہوں نے اپنی امریکی شہریت ختم کروانے کی درخواست اُس وقت دی تھی جب وہ اپنے مذکورہ کاغذات جمع کروا چکے تھے ۔ اگر ایسا ہی تھا تو یہ صاف بددیانتی اور جھوٹ تھا ۔ فیصل واوڈا نے مبینہ طور پر چالاکی یہ کی تھی کہ اگر الیکشن سے قبل کاغذات جمع کروانے کے دوران اُن کی دہری شہریت کا بھانڈا پھوٹ گیا اور اُن کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دئیے گئے تو کم ازکم اُن کی امریکی شہریت تو بچ جائے گی ۔اب اس کیس کی سماعت کا آغازفروری2020ء کے آخری ہفتے شروع ہورہا ہے ۔ ایسے ہی الزامات کے تحت جہانگیر خان ترین کو بھی الیکشن کیلئے نااہل قرار دیا گیا تھا۔اب فیصل واوڈا کی جان کیسے چھوٹے گی ، یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن فی الحال پی ٹی آئی کی حکومت کے دامن پر ایک دھبہ ضرور لگ گیا ہے ۔ ممکن ہے عدالتِ عالیہ یہ دھبہ صاف بھی کر دے لیکن اس کیلئے پی ٹی آئی کو انتظار کا عذاب سہنا پڑے گا۔جس روز وفاقی وزیر فیصل واوڈا کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں داخل ہُوا ، عین اُسی روز عمران خان کے ایک اور وفاقی وزیر شیخ رشید احمد سپریم کورٹ آف پاکستان کے عزت مآب ججوں کے سامنے کئی سنگین سوالات کے جواب دینے کے لئے حاضر ہو رہے تھے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان مبینہ طور پر شیخ رشید احمد پر خاصے برہم تھے اور شیخ صاحب تھے کہ عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے اُٹھائے گئے کسی سوال کا اطمینان بخش جواب نہیں دے پا رہے تھے ۔شیخ رشید احمد اپنی وزارت کی ترقی اور بڑھوتری کے بارے میں بلند بانگ دعوے کرتے تھے لیکن عدالت کے رُو برو اُن کی زبان ہی نہ کھل سکی ۔ عدالت ِ عظمیٰ نے اُن کا ”کچا چٹھہ” کھول کر رکھ دیا ۔ اسی کیس میںعدالت عظمیٰ نے12فروری کو وفاقی وزیر اسد عمر کو بھی طلب کیا ہے ۔ان خبروں کی اشاعت سے خانصاحب کی حکومت پر یقیناً منفی اثر پڑا ہے ۔ عدالت کے سامنے پیش ہونے پر شیخ رشید احمد ناراض بھی ہیں ؛ چنانچہ اس حوالے سے ایک خبر بھی شائع ہُوئی ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ریلوے میں اربوں روپے کے نقصان سے متعلق از خود نوٹس کیس میں وفاقی وزرا کو طلب کرنے کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا آئین کے آرٹیکل 248کے تحت وزرا کو عدالت طلب کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ معلوم ہُوا ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بھی 28جنوری 2020ء کو کابینہ اجلاس میں جوڈیشل ایکٹوازم پر اظہارِ تشویش کیا ؛ تاہم وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی ایگزیکٹو کیلئے بہتر نہیں ہو سکتی۔ وزیر اعظم نے مبینہ طور اپنے پر وزیروں پر زور دیا ہے کہ وہ جج صاحبان کو سوالات پر مطمئن کریں ۔اس نصیحت کو بہتر پالیسی کہا جا سکتا ہے ۔ اگر وزر اعظم صاحب نے انہی الفاظ میں اپنے وزرا کو نصیحت کی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مستحسن عمل ہے ۔ حکومت کو جج صاحبان کے مقابل کھڑا ہونے سے گریز کرنا چاہئے ۔ وزرا صاحبان شائستگی اور سنجیدگی کے ساتھ عدالتوں کے حضور پیش ہوں گے تو اُن کیلئے بہتر رہے گا۔یوں عمران خان کی حکومت بھی مزید آزمائشوں سے محفوظ رہے گی ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.