ن لیگ نظرنہ آنیوالی قوتوں کانام بتا کیوں نہیں دیتی؟ میاں محمودالرشید

لاہور : پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تحریک انصاف کے مرکزی رہنما میاں محمودالرشید نے کہا کہ ن لیگ نظر نہ آنیوالی قوتوں کا نام بتا کیوں نہیں دیتی؟ تاثر دیا جا رہا ہے سینٹ الیکشن میں سینیٹرز نہیں، ریاستی اداروں نے ووٹ ڈالے، جنرل ضیا کی گود میں پلنے والے نواز شریف کے منہ سے جمہوریت کا راغ بے سرا ہے، مریم نواز چھوٹی تھیں نہیں جانتی ان کے بڑے ڈکٹیٹر کی پیداوار ہیں اسلئے بیرون ملک جائیداد کا حساب دینے کی بجائے جمہوریت جمہوریت کی رٹ لگا رکھی ہے۔ ثابت کردیں تحریک انصاف نے سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کی سیاست چھوڑ دونگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز احاطہ اسمبلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ میاں محمودالرشید نے کہا کہ لگتا ہے سینٹرز نہیںجن بھوتوں نے سنجرانی کو چیئرمین سینٹ منتخب کرایا، عمران خان نے جو 13کے ہندسہ سے کھیلا وہ ن لیگ30اور پیپلز پارٹی20ووٹوں کے ساتھ بھی نہ کھیل سکی، عمران خان نے ثابت کر دکھایا کے وہ کمزور ٹیم کے ساتھ ورلڈ کپ اور کم ووٹوں کے ساتھ چیرمین سینٹ لا سکتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ نواز شریف سمیت پوری مسلم لیگ ن نظر نہ آنیوالی قوتوں کا نام بتا کیوں نہیں دیتی؟ ریاستی اداروں کیخلاف گھناﺅنا کھیل کھیلنے والے حقیقت کیوں تسلیم نہیں کر لیتے کہ انہوں نے کرپشن کی، ملکی وسائل کو لوٹا، عالمی سطح پر معاملہ اٹھا اور نواز شریف کے پاس صفائی میں کہنے کو کچھ نہیں تھا اسلئے نا اہل ہوئے،نواز شریف کیخلاف ہوا چل پڑی ہے لیکن ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے سینٹ الیکشن میں سینیٹرز نہیں، ریاستی اداروں نے ووٹ ڈالے، جنرل ضیا کی گود میں پلنے والے نواز شریف کے منہ سے جمہوریت کا راغ بے سرا لگتاہے جبکہ اس وقت مریم نواز چھوٹی تھیں نہیں جانتی ان کے بڑے ڈکٹیٹر کی پیداوار ہیں اسلئے بیرون ملک جائیداد کا حساب دینے کی بجائے جمہوریت جمہوریت کی رٹ لگا رکھی ہے، انہیں عوام سے خطاب کرنے سے پہلے شجرہ دیکھناچاہئے۔ تحریک انصاف جمہوری پارٹی ہے، آئین اور قانون کے تابع جماعت ہے، کسی غیر آئینی اقدام کی حمایت کی اور نہ ہی کرینگے۔ ایک سوال کے جواب میں میاں محمودالرشید نے کہا کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی الگ الگ نظریات رکھنے والی سیاسی جماعتیں ہیں، کسی سطح پر اتحاد ہوا اور نہ ہو سکتا ہے اس پر کسی کو کوئی ابہام نہیں ہونا چاہئے۔

 


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.