اہم خبرِیں
اب کشمیر جلد آزاد ہوگا، وزیراعظم لبنان، دھماکے میں ہلاکتیں 100 سے تجاوز کر گئیں تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھولنے کا فیصلہ برقرار پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ بدھ کو شروع ہوگا بھارت،سخت سیکیورٹی میں بابری مسجد کی جگہ مندر کا افتتاح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف دنیا بھر میں’’یوم استحصال... نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں مردم شماری کرائے،مشعال ملک پی آئی اے جعلی لائسنس اسکینڈل، تحقیقات کا دائرہ وسیع کرونا کے باعث بچوں کا سکول نہ جانا پوری نسل کا بحران ہے، اقوام... بھارتی حکومت عالمی دہشت گردوں کی سرپرست بھارت کسی خوش فہمی میں نہ رہے یوم استحصال اورکشمیر کی آزادی 5اگست کا المیہ اور اہلِ کشمیر کاردعمل مودی نے مقبوضہ کشمیر کی معیشت تباہ کردی، وزیراعظم عمران خان آرمی چیف کی سابق فوجی قیادت سے ملاقات پاکستان کا نیا نقشہ جاری، مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ قرار آرٹیکل 149 سمجھ سے بالاتر ہے، سندھ حکومت افراط زر بڑھ کر 9.3 فیصد ہو گیا ٹھٹھہ، نوجوان کی 11 موٹر سائیکلوں کے اوپر سے طویل چھلانگ

!!روٹی گل وِچ پھا پاندی اے، روٹی بندہ کھا جاندی اے

!!روٹی گل وِچ پھا پاندی اے، روٹی بندہ کھا جاندی اے

 

جب پورا ملک روٹی ، چینی اور آٹے کے لئے ترس رہا ہو ، ایسے میں عوام کو اس امر سے بھلا کیا دلچسپی رہ جاتی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ڈیووس ( سوئٹزر لینڈ)میں کیا معرکے انجام دے کر آئے ہیں اور اُن کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے نتیجے میں پاکستان کو کیا پھل  ملا ہے  ؟ آئیے ،پہلے پی ٹی آئی حکومت کے کچھ ستم ظریف ذمہ داران کے بیانات ملاحظہ کر لیتے ہیں جو اُنہوں نے حالیہ دنوں میں آٹے اور چینی کے شدید اور قابلِ مذمت بحرانوں پر ارشاد فرمائے ہیں ۔

سب سے پہلے صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر عارف علوی کا بیان ۔ آپ نے اسلام آباد کی ایک تقریب میں شرکت فرمائی ۔ صحافیوں نے جب پوچھا کہ ملک میں آٹے کی قلّت، زیادہ قیمت اور نایابی نے قیامت برپا کر رکھی ہے تو اس پر آپ کیا کہیں گے ؟ صدر صاحب نے کمال لاتعلقی سے کہا:” مجھے تو اس بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں ہے لیکن مجھے اس بحران کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے تھا۔”

یہ محض بیان نہیں بلکہ مملکت ِ پاکستان کے سربراہ کے وہ الفاظ ہیں جنہوں نے غریب اور نادار پاکستانیوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے ۔ اُس ملک کی بدقسمتی کا کیا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جس کے صدر صاحب کو یہ تک معلوم نہیں ہے کہ ملک میں آٹے کی ایک مٹھی کے حصول کیلئے لوگ ایک دوسرے کا گریبان چاک کررہے ہیں ۔سارا ملک آٹے کے خوفناک بحران کی گرفت میں جکڑا پڑا ہے اور جناب وزیر اعظم عمران خان نے بس یہ کہہ کر اپنی جان چھڑا لی ہے :” مجھے مہنگائی کا احساس ہے ۔”

شائد عوام کو درپیش اس سنگین بحران سے صدر صاحب اور وزیر اعظم کی عدم توجہی اور غیر ملطفت ہونے کا نتیجہ ہے کہ حکومت کے وزرا بھی آٹے کی کمیابی اور مہنگائی پر عوام کا مذاق اُڑا رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد ( جو عمران خان کا قرب بھی رکھتے ہیں اور اُن کے اتحادی بھی ہیں)نے ایک بھری پریس کانفرنس میں کہا:” آٹا اس لئے بھی مہنگا اور کمیاب ہو گیا ہے کہ نومبر اور دسمبر میں عوام روٹیاں زیادہ کھاتے ہیں۔” لا حولا ولاقوة۔اب ہمارے وزیر اور مشیر غریب عوام کی روٹیاں اور لُقمے بھی گننے لگے ہیں ۔شیخ رشید صاحب کی اس ستم ظریفی پر عوام سخت غم و غصے میں پائے جاتے ہیں ۔ عوام کا یہ کہنا بجا ہے کہ حکمران اگر اُن کیلئے آسانیاں بہم پہنچانے میں ناکام ہو چکے ہیں تو کم از کم عوام کو مزید کچوکے تو نہ لگائیں ۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ گندم پیدا کرنے والے صوبے پنجاب میں آٹا مل رہا ہے نہ روٹی ۔واقفانِ اندرون ِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ پنجاب میں یہ شرمناک بحران اسلئے بھی پیدا ہُوا ہے کہ پنجاب حکومت نے گذشتہ دس ماہ کے دوران 4صوبائی سیکرٹریز برائے خوراک اوپر تلے ، بغیر کسی بڑی وجہ کے ، تبدیل کر دئیے ہیں ۔اپنی ناکامی تسلیم کرنے کی بجائے پنجاب حکومت یہ ملبہ اپنی حریف سیاسی جماعتوں پر ڈال رہی ہے ۔ مثلاً: پنجاب کے تین صوبائی وزراء (فیاض الحسن چوہان ، اسلم اقبال ، سمیع اللہ چودھری) نے فرمایا ہے کہ بلاول بھٹو اور شہباز شریف نے گندم بحران پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔اس احمقانہ بیان پر کیا تبصرہ کیا جائے ؟

ایسے میں اگر وفاقی وزیر شیخ رشید احمد ایک بیہودہ بیان داغتے ہیں تو پھر ان تینوں صوبائی وزیروں سے کیا گلہ؟ابھی وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کی یہ ستم ظریفیاں ختم بھی نہ ہونے پائی تھیں کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے ایک وزیر ( شوکت یوسفزئی) نے آٹے کی نایابی پر تبصرہ آرائی کرتے ہُوئے بے بس اور بے کس عوام کے دلوں پر یوں زخم لگایا:”نانبائی روٹی کا وزن کم کردیں ۔ روٹی کی قیمت کم نہیں کرسکتے۔”سبحان اللہ ، کیا اعلیٰ قسم کی حکومتی کارکردگی ہے!!

پی ٹی آئی حکومت کے اس صوبائی وزیر کے اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ عوام روٹی کی قیمت تو پوری دیں لیکن اُنہیں روٹی کا وزن نصف میسر ہوگا۔یہ وزیر صاحب پہلے بھی خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں کے بارے میں ایک دل آزار بیان دے کر خاصی ”شہرت” حاصل کر چکے ہیں ۔یعنی بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟ کے پی کے میں شوکت یوسفزئی ایسے مدارلمہاموں کی پھرتیوں کا نتیجہ ہے کہ ایک خبر کے مطابق پشاور میں نانبائیوں کی ہرتال کے سبب لوگوں نے ایک روٹی 60روپے ( جی ہاں ساٹھ روپے ) میں بھی خریدی ہے ۔شوکت یوسفزئی کی عوام سے ظالمانہ ٹھٹھول جاری تھا کہ پی ٹی آئی کے ایک اور وزیر، مسٹر غنی، نے مجبور اور روٹی کو ترستے عوام کے دل جلاتے ہُوئے فرمایا:”کچھ عرصے کیلئے عوام دو روٹیوں کی بجائے ایک روٹی کھائیں ، آٹے کا بحران ختم ہو جائے گا۔”کیا پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل بحرانوں سے نمٹنے کیلئے اس سے اعلیٰ مشورہ کبھی سامنے آیا تھا؟ ہمارا خیال ہے کبھی نہیں ؛ چنانچہ ہماری عاجزانہ تجویز ہے کہ خانصاحب کو چاہئے کہ اپنے اس وزیر کو کسی منفرد ایوارڈ سے نوازیں ۔

حیرانی کی بات ہے کہ آٹا مل نہیں رہا لیکن حکومتی وزرا ، ذمہ داران اور سرکاری مشیر مان نہیں رہے ۔ کہیں آٹا ملنے کی خبر ملتی ہے تو بھوکے عوام اُن پر چیلوں کی طرح جھپٹ پڑتے ہیں اور حکومت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ اعلان کررہی ہے کہ یہ شور محض حکومت کو بدنام کرنے کیلئے اپوزیشن کا رچایا گیا ڈرامہ ہے ۔ جب صدرِ مملکت یہ کہیں کہ مجھے تو آٹے کے بحران کا سرے سے علم ہی نہیں تو حکومتی وزیر اور مشیر تو اُن سے بڑھ کر لا تعلقی کا مظاہرہ کریں گے ۔پاکستان ایسے زرعی ملک میں آٹے کی کمیابی اور محض روٹی کے حصول کیلئے عوام کا ایک دوسرے پر حملہ ایک درد انگیز داستان ہے ۔یوں لگتا ہے جیسے یہ روٹی پاکستانی عوام کی ذلّت کا مزید سبب بن جائے گی ۔ شائد اِسی لئے ایک پنجابی شاعر نے اپنا دکھڑا بیان کرتے ہُوئے کبھی یوں کہا تھا:

روٹی گل وِچ پھا پاندی اے
روٹی نُکرے چا لاندی اے
بندے روٹی کی کھانی اے
روٹی بندہ کھا جاندی اے
روٹی ہے دلدار توں اَگّے
روٹی دا دکھ پیار توں اَگّے
روٹی ہر اِک یار توں اَگّے
جدوں وی سامنے آوے روٹی
!!!اپنا غیر بناوے روٹی

ہاں ، اِسی روٹی کے حصول کیلئے ملک بھر میں ایک نہ سنائی دینے والا شور مچا ہے ۔ قیامت کا سا شور ۔ لیکن حکمران اس شور پر کان دھرنے اور اس کا سبب دُور کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ۔ دو فریقین میں مذاکرات کی بازگشت تو سنائی دیتی ہے لیکن حل سامنے نہیں آرہا۔ وطنِ عزیز میں حالیہ دنوں میں آٹے کی قیمتوں میں اچانک جو بڑا اضافہ سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے صوبہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔فلور ملز ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق ملک بھر میں یہ بحران گندم کی سپلائی بروقت نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے

اور یہ کہ اگر آنے والے دنوں میں حکومت اور اس صنعت سے منسلک افراد کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو اس بحران میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔پاکستان میں آٹے کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں اور اس بحران کا ذمہ دار کون ہے، یہ جاننے کے لیے جب آٹے کی صنعت سے وابستہ افراد اور ایک صوبائی حکومتی وزیر سے رابطہ کیا گیا تو کئی حقائق سامنے آتے ہیں ۔ماہرین کے مطابق ٹرانسپورٹیشن، توانائی اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کے اخراجات کی بدولت آٹے کی قیمتیں بڑھی ہیں۔

تاہم پنجاب کے صوبائی وزیر خوراک( سمیع اللہ چودھری) کا کہنا ہے کہ کوئی بحران نہیں ہے اور یہ صورتحال وزیرِ اعظم کے نوٹس میں آ گئی ہے، آئندہ چند دنوں میں صورتحال بہتر ہو جائے گی لیکن وہ ”چند دن” نجانے کب آئیں گے ؟ غریب تو آٹے کی قیمتوں میں اضافے اور عدم دستیابی سے رُل گئے ہیں اور حکمران ہیں کہ اُن کے مذاکرات ہی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ۔ ایسے میں چکی آٹا ایسوسی ایشن پنجاب کے چیئرمین لیاقت ملک نے اس بحران کی وجہ بجلی کے بلوں اور گندم کی قیمتوں میں اضافہ قرار دیا ہے ۔گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمتوں میں کم از کم 100 روپے اضافہ ہوا ہے۔

تاہم پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ اضافہ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس میں کئی عناصر اور عوامل شامل ہیں۔پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے ترجمان عاصم رضا احمد کا کہنا ہے :” پنجاب میں آٹے کی قیمت نہیں بڑھی۔ ہاں چکی کی قیمتوں کا فرق ضرور آیا ہے ۔ پورے پنجاب میں 20کلو کا فلور ملز کا آٹا 783 روپے ایکس مل اور 805 روپے میں ریٹیل فروخت ہورہا ہے۔پنجاب میں چکی مالکان نے آٹے کے ریٹ بڑھا دیے ہیں، اسی وجہ سے بحران کی صورتحال بنی ہے۔بلوچستان میں چونکہ گندم نہیں دی گئی اور اب تک ان کے پاس گندم موجود نہیں ہے، اس لیے صوبائی سطح پر قیمتوں میں فرق ہے۔ نجی مارکیٹ سے گندم خرید کر ٹرانسپورٹرز انھیں خاصی زیادہ قیمتوں پر پہنچاتے ہیں، اسی لیے وہاں آٹے کی قیمتیں بڑھی ہیں ۔خیبر پختونخوا اور سندھ میں بھی نقل و حمل کا مسئلہ ہے۔دھند کے باعث (آٹا) وقت پر پہنچ نہیں پا رہا تھا، اسلئے بھی مسئلہ بنا ہے۔”دوسری طرف چکی آٹا ایسوسی ایشن پنجاب کے چیئرمین لیاقت ملک نے اس بحران کی وجہ بجلی کے بل اور گندم کی قیمتوں میں اضافہ قرار دیا ہے۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت انھیں مناسب قیمت پر معیاری گندم فراہم کرے تاکہ بحران پر فوری قابو پایا جا سکے۔ حکومت اس صنعت سے منسلک لوگوں سے مذاکرات کر رہی ہے اور امید ہے کہ جلد یہ مسئلہ باہمی اتفاق سے حل کر لیا جائے گا۔دھند کے باعث بھی مسائل پیدا ہُوئے ہیں ۔

(آٹا) وقت پر پہنچ نہیں پا رہا تھا۔ سوال مگر یہ ہے کہ مارکیٹ سے گندم کیسے غائب ہو گئی ؟ اس سلسلے میںپاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے تسلیم بھی کیا ہے اور کئی دوسری وجوہ بھی بیان کی ہیں :” آمد و رفت اور دیگر مسائل کی وجہ سے مارکیٹ میں گندم کی کمی واقع ہوئی ہے جسے پورا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔پنجاب کی مارکیٹ میں ہمیشہ گندم موجود ہوتی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ یہ گندم فیڈ ملز کو دے دی گئی۔ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قلت اس لیے پیدا ہوئی ہے کیونکہ فیڈ ملز نے 7ـ8 لاکھ ٹن گندم کی اضافی مقدار استعمال کر لی ہے جو ایسی ہی صورتحال کے لیے ہر وقت محفوظ رکھی جاتی ہے۔” اس سلسلے میںپاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے ترجمان عاصم رضا احمد کہتے ہیں:” فیڈ ملز کو گندم دینے کا حکومتی فیصلہ غلط تھا۔ اگر فیڈ ملز کو 7ـ8 لاکھ ٹن گندم نہ دی جاتی تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔ہم ڈیڑھ دو مہینے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے لیکن اس میں بھی نجانے کیوں تاخیر کی جاتی رہی ۔ شکر ہے اب تین لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔یہ گندم درآمد کرنے سے مسئلہ حل ہو سکے گا۔” کے پی کے میںصوبائی وزیرِ خوراک قلندر خان آٹے کے بحران پر کہتے ہیں:” ملک میں آٹے کی قلت کے حوالے سے تمام باتیں وزیرِاعظم کے علم میں آ گئی ہیں۔جلد ریلیف مل جائے گا۔

ملک کے باقی حصوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی آٹے کا بحران ختم ہو رہا ہے۔ہم باہر سے بھی گندم منگوا رہے ہیں۔ سنگین بحران جیسی صورتحال نہیں ہے اور صوبے کے پاس مئی تک کے لیے وافر مقدار میں گندم موجود ہے ۔وقتی طور پر پنجاب نے مانیٹرنگ کی غرض سے کچھ سختی کی تھی۔ چونکہ سارے صوبے پنجاب پر انحصار کرتے ہیں ،اس لیے اگر اس طرح ایک دو دن کے لیے گندم روکی جاتی ہے تو باقی صوبوں کو کچھ مشکلات ہو جاتی ہیں۔پورے پاکستان میں ہماری ایک حکومت ہے۔ یہ ریلیف سارے ملک کے لیے ہو گا۔”کہنے کو تو یہ سیاسی دعوے بڑے ہمت افزا ہیں ، اُمید بھی دلاتے ہیں لیکن عوام کو کھوکھلے سیاسی دعوے نہیں ، عمل چاہئے ۔ اپنے مسائل کا عملی حل۔ وزیر اعلیٰ پنجاب جناب محمد عثمان بزدار بھی بلند بانگ دعوے کررہے ہیں کہ چکیوں پر آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ رواں لمحوں میں یہ چکیوں کے مالکانِ آٹا جس طرح مہنگے داموں آٹا فروخت کررہے ہیں ، کیا یہ اضافہ قیمت شدہ آٹا یہ سبھی لوگ بزدار صاحب سے ”اجازت” لے کر عوام کو فروخت کررہے ہیں اور لُوٹ رہے ہیں ؟کیا اسے انتظامی نااہلی اور بد انتظامی کا نام نہیں دیا جائے گا؟ کیا حکومت اس معاملے سے بے خبر تھی کہ گندم کا آٹا مہنگا اور نایاب ہونے والا ہے ؟ اور یہ کہ کون کون سی سماج دشمن اور عوام دشمن طاقتیں اور گروہ اپنے مالی مفادات کیلئے یہ غلیظ کھیل کھیلنا چاہتے ہیں؟ ابھی گندم کے آٹے کی قیمتوں میں اضافے اور آٹے کی عدم دستیابی پر ہا ہا کار کم نہ ہونے پائی تھی کہ(21جنوری کو) ایک اور عوام دشمن خبر آگئی اور وہ یہ کہ چینی کی قیمت میں 9روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ جب سے خانصاحب کی حکومت آئی ہے ، چینی کی قیمتوں میں 25روپے فی کلو اضافہ کیا گیا ہے ۔ ایسا ظلم پہلے کبھی نہیں کیا گیا اور نہ ہی سُننے میں آیا تھا ۔ افسوس یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم کے دائیں بائیں ایسے لوگ براجمان ہیں جو چینی کے کارخانوں کے مالک ہیں ۔

ان لوگوں کی یہ موجودگی عوام کے دلوں میں یہ شکوک پیدا کررہی ہے کہ چینی کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ کرکے عمران خان کے نزدیکی ساتھ اربوں روپے کا منافع اپنی نجی جیبوں میں ڈال رہے ہیں اور عمران خان ان ظالموں اور استحصالی عناصر کا محاسبہ کرنے سے قاصر ہیں ۔مثال کے طور پر وزیر اعظم کے وزیر خوراک خسرو بختیار ہیں اور اُن کی شوگر ملیں ہیں ۔شوگر انڈسٹری میں اُن کا حصہ 12فیصد ہے ۔ جہانگیر ترین اگرچہ سرکاری طور پر کوئی عہدہ نہیں رکھتے ہیں لیکن سب جانتے ہیں کہ اُنہیں وزیر اعظم کے مشیرِ خاص کا درجہ حاصل ہے ۔

وہ حکومتی معاملات میں دخیل بھی ہیں اور وزیر اعظم کے کہنے پر کئی الجھے سیاسی معاملات سلجھاتے نظر بھی آتے ہیں ۔اُن کے بھی چینی بنانے کے کارخانے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں شکر سازی کی صنعت میں اُن کی ملکیتی شوگر ملز کا حصہ 22فیصد بنتا ہے ۔ہمایوں اخترخان( جو ماضی میں نواز شریف کے وزیر رہے ہیں) بھی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھی اور جہانگیر ترین خان کے رشتہ دار ہیں ۔ ہمایوں اختر خان تین شوگر ملّوں کے مالک ہیں اور چینی کی پروڈکشن میں اُن کا حصہ 10فیصد بنتا ہے ۔جہانگیر ترین خان کے ایک اور قریبی رشتے دار فیصل مختار نامی ہیں ۔ اُن کی چار شوگر ملز ہیں ۔ان حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ الزام درست لگتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے انتہائی قریبی لوگ ہی چینی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کرکے مہنگائی کے مارے عوام کو مزید مارنے کی کوشش کررہے ہیں اور حکومت ان طاقتور افراد کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان نے ابھی دو ہفتے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ نیا سال 2020ء عوام کو ریلیف اور سہولتیں فراہم کرنے کا سال ہو گا۔ اب جبکہ آٹے اور چینی کے نرخوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے تو عوام کرلاتے ہُوئے پوچھتے پائے جارہے ہیں کہ کیا یہ ہے نئے سال میں ریلیف کا مظاہرہ؟ اگر نئے سال کے پہلے مہینے ہی میں ”ریلیف ” کا یہ منظر ہے تو نجانے 2020ء کے خاتمے تک مزید ”ریلیفوں” کے دئیے جانے سے عوام کی کمر مکمل طور پر ٹوٹنے سے کیسے محفوظ رہے گی ؟


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.