زینب قتل کیس ، سپریم کورٹ کا ملزم عمران کو سخت سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم

اسلام آباد : سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے زینب قتل کیس میں ملزم عمران کو سخت سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیدیا‘ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ملزم کی سکیورٹی کے آئی جی ذمہ دار ہونگے‘ زینب
قتل کیس میں بتدریج سچ تک پہنچیں گے‘ قصور واقعے پر پوری قوم پریشان ہے سچ سامنے آنے پر پوری قوم کی پریشانی حل ہوجائے گی‘ نجی ٹی وی کے معروف صحافی نے ملزم عمران کے 37 بینک اکاﺅنٹس کی فہرست عدالت میں پیش کردی۔ جمعرات کو زینب قتل کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ملزم عمران کو سخت سکیورتی فراہم کرنے کا حکم دیدیا جے آئی ٹی کو معروف صحافی کی معلومات پر عدالت نے تحقیقات کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ تحقیقاتی ٹیم دو روز میں تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرے۔ ملزم پولیس کی حراست میں ہے سکیورٹی کے ذمہ دار آئی جی ہوں گے۔ جوڈیشل ریمانڈ پر سکیورٹی کی ذمہ داری آئی جی جیل خانہ جات کی ہوگی۔ سکیورٹی میں کوتاہی ہوئی تو دونوں آئی جیز ذمہ دار ہوں گے۔ عدالتی نوٹس پر معروف صحافی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے ملزم عمران سے متعلق نئی معلومات دی ہیں صحافی نے عدالت میں بیان دیا کہ ملزم عمران علی عالمی مافیا کا متحرک رکن ہے ملزم عمران کو اعلیٰ شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے ملزم کی پشت پناہی میں وفاقی وزیر اور اعلیٰ شخصیت ملوث ہے۔ صحافی نے ملزم عمران کے سینتیس بینک اکاﺅنٹس کی فہرست عدالت میں پیش کردی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ وفاقی وزیر اور اعلیٰ شخصیت کا نام چٹ پر لکھ کر دیں۔ صحافی نے چیف جسٹس کو دونوں افراد کے نام کاغذ پر لکھ کر دیئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں نام ہماری تحویل میں رہیں گے کسی کو اس کا علم نہیں ہوگا۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی نئے انکشافات پر کمیٹی بنا دی ہے چھ رکنی کمیٹی میں آئی جی اور اسٹیٹ بینک کے افسران شامل ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمیٹی میں آئی بی اور اسٹیٹ بینک کے افسران شامل ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ زینب قتل کیس میں بتدریج سچ تک پہنچیں گے۔ قصور واقعے پر پوری قوم پریشان ہے۔ سچ سامنے آنے پر قوم کی پریشانی حل ہوجائے گی کیس کی سماعت 29 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.