زینب قتل کیس، تفتیشی ادواروں کو 72 گھنٹوں کی مہلت

لاہور: قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی زینب کے کیس کی سماعت کے دورانسپپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو تفتیش مکمل کرنے کےلئے 72گھنٹوں کی مہلت دے دی ،جے آئی ٹی کی اب تک کی تحقیقات سے متعلق اب تک کی رپورٹ عدالت میں پیش،عدالت کا پولیس تفتیش پر عدم اطمینان اتوار کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منظور ملک پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی زینب پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کی۔ واقعے کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی)کے سربراہ محمد ادریس، ڈی جی فرانزک لیبارٹری ڈاکٹر طاہر اشرف عدالت میں پیش ہو ئے ۔ آئی جی پنجاب اورڈی پی او قصور زاہد مروت عدالت میں پیش ہوئے ۔ زینب سمیت زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 8 بچیوں کے والدین اور رشتے دار بھی کیس کی سماعت کے لیے پیش ہوئے۔سربراہ جے آئی ٹی محمد ادریس نے جے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جون 2015 سے قصور میں اپنی نوعیت کا یہ آٹھواں واقعہ ہے، ان تمام واقعات میں ایک ہی شخص ملوث ہے جس کا ڈی این اے ملا ہے، یہ واقعات 3 تھانوں کی حدود میں پیش آئے اور پہلے دو واقعات تھانہ صدر ڈویژن میں پیش آئے۔چیف جسٹس نے زینب قتل کیس کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ وہ کون سا ایس ایچ او ہے جو تین سال سے تعینات ہے، سنا ہے لوگوں کی شکایات کے باوجود اس کو ہٹایا نہیں گیا، اتنے واقعات ہوگئے پولیس کیا کر رہی تھی، دو تھانوں کی حدود میں مسلسل واقعات ہوئے لیکن کسی نے کوئی کارروائی اور انکوائری نہیں کی۔جی آئی ٹی سربراہ اور آر پی او ملتان محمد ادریس نے عدالت کو اب تک کی تفتیش سے آگاہ کرتے ہوئے ملٹی میڈیا پر بریفنگ دی۔ محمد ادریس نے بتایا کہ 4 جنوری کو زینب کو اغوا کیا گیا، بچی شام 7 بجے گھر سے قرآن مجید پڑھنے کےلیے نکلی، وہ اپنی خالہ کے گھر قران پاک پڑھنے جاتی تھی، خالہ کا گھر زینب کے گھر سے 300 میٹر فاصلے پر ہے، زینب کا بھائی عثمان روزانہ اسے چھوڑنے جاتا تھا لیکن جس دن واقعہ پیش آیا وہ ساتھ نہیں تھا، زینب گھر واپس نہیں پہنچی تو گھر والوں نے تلاش شروع کی، رات ساڑھے 9 بجے پولیس کو 15 کے ذریعے اطلاع دی گئی، ہم نے 800 سے زیادہ مشتبہ افراد کے ڈی این اے کیے اور 8 ڈی این اے ٹیسٹس میچ ہوگئے ہیں۔سپریم کورٹ کے ججز نے ریمارکس میں کہا کہ آپ صرف ایک ہی رخ پر تفتیش کر رہے ہیں، پولیس کے پاس تفتیش کے مزید روایتی طریقے بھی ہیں، پولیس ڈی این اے سے باہر نکل کر بھی تفتیش کرے، جو طریقہ آپ استعمال کر رہے ہیں اس طرح تو 21 کروڑ لوگوں کا ڈی این اے کرنا پڑے گا، معصوم بچی کے ساتھ جو ظلم ہوا وہ ناقابل بیان ہے، اگر پولیس 2015 میں ہی کیس کو سنجیدگی سے لیتی تو آج 8 بچیاں زیادتی کے بعد قتل نہ ہوتیں، ڈی این اے سے باہر نکل کر پولیس اپنے روایتی طریقہ کار کو بہی اپنائے، ہم جانتے ہیں کہ پولیس اپنا روایتی طریقہ استعمال کرے تو ملزم تک پہنچا جا سکتا ہے، زیادتی کے 8 مقدمات کے حالات و واقعات یکساں ہیں تو اس رخ پر بھی تفتیش کریں۔انہوں نے کہا کہ جو پولیس کر رہی ہے ،اس طرح تو 21 کروڑ لوگوں کا ڈی این اے کرنا پڑے گا۔ جسٹس منظور احمد ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس ڈی این اے سے باہر نکل کر بھی تفتیش کرے، ہم جانتے ہیں کہ پولیس اپنا روایتی طریقہ استعمال کرے تو ملزم تک پہنچا جاسکتا ہے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے زینب کے لواحقین سے استفسار کیا کہ آپ کو اگر کسی قسم کی شکایات ہیں تو بتائیں؟۔جس پر لواحقین نے عدالت میں بیان دیا کہ جے آئی ٹی تسلی بخش کام کررہی ہے، ہم دعا گو ہیں کہ یہ جلد کامیاب ہوجائیں۔ہماری بچیوں کو اغواکے بعد زیادتی کرکے قتل کیا گیا، ہمیں ابھی تک انصاف نہیں ملا،امید ہے کہ چیف جسٹس ہمیں انصاف دیں گے۔ زینب قتل کیس جے آئی ٹی کے سابق سربراہ ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ۔ زینب کے والد کے اعتراض پر ابوبکر خدا بخش کو جے آئی ٹی سربراہ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ابوبکر خدا بخش 2015 کے قصور ویڈیو اسکینڈل کی جے آئی ٹی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔بعد میں جے آئی ٹی کی درخواست پر کسی کی ان کیمرہ سماعت ہوئی جس کے بعد عدالت کی جانب سے مختصر حکم جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کے سربراہ نے تفتیش مکمل کرنے اور کسی نتیجے پر پہنچنے کےلئے مزید وقت کی استدعا کی ہے جو منظور کر لی ہے اور عدالت نے جے آئی ٹی کو 72گھنٹوں کی مہلت دے دی ہے ۔واضح رہے کہ قصور میں چند روزقبل 8 سالہ بچی زینب کو اغوا اورزیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے قتل کردیا گیا تھا، بچی کی لاش کچرا کنڈی سے ملی تھی جس کے بعد ملک بھرمیں زینب کے اہل خانہ کوانصاف کی فراہمی کے لیے احتجاج کیا جارہا ہے جب کہ تحقیقات کے لیے قصور واقعے پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی(جے آئی ٹی) بھی تشکیل دی گئی ہے۔دریں اثناءچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ حمزہ شہبازشریف کی جان کو خطرہ ہے تو وہاں چلے جائیں جہاں انہیں تحفظ مل سکے لیکن عوام کو پریشان مت کریں۔اتوار کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سیکیورٹی بیریئرز لگا کر رستے بند کرنے کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ حکومت کی جانب سے سیکرٹری پنجاب زاہد سعید عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہبازشریف کے گھر کے قریب راستہ بند کرنے والا گیٹ ہٹا دیا گیا ہے اب صرف بیریئرز لگائے ہیں۔ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد سعید کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بیریئرز کیوں نہیں ہٹائے۔ چیف سیکرٹری نے جواب دیا کہ حمزہ شہباز کی جان کو خطرہ ہے اس لئے زگ زیگ سکیورٹی بیریئرز لگائے گئے ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے سخت اظہارِ برہمی کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ حمزہ شہبازشریف کون ہے میں کسی حمزہ کو نہیں جانتا۔ چیف سیکرٹری نے جواب دیا کہ حمزہ شہباز وزیراعلی پنجاب کے بیٹے اور ایم این اے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں کسی کو نہیں جانتا، ابھی حمزہ کو طلب کرکے پوچھ لیتے ہیں کہ ان کی جان کو کیا خطرہ ہے اور اگر ان کی جان کو خطرہ ہے تو اپنی رہائش گاہ تبدیل کریں۔عوام کو پریشان مت کریں۔ یہ لوگ وہاں کیوں نہیں چلے جاتے جہاں کی ان کی جانوں کو خطرہ نہ ہو، میں چیف جسٹس ہوں لیکن میری رہائش گاہ کے باہر کوئی رکاوٹ نہیں۔چیف جسٹس نے حمزہ شہباز کے گھر کے باہر لگی رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آئندہ حمزہ شہباز کے گھر کے باہر کوئی سیکیورٹی اہلکار نیکر پہن کر یا ننگا نہاتا ہوا نظر نہ آئے، حمزہ کے گھر کے ارد گرد ہماری بہنیں اور بیٹیاں بھی رہتی ہیں اگر آئندہ کوئی شکایت آئی تو سخت ایکشن لوں گا اور رکاوٹیں دیکھنے خود اپنی پرائیویٹ گاڑی پر دورہ کروں گا۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے حمزہ شہباز کے گھر کے باہر سے فوری رکاوٹیں ہٹانے کی یقین دہانی کروادی۔جس پر سماعت ملتوی کر دی گئی ۔ چیف جسٹس نے میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے نجی لاءکالجز سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ قانون کی تعلیم کا ایسا معیار چاہتے ہیں کہ اچھے وکیل پیدا ہوں، نجی لا ءکالجز خلا ضرور مکمل کریں لیکن کاروبار نہ کریں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ رات ایک تصویر دیکھی کہ” ایک رات میں بی اے پاس کریں“ تعلیم کا یہ معیار نہیں چلے گا،۔قانونی تعلیم کا معیار بہتر کرنا چاہتے ہیں، قانون کی تعلیم کا ایسا معیار چاہتے ہیں کہ اچھے وکیل پیدا ہوں۔چیف جسٹس نے ایک روز قبل تشکیل دی گئی کمیٹی کو چھ ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ مرکزی کمیشن اصلاحاتی رپورٹ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو فراہم کریں اور تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز لا ءکالجزکمیشن کی معاونت کریں۔لاءکالجز سلیبس، ڈگری کی مدت 3سال یا 5سال ہو گی اس پر بھی سفارشات دی جائیں۔ دوران سماعت وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل احسن بھون نے بتایا کہ چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی ہماری منظوری کے بغیر الحاق نہ کرے، اس پر پرنسپل یونیورسٹی لائکالج نے کہا کہ کمیٹی میں پنجاب یونیورسٹی کے ٹیچر کو بھی شامل کر لیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سینئر وکلا لاءکالجز کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہیں ، جو خوش آئند ہے ،سینئر وکلاکی دلچسپی سے لگتا ہے جلد بہتر ی آئے گی۔کیس کی مزید سماعت 6مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.