Latest news

اٹھائیس نومبر : اپنی غلطیوں کو سنوارنے اور ملک کو مستحکم کرنے کا دن

حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسروں کے حوالے سے ایسی خبریں مطلعِ سیاست و صحافت پر نمودار ہُوئی ہیں کہ ہر کوئی حیرت میں انگشت بدنداں رہ گیا ہے ۔ حیرت خیزی کے اس تازہ موسم میں خبر آئی ہے کہ بلوچستان میں قومی خدمات انجام دینے والے سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو نَومولود ”سی پیک اتھارٹی” کا چار سال کیلئے چیئرمین تعینات کر دیا گیا ہے ۔ اُنہیں یہ بھی اعزاز ملا ہے کہ وہ ”سی پیک اتھارٹی” کے پہلے چیئرمین بنا ئے گئے ہیں ۔ عاصم باجوہ صاحب ابھی حال ہی میں (ستمبر 2019ء کے آخری ہفتے) فوج سے ریٹائر ہُوئے تھے ۔ وہ بڑے خوش قسمت ہیں کہ اِدھر ریٹائر ہُوئے اور اُدھر ایک اعلیٰ سویلین ملازمت نے اُن کے گھر کے دروازے پر دستک دے دی ۔ کم کم پاکستانیوں کے نصیب میں ایسی خوش نصیبی لکھی ہوتی ہے ۔عاصم سلیم باجوہ صاحب ماضی قریب میں افواجِ پاکستان کے ایک اہم ادارے ، آئی ایس پی آر ، کے سربراہ بھی رہے ہیں ۔ بلا شبہ اُنہوں نے بڑی تندہی اور کامیابی سے اپنے فرائض نبھائے ۔ یہ وقت وہ تھا جب ہمارا ملکِ عزیز دہشت گردوں ، خود کش حملہ آوروں اور ٹی ٹی پی کی خونریز بدمعاشیوں کی گرفت میں تھا ۔ جنرل عاصم باجوہ نے نہائت خوش اسلوبی سے بطورِ ڈی جی آئی ایس پی آر قومی اور عالمی میڈیا میں پاکستان کا وقار بلند رکھا اور دہشت گردوں کے خلاف افواجِ پاکستان کی کامیابیوں اور قربانیوں کو سنہری حروف میں اجاگر کیا ۔ اس کا فوری فائدہ بہرحال یہ ہُوا کہ ہمارے فوجی جوانوں کا مورال بلند ترین سطح پر قائم رہا ۔ الحمد للہ ، افواجِ پاکستان نے اپنی بے پناہ جانی و مالی قربانیوں سے دہشت گردوں اور دہشت گردی کے دانت کھٹے کر کے رکھ دئیے ۔ اس جنگ میں عاصم سلیم باجوہ نے اپنا جو متعینہ کردار کامیابی سے ادا کیا ، ہم اسے فراموش نہیں کر سکتے ۔ وہ سدرن کمانڈ کے کمانڈر متعین کئے گئے تو بھی بلوچستان میں کئی قومی کامیابیوں کا سبب بنے ۔ اُن کی وجہ سے بلوچستان کے کئی ناراض عناصر کو دوبارہ قومی دھارے میں شامل کئے جانے کے مواقع فراہم کئے گئے ۔ یہ عناصر آج ہماری قوم کا مثبت کردار بن چکے ہیں ۔چونکہ ”سی پیک” کے حوالے سے بلوچستان کو ایک اہم مقام حاصل ہے کہ یہ بلوچستان ہی ہے جہاں چین کے شاندار اور عظیم تعاون سے عظیم الشان اور بے مثل بندر گاہ ( گوادر) بنائی گئی ہے ، اس پس منظر میں بھی عاصم سلیم باجوہ ”سی پیک” کے کئی حساس پر اجیکٹوں کے بارے میں درست معلومات رکھتے ہیں ۔ یوں ہم اُمید رکھ سکتے ہیں کہ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ ”سی پیک اتھارٹی ” کے پہلے سربراہ کی حیثیت میں قومی توقعات پر پورا اُتر سکیں گے ۔ اگرچہ اس تعیناتی پر سوشل میڈیا میں اُن کے خلاف کچھ لوگوں نے دانستہ ٹرینڈ چلانے کی بھی ناکام کوشش کی ہے اور اُن کی مبینہ بھاری تنخواہ کو ہدف بھی بنایا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیا حکومت کو سویلین پاکستانیوں میں سے کوئی اہل شخص اس اہم عہدے کیلئے نہیں مل سکتا تھا؟ لیکن اس تنقید کو خاطر میں نہیں لانا چاہئے کہ ایسی تنقیدیں تو ہر طرف سے ، ہمیشہ ہی کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی کی جاتی رہیں گی ۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس روز جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کی مذکورہ تعیناتی عمل میں آئی ، اُسی روز پنجاب میں ایک ایسے شخص کو نیا چیف سیکرٹری لگایا گیا جن کا فوج سے گہرا تعلق رہا ہے : میجر(ر) اعظم سلیمان خان۔ اعظم سلیمان خان صاحب کے فوجی بیک گراؤنڈ کے ناتے بھی بعض لوگوں نے تنقید کی ہے ، خاص طور پر اسلئے بھی کہ پہلے ہی پنجاب پولیس کے( اب تازہ تازہ سابق کئے جانے والے) سربراہ بھی فوج ہی سے آئے تھے اور یہ تھے آئی جی کیپٹن(ر) عارف نواز خان ۔حیرت انگیز امر ہے کہ جس روز پنجاب کے نئے چیف سیکرٹری کی تعیناتی کی گئی ، اُسی روز کیپٹن(ر) عارف نواز خان کو کھڈے لائن لگا دیا گیا اور اُن کی جگہ شعیب دستگیر کو نیا آئی جی لگا دیا گیا ۔ کہا تو یہ جا رہا ہے کہ گڈ گورننس کیلئے پنجاب میں یہ اعلیٰ تبدیلیاں اور تعیناتیاں کی گئی ہیں لیکن کوئی اس سوال کا جواب نہیں دے رہا کہ آخر کیا وجہ ہُوئی ہے کہ گذشتہ 14ماہ کے دوران پنجاب میں پولیس کے چار آئی جی اور دو چیف سیکرٹری تبدیل کئے گئے ؟ کیا یہ منظر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار صاحب کی انتظامی صلاحیتوں پر سوال نہیں ہے ؟ ویسے ہمارے وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی کیا اعلیٰ قسمت پائی ہے کہ اُن کی سہولت کیلئے پنجاب میں چار آئی جی اور دو چیف سیکرٹریز تو ہٹا دئیے گئے مگر کسی نے اُن کے گورننس کے بارے میں استفسار نہیں کیا ہے ۔نئے چیف سیکرٹری اور نئے آئی جی پنجاب نے آتے ہی بلند بانگ دعوے تو بڑے کئے ہیں اور کہا ہے کہ ”میرٹ پر سمجھوتہ نہیں کریں گے ، عام آدمی کو ریلیف دینا ہماری اولین ترجیح ہوگی” مگر دیکھنا ہوگا کہ دونوں صاحبان اپنے اپنے دعووں اور وعدوں میں کتنا اور کہاں تک پورا اُترتے ہیں ۔ ویسے ان بڑی انتظامی سیٹوں پر بیٹھنے والا ہر شخص آتے ہی دعوے تو بڑے بڑے کرتا ہے لیکن پھر خود بھی نمک کی کان میں پہنچ کر نمک بن جاتا ہے ۔ سب وعدے وعید بھلا دئیے جاتے ہیں اور عوام کے مقدروں میں بس خواری اور ذلّت ہی رہ جاتی ہے ۔یہ بھی حسین اتفاق ہے کہ اس وقت پاکستان کا وزیر داخلہ بھی سابق سینئر فوجی افسر ہے اور سیکرٹری دفاع بھی سابق فوجی افسر ۔ وہ بھی ایک فوجی افسر ہی تھے ( ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل) جنہیں سری لنکا میں بطورِسفیر تعینات کرنے کی سمری پہلے تو ہمارے وزیر اعظم نے مسترد کر دی اور پھر چند دنوں بعد اِسے منظور بھی کر لیا۔ کہا گیا ہے کہ شدید دباؤ کے کارن وزیر اعظم عمران خان کو اپنے فیصلہ منسوخ کرنا پڑا ۔ حیرانی کی بات ہے کہ ایک طرف تو پی ٹی آئی کی حکومت نے ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل کو سری لنکا میں سفیر لگانے کی سفارش یا اقدام یا سمری کے خلاف مزاحمت کی اور دوسری طرف یہی پی ٹی آئی کی حکومت سابق فوجی افسر، سابق آرمی چیف اور ملٹری ڈکٹیٹر جنرل (ر) پرویزمشرف کی محافظ بنی نظر آتی ہے ۔ 19 نومبر 2019ء کو اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے جنرل (ر) پرویز مشرف سنگین غداری کیس کا فیصلہ 28نومبر تک کیلئے محفوظ کر لیا تھا ۔ یہ فیصلہ 28 نومبرکو سنایا جانا تھا اور اس بارے چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب نے بھی اپنی ایک تقریر میں کہہ دیا تھا کہ ایک سابق حکمران بارے بھی فیصلہ آنے والا ہے لیکن اس فیصلے کے سنائے جانے سے چند دن پہلے پی ٹی آئی اور وزیر اعظم عمران خان صاحب کی حکومت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے محفوظ شدہ فیصلے کو روکنے کیلئے وزارتِ داخلہ کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں خانصاحب کی حکومت نے موقف اپنایا کہ ‘حکومت کو موقع ملنے اور نئی استغاثہ ٹیم کو تعینات کرنے تک ( پرویز مشرف بارے) خصوصی عدالت کو کارروائی سے روکا جائے’۔ان کا کہنا تھا :’ ‘سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کے شریک ملزمان کو ٹرائل میں شامل ہی نہیں کیا گیا، استغاثہ کو 23 اکتوبر کو ڈی نوٹی فائی کیا گیا مگر 24 اکتوبر کو بغیر اختیار کے مقدمے کی پیروی کی گئی۔کیس میں استغاثہ نے تحریری دلائل بھی جمع کرائے جس کا اسے اختیار نہ تھا، خصوصی عدالت نے نئی استغاثہ ٹیم کو نوٹی فائی کرنے کا موقع دیے بغیر حتمی فیصلے کی تاریخ مقرر کر دی۔وفاقی حکومت کو استغاثہ کو تبدیل کرنے کا اختیار ہے، خصوصی عدالت کا سنگین غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے کا 19 نومبر کا حکم نامہ کالعدم قرار دیا جائے”۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عبوری ریلیف کے طور پر خصوصی عدالت کا فیصلہ معطل کیا جائے اور خصوصی عدالت کو حتمی فیصلہ جاری کرنے سے روکا جائے۔وزارتِ داخلہ نے موقف اپنایا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل درست نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی شکایت مجاز فرد کی جانب سے داخل کرائی گئی تھی، اس معاملے کو بھی قانون کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے استدعا کی کہ ”پرویز مشرف کو صفائی کا موقع ملنے تک خصوصی عدالت کو فیصلہ دینے سے روکا جائے”۔ اس کیس کی سماعت شروع کر دی گئی اور ایک بار پھر اہم سوالات نے سر اُٹھایا۔ ایسے میں پاکستان کے سینئر سیاستدان اور سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے اس نئے معاملے پر بڑا شاندار تبصرہ کیا ہے ۔ اُنہوں نے کہا :”موجودہ حالات میں جنرل مشرف کا کٹّا کھولنے کا کیا فائدہ ہوگا؟۔ ”المختصر یہ کہ 27نومبر کو اس بارے اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا۔ مذکورہ اعلیٰ عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کا فیصلہ روکنے کی حکومتی درخواست پر خصوصی عدالت کو مشرف کیس کا فیصلہ سنانے سے روک دیا (یہ فیصلہ 28نومبر کو سنایا جانا تھا) اس فیصلے پر پاکستان بار کونسل کا سخت ردِ عمل سامنے آیا اور اس کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ پاکستان بار کونسل حکومت کی طرف سے پرویز مشرف کا فیصلہ رکوانے کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی مذمت کرتی ہے ؛ چنانچہ اِسی ردِ عمل میں پاکستان بار کونسل نے 28نومبر کو حکومت کے خلاف ملک گیر ہڑتال کرنے کا اعلان بھی کیا۔ابھی اس کی گرد تھمی نہیں تھی کہ ایک نئے بحران نے سر اُٹھا لیا ۔ یہ تو ایسا بحران تھا کہ لگتا تھا خانصاحب کے اقتدا ر کی کشتی ڈوب ہی جائے گی ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی اگلے تین برسوں کیلئے ایکسٹینشن چیلنج کر دی گئی تھی ۔ پہلے تو لگتا تھا کہ یہ چیلنجی درخواست مسترد ہو جائے گی لیکن عدالتِ عظمیٰ نے اس پر اسٹینڈ لے لیا ۔ یاد رہے کہ رواں سال 19 اگست کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کردی گئی تھی۔وزیراعظم عمران خان صاحب کے آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے (موجودہ) مدت مکمل ہونے کے بعد سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کے لیے آرمی چیف مقرر کیا۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا فیصلہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو مزید 3 برس کے لیے پاک فوج کا سربراہ مقرر کرنے کے فیصلے کا پاکستان میں مختلف سیاستدانوں، دانشوروں اور صحافی برادری نے خیر مقدم کیا تھا؛تاہم چند حلقوں کی طرف سے حکومت کے اس فیصلے پر تنقید بھی کی گئی تھی۔اور جب اس نوٹیفکیشن پر چیلنج کرنے کے بعد عدالتِ عظمیٰ کے رُوبرو سوالات اٹھائے گئے تو کئی پرتیں کھلتی چلی گئیں۔ ہر پرت پر اٹھائے گئے سوال کا حکومت ، اُس کی لیگل ٹیم اور وزیر قانون (فروغ نسیم) کے پاس عدالت کو مطمئن کرنے کیلئے کوئی شافی جواب نہیں تھا۔ اِسی دوران وزیر قانون موصوف نے استعفیٰ بھی دے ڈالا اور بہانہ یہ بنایا کہ وہ چونکہ جنرل باجوہ کے وکیل بن گئے ہیں ، اسلئے اب وزیر کی حیثیت میں عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے ہیں ۔پورا ملک جنرل باجوہ صاحب کی ایکسٹینشن کو چیلنج کرتی درخواست کی خبر کی گرفت میں آچکا تھا ۔ ایک ہیجان کی سی کیفیت تھی ۔ لیکن ٹھہرئیے زرا یہاں دیکھ تو لیں کہ وہ شخص کون ہے جس نے جنرل قمر باجوہ کی مدتِ ملازمت کو عدالت میں چیلنج کرکے ایک بڑا بحران پیدا کرنے کی کوشش کی ؟ اس آدمی کانام ریاض راہی ہے جس نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی عہد سپہ سالاری میں یقینی توسیع کو شک و شبہ میں ڈال دیا۔ یہ درخواست گزار ریاض راہی ہے جس نے جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کو چیلنج کیا اور بعدازاں درخواست واپس لینے کی درخواست دے دی لیکن چیف جسٹس نے اس درخواست کو مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ درخواست آئین کے آرٹیکل184(3) کے تحت عوامی مفاد کے زمرے میں آتی ہے۔ اس شخص( ریاض راہی) ہی نے اپریل2018ء میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بحیثیت جج سپریم کورٹ تقرری کو چیلنج کیا تھا۔ اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم جوڈیشل کونسل میں ٹرائل کا سامنا ہے۔ مارچ2018ء میں ریاض راہی نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف توہینِ عدالت کی دو درخواستیں دائر کیں۔ دسمبر2013ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کو چیلنج کرنے والی ان کی پٹیشن مسترد کی جو 10 جولائی2017ء کو سابق صدر پرویز مشرف پر انتہائی غداری کا مقدمہ چلانے کے لئے دائر کی گئی تھی۔ یہ تمام درخواستیں مسترد ہوئیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ریاض راہی ایک عادی عدالتی درخواست گزار ہیں۔ عدالتوں نے اب تک ان پر کم از کم تین بار جرمانے عائد کئے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے2014ء میں ریاض راہی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ ہی کے جسٹس اطہر من اللہ نے جوڈیشل پالیسی اور انتخابی نظام کو چیلنج کرنے کی غیر سنجیدہ درخواستیں دائر کرنے پر ریاض راہی کو 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بنچ کے جسٹس شیخ حاکم علی نے 2005ء میں توہین عدالت پر ریاض راہی کو ایک ماہ قید کی سزا سنائی اور 30ہزار روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ دوران ِسماعت ریاض راہی نے مبینہ طور پر معزز جج سے بدتمیزی کی تھی۔ مارچ 2010ء میں اِنہی ریاض راہی نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس غلام ربانی اور جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی بحالی کو چیلنج کیا تھا لیکن بعدازاں راہی کو عدالتِ عظمیٰ کی عمارت میں داخلے سے عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔ انہوں نے سابق رکنِ قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے حکم پر قائم کمیٹی کے خلاف بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ ریاض راہی اس معاملے میں اکیلے نہیں ہیں ۔ اُن کی طرح اور بھی کئی عادی درخواست گزار حکمرانوں اور ذمہ داروں کے خلاف جا و بے جا درخواستیں دائر کرکے عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع کرتے رہے ہیں ۔ ایسے لوگوں میں مخدوم نیاز انقلابی، شاہد اورکزئی اور مولوی اقبال حیدر خاصے مشہور رہے ہیں ۔ریاض راہی کے پیدا کردہ بحران سے محسوس یہی ہوتا تھا کہ اس کی لپیٹ میں حکومت اور سپہ سالارِ پاکستان آ جائیں گے ۔ حکومتی لیگل ٹیم سپریم کورٹ کے اُٹھائے گئے متعدد سوالات کے سامنے جس طرح ناکامی اور شکست کا اظہار کررہی تھی ، اس نے مایوسی کو مزید گمبھیر کیا ۔ کبھی تو یہ بھی محسوس ہونے لگتا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو دی گئی ایکسٹینشن ختم ہو کر رہ جائے گی ۔ ہر ذہن میں یہی سوال تھا کہ اگر خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو کیا ہوگا؟ واقعہ یہ ہے کہ اس کیس کی سماعت کے دوران حکومت کی قانونی نااہلی اور نالائقی کھل کر سامنے آتی رہی ۔ ایسے میں اگر مبینہ طور پر وزیر اعظم عمران خان نے بار بار اپنی متعلقہ ٹیم اور اس کے ذمہ دار افراد کی سرزنش بھی کی تو بالکل درست کی ۔ خدا کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ سپریم کورٹ کے متعلقہ بنچ ( جو تین معزز جج صاحبان پر مشتمل تھا) نے دانش ، محنت اور پاکستان کے وسیع تر مفاد میں بحران کے حل کیلئے (28نومبر کو) درمیان کا ایک راستہ نکالا اور وہ یہ کہ آرمی چیف کی دوبارہ تقرری اور توسیع و مدتِ ملازمت کے تعین کیلئے 6ماہ کا عرصہ دیا ہے ۔ اس عرصے میں حکومت کو اِس ضمن میں ہر صورت قانون سازی کرنا ہو گی ۔ بحران کے اس ٹل جانے پر پاکستان کے سبھی عوام اور حکومت نے سکون اور سُکھ کا سانس لیا ہے ۔ اس موقع پر 28نومبر2019ء کی سہ پہر وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ایک ٹویٹ میںیوں لکھا:” آج کے دن پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا خواب دیکھنے والی غیر ملکی قوتوں اور اندرونی مافیا کی شکست کا دن ہے ۔” اگرچہ اس ٹویٹ پر بھی سوالات اُٹھائے گئے ہیں کہ وزیر اعظم نے اندرونِ ملک کسے” مافیا” کہا ہے ؟ لیکن یہ وقت ایسے اعتراضی سوالات اُٹھانے کا نہیں بلکہ اجتماعی طور پر سب کو ہاتھوں میں ہاتھ دے کر متحد ہونے اور وطنِ عزیز کو دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار بنانے کا وقت ہے ۔ افسوس ہے کہ بحران کے ان دو ایام میں ہمارے ازلی دشمن بھارت میں شادیانے بجائے جاتے رہے ۔ سپریم کورٹ نے یہ شاندار فیصلہ سنا کر در حقیقت بھارتی خوابوں کو بھی شکست دی ہے ۔ اللہ کریم پاکستان کو ہر مقام پر دشمن سے محفوظ فرمائے ۔ آمین


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.